کامیابی کی قیمت — قاسم علی شاہ

دنیا میں کوئی بھی چیز مفت نہیں ہے ۔دنیا میں ہر کام کی ایک قیمت ہوتی ہے ۔ اگر بھیک مانگنے کے کام کو دیکھا جائے تو یہ سمجھا جاتا ہے کہ یہ مفت ہے لیکن اس کے لئے بھی عزت نفس کو مجرو ح کرنا پڑتا ہے۔ عزت نفس کو مجروح کئے بغیر بھیک مانگنے کے شعبے میں کامیابی مشکل ہے۔ مانگنا بذات خود ایک بڑی انسلٹ کی بات ہے۔ بھیک مانگنا بذات خود آپ کی گریس کو خراب کرتی ہے۔ آپ اپنے مقام کو نیچے گرا کر ہاتھ پھیلا دیتے ہیں۔
یاد رکھیے کہ جب بھی زندگی میں آپ نے کچھ بنا نا ہے تو جو آپ بنانا چاہتے ہیں اس کی قیمت ادا کرنی پڑتی ہے۔ جب بھی آپ کامیابی کو تلاش کرنے جائیں گے تو کامیابی کی تین قیمتیں ہیں جو آپ کو ادا کرنی پڑیں گی۔ان تین قیمتوں کو ادا کئے بغیر کامیابی نہیں مل سکتی۔

1۔کامیابی کی پہلی قیمت محنت ہے:
اگرآپ Hardworkیعنی محنت ، Struggle یعنی کوشش کے عادی نہیں ہیں تو چاہے آپ Super Sonicہیں ، بہت زیادہ ذہین ہیںیا جتنے مرضی آپ غیر معمولی انسان ہیں۔ کامیابی حاصل کرنے کے لئے محنت لازمی ہے۔ جب انسان محنت کر لیتا ہے تو اس سے اگلی چیز صبر ہے۔ جن لوگوں نے کمیٹیاں ڈالی ہوتی ہیں وہ اس Processکو بہت اچھی طرح سمجھتے ہیں ۔لو گ یہ سمجھتے ہیں کہ جو محنت وہ لوگ کر رہے ہیں اس کا Reward ان کو فورا ً مل جاتا ہے ، لیکن ایسا نہیں ہوتا ، جب تک اس کام کا Processمکمل نہیں ہو جاتااس کا نتیجہ آپ کو نہیں ملتا۔ اس کے لئے صبر چاہیے ہوتا ہے۔
2۔ کامیابی کی دوسری قیمت صبر ہے :
دنیا میں ایک سائنسدان تھا جو رویوں Behaviours پر ریسرچ کر رہا تھا اس کا نام ہے وارٹل وشا، اس نے 1960میں ایک تجربہ کیا۔ اس نے بچوں کی ایک کلاس جو 100بچوں پر مشتمل تھی اس میں Candies بانٹ دیں اور اس کے بعد اس نے بچوں سے کہا کہ جو بچہ دس منٹ تک یہ Candy نہیں کھائے گا اس کو اس کے صلہ میں ایک Candy ملے گی۔ اور جو بچہ Candy کو کھا لے گا اس کو Candy نہیں ملے گی۔اس کے بعد وہ دس منٹ کے لئے باہر گیا اور جب وہ واپس آیا تو ان سو میں سے سات بچے ایسے تھے جو Candies کھاچکے تھے۔ گیارہ بچے ایسے تھے جنہوںنے Candies کی طرف دیکھا بھی نہیں اور اپنا کام کرتے رہے۔اور ایک کثیر تعداد ایسی تھی جو Candies کو کھول کر ایک دوسرے کو دکھا رہے تھے اور یہ سوچ رہے تھے کہ اگر ہم نہیں کھائیں گے تو ہمیں ایک اور مل جائے گی، اور منہ میں پانی لانے والی باتیں کر رہے تھے اور ذرا سے لالچی عنصر شامل تھا۔ اس نے ان بچوں کو Data سنبھال کر محفوظ کر لیا یہ بات 1960 کی تھی۔
تیس سال بعد یعنی 1990ء میں اس نے دوبارہ ان بچوں سے رابطہ کیا جو اب بڑے ہو چکے تھے ۔ ان میں سے جن سات بچوں نے جنہوں نے Candiesکھا لی تھیں ان کے حالات بہت خراب تھے۔ ان میں سے کوئی جیل میں تھا Criminal بن چکا تھا۔ کوئی ان میں سے سڑکوں پر پڑا ہو اتھا۔ ان میں سے کوئی بھیک مانگ رہا تھا۔ اس کے علاوہ جو بچے جنہوں نے اس وقت صبر سے کام لیا ان کی حالت اچھی تھی ۔ اس نے یہ نتیجہ نکالا ہے جو بندہ زندگی میں دس پندرہ منٹ صبر نہیں کر سکتا وہ زندگی میں کبھی کامیاب نہیں ہو سکتا۔
انسان کو بڑے نتیجے کے میٹھے پھل کے لئے صبر کرنا پڑتا ہے۔پیدائشی طور پر کوئی محمد علی کلے ، عبدالستار ایدھی پیدانہیں ہوتا، کوئی پیدائشی سائنسدان نہیں ہوتا،کوئی پیدائشی بزنس مین نہیں ہوتا۔ یہ تمام لوگ ایک پراسیس سے گزر کر بنتے ہیں اور اس پراسیس میں صبر کابہت اہم کردار ہوتا ہے۔ یہ یاد رکھیے گا کہ جلدی سے پھل کھا لینا اور جلدی سے نتیجہ لے لینا بے صبری کا نتیجہ ہے۔
3۔ کامیابی کی تیسری قیمت ذمہ داری ہے:
زندگی میں کامیاب ہونے کے لئے ، آگے بڑھنے کے لئے اپنے آپ کو ذمہ دار بنانا پڑتا ہے۔ یہ آپ کی ability کا response ہے۔ آپ کے اندر جو صلاحیت موجود ہے اس کی وجہ سے آپ کے اندر احساس ذمہ داری کا پیدا ہو جانا۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ اگر آپ کے اندر کوئی صلاحیت موجود ہوتی ہے تو اس کا اظہار ذمہ داری کی صور ت میں نکلتا ہے ۔ ماہر نفسیات یہ کہتے ہیں کہ کسی بھی واقعہ کا ہونا اہم نہیں ہے اس سے زیادہ اہم اس واقعہ کا Reaction ہے ۔
جو کچھ آپ کے ساتھ ہوتا ہے اس کو آپ کنٹرول نہیں کر سکتے لیکن اس کے بعد پیدا ہونے والے ردعمل کوآپ کنٹرول کر سکتے ہیں۔ ایک ہی واقعہ ہوتا ہے جس میں ایک بندہ قتل ہو جاتا ہے اور اسی واقعہ میں دوسرا بند معاف کر دیتا ہے اور زندگی میں ترقی کر جاتا ہے۔ ایک ہی واقعہ ہوتا ہے جس میں ایک شخص کو حق نہیں ملتا ، وہ دنیا کا سب سے بڑ ا فزیوتھراپسٹ بن جاتا ہے۔ ایسا بھی ہوتا ہے کہ ایک بندے کے ساتھ کوئی سانحہ ہو جاتا ہے اور وہ اس کا اثر لیتا ہی نہیں ہے۔ کسی بھی ہونے والے ایکشن سے زیادہ اہم وہ ری ایکشن ہے جو ہونے والے واقعات کے نتیجے میں آپ کے اندر پیدا ہوتے ہیں۔ اس ری ایکشن کے تناظر میں ، ایک بہت بڑے بزنس مین کاواقع بتا تا ہوں۔ ایک ایسا بزنس مین جو ملین آ ف روپیز میں کاروبار کرتا ہے۔ وہ کہتا ہے کہ 1992 وہ ایک چھوٹا سا پھٹہ لگا کر کاروبار کیا کرتا تھا۔ اس مارکیٹ کے کاروباری کمیٹی کا ایک اجلاس ہوا ، انہوں نے اس اجلاس میں مجھے نہیں بلایا۔ میں نے انہیں درخواست بھیجی کہ مجھے بھی اس اجلاس میں بلایا جائے تو انہوں نے جواب دیا کہ ہم پھٹوں والوں کو نہیں بلا رہے بلکہ جن کے کاروبار مستحکم ہیں صرف انہی کو بلایا جار ہا ہے۔ اس شخص نے بتایا کہ قاسم صاحب ایک رد عمل تو اس واقعہ کا یہ تھا کہ میں ان کو گالیاں نکالتا اور دوسرا رد عمل یہ ہے کہ میں آج اس مارکیٹ کا ایک بزنس ٹائیکون ہوں۔یہ کیا ہے یہ وہی رد عمل ہے جس نے مجھے اس پر مجبور کیا کہ میں کاروبار میں آگے بڑھ کر ان لوگوں کو یہ باور کرواوں کہ میری بھی ایک شناخت ہے۔ رد عمل آپ کے ہاتھ میں ہوتا ہے لیکن ہونے والا واقعہ آپ کے بس میں نہیں ہوتا۔
زندگی میں یہ تین قیمتیں ادا کیے بغیر کامیابی کا حصول ناممکن ہے ۔
پہلی قیمت محنت کی ہے دوسری قیمت صبر کی ہے اور تیسری قیمت ذمہ داری کی ہے۔ یہ تینوں قیمتیں ادا کر کے آپ اس چیز کا حق ادا کرتے ہیں کہ کامیابی آپ کے قدم چومے۔آخری بات میں یہ کہوں گا ایک سال تھا 1916جب میں اور آپ اس دنیا میں نہیں تھے اور ایک آج ہے 2016 جب ہم یہاں موجود ہیں اور ایک سا ل آئے گا 2116 جب ہم یہاں نہیں ہوں گے ۔ یہ زندگی ایک بار ہی ملتی ہے اور ہم یہاں آتے ہیں اور کوشش کریں کہ ہمارے آنے سے اس دنیا میں فرق پڑنا چاہیے۔اگر آپ کا اس دنیا میں ہونے سے فرق پڑتا ہے اور یاد رکھیں کہ دنیا سے جانے سے بھی فرق ضرور پڑے گا۔زندگی کی اس ایک Opportunity میں اگر آپ میدان میں کھڑے نہیں ہوں گے اور کھیلیں گے نہیں ، ذمہ داری کو پورا نہیں کریں گے ، تو آپ زندہ ہونے کا حق ادا نہیں کریں گے ۔ زندہ ہونے کا حق یہی ہے کہ اس زندگی کی گیم کو کھیل کر جائیں۔ اپنے کسی عمل سے ، اپنی کسی عادت سے ، اپنے کسی رویے سے، اپنی کسی تحریک سے ، اپنے کسی نظریے سے، اپنی کسی کامیابی سے یہ ثابت کیجیے کہ دنیا میں آپ کا نام بھی کامیاب لوگوں کی فہرست میں لکھا جائے۔

Leave Comments

آج کی بات

انسان حالات کی پیداوار نہیں،حالات انسان کی پیداوارہوتے ہیں۔
{کتاب۔کوئی کام نا ممکن نہیں۔سے اقتباس}