دھمال ڈالنا حل نہیں..!!! — محمد عمیر اقبال

مقصد عام ہے “دہشتگردی کا خاتمہ” جس میں سب متفق ہیں اور اتفاق لا بُدِّی بھی ہے. لیکن ہر شخص، دہشت گردی کے خلاف احتجاج اور مذمت کے طریقوں کو اپنی اپنی فہم کے اعتبار سے ترجیح دے رہا ہے. دقتِ نظر اور طبیعتِ سلیمہ شیما کرمانی کی حرکت کو جائز اور درست نہیں گردانتی اور اس احتجاجی مظاہرے یا طریقے کو ترجیح دینے والے حمایتی طبقے کو بھی طبیعتِ فاسدہ کا متحمِّل سمجھتی ہے.. احتجاج حق ہے ظلم کے خلاف إعلاءِ أصوات لازمی ہے لیکن طریقہ انسانوں والا ہونا چاہئے –
دھمال ڈالنا کوئ حل نہیں، بس نظروں کی تشنگی کے لئے سیرابی کا باعث ہے. وصفِ انسانیت کے مساوی طریقہء احتجاج اپنایا جائے تو انشاءاللہ کوئ اختلاف نہیں کریگا. مخالفوں کو بھی حامی پایا جائے گا. دھماکوں کی مزاحمت میں دھمال کا انداز واقعی نرالا ہے – عقلمندی تو اس بات کا تقاضہ کرتی ہے کہ عمل اور ردِّ عمل نوعیت میں مساوی ہوں کم از کم عقلی طور پر مطابقت تو نظر آئے دونوں میں. کیا آپکو دہشت گردوں کے دھماکوں میں اور شیما کرمانی کے احتجاجی رقص میں واقعی مطابقت اور یکسانیت نظر آرہی ہے.
اگر آرہی ہے تو یقیناً آپکا استدلال عمران خان کے دھرنے سے ہوگا کیونکہ اس میں بھی کرپشن کے خلاف اسی دھمال کے مثل خوب دھمالی احتجاج ہوا بلکہ اس دھمال کا لیول تو اس دھمال سے بھی زیادہ شدید تھا – مجھے تو لوگوں کی کم علمی اور بےبسی پر افسوس کے ساتھ کہنا پڑ رہا ہے کہ کس طرح کے بیہودہ سوالات کیے جارہے ہے کہ دھمال کو قرآن سے ثابت کرو..؟ اپنا مسلک بتاؤ..؟ افسوس بے حد افسوس بلکہ ایسے لوگوں پر تففففففف ہے، محترموں جن چیزوں سے خدا اور اس اسکے نبی صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے روک دیا ہے تو بس اسی پر عمل پیرا ہوکر اپنے مسلمان ہونے کا ثبوت دیجئے ناکہ مسلک مسلک کهیلتے ہوئے فرقہ پرستی کو پروان چڑھائیے، بعض ڈانشوڑوں نے تو دھمال کو زاہدوں کی اللہ هو اللہ هو پر ترجیح دے دی کافی دیر تک پوسٹ پڑھ کر سوچتا رہا کہ یہ تو اسلامی تعلیمات سے کهلم کهلا انحراف ہے اور دهمال و بهنگڑے، مخلوط محافل، رقص و سرور تو جاہلیت اولی کی رسوم ہیں جنہیں اللہ کے حبیب صلی اللہ علیہ و آلہ و سلم نے “کل امر الجاهلية تحت قدمی” کہہ کر دفنا دیا تها –
پهر قرآنی نصوص پر نظر گئی تو دیکها کہیں تو انبیاء کرام کے بعد پاکیزہ ترین ہستیوں ازواجِ مطہرات کو کہیں تو آواز میں کرختگی کا حکم دیا جا رہا ہے، کہیں انہیں بڑی چادر سے جسم ڈهانپنے کا حکم ہے، کہیں سج سنور کر گهر سے باہر قدم رکھنے کی ممانعت کی ہے تو کہیں صحابہ جیسی عظیم الشان ہستیوں کو پردے کے پیچھے سے ضرورت کی اشیاء مانگنے کا حکم ہے، غرض ہر طرح سے موصوف کے فتویٰ کو اسلام کی تعلیمات سے ثابت کرنے کی کوشش کی تو ناکام ہی رہی جس پر انکے لیے ہدایت کی دعا ہی مانگی جاسکتی ہے،بس…!!! نا میں بریلوی نا آپ دیوبندی آیئے صرف قرآن مجید پر عمل پیرا ہوکر ایسی لغویات سے بچیں جو ہمارے درمیان تفریق پیدا کرے –
جنہوں نے دهمال کو بزرگانہ ورثہ قرار دیا، شرما و حیاء کی حدود سے کوسوں دور غیر محرموں کے جهرمٹ میں تهرکتا جسم انہیں عبادت میں محو نظر آیا، ٹهمکے انہیں اسلاف کی انسانی دوستی کا اظہار کرتے نظر آئے، پهر دل کو یہ کہہ کر خاموش کر دیا کہ چپ ہو جا اور انتظار کر کہ موصوف بہت جلد مع اپنے خاندان کے کسی مزار پر اس سے بہتر دهمال ڈال کر اپنے اعمال نامے کو بهاری کرتے نظر آئیں گے کیونکہ ان کے نزدیک یہی عبادت ہے اور یہی فلاح و کامیابی کا گر ہے ، اکبر الہ آبادی ایسوں کیلئے ارشاد فرماتے ہے “یہی بس اکبر کی التجا ہے جناب باری میں یہ دعا ہے علوم و حکمت کا درس انکو پروفیسر دیں سمجھ خدا دے ” آپ لوگ شرفاء ہیں بد گمانی نہیں کرتا لیکن بالفرض کوئ شخص آپ سے لڑنے لگے اور فی الوقت آپ اس پر جوابی کارروائی کرنے کی قدرت نہ رکھتے ہوں تو کیا اس صورت میں ناچنا شروع کروگے..؟ بھائ بات یہ ہے کہ احتجاج آپکا حق ہے لیکن امن چاہتے ہو تو کچھ ایسا کرو جس سے دھشت گرد اوندھے منہ زمین پر گر پڑیں انکو اور انکے منصوبوں کو ناکام کرکے پیروں تلے روندا جائے، دہشتگردی کا نام و نشان مٹا دیا جائے. کیا اس دھمال کا حاصل یہی ہوگا..؟ اگر نہیں تو ایسا احتجاجی مظاہرہ نہ کرنا چاہیے جو انکو انکے مشن میں کامیابی کے بعد لطف اندوز کرے امید ہے سمجھ جاؤ گے.
شیما کرمانی کے کئے گئے کام کو چھوڑو بات خواہ مخواہ طول پکڑ جائے گی – اکبر الہ آبادی کی روح سے معزرت کرتے ہوئے: “‏

میں ایسی تحاریر کو قابلِ ضبطی سمجھتا ہوں
جن کو پڑھ کر بیٹا باپ کو خبطی سمجھتا ہو “

Leave Comments

آج کی بات

انسان حالات کی پیداوار نہیں،حالات انسان کی پیداوارہوتے ہیں۔
{کتاب۔کوئی کام نا ممکن نہیں۔سے اقتباس}