سرد جنگ اور آج کی دنیا — فرخ سہیل گوئندی

جنگ عظیم اوّل کے بعد یورپ اور ایشیا کا نقشہ بدلنے لگا۔ نئی ریاستوں کا ظہور ہوا۔ کلونیل نظام میں اتھل پتھل ہوئی۔ روایتی کلونیل ریاستوں کا کردار معدوم ہونے لگا اور مزید کلونیل ریاستیں ابھر کر سامنے آئیں جن میں ریاست ہائے متحدہ امریکہ سرفہرست ہے۔ اسی دوران روس میں بالشویک انقلاب برپا ہوا جس نے عالمی منظرنامے کو یکسر ہی بدل دیا۔ جنگ عظیم اوّل نے متعدد ریاستوں کو سیاسی جغرافیے میں دفن کردیا، مگر جنگ اور تنازعات کے کئی شعلے وقت کے تقاضوں کے مطابق عارضی طور پر دب تو گئے مگر ختم نہ ہوئے۔ یہ دبے ہوئے شعلے دوسری جنگ عظیم میں الائو میں بدل گئے، جب یورپ بڑا میدانِ جنگ بنا۔ برطانیہ جیسی کلونیل ریاستوں کا سورج غروب ہونے لگا اور جنگ عظیم دوم کے خاتمے کے ساتھ ہی ایشیا، افریقہ اور دیگر خطوں میں آزادی کی تحریکوں نے زور پکڑا اور دھڑادھڑ متعدد قومیں آزاد ہوئیں اور نئی ریاستیں معرضِ وجود میں آنے لگیں جن میں بھارت اور پاکستان بھی شامل ہیں۔ جنگ عظیم دوم نے عالمی سیاست کا ایک نیا منظر نامہ ابھارا۔ دنیا سرمایہ دار اور اشتراکی دنیا میں تقسیم ہوگئی۔ امریکہ، دنیا کی سب سے بڑی نیوکلونیل ریاست بن کر اپنا کردار ادا کرنے لگا۔ نظریات پر تقسیم اس دنیا کا سیاسی عنوان تھا، ’’سرد جنگ کی دنیا‘‘۔ یہ اصطلاح بھی سرمایہ دار دنیا ہی نے متعارف کروائی۔ اس دوران ایشیا، افریقہ اور لاطینی امریکہ میں مزید آزادی کی تحریکیں اور سوشلسٹ انقلابات برپا ہوئے جن میں عوامی جمہوریہ چین میں مائوزے تنگ اور چو این لائی کی قیادت میں اشتراکی انقلاب سرفہرست ہے۔سرد جنگ کے عروج میں ان سوشلسٹ انقلابات نے سرمایہ دار دنیا کو ہلا کر رکھ دیا۔ اسی کے نتیجے میں امریکہ کی سرپرستی میں متعدد علاقائی سیاسی وعسکری اتحاد قائم کیے گئے جن کا مقصد دنیا کو اشتراکی انقلابات سے محفوظ رکھنا اور غیر سرمایہ دار دنیا میں سوشلسٹ تحریکوں اور قیادتوں کو کچلنا تھا۔ دلچسپ بات یہ ہے کہ تیسری دنیا کے متعدد نیم سرمایہ داری ممالک میں جمہوری انقلابات برپا ہوئے۔ امریکہ نے ان جمہوری انقلابات کو بھی کچلا اور ان کی قیادتوں کو قتل کیا، جس میں پاکستان اور چلی اور ان ممالک کی جمہوری سیاسی قیادتیں، ذوالفقار علی بھٹو اور الاندے سرفہرست ہیں۔ 

امریکہ نے برطانیہ اور فرانس کے کلونیل کردار کے خلا کو پُر کیا اور عالمی تقسیم میں سرمایہ دار دنیا کا سرخیل بنا۔ سرد جنگ نے ایک مثبت کام کیا، وہ تھا متعدد علاقائی جنگوں کو روکنا اور امریکہ کے کرخت کردار کو دبائے رکھنا، جس میں سابق سوویت یونین نے قائدانہ کردار ادا کیا۔ امریکہ نے اپنے عالمی اور علاقائی مفادات کے لیے متعدد سیاسی وعسکری اتحادی ڈھانچے کھڑے کیے۔ ناٹو، سینٹو، سیٹو، آر سی ڈی، سینٹ کام اور دیگر لاتعداد معاہدات۔ اس دوران سرمایہ دار دنیا یہ واویلا کرتی رہی کہ سرد جنگ انسانی ترقی، آزادیوں اور جمہوریت کے لیے تباہی ہے۔ سرد جنگ درحقیقت ’’جنگِ مسلسل‘‘ تھی۔ دو نظاموں کی اشتراکیت اور سرمایہ داری۔ سرمایہ دار دنیا کے پالیسی ساز، دانشور اور رہنما، اشتراکی دنیا اور اس سے متعلق دنیا کو ’’جمہوری آزادیاں‘‘ دلوانے کے لیے متعدد منصوبوں کے ذریعے متحرک رہے۔ جیسے یورپ میں ’’ریڈیو فری یورپ‘‘۔
1989ء میں سرد جنگ کی علامت دیوارِ برلن گر گئی۔ سرمایہ دار دنیا نے نعرہ بلند کردیا کہ اب دنیا امن اور جمہوریت کا گہوارہ بن جائے گی۔ سرد جنگ کا خاتمہ۔ سوویت یونین بکھر گیا تو نظریات پر بٹی دنیا میں امریکہ، دیگر سرمایہ دار دنیا کی مکمل قیادت کرنے آگے بڑھا۔ ہمارے جیسی نیم سرمایہ دار دنیا میں جمہوریت، جمہوریت کا شور اٹھا۔ سرمایہ دار دنیا نے اسے تاریخ کا خاتمہ قرار دیا۔ سرد جنگ ختم کیا ہوئی، دعوے ہوئے کہ دنیا میں جنگیں ختم ہوگئیں۔ یہ وہ شور تھا جس کو بڑھ چڑھ کر ہر طرف برپا کیا گیا۔ سرد جنگ کے خاتمے کے بعد عراق پر امریکی یلغار اور پھر یورپ جسے جنگ عظیم دوم کے بعد سرد جنگ کا گہوارہ قرار دیا جاتا تھا، وہاں بوسنیا میں جنگ، قتل عام اور نسل کشی کی نئی تاریخ رقم کی گئی۔ اس پر ہی اکتفا نہیں کیا گیا۔ ناٹو کا ظہور سرد جنگ کے بطن سے ہوا۔ یورپ کو اشتراکی حملوں سے محفوظ رکھنے کے لیے، جس کا سرد جنگ کے بعد جواز ہی نہیں تھا، ناٹو متحرک ہوئی اور سربیا پر ناٹو نے امریکی سرپرستی میں جنگ مسلط کی۔ جنگ عظیم کے بعد یہ یورپ میں پہلی جنگ تھی۔ سربیا، بوسنیا۔ سربیا اور ناٹو۔ سرمایہ دار دنیا کے دعوے بے نقاب ہونے لگے۔ دنیا کی سب سے کمزور ریاست افغانستان پر یلغار اور پھر عراق پر دوسری جنگ۔ اور اسی کے ساتھ علاقائی جنگوں کے ایسے بیج بکھیرے گئے کہ خطے جنگوں میں خود کفیل ہوجائیں۔ اس کے لیے خصوصاً مشرقِ وسطیٰ اور جنوبی ایشیا کے کچھ علاقوں کو چنا گیا۔ امریکہ کی سرپرستی میں ’’تاریخ کا خاتمہ‘‘ قرار دینے والی دنیا نے کاکیشیا میں بھی جنگوں کے سامان پیدا کیے اور وسطی ایشیا میں بھی۔ آذربائیجان اور جارجیا میں جنگی میدان، چیچنیا میں دہشت گردوں کے ذریعے جنگی سامان اور اب یوکرائن اور شام میں جنگی اسباب پیدا کیے گئے۔ سرد جنگ کے بعد کی جو دنیا ابھری، اس میں ہم دیکھ سکتے ہیں، بلقان، کاکیشیا، وسطی ایشیا، جنوبی ایشیا (افغانستان وپاکستان)، سارا مشرقِ وسطیٰ خصوصاً عراق، شام، لیبیا اور اب ترکی بڑے جنگی میدانوں میں بدل دئیے۔
عالمی سرمایہ داری نے جو جنگیں سرد جنگ کے بعد برپا کیں، اس کی حکمت عملی بڑی گنجلک ہے۔ اس میں دہشت گردوں کا ظہور ان کی طے شدہ پالیسی کا نتیجہ ہے۔ اس کے دو فوائد ہیں، ایک یہ کہ متعلقہ خطوں میں جنگوں کی دلدل میں دھکیل کر اپنے عالمی، علاقائی اور اقتصادی مفادات حاصل کیے جائیں۔ دوسرا یہ کہ دہشت گردوں کی کارروائیوں کے ہمدرد پیدا کیے جائیں جو ان دہشت گرد گروہوں کی اپنے عقائد کے مطابق تعبیریں پیش کریں۔ مختلف خطوں کو جنگوں میں خود کفیل کرنا امریکی سامراج کی بہت گہری حکمت عملی ہے جس کو کم مطالعہ کرنے والے ان خطوں کے دانشور سمجھنے کی کم ہی صلاحیت رکھتے ہیں۔ ان جنگوں اور تنازعات میں مذہبی عقائد کو ایک ہتھیار کے طور پر استعمال کیا جا رہا ہے یعنی فرقوں کی بنیاد پر تقسیم۔ اس سارے عمل میں مسلمان خطوں کو خاص طور پر چنا گیا تاکہ وہ فساد، قتل وغارت، تباہ کاری کا مرکز بنے رہیں۔ بندوق اٹھانے اور بم پھینکنے والوں کو نجات دہندہ کے طور پر پیش کرنا، تعلیم، سائنس، تحقیق اور معاشی خوش حالی سے دور لے جانا۔ مسلمان خطوں کو جنگی میدانوں میں بدل دیا جانا اور جو مسلم ریاست اس کے سامنے کھڑی ہونے کی کوشش کرے، اس کو اندرونی طور پر کمزور کرنا، اس کے لیے بھی مذہب ہی طاقتور ہتھیار کے طور پر استعمال کیا جا رہا ہے۔ عراق وشام جنگ کے وسیع میدان ہیں، اس جنگ کے شعلے اب ترکی کو چھو رہے ہیں۔ سعودی عرب اور یمن سمیت مسلم خطوں کو کسی نہ کسی انداز میں جنگ زدہ، دہشت زدہ اور دہشت گردوں کے ہاتھوں یرغمال بنانا، یہ وہ ’’تحائف‘‘ ہیں جو سرمایہ دار دنیا نے سرد جنگ کے خاتمے کے بعد عطا کیے۔ افسوس، متعدد مسلمان خطوں کے لوگ اس کے اندر جہاد کی تلاش میں ہیں۔

Leave Comments

آج کی بات

انسان حالات کی پیداوار نہیں،حالات انسان کی پیداوارہوتے ہیں۔
{کتاب۔کوئی کام نا ممکن نہیں۔سے اقتباس}