قومی ،غذائی، اخلاقی اور تخلیقی صلاحیتوں کا سیاسی نظام سے باہمی رشتہ — ڈاکٹر ممتاز خانن

ہماری غذا کا ہماری جسمانی صحت، نفسیات، رومانوی کردار، اور عقلی صلاحیتوں کے ساتھ گہرا تعلق ہے۔ ہمارے موڈ (مزاج) کا ہمارے کام اور جسمانی صحت کے ساتھ گہرا رشتہ ہے۔ اگر انسان اخلاقی طور پہ ٹھیک بھی ہو تو وہ بدتمیز اور چڑچڑاہ ہو سکتا ہے. اس کی وجہ طبعی اور غذائی عوامل ہیں۔ اگر خون کا بہاؤ جسم اور سر کے سارے حصوں میں ہے تو مزاج اچھا ہو سکتا ہے۔ غذا کا وقت، مقدار، غذائیت، اور معیار جسم کے اندر موجود کیمیکلز کے اخراج کا تعین کرتے ہیں اور وہ کیمکل ہمارے مزاج اور دوسروں کے ساتھ ہمارے برتاؤ کا پتہ دیتے ہیں۔
افراد کا غذا کے حلال ہونے پہ تو فکرمند ہونا بنتا ہے، لیکن ہماری مزہبی کتاب ہمیں باقی معیارات کا بھی اتنا ہی خیال رکھنے کا درس دیتی ہے جتنا حلال کھانے کا۔ بدقسمتی سے ہم سب معیارات کا خیال نہیں رکھتے۔ اس کی وجہ انفرادی نہیں، بلکہ ہمارے مزہبی اداروں کا کردار ہے جو کہ صرف ایک پہلو پہ اتنا زور دیتے ہیں کہ کل کی سوچ ختم ہو جاتی ہے۔
ہمارا اور ہمارے بچوں کا موڈ کام کرنے کی صلاحیت کو متاثر کرتا ہے۔ کام کا معیار اور صلاحیت براہِ راست مزاج سے متاثر ہوتی ہے۔ ذہانت کوئی مستقل چیز نہیں، ذہانت مسائل اور پراجیکٹس کو مقررہ وقت میں مکمل کرنے کی صلاحیت کا نام ہے۔ انسان اپنی پیدائشی ذہانت کو مناسب غذا کے استعمال سے بڑھا سکتا ہے اور غیر مناسب غذا ذہانت کم بھی کر سکتی ہے۔
ہم جو بھی کھاتے ہیں اس کی بنیاد ہمارے مزہبی عقائد، معاشرتی عوامل، خاندانی پس منظر، عقل و شعور، اور جیب کی گہرائی ہے، اور ان سب کو متاثر کرتا ہے ہمارہ سیاسی نظام۔ ایک غیر منظم، بد اخلاق اور خود غرض سیاسی نظام جو انفرادی سوچ کا حامل ہو، کبھی بھی ریسورسسز کو گراس روٹ لیول تک نہیں پہنچاتا، بلکہ ایسے نظام میں وسائل پیدا بھی کم ہوتے ہیں اور جو پیدا ہوتے ہیں وہ نظام پہ قابض افراد کے زیر تسلط رہتے ہیں۔ جب عام لوگوں کے پاس پیسہ ہی نہیں ہوگا تو ان کو غذائی نظام کی کیا سمجھ آئے گی۔ عقل و شعور بھی وسائل کی فراہمی سے آتا ہے۔ عقل و شعور اور پیسہ کی فراہمی کے بغیر درست غذا کا انتخاب ناممکن ہے۔ جب غذا ہی نا مناسب ہو تو مزاج کا چڑچڑاپن اور اخلاقی گراوٹ لازمی عوامل ہوں گے۔ ہماری تخلیقی صلاحیتیں  غذا سے ہی توانائی حاصل کرتی ہیں۔ قومی تخلیقی صلاحیتوں کا درست ہونا تبھی ممکن ہے، جب قومی غذائی اور سیاسی نظام درست ہوگا۔ درست اور عوام دوست معاشی نظام ذرائع کو تمام عوامی طبقات تک پہنچائے تو نتیجتاً عقل و شعور پھیلے گا اور عقل و شعورہی درست غذا کا انتخاب کرواتا ہے۔ مزہبی درس بھی ضروری ہے، لیکن محض درس دینے سے اخلاق درست نہیں ہو گا۔

People Comments (1)

  • محمد عثمان March 6, 2017 at 2:12 pm

    !بہت اہم نکتے کی طرف نشاندہی کی ہے آپ نے

Leave Comments

آج کی بات

انسان حالات کی پیداوار نہیں،حالات انسان کی پیداوارہوتے ہیں۔
{کتاب۔کوئی کام نا ممکن نہیں۔سے اقتباس}