کافرکافرکاکھیل اور وسط ایشیاء کے اسلامی ممالک — زوھیب گل

جس وقت(1989ء) ھمارے مفتیان کرام سے امریکہ بہادرنے سویت یونین کے خلاف جہاد کافتوی صادرکروانے کاکام لیا اس وقت ان کو یہ پتہ بھی نہیں تھا کہ سویت یونین میں تو اتنے مسلمان ھیں کہ ان سے باقاعدہ کئی اسلامی ممالک وجود میں آ سکتے ھیں جیسے کہ ترکمانستان، ازبکستان، قازقستان، آ‌ذربائیجان، کرغیزستان اور تاجکستان ۔ان ممالک کی موجودہ آبادی کل ملا کر 66 ملین کے لگ بھگ ھے۔  ان کے علاوہ چچنیا اور داغستان بھی روسی مسلم اکثریتی علاقے ھیں۔ امریکہ اور اس کے سرمایہ دار ساتھیوں نے ایک کھیل تشکیل دیا۔ جس کے کھیلنے کے میدان پاکستان، افغانستان اورسویت یونین ھونگے۔ کھیل کھیلنے کے بعد کافرروس نے ھم پرایک حقیقت واضح کردی کہ جس کھیل کے  فتوی کا اطلاق مفتیان کرام نے سارے روس پر کیا ھے وہ غلط ھے۔ کیونکہ ھمارے کچھ کھلاڑی روس کے پاس کافی عرصے تک ھمارے فتووں کے نتیجے میں مسلمان ھونے کے باوجود کافر رھے۔

کھیل کا پس منظر اور اس کے ھمارے معاشرے پر اثرات:

کافر روس جس کی لادینی سے ھم ڈرتے تھے کہ وہ افغانستان سے آگے آنا چاھتا ھے اور دھریت کی تعلیم پھیلائیگا، ھمارے مساجد کو بند کریگا یا ان کو شراب خانوں میں تبدیل کردیگا۔ پاکستان میں روسیوں کی طرح دکھائی دینے والے لوگ پیدا ھوجائینگے اور جو لوگ روسیوں سے شکل میں مشابہت اختیار کرے وہ ھماری جنت میں کیسے ھمارے ساتھ رہ سکتے ھیں۔ ھم اسی پریشانی میں مبتلا تھے کہ امریکہ(تین خداوں کاماننےوالاملک) کو خواب آیا کہ پاکستان کے لوگ روس سے(جو چرچ کے جھوٹے خداوں کے انکاری ھیں) اسلام کو محفوظ کرنا چاھتے ھیں اس لئے ھم عیسائی جو کہ تین خداوں کے ماننے والے ھیں( ان مسلمانوں یعنی ایک خدا کے ماننے والوں) کی مدد پر مامور ھو چکے ھیں۔ امریکہ نے اپنے خواب کو عملی جامہء پہنایا اور ھمیں حوصلہ دیا کہ”دیکھو بھیا ھم اور آپ خدا کو ماننے والےلوگ ھیں وہ الگ بات ھے کہ ھم آپ کے خدا کو اکیلے نہیں مانتے جس کو آپ “قل ھواللہ احد” سمجھتے ھیں۔ بھرحال ھمارے تین خدا اور آپ کے ایک خدا وحدہ کی منشاء یہی ھے کہ کہ ان لادینی روسیوں سے(جوکہ ھمارے چرچ کے خداوں کے انکاری ھیں) ھم دونوں مل کر روس کے خلاف ایک کھیل کھیلیں۔ مفتیان کرام نے پوچھا کونسا کھیل؟ امریکہ بہادر نے کہا کافر کافرکاکھیل۔!

اب مفتیان پاکستان جواس کھیل سے پہلے ھی بخوبی واقف تھے کیونکہ وہ اس کھیل میں متحدہ ھندوستان کے وقت سے لے کر اسلامی پاکستان کے قیام تک اور پھر بعد میں بھی کافی مستعدی اور دلچسپی سے حصہ لیتے آرھے ھیں انہوں نے یہ کھیل کھیلنے کی حامی بھر لی ۔ باپ یا بڑے بھائی جیسا کردار ادا کرتے ھوئے امریکہ بہادر نے ھم کو یہ کھیل کھیلنے کے اوزار خرید کے دئیے۔ لیکن تین خداوں کے بڑے بھائی نے جب کھیل کا میدان تشکیل دیا تو بجائے خود اس کا عملی حصہ بننے  کے ایک خداکو ماننے والے بھائیوں کو میدان میں اتارا۔ ھم کافر کافر کا کھیل بڑے بھائی کی خوشنودی کےلئے بخوشی کھیلتے رھیں اور اس میں فتح بھی ھمیں نصیب ھورھی تھی لیکن فتح کے ثمرات ھمارا چالبازبھائی سمیٹتارھا۔اس کھیل میں سویت یونین کو روز بروز نت نئی مشکلات کا سامنا کرنا پڑا اور وہ اس لئے کہ سویت جیسا اشتراکی یا مشترکہ انسانی نظام زندگی رکھنے والا ملک اس کھیل کے نہ تو اصول بھول چکا تھا اور نہ ھی ان اصولوں کے مطابق کھیل کھیلنے والاتھا جو کھیلنے کے لئے تشکیل دیئے جاچکے تھے کیونکہ اس کھیل کا ایک اصول بہت خطرناک تھا اور وہ تھا”لوگوں کو دائرے سے باھر نکالنا”۔ خیر روس نےاپنے لئے یہ عار سمجھا کہ اتنی مضبوط طاقت ھونے کے باوجود میں کھیل کھیلنے سے کیسے انکار کرسکتاھوں۔ کھیل میں نشیب و‌فراز بہت آئے جن کی تاریخ سے ھم واقف ھیں۔ لیکن بالآخر جیت ان ھی لوگوں کی ھوتی ھے جو کھیلنے کے اصول سے واقف ھوں ۔ سویت یونین کو شکست کا سامنا کرناپڑا۔ سویت افواج افغانستان سے واپس ھوئی۔

 بعد میں سویت یونین نے کھیل کے اھم اصول جو کہ “دائرے سےباھر نکالنا” کا ھے اس پر تجربہ کرنا چاھا تو اس نے اپنے دائرےسے وسط ایشاء کے مذکورہ بالا ترکمانستان، تاجکستان وغیرہ ممالک کو باھر نکال دیا۔ اور ایسے وسط ایشیاء کے ممالک کافرکافر کھیلنے کے نتیجے میں سامنے آئے۔ اورسویت یونین کا وسیع دائرہ چھوٹے چھوٹے دائروں میں بکھر گیا۔

یہ دائرہ کیاھے؟

(26دسمبر،1991) تجربہ کرنے کے بعد روس اس نتیجے پر پہنچا کہ یہ دائرہ تو اپنامربوط ن‍ظام ھے یہ نام ھے امن اور سلامتی کا، انسان دوستی کا اور مشترکہ نظام حیات مقررکرنے کا۔ ایک دوسرے کے ساتھ انصاف کے ساتھ پیش آنے کا۔ تمام انسانوں کی وحدت کا نام ھے یہ دائرہ ۔ روس سمجھ گیا کہ امریکہ بہادر بمعہ چند مسلمان ممالک خصوصا پاکستان کے سویت یونین کو دائرہ انسانیت سے نکالنا چاھتاھے  لہذا روس نے اس کافرکافےکے کھیل پر اپنے ملک میں پابندی لگادی۔  لیکن ھمیں تو یہ کھیل اپنے بڑے بھائی نے کھیلنے کو دیا تھا اس لئے ھم بحیثیت قوم ابھی تک اس میں مشغول ھیں۔ بڑے بھائی کو تماشا چاھیئے اور ھمارا اس کھیل کے علاوہ دوسرا کوئی مشغلہ نہیں اس لئے ھمارے علاوہ ھمیں اس کھیل کے میدان میں اپنا ثانی نظر نہیں آرھا۔ لیکن دنیا کا الگ دائرہ ھے اور وہ ھمیں اپنےدائرے سے باھر والی قوموں میں سے سمجھتی ھے جس کی نہ تو اپنی کوئی پہچان ھے، نہ کوئی نظام ھے اور نہ ھی کوئی متعین تہذیب ھے سوائے قومی” کھیل کافرکافر” کے۔اور اگر یہ کھیل ھم ایسے ھی کھیلتے رھے تو اگر سویت جیسی طاقت دائروں میں بٹ سکتی ھے تو ھم کیا۔۔۔۔؟

You may also like this

31 July 2017

روسی جیل کی کہانی نہرو کی زبانی ۔۔۔ ھدایت اللہ سندھی۔

<div dir="auto" style="text-align: justify;"><span style="font-size: 20px;">ہمیں نے ایک روسی ج

admin

Leave Comments

آج کی بات

انسان حالات کی پیداوار نہیں،حالات انسان کی پیداوارہوتے ہیں۔
{کتاب۔کوئی کام نا ممکن نہیں۔سے اقتباس}