موثر ترین لوگوں کی سات عادات — قاسم علی شاہ

دنیا کے موثر ترین لوگوں کی سات عادات اسٹیفن آر کوے کی ایک کتاب ہے۔ یہ دنیا کی ایک بہت ہی مشہور کتاب ہےا ور اس کی اب تک ڈیڑھ کروڑ کاپیاں بک چکی ہیں۔ اس کتاب کو لکھنے والا مینجمٹ کی دنیا میں ٹاپ کا گرو یعنی لیڈر ہے اس کا نام اسٹیفن آر کوے ہے۔ اسٹیفن آر کوے کی خاص بات یہ ہے کہ دنیا کے جتنے نامور انسان ہیں اور جتنی نامور کمپنیوں کو چلانے والے محرک لوگ ہیں ، یہ افراد اسٹیفن آر کوے کو ٹیچر مانتے ہیں۔ یہ ایک بلا درجے کی کتاب ہے جو دنیا میں بہت مشہور ہوئی ہے۔ یہ کتاب ان لوگوں کے لئے ہے جو زندگی میں پر اثر یا موثر بننا چاہتے ہیں۔

یہ یاد رکھیں کہ اگر کسی شخص کے بارے میں یہ پتہ لگ جائے کہ اس کی کسی خاص عادت کی وجہ سے اس کی بات اہمیت کی حامل ہے تو ہم بھی وہی عادت اپنا سکتے ہیں۔اسٹیفن آر کوے نے اپنے دور کے موثر لوگوں پر ریسرچ کی، ماضی کے موثر لوگوں پر ریسرچ کی، مستقبل کی مضبوط پلاننگ کرنے والے موثر لوگوں پر ریسرچ کی اور یہ ساری ریسرچ اس کتاب کی شکل میں سامنے آ گئی۔

یہ یاد رکھیے گا کہ عادت ایک دم سے نہیں بنتی۔عادت ہمیشہ بنائی جاتی ہے۔ بعض اوقات ہمارا اردگرد ہمارا ماحول ، ہمارے گھروالے، ہمارے حالات ہماری عادات کو بنا رہے ہیں اور ہمیں یہ معلوم ہی نہیں ہوتا کہ یہ ہماری عادت بن چکی ہے۔ مثال کے طور پر لیجیے کہ کسی کو وقت ضائع کرنے کی عادت ہے۔ کسی کو بے وجہ باتیں کرنے کی عادت ہے۔ کئی ایسے لوگ ہیں جن کی زندگی میں فوکس موجود نہیں اور وہ ایک عادت کی صورت میں ان میں موجود ہے۔ یہ یاد رکھیں کہ جو چیزیں جو آپ خود بخود کرتے جارہے ہوتے ہیں وہ ایک عادت بن چکی ہوتی ہے۔ ہم ایک عرصہ لگانے کے بعد کچھ عادتیں بنا لیتے ہیں اور اس کے بعد وہ عادتیں ہمارے مستقبل کو بناتی ہیں۔ مثال کے طور پر آپ کے اندر چار اچھی عادتیں ہیں تو آپ کا مستقبل روشن ہو گا اور اگر آپ کے اندر چار اچھی عادتیں نہیں ہیں تو آپ کا مستقبل روشن نہیں ہوگا۔

ان سات عادات کو سمجھ لینے سے ایک فائدہ تو یہ ہوگا کہ آپ ایک بااثر اور موثر شخص کے طور پر زندگی کو بنالو گے۔ دوسرا آپ کے لئے یہ ناپنا یا مئیر کرنا آسان ہوگا کہ کوئی بھی شخص موثر ہے یا نہیں تو بھی آپ ان سات عادات کے پیمانے پر پرکھ لیں گے۔

First Habit – ProActive

پہلی عادت ، پرو ایکٹو ہو جانا یعنی پہلے سے تیار ہو جانا۔ موثر لوگوں کی پہلی نشانی یہ ہے کہ وہ پہلے سے ہی کسی کام کے لئے تیار رہتے ہیں۔ اس کا ایک مطلب یہ بھی ہے کہ کل کا تھوڑا سا کام آج ہی کر لیا جائے۔ آپ کو بہت سے طالب علم یا لوگ ایسے ملیں گے جو پر ایکٹو یعنی پہلے سے پلاننگ کرنے والے ہوں گے ایسے لوگ موثر ثابت ہوتے ہیں۔ اس کے بالکل برعکس لوگوں کی ایک کثیر تعداد ری ایکٹو یعنی ردعمل کے مفروضے پر ہوتی ہے کہ جب ان کے سر پر کام پڑتا ہے تو وہ کرتےہیں۔ اس کا دوسرا مطلب یہ بھی ہے کہ وقت ضائع کر رہے ہوتے ہیں ، وہ وقت جو اگلے آنے والی سرگرمی یا کام کا ذہنی خاکہ بنانے میں استعمال ہونا چاہیے وہ ضائع ہو جائے تو ایسے افراد ری ایکٹّو یا ردعمل والے ہوتے ہیں اور غیر موثر لوگوں کی فہرست میں شمار ہوتے ہیں۔ ایسے لوگوں کی سب سے خطرناک بات یہ ہوتی ہے کہ جیسے ہی ان کو کسی چیلنج کا سامنا درپیش ہوتا ہے وہ فوراً ہی ری ایکٹّو  ہو جاتے ہیں۔ یعنی بجائے کہ وہ چیلنج کو فیس کریں اور اس سے ان کی لرننگ ہو ، اس کے بجائے وہ چیلنج پر ری ایکٹ کر دیتے ہیں۔

ایک بیٹس مین ، بلے کو ہاتھ میں پکڑ کر پہلے سے ہی تیار ہے کہ جیسے ہی گیند اس کے سامنے آئے گی تو وہ چھکا مار دے گا تو وہ یقیناً کامیاب ہو جائے گا۔ اس کے مقابلے میں ایک بیٹس مین گیند آنے کا انتظار کر رہا ہے اور سوچتا ہے کہ جب گیند آئے گی تو بلا گھومائے گا تو وہ آوٹ ہی ہو جائے گا۔

اپنی زندگی میں اگلے آنے والے کاموں میں پہلے سے تھوڑا سا تیار رہا کریں۔ وہ کام جو آپ کے کیرئیر، فیوچر، آپ کی پڑھائی سے متعلق ہوں۔ ان کے حوالے سے کچھ پہلے سے تیاری کر کے رکھا کریں۔

ایک شعر ہے : سفینہ بنائے رکھنا ، طوفاں آنے سے پہلے

سفینہ کشتی کو کہتے ہیں یعنی کشتی کو پہلے ہی سے بنا کر رکھو اس سے پہلے کہ طوفان نوح آ جائے۔ پہلے سے تیار کر کے رکھنا، پہلے سے ہوم ورک کر کے رکھنا پروایکٹو نیس کی علامت ہے۔

Second Habit: Begin with the End in Mind

کام شروع کرتے ہوئے اس کا نتیجہ ذہن میں رکھنا یعنی یہ جو میں کام کر رہا ہوں اور یہ کوشش کر رہا ہوں یہ سب چیزیں کہاں جا رہی ہیں۔ کسی کام کے اختتام یعنی آخر کو سامنے رکھنا یہ چیز آپ کے وژن اور گولز کے ساتھ منسلک ہوتی ہے۔اگر آپ کی زندگی میں مقصد اور ٹارگٹ موجود نہیں ہے تو آپ یہ عادت نہیں اپنا سکتے۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ دنیا کے موثر ترین لوگ وہ ہوتے ہیں جن کے پاس وژن ہوتا اور ان کے مقصد زندگی بہت بڑے ہوتے ہیں۔ اگر آپ کو یہ پتہ نہیں ہے کہ میں یہ ساری محنت کیوں کر رہا ہوں یا وہ بچے جو نتیجہ کی فکر نہیں کرتے وہ پڑھنے والے نہیں ہوتے۔ وہ طالب علم جن کو اپنے نتائج کو ذہن میں رکھتے ہیں کہ انہوں نے اچھے کالج میں ایڈمیشن لے لینا ہے۔ انہوں نے ڈاکٹر یا انجنئیر بن جانا ہے وہ یقیناً محنت کرنے والے ہوتے ہیں اور یقیناً نتائج حاصل کر لیتے ہیں۔

انسان کے پاس اس کا وژن اس کے اندر موجود ہوتا ہے اور یہ وژن کسی کو دکھایا نہیں جا سکتا۔ اگر یہ کسی کو شئیر بھی کیا جائے تو ادھورا ادھورا سا رہتا ہے۔ وژن دراصل آپ کو ایکٹو کروانے والی فورس کا نام ہے یعنی ایک ایسا محرک ہے جو آپ کو جدوجہد پر مجبور رکھتا ہے۔

Third Habit: Put First Thing First.

موثر لوگوں کو یہ پتہ ہوتا ہے کہ زندگی میں اہم کیا ہے۔ پہلے آنے والی چیزوں کو پہلے رکھنا پڑتا ہے اور بعد میں آنے والی چیزوں کو بعد میں۔ بے شمار کام ، بے شمار دوست، بے شمار سرگرمیاں پہلے کرنے والی نہیں ہوتیں اگر وہ آپ پہلے کر لو تو جو چیزیں پہلے آنیں تھیں اس کا حق چلا جائے گا۔ یہ کام تب ہی ممکن ہے کہ جب آپ اپنے اندر دھیان دیتے ہو کہ آپ کی ترجیحات کیا ہیں؟ مثال کے طور پر ایک طالب علم کے لئے زمانہ طالب علمی میں سب سے اہم کام اس کی پڑھائی ہے ، اس کا کیرئیر ہے اس کا فیوچر ہے۔ اگر ان چیزوں کو پہلے نہیں رکھتے بلکہ دوستوں اور کھیلوں کو وقت دیتے ہیں تو یقیناً آپ کا شمار سنجیدہ اور موثر لوگوں میں نہیں ہو گا۔

جب آپ یہ فرق نکال لیتے ہو کہ زندگی میں اہم کیا ہے ؟ تو آپ ان اہم چیزوں کو سامنے رکھ کر زندگی کو چلاتے ہو۔

Fourth Habit: Think Win-Win

ون ون کا مطلب یہ ہے کہ میں بھی جیتوں اور تم بھی جیتو۔ یعنی دونوں فریقوں کی جیت ہوتی ہے۔ اس کے برعکس غیر موثر لوگ یہ مانتے ہیں کہ میں جیتوں صرف اس لئے کہ دوسرے کی ہار ہو جائے۔ موثر انسان تب بنتا ہے کہ جب وہ یہ سوچے کہ میرا فائدہ تو ہونا ہی چاہے ، دوسرے کا بھی فائدہ ہونا چاہیے۔ جب آپ دوسروں کا فائدہ سوچتے ہوتو ایسی صورت میں لوگ جڑے رہتے ہیں اور ایسی صورت میں کام چلتے رہتے ہیں۔ مثال کے طور پر ایک تعلیمی ادارہ چل رہا ہے اور اگر پرنسپل یہ سوچے کہ طالب علموں کی ساری فیس مجھے ملنی چاہیے یہ استادوں کو نہیں ملنی چاہیے۔ اگر پرنسپل استادوں کو یہ کہے کہ یہ بہت نوبل اور فرض کام ہے اور یہ آپ کو کرنا ہے چاہے آپ کو معاوضہ نہ بھی ملے۔ تو یقینی بات ہے کہ ایسا ادارہ نہیں چلے گا۔

یہ زندگی میں اصول بنا لیں کہ جس کام میں آپ اپنا فائدہ سوچتے ہیں اس میں دوسرے کا فائدہ بھی سوچیں۔ جس شخص نے آپ کو زندگی میں کہیں کوئی فائدہ پہنچایا ہے اس کو ضرور فائدہ دیں۔

یہ قرآن کی تعلیمات بھی ہیں کہ: تم میں سے اس وقت تک کوئی مسلمان نہیں ہو سکتا ، جب تک وہ اپنے دوسرے بھائی کے لئے وہ کچھ نہ چاہے جو اپنے لئے چاہتا ہو۔ یہ انجنئیر شہزاد کی انتخاب کردہ حدیث یا آیت ہے اس موضوع کے تناظر میں۔

ایسا کرنے سے دو اشخاص کے درمیان وہ چیزیں پیدا ہو جاتیں جو کامن انٹرسٹ پر ہوں۔ کسی بھی معاہدہ میں یہ چیز لازمی ہوتی ہے کہ جب ایک فریق دوسرے کے مفاد کو پہلے مد نظر رکھتا ہے تو یقینی بات ہے کہ وہ معاہدہ طے پا جاتا ہے اور پروان چڑھتا ہے۔ یہی چیز ون ون کہلاتی ہے۔

 Fifth Habit: First to be Understand then to be Understood:

پہلے سمجھو اور پھر کہو کہ مجھے سمجھ آ گئی۔ دنیا میں سب سے بڑا کام انسانوں کے درمیان ربط ہے۔ یہ ربط اسی صورت میں سمجھ آ سکتا ہے جب آپ کے اندر دوسروں کو سمجھنے کی صلاحیت موجود ہو۔ یہ یاد رکھیں کہ کسی قوم کی حالت بدلنےسے پہلے اس قوم کے فرد کو سمجھنا پڑتا ہے۔ لوگوں کی نیچر، مزاج ، نفسیات، عادتوں کو سمجھنا سب سے پہلے بہت ضروری چیز ہے۔

میرے سے بہت سے لوگ یہ پوچھتے ہیں کہ آپ اتنے لیکچرز، اور اتنی سرگرمی کرتے ہیں۔ اس کا ہوم ورک یا پریکٹس کہاں کرتے ہیں۔ وہ پوچھتے ہیں کہ کیا کتابیں پڑھنے سے لیکچرز تیار ہو جاتے ہیں؟ میں جواب ہوتا ہے کہ نہیں جی۔ میں کہتا ہے کہ اگر آپ ان لوگوں کی تعداد دیکھیں جن کو میں فری کونسلنگ دیتا ہوں تو آپ حیران ہو جائے دراصل وہی میری پریکٹس اور ہوم ورک کا باعث بنتی ہے۔ میرے روزانہ کے کتنے ہی گھنٹے اس کام میں صرف ہو جاتے ہیں کہ لوگ اپنے مسائل لے کرآتے ہیں میں ان کو سنتا ہوں اور اس کا حل بتاتا ہوں۔ اس طرح اس شخص کا مسئلہ تو حل ہو ہی جاتا ہے لیکن مجھے اس شخص کی نیچر کا، مزاج کا، کردار کا اور اس کے تجربات کا اندازہ ہو جاتا ہے۔ تو جب ایک انسان کی نیچر، اس کا مزاج، اس کا کردار اور اس کے تجربات سمجھے جاتے ہیں تو یہ ایک مفت کا نالج ہے جو مجھے اس ایک گھنٹہ میں حاصل ہو گیا۔

جب آپ لوگوں کو سمجھنے لگ پڑتے ہیں تو آپ کو ایک اجتماع کی بھی سمجھ آ جاتی ہے۔ یہ یاد رکھیں کہ ہر بندہ کے ساتھ ایک ضرورت جڑی ہوتی ہے اور اگر آپ کو اس کی ضرورت کی سمجھ آ جائے تو آپ اس کا بہتر حل نکال سکتے ہیں۔ مثال کے طور پر شیر نے کبھی گھانس نہیں کھانا ہوتا اس کی خوراک گوشت ہوتی ہے۔ بکثرت لوگ یہ کر رہے ہوتے ہیں کہ شیر کو گھانس ڈال دی جائے یعنی جب آپ لوگوں کی نیچر، مزاج اور ضروتوں کو نہیں سمجھتے تو پھر آپ اسی تناظر میں پرفارم کرتے ہو۔

Sixth Habit: Synargy

سائے نرجی کا مطلب ہے انرجیوں کا مجموعہ۔ اگر انسان اکیلے ترقی کرنا چاہے تو یہ ایک ناممکن چیز ہے۔ ترقی ہمیشہ ایک ٹیم کی شکل میں ہوتی ہے۔ جو شخص زندگی میں ٹیم بنا لیتا ہے تو اس کا مطلب ہے کہ اس شخص کے اندر بہت بڑی صلاحیت ہے۔ اگر آپ اپنے مقصد کے حصول کے لئے لوگوں کو ساتھ جوڑ سکتےہیں۔ ان لوگوں کے مزاج کو سمجھتے ہوئے ان کی ضرورتوں کو اپنے ساتھ جوڑ لیتے ہیں۔ ایسی صورت میں آپ ایک لیڈر بن جاتے ہیں اور کام کو اگلے درجے میں لے کر چلتے ہیں۔ تو سنرجی کا مطلب یہ ہے کہ ایک لیڈر کی انرجی ، اور ایک ٹیم کے اندر ہر بندے کی انرجی ہوتی ہے تو ان کا مجموعہ سنرجی کہلاتی ہے۔ یہ ایک فرد کی انرجی سے بہت زیادہ ہوتی ہے۔

سنرجی کب آتی ہے؟ جب ٹیم بنتی ہے اور ٹیم کب بنتی ہے جب آپ کے اندر حوصلہ ہے دوسروں کو برداشت کرنے کا۔ دوسروں کو ساتھ لے کر چلنے ، دوسروں کے مزاج کو سمجھنے کا، ان کی غلطیوں کو برداشت کرنا کا، دوسروں کے وژن اور گولز اور دوسروں کی ترجیحات کو سمجھنے کا حوصلہ آپ کے اندر موجود ہوتو سنرجی کی شکل بنتی ہے۔ سنرجی کی شکل بنائیے آپ کا شمار موثر لوگوں میں ہونے لگے گا۔

 Seventh Habit: Ruben the Saw

ساتویں عادت ہے کہ اپنے اوزا ر کو اپنے ہتھیار کو تیز رکھنا۔ یاد رکھیں کہ اگر آپ ڈیلی یعنی روزانہ کی بنیاد پر ڈویلپمنٹ نہیں کرتے ، وہ ترقی نہیں کرتا اور موثر انسان نہیں بنتا۔ ڈویلپمنٹ شروع ہوتی ہے غورو فکر سے ، اپنے بارے میں سوچنے سے، اپنی عادتوں کے بارے میں سوچنا،اپنے مزاج کے بارے میں سوچنا، یہ سوچنا کہ میں کدھر جا رہا ہوں  میں کیا کر رہاہوں؟، میرا کل کیا تھا؟، میراآج کیا ہے ؟، میں نے کرنا کیا ہے؟، میں ادھر آیا کیوں ہوں؟ ، میرا کوئی مقصد بھی ہے یا نہیں؟، میں بے مقصد زندگی تو نہیں گزار رہا؟ ، کیا میرا وقت اور میری زندگی ضائع تو نہیں ہو رہی؟

ڈویلپمنٹ کا دوسرا سورس یا ذریعہ وہ ہے کتاب۔ جو بندہ اپنے کورس کی کتاب کے علاوہ کتاب پڑھتا ہے۔ اسکول کی کتاب پڑھنا مجبوری ہوتی ہے لیکن جو شخص اس سے آگے بڑھ کر کتاب پڑھتا ہے تو یقینی بات ہے کہ وہ آگے بڑھنا جانتا ہے۔ وہ ایک نئی کتاب پکڑتا ہے اور اس کا موضوع دیکھتا ہے اوراس کی اہمیت کو سمجھتے ہوئے وہ پڑھتا ہے تو اس کا مطلب ہے کہ وہ اس طالب علم سے ایک درجہ آگے ہے جو صرف اور صرف کورس کی کتابیں پڑھتے ہیں۔

جدید معاشروں میں ڈویلپمنٹ سے متعلقہ کتابیں کورس میں ڈالی گئیں ہیں۔ ان کا بچہ میٹرک سے پہلے ہی غورو فکر اور مختلف کتابیں پڑھ کر اپنی عادتیں استوار کر لیتا ہے۔ جبکہ ہمارا معاشرہ ہے کہ جس میں غورو فکر کی عادت سرے سے ہی نہیں ڈالی گئی۔ ہماری کلاسوں میں بچے سو رہے ہوتے ہیں لیکن دماغ کو استعمال کرنے والے نہیں ہوتے۔

مجھے ایک بندہ ایسا بھی ملا ہے جو ہر نماز کے بعد دس منٹ بیٹھ کر سوچتا ضرور ہے کہ کیا کھویا کیا پایا؟ روزانہ کی بنیاد پر۔ ہمارے اسکول میں رسالے دیے جاتے ہیں اور اسی فیصد بچے اس رسالے کو ہاتھ ہی نہیں لگاتے کیونکہ ان کی عادت ہی نہیں ہے۔

غور و فکر کے بغیر کتاب میں لکھا ہوا علم ایک بوجھ کی مانند طالب علم پر لاد دیا جاتا ہے۔ اور وہ علم کو ایک بوجھ یا زیادہ سے زیادہ نمبر لینے کی غرض سے حاصل کرتا ہے اس کے علاوہ کچھ نہیں ہے۔

یاد رکھیے کہ اگر آپ پچھلے کئی سالوں سے ویسے ہی ہیں جیسے کہ آج ہیں تو یہ یاد رکھیں کہ کوئی ترقی نہیں ہوگی۔ اگر کچھ کرنا چاہتے ہیں تو کچھ بدلنا پڑے گا؟ کیا بدلنا پڑے گا؟ اپنے آپ کو بدلنا پڑے گا۔

اپنے آپ کو بدلنا صرف اور صرف تین طرح سے ممکن ہے۔ ایک ذریعہ تو غوروفکر کرنا ہے، دوسرا ذریعہ کتابیں ہیں اور تیسرا ذریعہ سیمینارز، با معنی گفتگو سے ۔ ایک ہفتہ میں دو یا تین دن میں بھی کسی ایسی ہی جگہ جا کر کاپی اور پین پکڑ کر لیکچر سنتا ہوں اور اس کو نوٹ کرتا ہوں  تا کہ میرے اندر ڈویلپمنٹ ہوتی رہے۔ میں آج کا دن گزرے ہوئے کل سے بہتر ہو، اور کل آنے والا دن میرے آج کے دن سے بہتر ہو۔ اور اس طرح جتنے دن گزرتے جائیں وہ پچھلے سے بہتر ہوتے چلے جائیں۔

اپنے سیکھنے کی صلاحیت کو زنگ نہ لگنے دیجیے۔ اپنے وژن کوزنگ نہ لگنے دیجیے۔ جن چیزوں کو آپ روزانہ کی بنیاد پر استعمال کرتے ہو جس سے آپ بہتر ہو جاتے ہو ان چیزوں کو زنگ آلود ہونے سے بچانا ہے۔

آپ پیدل چل چل کر بھاگنے کے قابل ہوتے ہِو، اسی طرح آپ روزانہ اپنے آپ کو ڈویلپ کر کر کے ہی موثر ترین افراد میں شمار ہو سکتے ہو۔

یہ ساتوں عادات صرف اور صرف سننے سے پیدا نہیں ہوتیں۔ ممکن ہے کہ کسی ایک بندے میں یہ سننے سے پیدا ہو جائیں۔ لیکن اکثر ایسا ہوتا ہے کہ کچھ چیزیں آ پ کے علم میں ہوتیں ہیں اور کچھ عرصہ بعد وہ عمل میں بھی آ جاتیں ہیں۔ لیکن اگر چیزیں آپ کے علم میں ہی نہیں ہیں تو کبھی عمل میں نہیں آ سکتیں۔

جب انسان زندگی میں مشکلات کی تیاری پہلے سے ہی کر لیتا ہے تو یقینی بات ہے اس کو مشکل نہیں دیکھنی پڑتی۔ اگر کسی پچاس ساٹھ سال کے بھکاری سے پوچھا جائے کہ کیا تم نے سوچا تھا کہ یہ دن بھی دیکھنے پڑیں گے؟ تو وہ جواب دیتا ہے کہ نہیں میں نے کبھی یہ نہیں سوچا۔ نہ اس کے نہ سوچنے کا نتیجہ ہے کہ اس کو یہ مشکل دیکھنی پڑ رہی ہے۔

جو کام آپ وقت پر کرتے ہیں جن کی ضرورت ہوتی ہے تو آپ کو آنے والے وقت میں ذلیل نہیں ہونا پڑے گا ، خراب نہیں ہونا پڑے گا۔ دوسروں کی جیت کو سوچنے والا کشادہ ذہن اور دل کا انسان ہوتا ہے۔ ہر انسان ایک کتاب ہے، ہر انسان کے پاس عقل ہے لہذا ہر انسان کو سمجھنے کی صلاحیت پیدا کرو۔

میرے پاس بے شمار طالب علم ہیں ، ان میں کچھ تو بہت لائق اور مہذب ہوتے ہیں اور کچھ بہت نالائق اور بد تمیز ہوتے ہیں۔ ان نالائق بچوں کے والدین سے ملاقات کے بعد مجھے یہ پتہ لگا کہ انہوں نے اپنے بچوں پر غور وفکر کا عمل کبھی کیا ہی نہیں۔ جتنا آپ اپنے بچوں پر غور کریں گے اتنا ہی ان کا مزاج ، ان کی نیچر، ان کی عادتیں آپ کی سمجھ میں آئیں گی۔

ہمارے معاشرے کا المیہ یہ ہے کہ ایک نورا نتھ آتا ہے اور اپنا بچہ اسکول میں داخل کرواتا ہے اور استاد کو گرج کر کہتا ہے کہ اوے اے نورے نتھ دا پتر اے ایہنوں محمد بن قاسم بنا دیو۔ تو میری بات یاد رکھیے وہ کبھی محمد بن قاسم نہیں بن سکتا کیونکہ بد تہذیب والدین کے بچے تہذیب یافتہ نہیں ہو سکتے۔ یہ چیزیں اگر والدین سیکھ لیں تو بچوں میں خود بخود منتقل ہو جاتی ہیں۔ یہ کلچر اگر گھروں میں آ جائے کہ پہلے معاملات کو سمجھنا ہے اور پھر کہنا کہ مجھے سمجھ آ گئی ہے تو گھروں کے بے شمار مسائل ایسے ہیں جو پیدا ہی نہ ہوں۔ لوگوں کے ساتھ مل کر چلنے کی عادت تبھی پیدا ہو سکتی ہے کہ ایک دوسرے کو سمجھا جائے اور یہی سنرجی یعنی اجتماعی قوت کا باعث بنتی ہے۔ گھروں کا ماحول ڈویلمپنٹ کے مطابق بنائیے ترقی کی طرف لوگوں کو متوجہ کیجیے۔ رسول اکرم صلی اللہ علیہ وسلم کی ایک حدیث مبارکہ ہے “ہلاک ہے وہ شخص جس کا آج کا دن گزرے ہو ئے دن سے بہتر نہیں ہے”۔ یہاں ہلاکت کا مطلب مر جانا نہیں ہے یہاں ہلاکت کا مطلب ہے گمراہی ، خسارہ  یا ڈاون ہو جانا ہے۔ جو شخص آج ڈویلمنٹ کرتا ہے تو یقینا اس کا آئندہ آنے والا دن بہتر ہی ہوگا۔

People Comments (2)

  • muhammad ishaq February 27, 2017 at 11:46 pm

    zabardast

  • Zaka February 28, 2017 at 9:29 am

    Awesome,

Leave Comments

آج کی بات

انسان حالات کی پیداوار نہیں،حالات انسان کی پیداوارہوتے ہیں۔
{کتاب۔کوئی کام نا ممکن نہیں۔سے اقتباس}