سیاسی جماعتوں کی داخلی جموریت اور نظریے سے لگائو پر ایک نظر — شیرافضل گوجر

سیاسی جماعتوں اور تنظیموں پر مشتمل ایک تکثیری نظام، جمہوریت کے اہم عناصر میں شامل ہے،کسی بھی ملک میں موجود جمہوری ڈھانچے کے لئے سیاسی جماعتیںستون کی حیثیت رکھتی ہیں،سیاسی جماعتوں کی داخلی جمہوریت ملکی جمہوری نظام کے مجموعی معیار پر گہرا اثر ڈالتی ہے،اگر سیاسی جماعتیں ضرورت سے زیادہ مرکزیت میں مبتلاء ہو جائیں اور فیصلے اشتراکی عمل کے بغیر غیر جمہوری انداز میں کیے جانے لگیں تو قومی جمہوری نظام چند افراد کے ہاتھوں میں یرغمالی بن جاتا ہے،جس کے نتیجے میں پارلیمان جیسے ادارے،حقیقی نمائندگی،عوامی قانون سازی اور نگرانی جیسے اہم فرائض کی انجام دہی سے قاصر ہو جاتے ہیں۔

اس بات سے انکار نہیں کیا جا سکتا کہ پاکستان میں جمہوریت ابھی نوخیز ہے اور اس کا ارتقاء ایک طویل مدتی عمل کا متقاضی ہے مگر پاکستان کے جمہوری مستقبل کی خاطر سیاسی جماعتوں کی داخلی جمہوریت پر توجہ کی ضرورت ہے،یہ ایک حقیقت ہے کہ مضبوط اور جمہوری سیاسی جماعتیں، ایک مضبوط جمہوری معاشرے کی اہم ترین تعمیراتی اکائی سمجھی جاتی ہیں۔

اگر پارٹی منشور کی جمہوری نوعیت،باقاعدہ اور مسابقانہ پارٹی انتخابات،پارٹی کے اندرونی ڈھانچے کی اثر پذیری،اسمبلیوں اور مقامی حکومتوں کے انتخابات کے لئے پارٹی امیدواروں کے چنائو میں مقامی راہنمائوں کے کردار،پارلیمانی جماعتوں کے اجلاسوں کی باقاعدگی،موروثی سیاست کی حوصلہ شکنی،پارٹی قیادت کی باقاعدگی سے تبدیلی،فنڈنگ کی بنیاد اور پارٹی حسابات کی ساکھ،پارٹی کے اندرا اختلاف رائے کی برداشت ،کسی سیاسی نظریہ سے لگائو،فیصلہ سازی کے جمہوری عمل میں شراکت داری،پارٹی کے معاملات اور فیصٓلہ سازی کے عمل میں خواتین،نوجوانوں اور اقلیتوں کی شرکت کے پیمانوں پر سیاسی جماعتوں کی داخلی جمہورت اور طرز سیاست کا تجزیہ کیا جائے تو یہ نتیجہ اخذ ہوتا ہے کہ سیاسی پارٹیاں لمیٹڈ کمپنیوں کی طرز پر چلائی جا رہی ہیں،فیصلہ سازی میںسیاسی کارکنوں کی عدم شمولیت سے اب سیاسی ورکروں کی جگہ پرستاروں نے لے لی ہے اور یوں سیاسی پارٹیاں اب عملی طور پرفین کلبز میں تبدیل ہو چکی ہیں۔پاکستان میں آمر ضیاالحق کے دور میں سیاسی جماعتوں کو کمزور کرنے کے لئے معاشرے کو d-politisize کرنے کے عمل کے نتیجے میں سیاسی ورکر ناپید ہو تا جا رہا ہے اور معاشرے کی مذہبی،لسانی،نسلی اور علاقائیت کی بنیاد پر تقسیم در تقسیم نے تکثیری اقدار کے ساتھ ساتھ سیاسی نظریات کا بھی جنازہ نکال دیا۔یہ تقسیم اتنی گہری ہو چکی ہے کہ اب اس ملک کے سیاسی نظام میں کسی سیاسی نظریے کی بنیاد پر الیکشن لڑنا اور الیکشن میں کامیابی حاصل کرنا انتہائی مشکل مرحلہ طے کرنا ہے۔اب صرف وہی سیاسی پارٹیاں کامیاب ہیں جو ”سیاست میں سب چلتا ہے” یا پیٹرن اینڈ کلائنٹ کے فارمولے پر عمل پیرا ہو کر اپنی انتخابی حکمت عملی طے کرتی ہیںاور جہاں سب چلتا ہے یا پیٹرن اینڈ کلائنٹ فارمولہ موجود ہو وہاں کوئی خاص سیاسی نظریہ نہیں چل سکتا۔اس کی ایک مثال پاکستان میں مسلم لیگ (نواز)اور جماعت اسلامی کو ملنے والے ووٹ اور سیاسی نظریے پر کاربند رہنے سے دی جا سکتی ہے۔پاکستان میں جمہوریت کے فروغ کے لئے کام کرنے والے ایک معتبر ادارے پلڈاٹ نے پاکستان کی پارلیمانی سیاست میں سرگرم عمل آٹھ سیاسی جماعتوں کے اندر داخلی جمہوریت کے حوالے سے مختلف زرائع اور سیاسی جماعتوں سے اعداد شمار حاصل کرنے کے بعد12 پیمانوں کی بنیاد پران جماعتوں کے پروفائل تیار کیے ہیں جن کی روشنی میں پاکستان میںسب سے زیادہ ووٹ(پول ہونے والے ووٹوں کا 32 فیصد)حاصل کر کے وفاق اور دو صوبوں میں برسرے اقتدار آنے والی جماعت پاکستان مسلم لیگ(نواز)داخلی طور پر سب سے کم جمہوری پارٹی ہے جبکہ سب سے کم (پول ہونے والے کل ووٹوں کا 02فیصد)ووٹ حاصل کرنے والی جماعت اسلامی پلڈاٹ کے جائزے کے مطابق سب سے زیادہ داخلی طور پر جمہوری پارٹی ہے،اگر چہ جماعت اسلامی کی ممبر شپ کا طریقہ کار بڑا پیچیدہ اور جمہوری سوچ کی نفی کرتا ہے۔شائد معاشرے کو d-politisize کرنے کے عمل کے نتیجے میں پیدا ہونے والا وہ تضاد ہے جو سیاسی نظریے کو اقتدار سے دور رکھنے کے لئے سب سے بڑے فیکٹر کے طور پر سامنے آیا ہے۔جائزے کے مطابق پاکستان مسلم لیگ نواز دیگر سات جماعتوں میں سب سے کمزور داخلی جمہوریت والی جماعت ہے،نیشنل کونسل کا گزشتہ پانچ سالوں میں کوئی اجلاس منعقد نہیں ہوا،اسی طرح مرکزی مجلس عاملہ کو گزشتہ تین سالوں سے اجلاس نہیں ہو سکا،2015 میں پارٹی کی جانب سے کیے جانے والے بڑے پالیسی فیصلے کسی اداراتی مشاورت کے بغیر ہوئے،جماعتی انتخابات پارٹی منشور اور جمہوری طرز اپنائے بغیر محض کاغذی خانہ پری کے لئے ہوتے ہیں جس میں مسابقانہ ماحول پیدا نہیں ہونے دیا جاتا،اس اکتوبر میں پارٹی کے انتخابات کے نام پر ایک بار پھر وزیراعظم میاں نواز شریف کو بلا مقابلہ پارٹی کا صدر منتخب کیا گیا ہے،پارٹی کے اندر طاقت کا محور صدر کی ذات میں مرتکز ہے،پارٹی دستور چیئرمین اور نائب صدور جو صدر کے بعد سینئر عہدیدار ہیں ان کو کوئی اختیار نہیں دیتا،پارٹی کے اندار اختلاف رائے کو اہمیت نہیں دی جاتی اور زیادہ تر فیصلہ سازی میںمرکزی مجلس عاملہ یا جماعت کی کسی دوسری تنظیم کو رسمی مشاورت کے قابل بھی نہیں سمجھا جاتا۔انیسو اٹھاسی میں مسلم لیگ جونیجو سے جنم لینے والی مسلم لیگ نواز ،گزشتہ اٹھائیس سالوں میں کچھ وقفوں کے سوا میاں نواز شریف اس پارٹی کے سربراہ ہیں،صرف دو ہزار سے دو ہزار سات کے دوران جاوید ہاشمی پارٹی کے صدر رہے ہیں کیوں کہ ان دنوں میں میاں نواز شریف جلا وطنی کی زندگی گزار رہے تھے اور کچھ قانونی پیچیدگی کے باعث2007 سے 2011 تک میاں شہباز شریف صدر رہے جو میاں نواز شریف کے بھائی ہیں۔ان وقفوں میں بھی اصل قیادت نواز شریف کے ہی پاس رہی۔پارٹی کے اندموروثی سیاست کی روایت اور جڑیں بھی مضبوط ہو رہی ہیں،میاں نواز شریف مریم نواز اور شہباز شریف حمزہ شہباز کو اپنے سیاسی جانشین کے طور پر دیکھ رہے ہیں اور انہیں پارٹی قیادت کے لیے بھر پور تیاری کے ساتھ سامنے لایا جا رہا ہے۔عملی طور پر حمزہ شہباز پنجاب کے نائب وزیر اعلی کے طور پر کام کر رہے ہیں اور مریم صفدر جو کہ وزیراعظم ہائوس میں سٹرٹیجک میڈیا کمیونیکیشن سیل کی سربراہ کے طور پر کام کر رہی ہیں۔دو سال قبل مریم صفدر کو یوتھ لون سکیم کا سربراہ بھی مقرر کیا گیا تھا جس کی تقرری کو چیلنج کرنے پر لاہور ہائی کورٹ کی طرف سے غیر قانونی قرار دیے جانے پر وہ اپنی حیثیت سے مستعفی ہو گئیں تھیں،پارٹی سیاست میںمریم نواز کے کردار میں خاصا اضافہ دیکھنے میں آیا ہے،دو ہزار پندرہ میں وہ وزیراعظم کے ہمراہ امریکہ کا دورہ کرنے کے ساتھ ساتھ امریکی خاتون اول مشعل اوبامہ سے ملاقات بھی کر چکی ہیں ،اس ملاقات میں مشعل اوبامہ نے پاکستانی لڑکیوں کے لئے ستر ملین ڈالرز کی رقوم کا بھی اعلان کیا تھا۔وزیراعظم کے ساتھ امریکہ کے اس دورہ سے مریم نواز کے بڑھتے ہوئے سیاسی کردار اور پاکستان میں اعلیٰ مقام کے حصول میں ان کی موجودگی کا اشارہ ملتا ہے،یہی صورتحال پاکستان پیپلز پارٹی کی ہے جس کا چیف ہمیشہ کوئی بھٹو ہوتا ہے،جب زولفقار علی بھٹو کا پھانسی دی گئی تو ان کی جگہ بھٹو کی اہلیہ نصرت بھٹو پارٹی کی چیئرپرسن بنیں،پھر ان کی جگہ بے نظیر بھٹو نے لے لی،دو ہزار سات میں بے نظیر کے قتل کے بعد ان کے شوہر آصف علی زرداری شریک چیئرمین جبکہ بے نظیر کے صاحبزادے بلاول زرداری کے نام کے ساتھ بھٹو کا لاحقہ لگا کر اسے پیپلز پارٹی کا اس وقت چیئرمین بنایا گیا جب بلاول کی عمر اٹھارہ سال تھی اور وہ زیر تعلیم تھا،امین فہیم کی وفات کے بعد اب آصف علی زرداری پارٹی کے شریک چیئرمین اور صدر بھی خود ہی ہیں جبکہ بلاول پارٹی کا چیئرمین ہے،آصف زرداری کی بہن فریال تالپور کے پاس بھی لا محدود اختیارات موجود ہیں،گزشتہ عام انتخابات میں پارٹی ٹکٹوں کی تقسیم اور پیپلز پارٹی دور حکومت میں سرکاری عہدوں پر تعیناتیاں فریال تالپور کی مرضی سے ہوتی تھیں،اب آصفہ بھٹو کو بھی پارٹی کی قیادت کے لئے تیار کیا جا رہا ہے جو پولیو کے خاتمے کے لئے خیر سگالی سفیر بھی رہ چکی ہیں۔چونکہ پاکستان پیپلز پارٹی کا دستور ایک نامکمل دستاویز ہے جو پارٹی کے اندرونی جماعتی طریقہ کار کی صراحت نہیں کرتا،اس حوالے سے بہت سارے ابہام موجود ہیں۔دستور کے مطابق پی پی پی کی سنٹرل ایگزیگٹیو کمیٹی،مرکزی اور صوبائی سطح پر تمام پارٹی پالیسیوں کا فیصلہ اور نگرانی کرتی ہے مگر عملی طور پر سارے اہم سیاسی فیصلوں کا اختیار آصف علی زرداری کے پاس ہے اور ان کی غیر موجودگی میں ان کہ بہن سارے سارے معاملات چلاتی ہیں یا دبئی میں بیٹھ کر بعض پارٹی عہدیداروں کو اپنے پاس طلب کر لیتے ہیں۔پارٹی کے اندر موروثیت کے ساتھ ساتھ آمرانہ فیصلوں کی روایت بھی مضبوط ہوتی جا رہی ہے جس کے نتیجے میں پیپلز پارٹی کے پاس جو سیاسی ورکر موجود تھا ان میں سے اکثریت نے تحریک انصاف یا دیگر سیاسی پارٹیوں کا رخ کر لیا ہے اور باقی پارٹی معاملات سے کنارہ کش ہو چکے ہیں۔پیپلز پارٹی بھی کمزور داخلی جمہوریت والی جماعت ہے جو قیادت کے لئے بھٹو/زرداری خاندان پر مکمل انحصار کرتی ہے۔پاکستان تحریک انصاف داخلی جموریت کے حوالے سے دیگر بڑی سیاسی جماعتوں سے کافی بہتر ہ دو ہزار تیرہ میں ہونے والے عام انتخابات میں پی ٹی آئی تیسری بڑی سیاسی جماعت کے طور پر سامنے آئی ،2012/13 میں پی ٹی آئی نے انٹرا پارٹی الیکشن کے موقع پر کھلے اور بے مثال انتخابات کا انعقاد کروایا مگر بعد ازاں وہ خامیوں سے بھرپور پائے گئے جن کی تفصیلی رپورٹ تیار کر کے بنیادی خامیوں کی نشاندہی پر جسٹس (ر) وجیہ الدین کو پارٹی سے نکال دیا گیا ا گر چہ دو ہزار چودہ کے بعد اس جماعت کا جمہوری تاثر کافی خراب ہوا ہے،پارٹی میں خواتین،نوجوانوں اور اقلیتوں کی فعال شرکت اور موروثی قیادت کی حوصلہ شکنی داخلی جمہوریت کے حوالے سے اہم ترین نکات کے طور پر سا،منے آئے تھے تا اہم گزشتہ عام انتخابات کے بعد پارٹی چیئرمین عمران خان کے بعض اہم سیاسی فیصلوں کی وجہ سے پارٹی کی داخلی جمہوریت پر کافی منفی اثر پڑا ہے،پارٹی کے اندر اب اختلاف رائے کے لئے موجود گنجائش کم ہوتی جا رہی ہے،اختلاف رائے کی بنیاد پر پارٹی کے صدر جاوید ہاشمی اور الیکشن اصلاحات پر کام کرنے والے جسٹس (ر) وجیہ الدین کی پارٹی سے برطرفی سے پارٹی کے اندر آمرانہ فیصلوں کی نشاندہی کی جا سکتی ہے اور اس وقت ایک عام تاثر جو عوام کے اندر ابھر کر سامنے آیا ہے اس میں پارٹی کے اندر کسی بھی قسم کے فیصلے کا قلی اختیار عمران خان کے پاس ہے اور بہت سارے سیاسی فیصلوں سے اس تاثر کو کافی تقویت بھی ملی ہے جس سے پارٹی کے اندر داخلی جمہوریت کے حوالے سے ساکھ کو نقصان پہنچا ہے۔اسی طرح ایم کیو ایم جو کہ اردو بولنے والے کراچی کے شہریوں کی نمائندگی کا نعرہ لے کر میدان میں آئی تھی 1997 کے بعد ایم کیو ایم نے لسانی شناخت سے ہٹ کراپنی قومی شناخت قائم کرنے کئے لئے مہاجر قومی مومنٹ سے نام تبدیل کر کے متحدہ قومی مومنٹ رکھا اور ملک کے ابتر سماجی اور معاشی حالت کو بہتر بنانے کے منشور کے ساتھ ملکی سطح پر غریب اور پسے ہوئے طبقات کو ساتھ ملانے کا سلسلہ شروع کیا اور پورے ملک میں اپنا دائرہ کار پھیلانا شروع کیا اگر چہ اب ایم کیو ایم قومی سطح کی سیاسی جماعت بن چکی ہے اور سندھ کی حد تک ایم کیو ایم کسی حد تک منوا چکی ہے مگر سندھ سے باہر اسے وہ پزیرائی نہیں مل سکی جس کی اسے توقع تھی،داخلی جمہوریت ے حوالے سے ایم کیو ایم کا مجموعی تاثر کافی خراب ہے،پارٹی کا سربراہ الطاف حسین ہے جو 1984 کے بعد تاحال اس پارٹی کا سب کچھ ہے ،ظاہری طور پر پارٹی کو رابطہ کمیٹی کے زریعے چلایا جاتا ہے مگر عملی طور پربھی پارٹی ایک سیاسی جماعت کے بجائے ایک مافیا کے طور پر کام کر رہی ہے،ان دیکھی طاقتیں پارٹی کو کنٹرول کرتی ہیں،ایم کیو ایم کے اندر بھی قیادت کی تبدیلی کا کوئی جمہوری طریقہ کار موجود نہیں ہے،الطاف حسین کی ذات پارٹی کے لئے انتہائی ناگزیر ہے،سیاسی حلقے ایم کیو ایم کو ضیاالحق کے دور میں معاشرے کو ”غیر سیاسی” بنانے کے عمل کا ایک حصہ سمجھتے ہیں۔ جمعیت علمائے اسلام (ف)بھی ملکی مذہبی سیاسی جماعتوں میں قومی سطح کی سیاسی جماعت ہے ،اس جماعت کی سربراہی بھی 1980 کے بعد چھتیس سالوں سے مولانا فضل الرحمان کے ہاتھوں میں مرکوز ہے اور اسلامی نظام کے نفاذ کے نعرے کے ساتھ انتخابات میں حصہ لیتی ہے مگر داخلی طور پر اس جماعت کے اندر بھی جمہوریت ناپید ہے،گر چہ جماعت کے پاس پارٹی منشور موجود ہے اور انتخابات کا سلسلہ بھی چلتا رہتا ہے مگر اس جماعت کے لئے بھی مولانا فضل الرحمان کی شخصیت نا گزیر بن چکی ہے اور اہم فیصلے صرف مولانا فضل الرحمان ہی کے گرد گھومتے ہیں،مولانا فضل الرحمان عملی طور پر اپنی ذات میں انجمن ہیں،پارٹی میں خواتین،نوجوانوں اور اقلیتوں کی کمزور شرکت بھی پارٹی کی داخلی جمہوریت پر منفی اثر ڈالتی ہے اسی طرح پارٹی کا حساب کتاب کا گوشوارہ بھی ہمیشہ مشکوک ہی رہتا ہے ۔جماعت اسلامی پاکستان بھی مذہبی سیاسی جماعت ہے جس کی بنیاد مسلم مفکر مولانا ابو الاعلی مودودی نے1941 میںرکھی اور تقسیم کے بعد اس جماعت کے بانی جماعت کے ہمراہ پاکستان تشریف لائے ، پلڈاٹ کے جائزے کے مطابق جماعت اسلامی تمام جماعتوں میں سب سے زیادہ جمہوری جماعت ہے ہے اپنے پارٹی منشور سے انصاف کرتی ہے،پارلیمانی پارٹی کے اجلاس بھی باقاعدگی سے ہوتے ہیں،باقاعدہ پارٹی انتخابات اور قیادت کی باقاعدہ تبدیلی اور پارٹی قیادت میں موروثی مرض کے خاتمے نے اس جماعت کو سب سے زیادہ داخلی جمہوریت کی حامل جماعت کا درجہ دیا ہے۔تا اہم حساب کتاب کا کھاتہ جماعت کا بھی کچھ اچھا اور حوصلہ افزاء نہیں رہا۔اگرپارٹیوں کی مجموعی داخلی صورتحال کا خلاصہ بیان کیا جائے توجماعت اسلامی کے بظاہر سب سے زیادہ جمہوری جماعت ہونے کے عوامل میں باقاعدہ انتخابات،انتخابات کے زریعے قیادت کی تبدیلی،شوریٰ اور مجلس عاملہ کے باقاعدہ اجلاس اور جماعت کے اندر موروثی قیادت کی حوصلہ شکنی شامل ہے،مسلم لیگ نواز کے سب سے زیادہ کم جمہوری جماعت کے عوامل میںپارٹی کے قیام سے اب تک واحد قیادت کا تسلسل،پارٹی کے انتخابات باقاعدہ اور مسابقانہ نہ ہونا ،اہم فیصلوں کا شریف خاندان کے زیر اثر ہونا اور موروثی طرز سیاست شامل ہیں۔پاکستان پیپلز پارٹی میں ایک ہی خاندان سے پارٹی قیادت کا ہونا موروثی سیاست کے تاثر کو استحکام دیتا ہے اورغیر مسابقانہ انتخابات، غیر مشاورتی فیصلہ سازی کا عمل پیپلز پارٹی کی داخلی جمہوریت کی کمزوری کی بڑی وجوہات میں شامل ہے۔ایم کیو ایم کے ایک کمزور جمہوری جماعت ہونے کی وجوہات میں ون مین شو یعنی واحد قائد الطاف حسین کا پارٹی کے جملہ معاملات پر مکمل اور بھرپور کنٹرول اور پارٹی کی رابطہ کمیٹی کو بار بار معطل اور بحال کرنے سمیت دیگر عوامل شامل ہیںجبکہ جمیعت علمائے اسلام کے معاملے میں اعلیٰ قیادت کا تسلسال برقرار رہنا اور پارٹی میں خواتین اور اقلیتوں کا محدود کردار اس پارٹی کی کمزور داخلی جمہوریت کی وجوہات سمجھی جاتی ہیں۔سیاسی پارٹیوں کے داخلی ڈھانچے میں جمہوری روایات اور شفافیت کی عدم موجودگی کا برائے راست اثر ہمارے پارلیمانی سیاسی نظام پر پڑ رہا ہے جس کے نتیجے میں جمہوری رویے پروان چڑھنے اورکسی بھی سیاسی نظریے سے لگائو رکھنے والے سیاسی ورکر پیدا ہونے کے بجائے نسلی،لسانی،مذہبی ، علاقائی اور شخصیت کی بنیادوں پر فین کلبز کی تعداد بڑھتی جا رہی ہے اور معاشرے کو d-politisize کرنے کے عمل کا تسلسل اپنی آب و تاب سے جاری ہے اور ووٹ ووٹ کھیلنے کے باوجود سماج کے اندر جمہوری روایات کے جڑ پکڑنے کے گنجائش کم ہوتی جا رہی ہیں ضرورت اس امر کی ہے کہ کسی بھی ملک میں موجود جمہوری ڈھانچے کے لئے ستون کی حیثیت رکھنے والی سیاسی جماعتوں کے اندر داخلی جمہوریت کو پروان چڑھا کر پاکستان کے جمہوری مستقبل کی راہ ہموار کی جائے۔

۔۔شہ سرخیاں۔۔کسی بھی ملک میں موجود جمہوری ڈھانچے کے لئے سیاسی جماعتیںستون کی حیثیت رکھتی ہیں،سیاسی جماعتوں کی داخلی جمہوریت ملکی جمہوری نظام کے مجموعی معیار پر گہرا اثر ڈالتی ہے،اگر سیاسی جماعتیں ضرورت سے زیادہ مرکزیت میں مبتلاء ہو جائیں اور فیصلے اشتراکی عمل کے بغیر غیر جمہوری انداز میں کیے جانے لگیں تو قومی جمہوری نظام چند افراد کے ہاتھوں میں یرغمالی بن جاتا ہے،جس کے نتیجے میں پارلیمان جیسے ادارے،حقیقی نمائندگی،عوامی قانون سازی اور نگرانی جیسے اہم فرائض کی انجام دہی سے قاصر ہو جاتے ہیں۔
۔۔گر پارٹی منشور کی جمہوری نوعیت،باقاعدہ اور مسابقانہ پارٹی انتخابات،پارٹی کے اندرونی ڈھانچے کی اثر پذیری،اسمبلیوں اور مقامی حکومتوں کے انتخابات کے لئے پارٹی امیدواروں کے چنائو میں مقامی راہنمائوں کے کردار،پارلیمانی جماعتوں کے اجلاسوں کی باقاعدگی،موروثی سیاست کی حوصلہ شکنی،پارٹی قیادت کی باقاعدگی سے تبدیلی،فنڈنگ کی بنیاد اور پارٹی حسابات کی ساکھ،پارٹی کے اندرا اختلاف رائے کی برداشت ،کسی سیاسی نظریہ سے لگائو،فیصلہ سازی کے جمہوری عمل میں شراکت داری،پارٹی کے معاملات اور فیصٓلہ سازی کے عمل میں خواتین،نوجوانوں اور اقلیتوں کی شرکت کے پیمانوں پر سیاسی جماعتوں کی داخلی جمہورت اور طرز سیاست کا تجزیہ کیا جائے تو یہ نتیجہ اخذ ہوتا ہے کہ سیاسی پارٹیاں لمیٹڈ کمپنیوں کی طرز پر چلائی جا رہی ہیں،فیصلہ سازی میںسیاسی کارکنوں کی عدم شمولیت سے اب سیاسی ورکروں کی جگہ پرستاروں نے لے لی ہے اور یوں سیاسی پارٹیاں اب عملی طور پرفین کلبز میں تبدیل ہو چکی ہیں۔

۔۔پاکستان میں آمر ضیاالحق کے دور میں سیاسی جماعتوں کو کمزور کرنے کے لئے معاشرے کو d-politisize کرنے کے عمل کے نتیجے میں سیاسی ورکر ناپید ہو تا جا رہا ہے اور معاشرے کی مذہبی،لسانی،نسلی اور علاقائیت کی بنیاد پر تقسیم در تقسیم نے تکثیری اقدار کے ساتھ ساتھ سیاسی نظریات کا بھی جنازہ نکال دیا۔یہ تقسیم اتنی گہری ہو چکی ہے کہ اب اس ملک کے سیاسی نظام میں کسی سیاسی نظریے کی بنیاد پر الیکشن لڑنا اور الیکشن میں کامیابی حاصل کرنا انتہائی مشکل مرحلہ طے کرنا ہے۔اب صرف وہی سیاسی پارٹیاں کامیاب ہیں جو ”سیاست میں سب چلتا ہے” یا پیٹرن اینڈ کلائنٹ کے فارمولے پر عمل پیرا ہو کر اپنی انتخابی حکمت عملی طے کرتی ہیںاور جہاں سب چلتا ہے یا پیٹن اینڈ کلائنٹ فارمولہ موجود ہو وہاں کوئی خاص سیاسی نظریہ نہیں چل سکتا۔۔

۔۔سیاسی پارٹیوں کے داخلی ڈھانچے میں جمہوری روایات اور شفافیت کی عدم موجودگی کا برائے راست اثر ہمارے پارلیمانی سیاسی نظام پر پڑ رہا ہے جس کے نتیجے میں جمہوری رویے پروان چڑھنے اورکسی بھی سیاسی نظریے سے لگائو رکھنے والے سیاسی ورکر پیدا ہونے کے بجائے نسلی،لسانی،مذہبی ، علاقائی اور شخصیت کی بنیادوں پر فین کلبز کی تعداد بڑھتی جا رہی ہے اور معاشرے کو d-politisize کرنے کے عمل کا تسلسل اپنی آب و تاب سے جاری ہے اور ووٹ ووٹ کھیلنے کے باوجود سماج کے اندر جمہوری روایات کے جڑ پکڑنے کے گنجائش کم ہوتی جا رہی ہیں اور ڈیمو کریسی کے بجائے الیکٹو کریسی کا نظام مضبوط ہو رہا ہے ،ضرورت اس امر کی ہے کہ کسی بھی ملک میں موجود جمہوری ڈھانچے کے لئے ستون کی حیثیت رکھنے والی سیاسی جماعتوں کے اندر داخلی جمہوریت کو پروان چڑھا کر پاکستان کے جمہوری مستقبل کی راہ ہموار کی جائے۔۔

Leave Comments

آج کی بات

انسان حالات کی پیداوار نہیں،حالات انسان کی پیداوارہوتے ہیں۔
{کتاب۔کوئی کام نا ممکن نہیں۔سے اقتباس}