اپنے اندر کی آواز کو سنیں ۔ خواب دیکھیں ۔۔۔ قاسم علی شاہ

حضور والا! ہماری زندگی کے سارے راستے میں سب سے اچھنبے کا کام یہ ہوتا ہے کہ ہمارے والدین، ہمارے ٹیچرز، ہمارے بزرگ، ہماری شروع کی زندگی کے لوگ، انتہائی محنت کے ساتھ اور انتہائی لگن کے ساتھ ہماری وہ ساری صلاحیتیں، سارا ٹیلنٹ اور ہمارے سارے ٹیلنٹ کے پروں کو جو اللہ تعالیٰ نے ہمیں دیے ہیں بسم اللہ پڑھ کر زندگی کے ابتدائی دنوں میں ہی کاٹ دیتے ہیں۔
مجھے کتابیں پڑھنے سےبہت محبت تھی ۔اور نو سال پہلے میری شادی کا سانحہ پیش آیا۔ میری آنے والی بیوی کے ساتھ میرا پہلا جھگڑا کتابوں پر ہوا، گھر میں جگہ بہت کم تھی ،اور جہاں جگہ تھی ،وہاں میری کتابیں آ جاتی تھیں۔ میرے سسر کی چالیس سال پرانی کتابوں کی دکان ہے اردو بازار لاہور میں۔ جبکہ مجھے کتابیں پڑھنے کا شوق تھا۔ لہٰذا میں نے اپنے سسر سے بہت کچھ سیکھا۔میرے سسر بتاتے ہیں کہ ایک دفعہ میری ملاقات اشفاق صاحب اور بانو قدسیہ سے ہوئی۔ انہوں نے مجھے کہا کہ:’’ تم سب کچھ مار دینا لیکن اپنے اندر کا بچہ مت مارنا۔‘‘ میں نے اشفاق صاحب سے پوچھا کہ کون سے بچے کی بات کر رہے ہیں۔ تو اشفاق صاحب نے کہا کہ’’ انسان کے اندر ایک بچہ ہوتا ہے جو سکھانے اور سیکھنے پر مجبور کرتا ہے۔‘‘
آپ کی زندگی میں پہلے پر ہی کاٹ دیے جاتے ہیں اور کاٹنے والوں میں آپ کے والدین ، آپ کے قریب کے لوگ، آپ کے بزرگ وغیرہ ہوتے ہیں۔ یاد رکھیں کہ خواب دیکھنا ایک بہت بڑا کام ہے۔ ہمارے معاشرے کا المیہ یہ ہے کہ ہماری ٹی وی پراڈکٹس یعنی ڈرامہ یا مویز وغیرہ ہمیں زندگی کے چھوٹے چھوٹے سبق دینے سے بھی قاصر ہیں۔ ایک دن میں ایک مووی دیکھ رہا تھا اور اس مووی کے اندر ایک اتنا بڑا سبق تھا جو مووی کے شروع ہی میں تھا اور باقی کی مووی تمام بے کار تھی۔ اس مووی کا نام بتاوں تو آپ ہنسیں گے اس مووی کا نام ’’عاشقی ٹو ‘‘تھا۔ اس مووی کے شروع ہونے کے بیس منٹ کے بعد ہیرو لڑکا ایک فقرہ کہتا ہے ۔’’بڑے کاموں کا آغاز خواب سے ہوتا ہے۔‘‘ چونکہ ہمیں اس مووی سے لو اسٹوری کا اخذ کرنا ہوتا ہے لہٰذا ہم یہ جملے کم سنتے ہیں۔
دنیا کے بڑے بڑے کام ، بڑے بڑے ٹارگٹ خواب دیکھنے سے شروع ہوتے ہیں اور ہمارے معاشرے کا المیہ یہ ہوتا ہے کہ بچپن ہی سے ہمارے خواب دیکھنے کی صلاحیت ہم سے چھین لی جاتی ہے۔ اور جب ہم خواب دیکھتے ہی نہیں تو ہماری زندگی کا آغاز ہی نہیں ہوتا، ڈگری ہاتھ میں ہوتی ہے لیکن عملی طور پر کوئی وژن ہی ہمارے پاس نہیں ہوتا ہے یعنی ہمارے پاس کوئی خواب ہی نہیں ہوتا۔ ہم اپنے آپ کو اتنے ضابطے کا پابند کر لیتے ہیں کہ ہمارے اندر یہ صلاحیت ہی ختم ہو جاتی ہے۔
دنیا کے بڑے بڑے لیجنڈز کو جب ہم پڑھتے ہیں تو ہم دیکھتے ہیں ان کی تعلیم کچھ تھی، عملی زندگی کا شعبہ کچھ اور تھا لیکن انہوں نے دریافت کچھ اور کیا ہے۔ ہم یہ پابند کر دیتے ہیں کہ اگر ڈگری ایگریکلچر کی ہے تو خواب بھی ایگریکلچر کا ہونا چاہیے۔ ایک بہت ضروری بات یہ ہےکہ لازمی نہیں ہے کہ جو ڈگری آپ لے رہے ہیں اس ڈگری کے خواب آپ کو آتے ہوں۔ آپ یقین کریں کہ جب میں یوای ٹی میں کیمیکل انجینئرنگ کر رہا تھا تو میرے لیے بہت مشکل کام تھا کیمیکل انجینئرنگ کرنا تھا۔ میری سزا صرف یہ تھی کہ میرا نام میرٹ پر آ گیا تھا۔
آپ یقین مانیں جب میں یہ پڑھ رہا تھا تو قدرت مجھے اٹھا اٹھا کر کسی اور طرف لے کر جانا چاہ رہی تھی۔ نیچر مجھے ساری عزت، سارے مواقع، ساری آمدن ٹیچنگ کے شعبے میں دے رہی تھی۔ آج میں پیچھے مڑ کر دیکھتا ہوں تو چودہ سال پیچھے مجھے پتہ لگتا ہے کہ میں واقعی اُدھر کا نہیں تھا وہ میری جگہ نہیں تھی۔ یہ اللہ کا شکر ہے کہ میں نے نیچر کی کال سن لی اور میں اس کام کی طرف چل پڑا جس کی بار بار آواز میرے اندر سے آ رہی تھی۔ سب سے اہم نکتہ یہ ہے کہ اگر آپ خواب نہیں دیکھیں گے تو آپ کی کامیاب زندگی کاآغاز نہیں ہوگا۔
زندگی کا سب سے اہم کام یہ ہے کہ آپ خواب دیکھ لیں، مستقبل کے لئے کوئی ٹارگٹ بنا لیں۔ ایک لمحہ کے لئے اپنی ڈگری کو چھوڑ کر اپنے اندر کی آواز کو سن لیں، اور یہ دیکھیں کہ نیچر کس طرح کی کال آپ کو دے رہی اور کس طرح کے خواب بنا کر آپ کے سامنے پیش کر رہی ہےجن کی بنیاد پر آپ نے زندگی کو آگے لے کر چلنا ہے۔

You may also like this

11 October 2017

ذاتی ترقی کے لئے پانچ اہم اقدامات --- قاسم علی شاہ

<p style="text-align: justify;"><span style="font-size: 20px;"><span style="font-family: 'Mehr Nastaliq W

محمد سلیم چشتی
09 October 2017

مستقل پر نظر رکھیں اور ماضی کو بھول جائیں ۔۔۔ تجمل یوسف

<p style="text-align: justify;"><span style="font-size: 20px;"><span style="font-family: 'Mehr Nastaliq W

admin
09 October 2017

اپنی پریشانیوں کو کم کیجیے: تجمل یوسف

<p style="text-align: justify;"><span style="font-size: 20px;"><span style="font-family: 'Mehr Nastaliq W

admin

People Comments (1)

  • khuda Bakhsh rind February 27, 2017 at 3:42 pm

    Thank you sir men aap ka Shukriya kese ada karoon aap ne mere zindage ka ruk mordeya

Leave Comments

آج کی بات

انسان حالات کی پیداوار نہیں،حالات انسان کی پیداوارہوتے ہیں۔
{کتاب۔کوئی کام نا ممکن نہیں۔سے اقتباس}