بے حوصلہ طالب علم — قاسم علی شاہ

پڑھانے سے میرا پرانا واسطہ ہے اور میں دو یونیورسٹیوں میں پڑھا بھی چکا ہوں،وہ تمام لیکچرز جو ہمیں یونیورسٹیوں میں سننے پڑتے ہیں ،جب ہمیں اپنا طالب علمی کا زمانہ یاد آتا ہے تو میں کہتا ہوں کہ جب ہم یوای ٹی میں طالب علم تھے تو ایک پروفیسر کے سو منٹ کے لیکچر کے بعد ہم ایک دوسرے کو کہنی مار کر پوچھتے تھے کہ پروفیسر صاحب کہنا کیا چاہتے ہیں؟
لہٰذا میری کوشش یہ ہےکہ میرا تھوڑا سا وقت جو آپ کے ساتھ ہے اس میں پروفیسری نہ ہو اور نہ وہ روایتی کتابیں پڑھانے والا انداز ہو اورنہ ہی ہائی فائی باتیں ہوں، اور نہ ایسا محسوس ہو کہ ساری دنیا رکی ہوئی ہے بلکہ تھوڑا سا ڈائنامکس اس طرح ہوں کہ آپ لوگ کچھ سیکھ جائیں۔
تاریخ میں ایک بڑا نام ہے امام مالک رحمۃ اللہ کا۔ جہاں پر امام مالک رحمۃ اللہ کی دین کے سلسلے میں بہت خدمات ہیں وہاں پر ایک مشہور جملہ انہوں نے کہا ہے۔ وہ اعلیٰ معیار کا جملہ یہ ہے۔ امام صاحب فرماتے ہیں کہ :ــ’ انسان کی دو پیدائیشیں ہیں، ایک پیدائش وہ ہے جس دن وہ دنیا میں آتا ہے اور دوسری پیدائش وہ ہے جس دن وہ جواز تلاش کرتا ہے کہ وہ دنیا میں آیا کس لئے ہے۔ ‘‘یعنی دنیا کے اندر آنے کے بعد یہ جان لینا کہ جو میرا وژن ٹائم تھا یا جو وقت مجھے ملا کیااس میں میں نے یہ کھوج یا پتہ لگانے کی کوشش کی ہے کہ میرا دنیا میں آنے کا مقصد کیا ہے؟
آج ہمارے معاشرے میں نہ تو کتابوں کی کمی ہے کیونکہ گوگل آ چکا ہے اور ایک کمپیوٹر میں چار پانچ ہزار کتابیں آ جاتی ہیں۔ ایک یو ایس بی کے اندر کئی ہزار کتابیں آ جاتی ہیں۔ چند دن پہلے جب میں نے سمریز ڈاٹ کام پر چار سو پچاس ڈالر کی قیمت پے کر دی تو میری یو ایس بی میں آٹھ ہزار کتابوں کی سمریز محفوظ ہوگئیں۔
ماضی کے زمانے میں یہ سوچا بھی نہ جا سکتا تھا کہ کیا ایسا زمانہ بھی آئے گا کہ ایک کتاب ایک بٹن کو کلک کرنے پر حاصل ہو سکے گی۔ تاریخ میں ایک وہ زمانہ بھی گزرا ہے کہ امام بخاری رحمۃ اللہ علیہ جا کر وقت کے بادشاہ سے درخواست کر رہے ہیں کہ اگر آپ اجازت دے دیں تو میں اٹھارہ دن کے لئے آپ کی لائبریری استعمال کر لوں تو مجھے اس سے بہت فائدہ ہو جائے گا۔
آج ہم یہ سمجھتے ہیں کہ ہماری انفارمیشن کی بنیاد پر ہمیں ریکروٹ کیا جا رہا ہے اور ہماری انفارمیشن کی بنیاد پر ہمیں نوکری ملتی ہے اور ہم انفارمشین کی بنیاد پر ہی عملی زندگی میں آگے بڑھ پائیں گے۔ تو اس کے لئے میں یہ کہوں گا کہ معذرت کے ساتھ ایسا نہیں ہے۔ کیونکہ آج کل انفارمیشن تو گوگل سے مل جاتی ہے۔ چونکہ ہماری تعلیمی نظام میموری بیسڈ ہے، ہماری پوری سولہ سال کی تعلیم میموری بیسڈ رہ گئی ہے۔ آج اگر میں اپنے بچے کا چیک اپ کروانے کے لئے کسی ایم بی بی ایس ڈاکٹر کے پاس جاتا ہوں تو میں گوگل سرچ کر کے جاتا ہوں کہ جس بیماری کے حوالے سے میں جس ڈاکٹر کے پاس جا رہا ہوں، کیا وہ ڈاکٹر اسی بیماری کے حوالے سے ایکسپرٹ ہے بھی یا نہیں۔ کیا وہ اس پندرہ سو روپے کا حق دار ہے بھی یا نہیں؟ کہنے کا مطلب یہ ہے کہ انفارمیشن اتنی عام ہو گئی ہے۔
آپ کی میموری کا مقابلہ اس دور میں آگے بڑھنے کے لئے نہیں ہے جتنا مقابلہ آپ کی سکل یعنی مہارت اور آپ کے ٹیلنٹ کا عملی زندگی میں موجود ہونا ہے۔ ایک بندہ جس نے کتابیں رٹی ہوئی ہیں شاید وہ زندگی میں اتنا آگے نہ جا سکے بہ نسبت اس آدمی کے جو ٹیلنٹ رکھتا ہے۔ عملی زندگی میں جتنا آپ کا ٹیلنٹ کردار ادا کرتا ہے اتنا کردار اس انفارمیشن کا نہیں ہے جو آپ نے سولہ سال میں حاصل کی ہوتی ہے۔
آپ یہ بات جانتے ہیں کہ ریکروٹمنٹ کے وقت کمپنیاں ہمیں بلاتی ہیں اور کہتی ہیں کہ تھرڈ پارٹی آپ بن جائیں اور آپ نے مختلف سوالات کرنے اور اندازہ لگانا ہے کہ انٹرویو کیے جانے والے شخص کی انٹر پرسنل سکلز کتنی ہیں؟ جب میں کسی معروف ادارے کے ایم بی پاس کئے ہوئے نوجوان سے انٹرویو میں پوچھتا ہوں کہ پانچ سال بعد آپ اپنے آپ کو کہاں پر دیکھتے ہو؟ تو وہ جواب دیتا ہے کہ ہو سکتا ہے کہ پانچ سال بعد سرگودھا کے قریب پہنچ گیا ہوں گا۔ تو میں بڑا حیران ہوتا ہوں کہ پانچ سال بعد یہ سرگودھا کے قریب کیا کر رہا ہوگا۔
ننانوے فیصد طالب علم ایسے ہیں جن کو سی وی بنانی نہیں آتی ۔ وہ سی وی میں یہ بتانے سے قاصر ہوتے ہیں کہ انہوں نے کیا پڑھا ہےا ور اپلائی کہاں کرنا ہے۔ ایک طالب علم ہے اس نے ماسٹرز کیا ہوا ہے اور اس کے پاس ایک ہی سی وی ہے اور چاہے کوئی بھی نوکری ہو وہ ہر جگہ اپلائی کر دیتا ہے۔ وہ یہ کہتا ہے کہ مجھے نوکری چاہیے اور مجھے اس سے کوئی فرق نہیں پڑتا ہے میں اس نوکری کے لئے مناسب ہوں یا یہ نوکری میرے لئے مناسب ہے ، مجھے تو صرف اور صرف نوکری چاہیے ۔ اس نوکری میں آگے بڑھنے کے لئے جو مہارت یا سکلز درکار ہیں وہ موجود ہیں یا نہیں اس سے قطع نظر وہ طالب علم صرف نوکری لینے کے لئے بضد ہے۔
ٹیچر یا استاد آپ کے لئے ایک ذریعہ یا سورس ہے لیکن اینڈ اور آخری ذریعہ آپ کی اپنی ذات ہے۔ آپ کا اپنی ذات کے ساتھ ایک مقابلہ ہے اگر آپ اس سے لڑنے کے لئے تیار ہیں۔ آپ ان اٹھارہ بیس سال میں بہت آگے بڑھ سکتے ہو لیکن اگر آپ یہ سوچتے ہو کہ اگر ہمیں دو چار ٹیچر بہت اعلی مل جائیں یا ہمارے دوستوں کا گروپ بہت اچھا مل جائے تو ہمارے نمبر یونیورسٹی میں بہت اچھے ہو جائیں گے اور ہم زندگی میں آگے بڑھ جائیں گے۔ تو اس کے لئے میں معذرت کے ساتھ کہوں گا کہ ایسا کچھ نہیں ہوتا۔
دوبارہ بات انٹر پرسنل سکلز کی آجاتی ہے پھر بات سیلف ڈسکوری کی آ جائے گی۔ اس دنیا میں آنا اتنا اہم نہیں ہے جتنا اہم یہ ہے کہ میں دنیا میں آیا کس مقصد کے لئے ہوں۔ آپ میں سے اگر کسی نے’’ مثنوی رومی ‘‘ایک کتاب ہے ’’جلال الدین رومی‘‘ کی اگر وہ پڑھی ہو۔ہمارا المیہ یہ ہے کہ موجودہ میڈیا کی وجہ سے آج ہمارے بچے اشفاق احمد کو نہیں جانتے بلکہ حامد میر کو جانتے ہیں۔ آج انہیں مبشر لقمان کی تمام باتیں یاد ہوتیں ہیں؛ لیکن ان کو واصف علی واصف کا اتنا نہیں پتا۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ اس کی انفارمیشن کا سورس جس معیار کا ہے اسی معیار کی اس کی سوچ تشکیل پاتی ہے۔ آج کا میڈیا ایک نوجوان کو یہ بتا دیتا ہے کہ اعلیٰ سوچ رکھنے کے لئے اس کو زندگی میں کسی دانشور کو پڑھنے کی ضرورت نہیں ہے۔ اور یاد رکھیے گا کہ جب یوتھ یہ کہہ رہی ہو کہ ہمیں روشنی کی ضرورت نہیں ہے تو میں یقین سے کہہ سکتا ہوں کہ بندہ راستے میں گرے گا بھی ، اس کی ٹانگیں بھی ٹوٹیں گی اور اس کو زخم بھی لگیں گے وہ اٹھ کر پھر چلے گا اور دوبارہ اسی طرح گرے گا۔ کیونکہ وہ روشنی جسے دانش کہا گیا تھا وہ روشنی جسے فہم کہا گیا تھا وہ روشنی جسے عقل کہا گیا تھا، جس کے لئے مسافت طے کرنے کا کہا گیا تھا اور جس روشنی کے لئے کہا گیا تھا کہ کسی دانشمند کے قلم کی سیاہی ، شہید کے خون سے افضل ہے۔ آپ زندگی میں کچھ فرضی کہانیاں سنتے ہیں کسی سبق کو حاصل کرنے کے لئے۔ جب بھی اشفاق صاحب کاپروگرام ٹی پر آتا تھا جس کا نام زاویہ ہے تو ہمارے بڑے ٹی وی کے سامنے بیٹھ جاتے تھے اور اشفاق احمد صاحب کو غور سے سنتے تھے۔آج بھی زاویہ کتاب بہت زیادہ بکنے میں نظر آتی ہے۔ آج بھی گوگل پر جا کر زاویہ سرچ کریں تو آپ دیکھیں گے کہ اس کے کلک اتنے ہی ہیں جتنے عاطف اسلم کے گانے کے کلک ہیں تو اس کا مطلب ہے عقل اور دانش کی مانگ اس معاشرے میں موجود ہے۔
اسی طرح ایک پرانی کہانی ہے حس میں کوئی بڑا سبق سمجھانے کے لئے اس کہانی کو بنایا گیا ہے۔ ایک صاحب تھے جن کو یہ خیال آیا کہ مجھے جن پکڑنا چاہیے۔ ہمارے معاشرے میں آج کل کے دور میں بے شمار لوگ چلے کاٹتے ہوئے نظر آتے ہیں اور اس چلہ کاٹنے کے دوران ان کو دورہ ٹائپ کی ایک چیز پڑتی ہے دراصل وہ اعصابی بیماری کی وجہ ہے۔ اور اگر کسی سے پوچھا جائے کہ ان بزرگ صاحب پر یہ کیفیت کیوں طاری ہوتی ہے تو لوگ کہتے ہیں کہ ان صاحب کے پاس جن ہیں۔ تومذکورہ بالا صاحب کے ذہن میں یہ آیا کہ ان کے پاس بھی ایک پاور فل ٹول یعنی ایک جن ہونا چاہیے۔ اس آدمی کو کسی نے کہا کہ اتنے چلے اور اتنا کشت کاٹنے کی ضرورت نہیں ہے آپ فلاں گاؤں میں چلے جاؤوہاں پر فلاں بندہ ہے اس کے پاس یہ صلاحیت بھی ہے اور جن بھی اس کےپاس ہیں وہ تمہاری مدد ضرور کر دے گا۔ وہ آدمی اس گاوں میں سیدھا اس گھر کے دروازے پر پہنچتا ہے ، دستک دیتا ہے تو ایک انتہائی سادہ بندہ چارپائی پر بیٹھا حقہ پی رہا ہوتا ہے۔ وہ آدمی اس بابا جی کو اپنی درخواست کرتا ہے کہ جی مجھے جن پکڑنا ہے براہ مہربانی میری مدد فرما دیجیے۔ وہ بابا جی جواب دیتے ہیں کہ جناب میرے پاس ایک جن ہے اور وہ میرے کسی کام کا نہیں ہے اور بوتل میں بند ہے۔ اگر تمہیں چاہیے تو تم لے جاؤ۔ وہ دیکھتا ہے کہ شیشے کی بوتل ہے اور اس میں کچھ دھواں سا بھی ہے۔ وہ بابا جی سے بوتل لیتا ہے اور گھر آ جاتا ہے۔ گھر آ کر جیسے ہی وہ بوتل کھولتا ہے اس میں سے جن نکل آتا ہے۔ جن ہاتھ باندھ کر اس آدمی کے آگے کھڑا ہو جاتا ہے اور پوچھتا ہے کہ آقا حکم فرمائیے میں آپ کے کس کام آ سکتا ہوں؟ وہ آدمی کہتا ہے کہ مجھے کچھ پیسے چاہیں۔ وہ جن پوچھتا ہے کہ کتنے پیسے چاہیں؟ وہ آدمی کہتا ہے کہ دس کروڑ روپے چاہیں۔ جن اس آدمی سے معذرت کر لیتا ہے کہ جی مجھے اور کچھ کام بتا دیں یہ کام میرے بس کا نہیں ہے۔ وہ آدمی جن کو دوبارہ اس بوتل میں بند کر دیتا ہے۔
اگلے دن وہ دوبارہ اس بوتل کو کھولتا ہے۔ جن دوبارہ بوتل سے باہر نکل آتا ہے اور ہاتھ باندھ کر پوچھتا ہے کہ کیا حکم ہے میرے آقا؟ وہ آدمی کہتا ہے کہ بات یہ ہے کہ ایک گھر چاہیے۔ وہ جن پوچھتا ہے کہ گھر کہاں چاہیے؟ وہ آدمی کہتا ہے ڈیفنس میں چاہیے۔ جن پوچھتا ہے کہ کتنے رقبہ کا ہونا چاہیے؟ وہ کہتا ہے کہ کنال یا دو کنال کا ہونا چاہیے۔ وہ جن معذرت کرلیتا ہے کہ جناب یہ کام میرے بس کا نہیں مجھے کچھ اور کام بتا دیں۔ وہ آدمی جن کو دوبارہ بوتل میں بند کر دیتا ہے۔
تیسرے دن وہ آدمی تیسری بار جن کو بوتل سےباہر نکالتا ہے اور فرمائش کرتا ہے کہ جن صاحب مجھے ایک گاڑی چاہیے یہ ای سیریز کی ایک گاڑی ہے اور نئی آئی ہے۔ جن تیسری بار بھی معذرت کرلیتا ہے کہ میں یہ کام نہیں کر سکتا۔ وہ آدمی غصے میں آکر جن کو بوتل میں بند کرتا ہے اور بوتل غصے سے زمین پر مار کر توڑ دیتا ہے۔ وہ جن سے دوبارہ پوچھتا ہے کہ اچھا یہ بتاو کہ تم کون سے کام کر سکتے ہو۔ جن کہتا ہے کہ میں آپ کے سر کی مالش کر سکتا ہوں۔ میں آپ کے بچوں کو سکول چھوڑ کر آ سکتا ہوں اور سودا سلف لا سکتا ہوں۔ وہ آدمی کہتا ہے کہ یہ بہت چھوٹے اور ٹکے ٹکے کے کام ہیں۔ وہ جن کہتا ہے کہ جناب پچھلے بیس سال سے میرا پچھلا مالک میرے سے یہی کام لے رہا تھا۔ وہ بیس سال تک یہی کام کرنے کے بعد صرف اور صرف اسی کام کرنے کے قابل رہ گیا تھا۔
اس کہانی کا سبق یہ ہے کہ ہمیں وہ پلیٹ فارم ہی دستیاب نہیں ہے جس میں ہم کوئی اونچے درجے کا کام کر سکیں۔ ہم معاشرے میں چھوٹی سطح کے کام کرتے کرتے اس کے عادی ہو چکے ہوتے ہیں کہ ہم بڑا کام نہیں کر سکتے۔ ہم انسان ، جنوں کو ڈھونڈنے کی کوشش کر رہے ہوتے ہیں یہ جانے بغیر کہ انسان جن سے برتر مخلوق ہے۔ چونکہ ہمیں پلیٹ فارم ہی نصیب نہیں ہوتا تو نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ ہم بڑی ڈگریاں بہت اچھے جی پی اے لے کر یونیورسٹیوں سے نکلتے ہیں اور جب باہر آتے ہیں تو عملی زندگی میں ہمارا نتیجہ بالکل صفر ہوتا ہے۔ ہم اس جن کی مانند ہوتے ہیں جو چھوٹے چھوٹے کام کرتے کرتے صرف اسی درجے کے کام کی صلاحیت باقی رہ جاتی ہے۔ کوئی بڑا کام یا کوئی بڑا مقصد ہمارے مطمع نظر آتا ہی نہیں ہے۔ یعنی ہم صرف نوکری کرنے کی کوشش کرتے رہتے ہیں اس سے قطع نظر کہ ہم اس نوکری میں آگے بڑھنے کی صلاحیت پیدا کرنے کی حکمت عملی بنائیں۔

Leave Comments

آج کی بات

انسان حالات کی پیداوار نہیں،حالات انسان کی پیداوارہوتے ہیں۔
{کتاب۔کوئی کام نا ممکن نہیں۔سے اقتباس}