پچاس لاکھ کی گاڑی اور 10 روپے کا سوال — عمیر اقبال

 صاحب جی 10 روپے دے دو روٹی کهانی ہے سنگل بند ہوتے ہی وہ شیشے کی جانب لپکی، اسٹاپ پر کهڑی زمانے کی گرد کو اپنے چہرے پر سجائے اس لڑکی نے انگلی اپنے رب کی طرف اٹهاتے ہوئے بابو صیب سے سوال شکم کیا –

میں بائیک پر بیٹهے ہیلمٹ کا شیشہ اوپر کرتے ہوئے سگنل کهلنے کا انتطار ہی کر رہا تها تها کہ یکا یک ایک بچہ بهاگ کر گاڑی کے فرنٹ شیشے کو اپنے ٹوٹے وائپر کے فوم سے صاف کرنے لگا، پیپ پیپ ہٹو کیا کر رہے ہو شیشہ گندا کر دیا بابو صیب بچے کی طرف متوجہ ہوئے اور اپنی پچاس لکھ کی گاڑی کی تعریف گهڑتے ہوئے ” ہٹو نا سمجھ پتہ ہے کتنی مہنگی گاڑی ہے ستیا ناس کر دیا شیشے کا” گاڑی کے اندر سے بچے کو ہٹنے کا اشارہ کرتے ہوئے مخاطب تھے –

بچہ جلدی سے نیچے اترا اور اپنی ماں کے پاس آکهڑا ہوا اور ندامت کے آنسو چہرے پر سجائے بابو صیب کے تلخ لہجے کو اپنی معصوم سی مسکراہٹ میں دبوچتے ہوئے اپنے دامن سے پیشانی سے ٹپکتا پسینہ سکھاتے ہوئے شیشے کے اندر بیٹھے بابو صیب کو طلبی آنکھوں سے تکنے لگا – شرم نہیں آتی، پورا فیملی لیکر مہنگی گاڑی دیکھتے ہی آ چپکتے ہو، کچھ حیاء ہوتی ہے، تمیز نام کی کوئی چیز ہوتی ہے، پوری فیملی کو کام تقسیم کر رکھا ہے، ایک مانگے، ایک گاڑی صاف کرے، ایک اسٹاپ کنارے بیٹھ کر رونا دهونا لگا رکھے، کسی فیکٹری یا بنگلے میں کوئی کام کاج کرو محنت کر کے کماو اور اپنے بچوں کا پیٹ بهرو، بابو صیب اپنا کالر درست کرتے ہوئے سوالوں کے ڈرون برساتے سینہ چوڑا کرتے ہوئے ظالم آنکھوں سے ماں بیٹے کو دیکهتا رہا –

بابو صیب اللہ کسی کو محتاج نہ کرے ہمارے لیے یہ بھی محنت ہے ہم کوئ بناوٹی بھکاری نہیں، کسی فیکٹری اور تمہارے جیسے سیٹ لوگوں کے بنگلے میں کام کاج سے بہتر ہے ہم بھوکے مر جائیں جہان تم جیسا پڑها لکھا بهی کسی جاہل سے کم نہیں تم جیسا اپنے گهر میں جهاڑو پونچا کرنے والیوں کو اپنا غلام سمجھ بیٹھتا ہے، صبح سے لیکر شام تک وہ تمہارے کپڑے سے لے کر چپل تک صاف کرے اور اسے پانی تک کا نہ پوچهو ، فیکٹری میں کام کر کے ہوس کے پجاریوں کی گندی آنکھوں سے یہ بهیک بہتر ہے جاو جاو اللہ تمہیں پهر بهی بہت دے اور تهوڑا سا تمیز اور کسی مفلس سے بات کرنے کا ڈهنگ بھی جاو مفلس کی آہ سے بچو، سگنل کهلتے ہے بابو صیب اپنی 50 لاکھ کی گاڑی کو ایک مفلس کی بے عزتی کے ساتھ چلتے بنے –

دوستوں یہ رب کریم کی ہی دین ہے کسی کو زیادہ کسی کو کم، کسی کو اتنا کہ وہ سنبھال نہ سکے اور کسی کو اتنا کہ وہ پائ پائ کا محتاج، جو محتاج ہے آپ کا فرض بنتا ہے کہ ان کے ساتھ حسن سلوک اعر اچها برتاو کرے، انکی ضروریات کو پورا کرے اگر یہ نہیں کر سکتے تو اپنے اخلاق سے ہی انکا دل جیت لیں تاکہ وہ ہنسی خوشی آپ کے سلوک کی بدولت آپ کو دعا دے دے ناکہ اس پڑهے لکهے مسٹر جنٹل مین کی طرح تلخ لہجے اور بدسلوکی سے اپنی ہی عزت لے ڈوبے اور کسی مفلس کی آہ کو اپنے لیے آہ بنا بیٹهے – (اللہ پاک ہم سب کا حامی و ناصر ہو)

Leave Comments

آج کی بات

انسان حالات کی پیداوار نہیں،حالات انسان کی پیداوارہوتے ہیں۔
{کتاب۔کوئی کام نا ممکن نہیں۔سے اقتباس}