ڈونالڈٹرمپ کے نفسیاتی مرض کا علاج ممکن ہے؟ — عادل فراز

دنیا جانتی ہے کہ اتحاد اسلامی کا سب سے بڑا داعی ایران ہے ۔مسلم ممالک آج تک کسی ایک بات پر متحد نہیں ہوئے مگر ایران ہزار پابندیوں کا عذاب جھیلنے کے باجود بھی وحدت اسلامی کی کوششوں سے کبھی پیچھے نہیں ہٹا ۔کیونکہ ایران بخوبی جانتاہے کہ کس طرح سامراجی و صہیونی طاقتیں مسلمانوں میں نفرتوں کا بیج بوکر انکے انتشار کا فائدہ اٹھارہی ہیں ۔انکا انتشار ہی اس بات کا سبب بنا کہ پوری منصوبہ بندی کے ساتھ مسلمان ملکوں کو جنگ کے جہنم میں ڈھکیل دیا گیااور دہشت گردی کے نام پر پوری دنیا میں انہیں مشکوک بنادیا گیا۔جو مسلمان ملک اس عذاب سے محفوظ رہے انہیں اپنا فکری و نظریاتی غلام بنالایا گیا۔ایران مشرق وسطیٰ کی بڑی طاقت ہے اس حقیقت کا اعتراف سبھی کرتے ہیں ۔ایران کی یہی خودمختاری امریکہ جیسی بڑی طاقت کو راس نہیں آتی ۔گویا مشرق وسطیٰ پر حکومت کا خواب ایران کی خودمختاری کی بنیاد پر دیوانے کا خواب بن گیاہے ۔لہذا امریکہ بھی ایران کے خلاف سازشیں کرنے میں اپنی پوری توانائی صرف کرتا رہاہے ۔براک اوباما کے بعد وہائٹ ہائوس میں ٹرمپ کا آنا امریکہ کے لئے کتناسودمند ثابت ہوگا یہ تو وقت بتائیگا مگر ٹرمپ نے صدارت کا عہدہ سنبھالتے ہی اپنے شیطانی و خلجانی عزائم کا اظہارکردیا ہے ۔
ڈونالڈ ٹرمپ اس حقیقت سے اچھی طرح واقف ہیں کہ مسلمان ممالک کی حیثیت کیاہے اوروہ انکی مخالفت میں کہاں تک ہاتھ پائوں مار سکتے ہیں ؟ ۔لہذا مسلمانوں کے امریکہ میں داخلہ پر پابندی لگانا ایک منصوبہ بند فیصلہ تھا ۔ٹرمپ کو امریکہ میں کن مسلمانوں سے خطرہ لاحق ہوسکتاہے اس حقیقت کا اندازہ لگایا جاسکتاہے ۔کیونکہ جن مسلمان ملکوں کے بادشاہ اور سربراہان انکے اشاروں پر ناچتے ہوں وہاں کی عوام کا کیا حال ہوگا ۔انکا مقصد صرف ایران کو ورغلانا اور انکی طاقت کا اندازہ کرنا تھا ۔یہی وجہ ہے کہ کوئی بھی مسلم ملک اتنی جرأت نہیں کرسکا کہ ٹرمپ کے فیصلے پر تنقید کرتے ہوئے امریکن کے ملک میں داخلہ پر پابندی لگانے کا اعلان ہی کردیتا ۔اسکے نقصانات کا اندازہ انہیں پہلے ہی تھا لہذا خاموشی میں سرہلاتے نظر آئے ۔امریکہ کی عدلیہ نے ٹرمپ کے فیصلہ کی مذمت کی اور کہاکہ قانونی جواز کے ساتھ امریکہ میں داخلہ پر پابندی لگانا غلط ہے۔ٹرمپ کے آمرانہ مزاج اور ذہنی بیماری کا اندازہ اس سے لگایا جاسکتاہے کہ انہوں نے عدلیہ کے بیان کا سر عام تمسخر کیا اور فیصلے پر نظرثانی تک کا مشورہ دے ڈالا ۔انہوں نے عدلیہ پر تنقید کرتے ہوئے کہاہے کہ غیر ملکیوں کی امریکہ آمد پر پابندی لگانے کا انھیں جوقانونی اختیار حاصل ہے وہ اتنا واضح ہے کہ ایک ہائی اسکول کے نالائق طالبعلم کے لئے اسے سمجھنا مشکل نہیں ہوگا۔‘‘جبکہ ڈونالڈ ٹرمپ نے مسلمانوں کے امریکہ آمد پر پابندی عائد کی تھی ناکہ عام افراد کی آمد پر قدغن لگایا تھا ۔مگر انکا تمسخرانہ انداز عدلیہ کی حیثیت اور ٹرمپ کی افلاس زدہ سوچ کا عکاس ہے ۔ٹرمپ کا یہ کہنا کہ انہیں عراقی و ایرانی و دیگر مسلم ممالک کے مسافروں سے دہشت گردی کا خطرہ ہے تو انہیں جواب دینا چاہئے کہ افغانستان اور عراق میں انکی دہشت گردی کس زمرہ میں آتی ہے ۔جبکہ یہ رپوٹ سامنے آچکی ہے کہ عراق میں امریکہ و اسکی اتحادی طاقتوں نے حملہ کرکے غلطی کی تھی اور انکا مقصد فقط قدرتی ذخائر پر قبضہ جمانا تھا۔ساتھ ہی فلسطین میں اسرائیلی دہشت گردی ،برما میانمار میں بدھشٹوں کی بربریت اورنائیجیریا میں جاری تشدد پر انکا نظریہ کیاہے ؟۔
مجمع تشخیص مصلحت نظام کے اسٹراٹیجک ریسرچ سینٹر کے سربراہ اور ایران کے سابق وزیر خارجہ ڈاکٹر علی اکبر ولایتی نے واضح طوپر ٹرمپ اور امریکہ کی شیطانی ذہنیت پر تنقید کرتے ہوئے کہا ہے کہ’’ امریکہ کا اصل مقصد مشرق وسطیٰ کو تقسیم کرنا ہے ۔‘‘ یہ تقسیم اس وقت تک ممکن نہیں ہے جب تک خطہ میں ایران جیسی بڑی اور بیباک طاقت موجود ہے ۔کیونکہ مشرق وسطیٰ کے مسلمان ممالک میں اتنا دم نہیں بچا ہے کہ وہ امریکہ کی سازشوں کے خلاف مزاحمت کرسکیں لہذا مشرق وسطیٰ کی فتح میں بڑی رکاوٹ ایران ہی ہے ۔ڈاکٹر علی اکبر ولایتی نے مزید کہاہے کہ ’’امریکی صدر نے اگر عالم اسلام اور مسلمانوں کے خلاف متعصبانہ پالیسی ترک نہ کی تو مسلمان اسے ایسا سبق سکھائیں گے جسے وہ زندگی بھر فراموش نہیں کرسکیں گے ‘‘۔ظاہر ہے ڈاکٹر علی اکبر ولایتی کا یہ بیان اتحاد اسلامی کا مظہر ہے ورنہ وہ بھی بخوبی جانتے ہیں کہ خطہ کے مسلمان امریکہ کے سامنے دم مارنے کی جسارت نہیں کرسکتے چہ جائیکہ امریکہ کو سبق سکھانے کی فکر کریں ۔مگر انکا یہ بیان امریکہ کے تئیں ایران کی جارحانہ سوچ کو باالکل واضح کردیتاہے ۔افسوسنا ک صورتحال یہ ہے کہ اتحاد اسلامی کا ثبوت دیتے ہوئے امریکہ کی مکروہ پالسیوں کے خلاف کبھی سعودی عرب اور دیگر مسلم ملکوں کی طرف سے ایسے بیانات جاری نہیں ہوتے ۔ہاں مسلم ممالک ہمیشہ امریکہ کی ہاں میں ہاں ضرور ملاتے نظر آتے ہیں۔ سعودی عرب کے وزیر خارجہ عادل الجبیر نے جرمنی میں ایک پریس کانفرنس میں نسل پرست اوراسلام دشمن ٹرمپ کی حمایت کا اعلان کیا۔انہوں نے کہاکہ علاقائی مسائل کو سلجھانے میں سعودی عرب ٹرمپ کی بھرپور حمایت کریگا ۔سعودی عرب کی امریکہ نوازی و اسرائیل غلامی کا اندازہ اس بیان سے لگایا جاسکتاہے کیونکہ علاقہ میں آج تک فلسطین کا مسئلہ حل نہیں ہوسکا ہے ۔ٹرمپ بھی مسئلہ فلسطین کے دو ریاستی حل کے حق میں نہیں ہیں ۔ٹرمپ نے تاکید کی ہے عرب ممالک اسرائیل کے ساتھ تعلقات خوشگوار رکھیں اور اسرائیل کے ساتھ ہر ممکن تعاون کریں ۔یہ تعاون فقط عرب ممالک سے کیوں طلب کیا گیا ؟ٹرمپ نے ایران سے کیوں ایسا تقاضا نہیں کیا ؟کیوں کہ امریکہ بخوبی جانتا ہے کہ مسئلہ فلسطین کا حل خطہ میں فقط ایران چاہتاہے ۔یہی وجہ ہے کہ ٹرمپ واسطہ یا باالواسطہ طورپر ایران کو نشانہ بنارہاہے تاکہ ایران پر دھونس جماکر عرب ممالک کے دلوں پر خوف و دہشت کی برف جمادی جائے ۔
نفسیاتی مریض ٹرمپ کے اقتدار کی کرسی سبنھالتے ہی ایران کا جوہری میزائل کاتجربہ کرنا بھی معنی خیز ہے ۔ٹرمپ جس طرح مسلمانوں کے خلاف زہر اگل رہے تھے اور مسلمانوں کو دہشت گرد بتاکر امریکہ میں داخلہ پر پابندی عائد کردی تھی اس ہٹلری فرمان کا جواب خوش مزاجی کے ساتھ دینا دشمن کی طاقت کو تسلیم کرنے کے مترادف تھا ۔جبکہ ایران نے جوہری میزائل کے تجربہ کے بعد واضح طورپر کہاہے کہ اس نے اقوام متحدہ سکیورٹی کونسل کی قرارداد کی خلاف ورزی نہیں کی ۔ظاہر ہے سالہا سال اقتصادی پابندیوں کا عذاب جھیلنے کے بعد ایران خلاف مصلحت کوئی قدم نہیں اٹھائے گا ۔اس حقیقت سے امریکہ اور اسکی اتحادی طاقتیں بھی بخوبی واقف ہیں مگر دنیا کو غلط اندیشوں کی نذرکرنا اور پابندیوں کے نئے جواز تلاش کرنا ہی انکا مقصد ہے ۔اس وقت ایران خطہ کی بڑی طاقت ہے ۔دنیاایران کی دوراندیشی ،مصلحت کوشی اور ترقی کی رفتار کی قائل ہوچکی ہے ۔یہی وجہ ہے کہ صہیونی طاقتوں کو ایران پھوٹی آنکھ نہیں بھاتاہے اور طرح طرح کے پروپیگنڈے ایجاد کئے جاتے رہتے ہیں ۔ٹرمپ کا اقتدا ر میں آنا بھی صہیونی خفیہ ایجنڈے کا اہم حصہ ہے ۔دیکھنا یہ ہے کہ ٹرمپ کی ہیجان انگیزی اور ذہنی خلجان دنیا کو کس جہنم کی طرف لے جاتاہے ۔یہ دیکھنا بھی دلچسپ ہوگا کہ ایران ٹرمپ کی آمرانہ ذہنیت اور نفسیاتی مرض کا علاج کس طرح کرتاہے ۔کیونکہ اتحاد اسلامی کا نعرہ اور ایران کاجارح رویہ ہی ٹرمپ اور ٹرمپ سازوں کے مرض کا واحد علاج ہے۔

Leave Comments

آج کی بات

انسان حالات کی پیداوار نہیں،حالات انسان کی پیداوارہوتے ہیں۔
{کتاب۔کوئی کام نا ممکن نہیں۔سے اقتباس}