دہشت گردی کی تازہ لہر, اور ریاست کی بے حسی — تحریر : شاہد خان

قیام پاکستان کو 70 سال کاعرصہ ہونے کوہے۔ جس آزاد اورخودمختار پاکستان کاخواب ہمارے بڑوں نےدیکھا تھا قوم آج بھی اس خواب کےشرمندہ تعبیر ہونے کےانتظار میں ہے۔ انگریزوں کی غلامی سےآزادی کےبعد مسلمان یہ سوچ رہےتھے کہ اب اتنی قربانیوں کےبعد ہماری آئندہ آنےوالی نسلیں محفوظ اورخوشحال ہوں گی لیکن بہت ہی افسوس سے کہنا پڑتا ہےکہ سات دہائیوں کےگزرنے کےباوجود کیاہم خود کومحفوظ اورخوشحال کہہ سکتےہیں؟
’’گزشتہ چند دنوں میں دہشتگردی کی 9 کاروائیاں 100 سےزائد افراد شہید‘‘ کیا یہ سب پڑھنے اوردیکھنے کےبعد ہمارے لیے جاگ اُٹھنے کی کوئی اوروجہ ضروری ہے؟ ہمارے حکمران خود کوپاناما کیس سےجان چھڑانے اوراگلے انتخابات کی تیاری میں اور دہشت گردوں کے سرپرستوں سےگٹھ جوڑ میں مصروف ہیں۔اپوزیشن حکومت گرانے اورنیا اتحاد تشکیل دینےمیں مصروف ہے ۔ وزاراء کی فوج ظفرموج اپنے ووٹروں کےمسائل اوروزارتوں کےکام پرتوجہ دینے کی بجائے انتہائی جذباتی انداز میں اوربھرپور صلاحیتوں کےساتھ وزیراعظم اوراس کےخاندان کےدفاع میں اپنی صلاحیتیں صرف کررہے ہیں۔
کتناہی اچھاہوتا کہ تمام وزاراء اپنے اپنے حلقوں میں اور وزارتوں کےکام پرسارا زور لگاتے اوروزیرریلوے خواجہ سعد رفیق جس کے وزیراعظم کےدفاع اورسپریم کورٹ کےخلاف تقریر کےدوران سخت سردی میں بھی پسینے چھوٹ جاتےہیں، ریلوےکےمسلسل ہونے والے حادثات کی وجہ سے قوم سے معافی مانگ کراستعفیٰ دےدیتےیا جنتا زور وہ وزیراعظم کےخاندان کےدفاع کےلیے لگارہےہیں ریلوے کی بہتری کےلیے کام کرتے۔
لیکن نہیں! ایسانہیں ہوسکتا ؟؟؟کیونکہ قوم کوابھی مزید نیند پوری کرنی ہے۔ ہرحکومت ہمارا استحصال کرتی ہے،ادارے کمزور اورتباہ ہوچکے ہیں۔عدلیہ ابھی تک مکمل آزاد اورخودمختار نہیں ہوسکی۔ تھپڑ اورسپریم کورٹ کی چاردیواری پرکپڑے لٹکانے پرتوہین عدالت اورسوموٹو ایکشن لینےوالی سپریم کورٹ ملک میں کرپٹ اور دہشت گرد عناصر کےخلاف سوموٹو ایکشن کیوں نہیں لیتی؟ نیب صرف اپوزیشن کاہی احتساب کیوں کرتی ہے؟ حکومت دہشت گردوں کےبلاتفریق صفایا کےلیے نیشنل ایکشن پرسوفیصد عمل کیوں نہیں کرتی اورفوج اورسکیورٹی کےاداروں کےساتھ مکمل تعاون کیوں نہیں کرتی؟
جب بھی دہشت گردی کاکوئی واقعہ ہوتا ہےتو معمول کےمذمتی بیانات (دہشت گردوں سے آہنی ہاتھوں سے نمٹا جائے گا، اب کوئی رعایت نہیں دی جائے گی وغیرہ وغیرہ ۔ نتیجہ صفر)پولیس کی رسمی کاروائی اورحالات زیادہ خراب ہوجائیں توکچھ دن کےلیے معاملات فوج کےحوالے۔ کیا حکومت کی رٹ کسی جگہ ہے؟ کیا قانون کی بالادستی سب جماعتوں اور ملک کےہرطبقہ بشمول اشرافیہ پرہے؟
آخرفوج ملک کےکس کس معاملے کوحل کرے،سرحدوں کی حفاظت کرے، قدرتی آفات اور دہشت گردوں کےخلاف آپریشن کرےیا حکومتی معاملات چلائے؟ فوج کوآپ کہاں کہاں گھسیٹیں گے؟ آخر کب تک؟ آخر کب تک؟ یہ معاملات اسی طرح چلتے رہیں گے؟ اس کاکوئی توحل اورانجام تو ہونا چاہیے۔ہمارے بیرونی دشمن تواپنی دشمنی نبھائیں گے ہم پاکستانی خود،اپنے،اپنے اہل وعیال اورملک کے خیر خواہ کب بنیں گے؟
وقت کاتقاضا ہےکہ ہم اپنے تمام اختلافات کوبالائے طاق رکھتےہوئے پاکستان کےعوام کی خوشحالی،تحفظ اورآئندہ آنےوالی نسلوں کےلیےمحفوظ اوربہتر مستقبل کےلیے اکٹھے ہوجائیں اور سب سےپہلے اس دہشت گردی کےناسور کوپاکستان سےاُٹھا کرباہرپھینکیں، اگر ہم نے اب بھی ہوش کےناخن نہ لیے توخدانخواستہ وہ وقت دور نہیں جب ہمارا حشر بھی افغانستان، شام ،عراق ،لیبیا اوریمن جیساہوگا۔

You may also like this

13 March 2017

دہشت گردی کے خلاف اقدامات --- چوھدری وقاص افضل

<p style="text-align: justify;"><span style="font-size: 20px;">کوئی ملک اپنی کرکٹ میں گیارہ ک

admin
25 February 2017

رِستا ناسور --- تحریر: صاحبزادہ محمدامانت رسول

<p style="text-align: justify;"><span style="font-size: 24px;">گزشتہ ماہ (فروری2017ء )پاکستانی

admin
22 February 2017

سانحے اور المیے --- تحریر: بلال احمد خان

<p style="text-align: justify;"><span style="font-size: 24px;">جزوی امن و امان کے کم و بیش دو س

admin

Leave Comments

آج کی بات

انسان حالات کی پیداوار نہیں،حالات انسان کی پیداوارہوتے ہیں۔
{کتاب۔کوئی کام نا ممکن نہیں۔سے اقتباس}