زندگی میں کیا اہم ہے؟ – تعارف وتبصرہ – محمد عباس شاد

زندگی ایک بار ملتی ہے ۔ زندگی کی رفتار اتنی تیز ہوتی ہے کہ جب وہ ختم ہونے لگتی ہے تو ہمیں اس کا احساس ہونے لگتا ہے۔ ہم زندگی میں بے شمار کام کرتے ہیں لیکن ہم میں سے بہت کم لوگ اس بات پر غور کرتے ہیں کہ وہ جو کچھ کررہے ہیں وہ کتنا صحیح اور کتنا غلط ، کتنا مکمل اور کتنا نامکمل ہے ، بس وہ کرتے چلے جاتے ہیں اور پھر شکایت بھی کرتے ہیں کہ انہیں ان کے کیے کا صلہ اور بدلہ نہیں ملا ۔ وہ ساری دنیا سے شکوہ کرتے ہیں لیکن اپنے طرز عمل ، کام میں مہارت، سلیقے، جذبے ا ور جوش کا جائزہ نہیں لیتے ۔ اگر وہ زندگی کے ان گوشوں پر غور وفکر کرکے اس تک پہنچ جائیں جو ان کی زندگی میں سب سے اہم ہوتا ہے، تو پھر ان کے سارے شکوے ختم ہوجائیں ۔ عاطف مرزا کی یہ کتاب زندگی کے سمندر میں چھپے اسی ہیرے کی تلاش میں ہماری مدد کرتی ہے۔ انہوں نے دنیا کے ذہین ترین، کامیاب اور مـؤثر لوگوں کی زندگی اور خیالات سے اس کتاب کی عمارت چنی ہے اور ان کی یہ کتاب ہمارا ہاتھ تھام کر چپکے سے ہمیں ان کامیاب لوگوں میں بٹھا دیتی ہے جن کی ذہانت اور فطانت اور فکر وخیال سے دنیا آگے بڑھ رہی ہے۔


عاطف مرزا موٹیویشنل سپیکر(Motivational Speaker)، مصنف اور ٹرینر(Trainer)ہیں۔ ورچوئل یونیورسٹی ،پنجاب یونیورسٹی اور یونیورسٹی آف انجینئرنگ اینڈ ٹیکنالوجی کے ساتھ تدریس اور تحقیق کے شعبوں سے منسلک رہے ہیں۔ موٹیویشنل سائیکالوجی ان کی دلچسپی کا خاص میدان ہے اور اسی حوالے سے روزنامہ ایکسپریس کے لیے بھی لکھتے رہے ہیں۔
عاطف مرزا خود اپنی اس کتاب سے متعلق کہتے ہیں کہ:
لوگوں کی اکثریت اپنی صلاحیتوں سے کم سطح پر زندگی گزارنے لگتی ہے اس کا نقصان یہ ہوتا ہے کہ وہ خوشی اور اطمینان سے محروم ہوجاتے ہیں ۔میرا یقین ہے کہ انسان کو ایک باوقار زندگی گزارنے کے لیے پیدا کیا گیا ہے۔ کامیاب، مطمئن اور خوشگوار زندگی ہمارے اپنے انتخاب کا معاملہ ہے۔اس انتخاب کے لیے دو باتیں اہم ہیں ،یہی اس کتاب کا مرکزی خیال ہے۔
کامیابی کے لیے پہلی شرط یہ ہے کہ ہمارا کام (Work)محض کام نہ ہو بلکہ ہمارے ذہن میں یہ تصور ہوکہ اس کام کے ذریعے ہم نے اپنے معاشرے کے لیے مفید اور کارآمد بننا ہے۔ہم اس بات پر یقین رکھتے ہوں کہ کام ہماری اپنی ذات کی نشوونما کے لیے اہم ہے۔جب تک ہم اپنے کام کا ایک اعلیٰ تصور (Vision)سامنے نہیں رکھیں گے اس وقت تک اس سے لطف اندوز ہونا ممکن نہیں۔ایسا کام جس میں کوئی بڑا مقصد شامل نہ ہو ہمیں بوریت، تھکاوٹ اور بے مزہ زندگی کی طرف لے جاتا ہے۔اعلیٰ مقصد کو ذہن میں رکھنے والا خود اپنی نظروں میں اہم اور معزز بن جاتا ہے۔کام کے زندگی کا پر لطف حصہ بننے کا آغاز اس وقت ہوتا ہے جب ہم اس میں اپنی شخصیت کا اظہار کر سکیں، یہ ہمیں پسند ہو اور ہماری صلاحیتوں کے مطابق ہو۔
کامیابی کے لیے دوسری شرط خود آگہی ہے۔کامیاب اور مطمئن لوگ ذاتی ترقی(Personal Development) پر یقین رکھتے ہیں وہ خود کو بہتر سے بہتر بنانے کا سفر جاری رکھتے ہیں۔وہ اپنی سوچ،اپنی گفتگو،عادتوں اور رویوں کا جائزہ لیتے رہتے ہیں ،وہ سمجھتے ہیں کہ کارکردگی کو مزید بہتر بنانے اور رویوں کو مزید اچھا بنانے کی گنجائش ہر وقت موجود ہوتی ہے۔


اپنے کام کو غیر معمولی بنانا اور خود آگہی کا سفر جاری رکھنا اس کتا ب کا یہی پیغام ہے۔یہ اسی راستے کی طرف رہنمائی کرتی ہے ۔اس راستے کا انتخاب زندگی کو ایک عام سی شے نہیں رہنے دیتا بلکہ اسے ایک شاہکار میں تبدیل کر دیتا ہے۔
آپ یہ کتاب دارالشعور سے مندرجہ ذیل نمبرپر طلب کرسکتے ہیں۔

0304-4802030

People Comments (2)

  • 4rx April 9, 2017 at 7:59 am

    I like this website – its so usefull and helpfull.

  • ColeLavallie April 15, 2017 at 1:21 pm

    I see your site needs some unique & fresh articles.
    Writing manually is time consuming, but there is solution for
    this hard task. Just search for: Miftolo’s tools rewriter

Leave Comments

آج کی بات

انسان حالات کی پیداوار نہیں،حالات انسان کی پیداوارہوتے ہیں۔
{کتاب۔کوئی کام نا ممکن نہیں۔سے اقتباس}