سسٹم نہیں چل رہا — مدثرگل

آئیے میں آپ کو ایک کہانی سناتا ہوں. کہنے کو کہانی ہے ایک عام آدمی کی مگر یہ پاکستان کی اکثریت کی کہانی بھی ہو سکتی ہے. یہ ایک عام سے دن کی پوری کہانی ہے. یہ کہانی ہے زکریا کی جو کہ ایک سرکاری سکول میں معلم ہے. سکول ٹیچر کو معاشرے میں معاشی لحاظ سے درمیانے طبقے میں شمار کیا جاتا ہے. اس لحاظ سے یہ کہانی معاشی لحاظ سے درمیانے طبقے کے لوگوں کی بھی ہے. 
زکریا نے سکول سے ایک یوم کی رخصت لی ہوئی ہے تاکہ وہ اپنے ضروری ذاتی معاملات نمٹا سکے. 
زمین کے تنازعے پر سالوں سے چلنے والی عدالتی کاروائی کی آج پھر تاریخ تھی. اس لیے زکریا اپنے بوڑھے باپ کو لے کر صبح صبح احاطۂ کچہری میں موجود تھا. ابھی عدالتوں کے کھلنے میں کچھ وقت تھا، اس لیے پاس سے گزرتے ہوئے اخبار فروش سے ایک مشہور روزنامہ اخبار خرید کر پڑھنا شروع کر دیا. اخبار پر اشتہارات کی اتنی بھر مار تھی کہ ان میں سے خبریں ڈھونڈنا مشکل ہو رہا تھا. اشتہارات میں حکومتی اور پرائیویٹ کمپنیوں کا جیسے آپسی مقابلہ چل رہا تھا.
اخبار کی ایک سرخی میں عدالتی نظام کی اصلاحات کے حوالے سے کافی حوصلہ افزاء باتیں لکھی ہوئی تھیں۔ جن کو پڑھ کر زکریا کو حوصلہ ملا کہ آج اس کے کیس کا کچھ نا کچھ فیصلہ ہو جائے گا۔ آوازیں لگتی گئیں اور آخر کار اس کی باری بھی آ ہی گئی۔ حاضری لگانے کے بعد اسے پہلے انتظار کرنے کے لیے کہا گیا مگر کچھ دیر کے بعد اگلی پیشی کے لیے تاریخ بتا دی گئی۔ زکریا کا دل کیا کہ وہ اخباری سرخی ان سرکاری اہلکاروں کو دکھائے کہ عوام کی سہولت کے لیے حکومت نے عدالتوں میں کیمروں سمیت کئی طریقہ کار اپنائے ہیں تاکہ بروقت انصاف کی فراہمی کو یقینی بنایا جائے۔ پھر ایک کونے سے اٹھنے والی سوچ نے اسے روک دیا کہ شاید وہ اصلاحات ابھی اس عدالت میں نافذ العمل نہ ہوئی ہوں اور وہ جلد بازی میں شرمندہ نا ہوجائے۔
کوئی تین چار گھنٹوں بعد وہ عدالت سے فارغ ہو کر وہ بوڑھے باپ کو لے کر چیک اپ کے لیے سرکاری ہسپتال کی طرف روانہ ہو گیا۔ زکریا نے ابھی اخبار سے پڑھا کہ سرکاری ہسپتالوں کو اپ گریڈ کر دیا گیا ہے۔ اب ہسپتالوں میں اعلی میعار کی سہولیات فراہم کی جا رہی ہیں۔ اب وہ پرانی بات نہیں رہی کہ کوئی ڈاکٹر نہ بیٹھا ملے۔ ہسپتال میں مفت اور میعاری علاج کے خوش نما اخباری اشتہاروں کو دیکھ کر دل خوش ہو رہا تھا۔ موٹر سائیکل پارکنگ سٹینڈ میں 20 روپے کی پرچی ہاتھ میں تھمائے جانے پر یہ خوشی تھوڑی کم ضرور ہو گئی کہ سرکاری جگہ پر اس ٹھیکہ داری نظام کا وجود “مفت” والی سہولت کے منہ پر طمانچہ تھا۔
زکریا اپنے بوڑھے باپ کو لے کر ہسپتال کے استقبالیہ کی جانب بڑھ گیا۔ نئی لگی ہوئی چمچماتی ٹائلوں پر وہ جیسے پھسلتا جا رہا تھا۔ اس قدر تزعین و آرائش اور لکڑی کی جگہ شیشے کے دروازوں نے ایک اچھا تاثر اس کے ذہن پر چھوڑا۔ بیمار باپ کو سہارا دیتے ہوئے آؤٹ ڈور کی پرچی حاصل کی۔ پرچی کا ریٹ دو روپے تھا۔ مفت علاج کی سہولت دینے والی حکومت کے پاس کاغذ کے اس چھوٹے سے ٹکڑے کے لیے شاید پیسے نہیں تھے۔ اس دو روپے کی پرچی پر زکریا نے دس روپے کا نوٹ دیا تو سوٹڈ بوٹڈ لڑکے نے بقایا دینے کی وجہ ناکافی سمجھتے ہوئے اگلی پرچی بنانا شروع کر دی۔ زکریا نے سمجھا کہ شاید یہ پرچی نظام بھی ٹھیکے پر دیا گیا ہو۔ ورنہ ہسپتال انتظامیہ کی کوئی نا کوئی وردی تو ضرور ہوتی ہے۔  شاید ہی اس نے عملے کے کسی بندے کو سرکاری یونیفارم میں دیکھا۔ 
ہسپتال میں کافی رش تھا، جیسے تمام لوگوں نے آج چھٹی لی ہو اور علاج کے لیے اکٹھے ایک ہی ہسپتال میں آ گئے ہوں۔ کوئی اِدھر جا رہا تھا تو کوئی اُدھر۔ متعلقہ ڈاکٹر ڈھونڈنے کے سخت مرحلے کے بعد باری کا انتظار کرنے لگا۔ زکریا نے محسوس کیا کہ تعلق واسطے والے لوگوں کے لیے باری و قطار کی کوئی قید و بند نہیں تھی۔ آخر کار انکی باری بھی آ ہی گئی۔ ڈاکٹر کو ابھی بیماری کی پوری تفصیل سے آگاہ بھی نہیں کر سکا کہ ڈاکٹر نے دوائی والا نسخہ ہاتھ میں دے تھمایا۔ ہسپتال کی ڈسپنسری پر وہ نسخہ دیا تو اس ڈسپنسر نے آدھی ادویات دینے کے بعد باقی ادویات کے لیے ہسپتال کے باہر بنے ہوئے میڈیکل سٹور کا راستہ دیکھایا۔ جب زکریا نے اس سے استفسار کیا کہ دوائی کب اور کتنی کتنی کھانی ہے تو اس نے روکھے لہجے میں کہا کہ یہ جا کر اسی ڈاکٹر سے پوچھیں۔ 
اب دو گھنٹے لگا کر صرف اتنی سی بات پوچھنے کے لیے اس میں سکت باقی نہیں تھی۔ 
وہ ابھی اخبار میں اشتہار دیکھ رہا تھا جس میں حکومت نے خبردار کیا تھا کہ میڈیکل سٹور والے جعلی ادویات بیچتے ہیں۔ پھر خود حکومت کیوں نجانے ان کے پاس دوا لینے کے لیے بھیج رہی تھی۔ دوا تو اسے خریدنی ہی تھی جو پچھلے کئی سالوں سے لگاتار انہیں میڈیکل سٹوروں سے خریدتا آ رہا تھا۔
گھر سے آتے ہوئے اس نے بجلی کا بل بھی اپنی جیب میں ڈال لیا تھا، جو کہ موجودہ میٹر کی ریڈنگ سے کہیں زیادہ تھا۔ زکریا نے سوچا تھا کہ شہر تو جا رہا ہے تو اس کی درستگی بھی کرواتا آؤں گا۔ 
عدالت اور ہسپتال سے فارغ ہونے کے بعد دفتری اوقات میں بمشکل ایک گھنٹہ ہی بچا تھا۔ اس لیے بوڑھے باپ کو لے کر سبک رفتاری سے واپڈا کے دفتر پہنچ گیا۔ اتنے بڑے دفتر میں متعلقہ کمرے تک رسائی حاصل کرنے میں کئی بار اسے سیڑھیاں اترنی اور چڑھنی پڑی۔ کبھی SDO تو کبھی کوئی! انہیں چکروں میں وہ چکرا کر رہ گیا۔ اس سے زیادہ تو اخبار کو وہ اشتہار چکرا رہا تھا جس میں واپڈا کی کارکردگی کے کوائف زمین و آسمان کے قلابے ملا رہے تھے۔ 
دفتری اوقات کے ختم ہونے سے پہلے دفتر سے اٹھ جانے کی روایت کی وجہ اور روایتی بہانہ ‘سسٹم کام نہیں کر رہا’ کی وجہ سے بل کی درستگی نہ ہو سکی۔
تھک ہار کر زکریا نے واپسی کی راہ لی۔ راستے میں شہر کی بے ہنگم ٹریفک سے جو کہ ہر چوک میں جام ہونے کا منظر پیش کر رہی تھی اپنے آپ کو بچا کر نکال ہی لیا۔ 
قدرے کشادہ سڑک پر جہاں پر ٹریفک بھی شہر کی نسبت کافی کم تھی ٹریفک پولیس اہلکاروں کی ٹولی کھڑی نظر آئی۔ یہ ان اہلکاروں کا تجربہ ہی تھا کہ زکریا جیسے کبھی کبھی شہر آنے والے لوگوں کو پہچان کر روک رہے تھے اس لیے اسے بھی روک لیا گیا۔ لائسنس کے ساتھ ساتھ نجانے کس کس کاغذات کا مطالبہ کر لیا گیا۔ جب زکریا نے بتایا کہ وہ ایک سکول ماسٹر ہے تو ایک ٹریفک اہلکار نے چالان کے پیچھے لکھی ہوئے نکات آگے کر دئیے جن کی وجہ سے چالان ہو سکتا تھا۔ 25 سے 30 نکات پر شاید پاکستانی سڑکوں پر وہ خود بھی پورا نہ اتر سکتا ہو جس نے یہ نکات بنائے ہونگے۔
چالان ہو جاتا تو کہاں جا کر جمع کرواتا پھرتا۔ اس لیے زکریا نے پولیس اہلکاروں کی خصوصی آفر سے فائدہ اٹھاتے ہوئے 100 روپے کے عوض ان نکات سے آزادی حاصل کی۔
زکریا اس نظام کا عادی تھا۔ مگر آج کا اخبار پڑھنے کے بعد وہ سوچ رہا تھا کہ اب بہت کچھ بدل چکا ہے۔ اب ہر طرف بہت ترقی ہو چکی ہے۔ اب سرکاری محکمے دھڑا دھڑ عوام کو بہت زیادہ ریلیف دے رہے ہیں۔ اخبار پر دئیے گے مختلف سرویز کی رپورٹ کے علاوہ سب ویسا کا ویسا تھا۔ وہی رویے تھے۔ وہی ناکافی سہولیات۔ وہی کرپشن تھی وہی سفارش تھی۔ وہی بہانہ تھا کہ سسٹم نہیں چل رہا۔
درحقیقت سسٹم واقعی نہیں چل رہا تھا۔

Leave Comments

آج کی بات

انسان حالات کی پیداوار نہیں،حالات انسان کی پیداوارہوتے ہیں۔
{کتاب۔کوئی کام نا ممکن نہیں۔سے اقتباس}