عدل وانصاف اورپاکستانی معاشرہ…مافیا کے قبضے میں — صاحبزاد محمد امانت رسول

قرآن مجید میں ا للہ سبحانہ وتعالیٰ نے ہمیں عدل و انصاف اور تعاون علی البرو التقویٰ، کاحکم دیا ہے۔ سورۃ النساء میں فرمایا اے ایمان والو اللہ کے لئے گواہ بن کر قسط پہ قائم ہوجائو اگرچہ یہ گواہی تمہارے اپنے خلاف یا والدین یا رشتہ دار کے خلاف ہی کیوں نہ ہو، جس کے خلاف گواہی دو، خواہ غنی ہویا فقیر،آگے فرمایا ’’خواہش کی پیروی نہ کروکہ تم عدل نہ کر سکو‘‘۔سورۃ الانعام میں فرمایا’’اور جب بولوتو انصاف کی بات کہو‘‘ سورۃ المائدہ میں فرمایا’’ تمہیں کسی قوم کی دشمنی اس پر نہ ابھارے کہ انصاف نہ کرو، انصاف کرو وہ پرہیز گاری سے زیادہ قریب ہے‘‘۔ سورۃ المائدہ میں فرمایا وتعاونواعلیٰ البروالتقوی ولاتعاونواعلیٰ الاثم والعدوانِ’’ نیکی اور تقویٰ پر تعاون کرو، گناہ اور زیادتی پر ایک دوسرے کی مدد نہ کرو‘‘۔
دین کی تعلیم اور تربیت کاظہور جہاں شخص میں ہوتا ہے وہاں معاشرے میں بھی ہوتا ہے ۔ شخصی حوالے سے اس طرح کہ مسلمان تقویٰ و اطاعت کا پیکر بنتا ہے۔ اپنی ذا ت کی اصلاح کرتا ، کبائرگناہوں سے خود کو بچاتا اور صوم وصلوٰۃ کی پابندی کرتا ہے۔ قرآن کی تلاوت سے خصوصی شفف رکھتا ہے ۔
دین کی تعلیم و تربیت کا اجتماعی ظہور معاشرتی اور سماجی معاملات میں ہوتاہے ۔ ایک مومن جب کسی فرد ،ادارہ یا ملک سے معاملات طے کرتا ہے تو اس میں ہمیشہ عدل پہ قائم رہتے ہوئے معاملات طے کرتا ہے۔ اسلام نے اس لئے عدل پہ قائم رہنے کے لئے کوئی ایسی شرط عائد نہیں کہ آپ نے عدل صرف اس سے کرنا ہے جو مسلمان ہے یا آپ کا رشتہ دار ہے یا دوست… بلکہ تمام کے ساتھ عدل کا حکم ہے ۔ عدل کی تلوار کے نیچے کوئی بھی آئے گا تو وہ بچ نہیں سکتا۔ مسلمانوں کا آپس میںتعاون علی البروالتقویٰ کا رویہ ہونا چاہئے۔ تعاون علی الاثم والعدوان کارویہ نہیں ہونا چاہئے ۔گناہ اور نافرمانی کرنے والا اپنا بھائی کیوں نہ ہو، اس کے تعاون سے روک دیا گیا ہے کیونکہ وہ اثم اور عدوان کی راہ پر چل رہا ہے۔
پاکستانی معاشرے میں عدل وقسط اور تعاون علی البرو التقویٰ جیسی اقدار ناپید ہوچکی ہیں ۔ آئے روز وقوع پذیر ہونے والے واقعات سے اندازہ ہوتاہے کہ اسلامی اقدارکی تعمیل کے بجائے ،اپنے ہم پیشہ ،بھائی بند اورگروہ زیادہ اہم ہو گئے ہیں ۔اگر اینٹی کرپشن کے اہلکار ایک ڈاکٹر کو کرپشن کے الزام میں گرفتار کرنے آتے ہیں تو تمام ڈاکٹرز اکٹھے ہو کراہلکاروں کی فقط مرمت ہی نہیں کرتے بلکہ اپنے’’ پیٹی بھائی‘‘ کے حق میں جلوس نکالتے فقط جلوس ہی نہیں نکالتے بلکہ او پی ڈی بند کر دیتے ہیں لیکن کوئی یہ نہیں کہتا کہ اگر ڈاکٹر پہ الزام ہے تو ضرورتفتیش ہوئی چاہئے ،بے گناہ کو بَری اور مجرم کو سزا ملنی چاہئے۔
اگر کوئی وکیل جج پہ ہاتھ اٹھاتا ہے یا غیر قانونی کام کرتا ہے ، وکلاء کی اکثریت اس حرکت کو غلط نہیںکہتی بلکہ اس ’’فعل بد‘‘ میں اس کا ساتھ دیتی ہے۔ کچہری اور عدالتیں روزانہ دنگل بنے ہوتے ہیں جہاں وکیل اپنے وکیل بھائی کی مخالف پارٹی کو مار رہے ہوتے ہیں لیکن کسی کو بھی سچ کا ساتھ دینے اور غلط با ت کی مخالفت کی توفیق نہیں ہوتی۔
ایک پولیس والا کسی کو قتل کر دے تو اس کے ساتھی مظلوموں کا ساتھ دینے کے بجائے اپنے بھائی کا ساتھ دیتے ہیں ۔ ایف آئی آر نہیں کٹنے دیتے بلکہ متاثر ہ خاندان کے افراد کے خلاف ہی پرچہ کاٹ دیتے ہیں۔اگر آپ کا کسی رکشہ والے سے جھگڑا ہو جائے تو کچھ ہی دیر میں تمام رکشہ ڈرائیورز آپ کے خلاف اکھٹے ہو جاتے ہیں ۔یہی صورتِحال واپڈا، پی ٹی سی ایل، واسا اورسوئی گیس کے ملازمین کی ہے۔ کسی ایک فرد کے خلاف کوئی قدم اٹھا یا جاتا ہے تو تمام ’’پیٹی بھائی ‘‘اس کے حق میں ہڑتال کی دھمکی دے دیتے ہیں ۔تاجر حضرات میں سے کسی تاجر پہ ٹیکس کی عدم ادائیگی یا غیر قانونی کاموں کی وجہ سے ہاتھ ڈالا جائے تو تمام تاجر سراپا احتجاج بن کر سڑکوں پر نکل آتے ہیں ۔
یہاں تک اگر کسی سیاستدان پہ نیب ہاتھ ڈالے تو سیاستدان متحد ہوجاتے ہیں ۔ حکومت مخالف بیانات اور آل پارٹیز کانفرنسز شروع ہو جاتی ہیں۔ اسے حکومت کا انتقام اورجمہوریت کے خلاف اقدام بنا کر پیش کیا جاتا ہے۔ ایک طرف ملک کے وزیراعظم کہتے ہیں کہ نیب آزاد ہے… نیب بس اس وقت تک آزاد ہوتی ہے جب وہ اپوزیشن یاحکومت سے باہر جماعتوں کے راہنمائوں پہ ہاتھ ڈالتی ہے۔ جب وہ حکومت کے کسی وزیر،مشیر اوررکن پہ ہاتھ ڈالتی ہے تو وزیراعظم صاحب بھی غصے میں آ جاتے ہیں۔
ایک صاحب اپنے بدعنوان سماج کا رونا کچھ اس طرح رو رہے تھے۔وہ کہتے ہیں ہم کچھ دوست مچھلی کھانے گئے جب ویٹر نے مچھلی ہمارے سامنے رکھی تو ہمیں اس سے کچھ بو سی محسوس ہوئی میرے دوست نے کہا پانچ منٹ ٹھہر جائو یہ بو، بدبو بن جائے گی …ایسا ہوا کچھ دیر بعد وہ بو تیز ہو گئی۔ ہم نے ریسٹورنٹ کے منیجر کو بلایا وہ معذرت کرنے کے بجائے، ہم سے جھگڑنے لگا۔ ہم نے کہا ابھی چیف منسٹر کی قائم کردہ ہیلپ لائن پہ کال کرتے ہیں، ہم نے ہیلپ لائن پہ کال کی انہیں ہم نے انہیں بتایا تو وہ ہمیں اِدھر سے اُدھر گھمانے لگے ۔ ہم تین گھٹنے وہاں کھڑے رہے۔ بار بار کال کرنے کے باوجود کوئی فوڈ انسپکٹر نہیں آیا۔ ہمارے لئے وہاں سے عزت بچا کر نکلنا مشکل ہو گیا۔ اس منیجر نے شروع میں ہمیں لاکھ روپے کی آفر کی ہم نے اس پر بھی اسے دھمکی دی کہ ہم اس رشوت کے بارے میں فوڈ انسپکٹر کو بتائیں گے ۔
ابھی ہم جانے کا سوچ رہے تھے کہ ایک پرائیویٹ چینل کی گاڑی آ گئی منیجر نے رپورٹر کو بھی ایک لاکھ کی آفرکی۔ بہرحال رپورٹر نے ہمارے سامنے ان کی وڈیو بنا لی بلکہ یہ کہا کہ یہ لائیو آ رہا ہے لیکن نہ وہ لائیو آیا اور نہ وہ خبروں میں آیا۔ وہ ریسٹورنٹ آج بھی اسی طرح فرائیڈ فش لوگوں کو کھلا رہا ہے ۔
ادویات کی کمپنیوں اور میڈیکل سٹورز کی کہانی بھی سن لیجئے۔ ہمارے ملک میں یہ قانون موجود ہے کہ بغیر نسخے کوئی میڈیکل سٹور دوائی نہیں دے سکتا لیکن ہمارے ہاں میڈیکل سٹور سے بغیر نسخے دوائی دی جاتی ہے۔ لوگ ڈاکٹر کے پاس جانے کے بجائے میڈیکل سٹور سے ہی اپنی بیماری بتا کردوائی لے لیتے ہیں۔ میڈیکل سٹورز کا زیادہ تر کاروبار اسی طرح بغیر نسخے دوائیوں کے ذریعے چلتا ہے ۔میڈیسن کمپنیاںرشوت دے دلا کر لائسنس حاصل کر لیتی ہیں اور بعد میں لوگوں کی زندگیوں سے کھیلتی ہیں اور یہ سب کچھ ملی بھگت سے ہوتا ہے ۔
مسئلہ یہ ہے کہ ہمارے ہاں قوانین موجود ہیں اور ہر اہم سیاسی معاشرتی اور معاشی مسئلہ پہ قانون ساز ی بھی کی جاتی ہے ۔ قوانین کا نفاذ انسانوں کے ذریعے ہونا ہے اور انسانوں کی تربیت جب تک نہ ہو ،قوانین کا نفاذ ممکن نہیں ہوتا۔ پاکستانی سماج میں جس طرف نظر ڈالی جائے ایماندار لوگ خال خال نظر آتے ہیں اور ہر شعبہ اور پیشہ کے لوگ ایک مافیااور گینگ کی شکل اختیار کر چکے ہیں۔ بد قسمتی سے قانون نافذ کرنے والے اداروں میں موجود افراد بھی اعلیٰ کردار کے مالک دکھائی نہیں دیتے۔
دورِ حاضر میں مہذب معاشروں کی علامت ہے کہ اس میں رہنے والے افراد قانون اورریاستی اداروں کی بالادستی کو تسلیم کرتے ہیں۔ وہ مجرمانہ عناصر کی کبھی حمایت نہیں کرتے بلکہ انہیں قانون کے کٹہرے میں لانے کے لئے ریاست کی مدد کرتے ہیں ۔
آغاز میں، میں نے عرض کیا کہ ہمیں عدل کے ساتھ فیصلہ کرنے اورنیکی میںتعاون کرنے کا حکم ہے۔اگر ہم پاکستانی سماج کی اصلاح چاہتے ہیں تو ہمیںعدل وقسط اور تعاون علی البرو التقویٰ کے حکم کو عملاً اختیار کرنا ہو گاورنہ ہم آج جن حالات سے دوچار ہیں ان سے بھی سنگین حالات سے دو چار ہونے کے خطرات موجود ہیں۔اس لیے ہمیں ظلم کارویہ ترک کر کے ، معاشرے کو عدل پہ قائم کرنا ہو گا اس کے علاوہ ہمارے پاس نجات کا کوئی اور راستہ نہیں ہے۔

Leave Comments

آج کی بات

انسان حالات کی پیداوار نہیں،حالات انسان کی پیداوارہوتے ہیں۔
{کتاب۔کوئی کام نا ممکن نہیں۔سے اقتباس}