دہشت گردی کی لہر ۔۔۔ ایم بی انجم

مفاد پرست ، بزدل اور خوفزدہ حکمران تحریکِ طالبان پاکستان سے مذاکرات مذاکرات کی رٹ لگائے ہوئے تھے کہ دہشت گردوں نے آرمی پبلک سکول پشاور پر حملہ آورہوکر ہمارے سینکڑوں معصوم طلباء اوراساتذہ کو شہید اور زخمی کردیا۔ پوری قوم کے جگر پاش پاش ہوگئے۔ جس پر مقتدر قوتوں نے سیاسی حکمرانوں کے خوف وہراس، مفاد پرستی اور بزدلی کو پس پشت ڈالتے ہوئے دہشت گردوں کے ساتھ انہی کی زبان میں بات کرنے کی ٹھانی اور یوں ضربِ عضب جیسے موثر ایکشن کی ابتدا ہوئی۔ اس کے تحت وطنِ عزیز کے ایسے علاقوں کو دہشت گردوں سے آزاد کردیا گیا جن پر قابض ہوکر وہ وہاں اپنی رٹ قائم کیے ہوئے تھے اور ملک کے دیگر حصوں میں بھی امنِ عامہ کی صورت حال خاصی حد تک بہتر ہوگئی. عین اس وقت جبکہ ہزاروں فوجی جوانوں کی جانی قربانیوں سے حاصل ہونے والی اس کامیابی کا کریڈٹ لیتے ہوئے ملکی قیادت نعروزن تھی کہ ہم نے دہشت گردی کو جڑ سے اکھاڑ پھینکا ہے، تاک میں بیٹھے ہوئے دشمن نے پانچ دنوں میں آٹھ خودکش حملے کرکے پوری قوم کو خون کے آنسو رلادئیے۔


تسلسل کے ساتھ چاروں صوبوں میں کیے جانے والے ان حملوں سے پورا ملک ایک بار پھر بے یقینی اور خوف وہراس کا شکار ہوگیا۔


اگلے چند روز کے اخبارات ان سانحات پر حکومتی ردِعمل کی کچھ تصویرکشی کررہے تھے۔ خبر رساں ایجنسیوں نے امن عامہ سے متعلقہ اداروں کو باخبر کردیا تھا کہ ملک میں دہشت گردی کی لہر آنے والی ہے۔ ملک بھر میں مسجدوں، مزاروں، تعلیمی اداروں، عدالتوں، تفریح گاہوں، ہسپتالوں اوردیگر اہم مقامات کی سکیورٹی سخت کردی گئی ہے۔ خودکش حملوں کے پیچھے کار فرما ہاتھوں کا سراغ لگالیا گیا ہے۔ ایک سو سے زائد دہشت گردوں کو ان کی پناہ گاہوں سمیت نیست و نابود کردیا گیا ہے۔ افغان ناظم الامور کو جی ایچ کیو میں طلب کرکے 76مطلوبہ دہشت گردوں کی فہرست تھمادی گئی ہے. امریکہ سے کہا گیا ہے کہ وہ افغانستان کی زمین کو دہشت گردی کے لئے استعمال ہونے سے روکے۔
دوستو! مندرجہ بالا ہر حکومتی اقدام اپنے اندر ایک ملین ڈالر سوال لیے ہوئے ہے۔ پہلا یہ کہ جن خبر رساں اداروں کو یہ خبر مل جاتی ہے کہ فلاں شہر میں اتنے دہشت گرد یابارود بے بھری گاڑیاں داخل ہوگئی ہیں، ان کو یہ پتہ کیوں نہیں چلتا کہ وہ دہشت گرد کہاں قیام پذیر ہوئے ہیں اور وہ گاڑیاں کہاں پارک ہوئی ہیں؟ دوسرا یہ کہ کیا مختلف اداروں اور اہم مقامات پر پولیس یا رینجرز اہلکاروں کی نفری بڑھادینے سے وہ جگہیں سکیورٹی پروف ہوجاتی ہیں؟ دہشت گردوں کے پیچھے کارفرما ہاتھوں کو نقصان اٹھانے سے پہلے بے نقاب کیوں نہیں کیا جاتا؟ دھماکے ہونے سے قبل دہشت گردوں کو ان کی پناہ گاہوں سمیت نیست ونابود کرنے میں کیا امر مانع ہوتا ہے؟ افغان ناظم الامورکو دفتر خارجہ کی بجائے عسکری ہیڈکوارٹر میں طلب کرنے سے کیا تاثر ابھرتا ہے؟76 مطلوبہ دہشت گردوں کی لسٹ افغانیوں کو پہلے کیوں نہ تھمائی گئی اور کیا ہم دفاعی لحاظ سے اتنے ہی گئے گزرے ہیں کہ افغانستان جیسے خستہ حال ملک سے بھی ازخود نہیں نمٹ سکتے اور اسے اس کی حرکتوں سے باز رکھنے کے لئے ہمیں امریکہ سے درخواست گزار ہونا پڑے گا؟ قارئین کرام شاعر نے کہا تھا کہ
اک تبسم ہزار شکوئوں کا
کتنا پیارا جواب ہوتا ہے
عین ممکن ہے ارباب اختیار کے پاس بھی میرے مندرجہ بالا سوالوں کا کوئی ایسا ہی جواب ہو جسے وہ قومی سلامتی کے پیش نظر آشکار نہ کرنا چاہتے ہوں۔ مسئلہ یہ ہے کہ ملک میں روز اول سے موجود اور روز افزوں بڑھتی ہوئی غربت، جہالت اور بے روزگاری کے باعث نام نہاد جمہوری انتخابات کے بل بوتے پر معرضِ وجود میں آنے والی سول حکومتوں اورآدھا تیتر آدھا بٹیر قسم کے مارشل لائوں کے باعث ہمیں جینوئن قیادت کبھی میسر ہی نہیں آئی۔ جو کوئی بھی آیا اپنے دورِ حکومت کو طوالت دینے اور مال پانی بنانے کے چکر میں میرٹ اور انصاف کا گلا گھونٹتا چلا گیا. جس کے نتیجے میں معاشرے کا ہر شعبۂ حیات تنزل پذیر ہوتا چلا گیا اور اب حالت یہ ہے کہ ہمارے ایک قوم ہونے کے تصور کو ایک بے ہنگم اور بےحس ہجوم میں بدل دیا گیا ہے۔ مفاد پرست سیاست دان اپنے مسائل کی دلدل میں دھنسے ہوئے ہیں، عسکری قیادت حال ہی میں تبدیل ہوئی ہے اور اچھے اور برے طالبان کی تفریق بھی ختم ہونے میں نہیں آرہی. ایسے میں امنِ عامہ کی صورت حال میں بہتری لانے کی کاوشوں کا حال کچھ ایسا ہی ہوسکتا ہے۔
ہاتھ الجھے ہوئے ریشم میں پھنسا بیٹھا ہوں
اب بتا کونسے دھاگے کو جدا کس سے کروں

Leave Comments

آج کی بات

انسان حالات کی پیداوار نہیں،حالات انسان کی پیداوارہوتے ہیں۔
{کتاب۔کوئی کام نا ممکن نہیں۔سے اقتباس}