مستحکم کامیابی کیسے حاصل کریں — قاسم علی شاہ


سوال: کامیابی کیسے حاصل کی جا سکتی ہے۔ اس پر تو بہت گفتگو کی جا چکی ہے لیکن ہمارا آج کا موضوع مستحکم کامیابی یا ایک بڑی کامیابی کے بعد اس کو کیسے برقرار رکھا جائے اس پر ہے۔ جس کا مطلب یہ ہے کہ لوگ جب ایک کامیابی حاصل کر لیتے ہیں تو اس پر قدم جما لینا۔ دوسرے لفظوں میں کچھ لوگ ایسے ہوتے ہیں جو نہ صرف ایک کامیابی کو حاصل کرتے ہیں بلکہ اس کو اپنی آئندہ آنے والی زندگی میں انجوائے بھی کرتے ہیں۔ دیکھنے میں آیا ہے کہ جتنی تیزی سے لوگ اوپرجاتے ہیں یعنی ترقی کرتے ہیں اتنی تیزی سے وہ نیچے کی طرف بھی آتے ہیں تو یہ نیچے آنے والے پراسیس کو کیسے روکا جا سکتا ہے؟


جواب: یہ ہماری زندگی کا بہت سنجیدہ موضوع ہے کیونکہ ہم زمانہ طالب علمی سے دیکھتے آئے ہیں کہ ہمارے درمیان ٹاپ کرنے والے طالب علم بھی موجود ہوتے ہیں جو بعد میں عملی زندگی میں خاطر خواہ نتائج نہیں دے سکتے۔ یا پھر ہم اپنے اردگرد بہت سے ایسی کامیاب مصنوعات دیکھتے ہیں جن کا ہمیں پتہ لگتا ہے کہ انہوں نے دنوں میں بہت مقبولیت حاصل کر لی ہے اور ایک یا دو سالوں میں پتہ لگتا ہے کہ وہ مصنوعات یا برانڈ بیٹھ گئے ہیں۔ ایسے برانڈ جو کامیابی حاصل کرنے کے بعد واپسی پر اپنی پہلی سطح سے بھی نیچے گر جاتے ہیں بلکہ ان کا نام زیادہ بدنام ہو جاتا ہے۔

میرے خیال میں کامیابی کو قائم رکھنا ، کامیابی حاصل کرنے سے مشکل کام ہے۔ کامیابی حاصل کرنے میں آپ کی خوش قسمتی ایک فیکڑ ہے یا پھر آپ محنت کر کے کسی نتیجہ پر پہنچ جاتے ہیں یا یوں ہوتا ہے کہ کئی نسلوں کی محنت آپ کے صلہ میں آگئی اور ایک ایسی نسل آئی جس نے کامیابی سے ہمکنار کیا۔ لیکن اس سے زیادہ مشکل کام اس کامیابی کو برقرار رکھنا ، اس کو مستحکم کرنا  ہے۔ یہ بہت ہی مشہور مثال ہے کہ پہاڑ پر چڑھنا سب لوگ چاہتے ہیں اور کچھ لوگ چڑھ بھی جاتے ہیں لیکن پہاڑ پر موجود تیز ہوائیں ہوتی ہیں ان کا مقابلہ ہر کوئی نہیں کر سکتا۔

کامیابی کی تعریف ہر بندے کے لئے مختلف ہوتی ہے لیکن ہم آج یہاں بات کر رہے ہیں ناموری کی ، شہرت کی اور معاشی ترقی کی۔ آپ نے سوچا کہ میری فیکٹری چل جائے گی اور وہ چل گئی۔ آپ نے سوچا تھا کہ یہ برانڈ لانچ کریں گے اور وہ چل گیا۔ آپ نے سوچا تھا کہ مجھے دنیا جانے گی اور دنیا جاننے لگ گئی۔اب جو آپ نے سوچا اور اس کو حاصل کر لینے کے بعد نوعیت یہ آتی ہے کہ اس کامیابی کو مستحکم کیسے رکھا جائے ؟ کامیابی مستحکم نہ ہونے کی بہت سی وجوہات ہیں اور میری آر اینڈ ڈی کے مطابق بہت سارے فیکٹرہیں جو کامیابی پراثر انداز ہوتے ہیں۔

انگلینڈ میں کچھ افراد کے اوپر ریسرچ کی گئی۔ یہ ایسے لوگ تھے جن کی بڑی بڑی لاٹریاں نکل آئیں تھیں۔ لاٹریوں کے نکلنے کے دو سال بعد ان لوگوں سے دوبارہ رابطہ کیا گیا تو ان میں سے نوے فیصد لوگ اپنی پہلی حالت پر تھے۔ وجہ یہ تھی کہ جب ان کی لاٹریاں نکل آئیں اور ان کے پاس بلین آف ڈالرز آ گئے تو وہ اس حالت کو سنبھال نہ سکے۔

گاڑی آپ جتنی مرضی مہنگی لے لیں ، اس کا انحصار اس بات پر ہے کہ آپ کو گاڑی چلانی آتی ہے یا نہیں۔ آپ گاڑی کو جتنا تہذیب سے چلائیں گے اتنا ہی وہ دیرپا اور زیادہ دیر تک آپ کے پاس رہے گی۔ بالکل عین اسی طرح کامیابی کی گاڑی بھی آپ کو مل جاتی ہے لیکن چونکہ آپ کو وہ گاڑی چلانی نہیں آتی اس لئے وہ مستقل نہیں رہتی۔ جب وہ کامیابی واپس لوٹتی ہے تو آپ ڈیپریشن کا شکار ہو جاتے ہیں کہ نہ جانے کس کی نظر لگ گئی ، یا کون سی ایسی بندش آ گئی کہ جس کی وجہ سے یہ کامیابی واپس چلی گئی۔


سوال: ہمارے مشاہدے میں بہت سے ایسے لوگ آتے ہیں جو بہت ٹاپ پر جا کر واپس آتے ہیں اور پھر وہم و گمان کا شکار ہو جاتے ہیں۔ کسی کو یہ لگتا ہے کہ اس کو نظر لگ گئی ہے اور کسی کو یہ لگتا ہے کہ میرے اوپر کالا جادو ہو گیا اور اسی قسم کے اور خیالات اُن کو آتے ہیں۔ لیکن اصل بات یہ ہوتی ہے کہ ان لوگوں کو اس کامیابی کو مستحکم کرنا نہیں آیا۔ جیسے طالب علموں کے معاملے میں ہوتا ہے کہ اگر کسی بچہ نے کلاس میں فرسٹ پوزیشن لی ہے تو وہ یہ سمجھتا ہے کہ وہ اب ہمیشہ ہی فرسٹ آئے گا اور وہ محنت کرنا چھوڑ دیتا ہے اور اس کے نتیجہ میں وہ دوبارہ فرسٹ نہیں آ سکتا؟


جواب:ہم لوگ کاذ اینڈ ایفکٹ پر کام نہیں کرتے ۔ دوسری بات یہ ہے کہ ہم محنت سے بناتے ہیں لیکن کردار سےقائم نہیں رکھتے۔ کامیابی ایک طرح کی آزادی ہوتی ہے اور آزادی کو سنبھالنا زیادہ مشکل کام ہوتا ہے۔ تیسری بات یہ ہے کہ ہم دکھاوے کی باتوں پر زیادہ چلتے ہیِں اور اپنی بنیادی اقدار کو پس پشت ڈال دیتے ہیں۔ ان چیزوں کے بغیر ملنے والی کامیابی ایک سطحی کامیابی ہوتی ہے اور اس کے اندر گہرائی موجود نہیں ہوتی یا اس کی جڑیں گہری نہیں ہوتیں۔


سوال: جب ایک انسان اپنی لائف میں اس پوائنٹ پرنہیں پہنچا ہوتا جہاں اس نے پہنچنا ہے تو اس کے اندر جدوجہد موجود ہوتی ہے اور اس جدوجہد کے نتیجے میں وہ زیادہ خوش ہوتا ہے اور زیادہ آرام دہ محسوس کرتا ہے۔ اس کے  بنسبت وہ شخص جو کامیابی کے ایک نکتے پر پہنچ جاتا ہے وہ بہت اذ یت کا شکار ہو جاتا ہے۔ ہالی وڈ میں ایک فلم بنی جس کا نام ہوم الون تھا اور اس میں ایک بچے نے کام کیا تھا وہ بچہ بہت چھوٹی عمر میں بلین آف ڈالرز کا مالک بن گیا۔ اس بچے کے بارے میں ہم سوچ رہے تھے کہ وہ بڑا ہو کر زیادہ بڑا ایکٹر بنے گا لیکن ہوا کچھ یوں کہ وہ بچہ منشیات کا شکار ہو گیا اور اس نے اپنا کیریر بالکل ختم کر دیا۔ اس پراسیس میں سمجھنے کی بات یہ ہے کہ وہ اس کامیابی کو ہینڈل نہیں کر سکا۔ اس پر کچھ گفتگو فرما دیں؟


جواب:ہمارے اردگرد موجود بہت سے لوگ یہ جانتے ہی نہیں کہ کامیابی ایک مقام نہیں ہے جہاں پہنچ کر رک جانا ہے۔ کامیابی ایک سفر کانام ہے اور یہ کسی منزل کا نام نہیں ہے۔ یہ ایک کے بعد دوسری اگلی منزل کی طرف سفر کرنے کا نام ہے۔ ہوتا کچھ یوں ہے کہ جو مزہ جدوجہد  میں آ تا ہے وہ کامیابی حاصل کرنے کے بعد نہیں رہتا۔ جدوجہد کے پراسیس میں آپ گرتے ہیں ، آپ کو ٹھوکر لگتی ہے ، آپ کا نقصان ہوتا ہے اور اس سے آپ سیکھتے ہیں اور پھر اٹھ کر چل پڑتے ہیں کیونکہ آپ نے منزل کا تعین کیا ہوا ہوتا ہے اور اسے پانے کی جستجو آپ کے اندر موجود ہوتی ہے۔ آپ تنقید کو برداشت کر رہے ہوتے ہیں اور پھر بھی چل رہے ہوتے ہیں۔ آپ کے سامنے رکاوٹیں آ رہی ہوتی ہیں لیکن ان رکاوٹوں کو عبور کرنے میں جو مزہ ہوتا ہے وہ آپ کی زندگی کو خوبصورت بنا رہا ہوتا ہے۔ اصل ہیرو وہ نہیں ہوتا جو کامیاب ہو جائے بلکہ اصل ہیرو وہ ہوتا ہے جو ناکام ہوتا ہے کیونکہ اصل میں وہ جانتا ہے کہ کامنیابی کی قیمت کیا ہے؟جھپٹنا ، پلٹنا اور پلٹ کر چھپٹنا اس شعر میں اقبال نے اسی طرف توجہ دلائی ہے کہ آپ نے ایک مقام پر پہنچنا ہے اور درمیان میں دنیا آئی ہوئی ہے اور آپ کامیاب ہونا چاہتے ہیں تو اس سارے پراسیس میں آپ کی زندگی بہت خوبصورت ہوتی ہے بہت سے چیلینجز ہوتے ہیں جن کو ہر روز نئے آنے والے دن میں آپ نے فیس کرنا ہوتا ہے۔ جب یہ چیلنج ختم ہو جاتے ہیں تو آپ کی زندگی بے مزہ کیفیت میں داخل ہو جاتی ہے۔

اقبال کا ایک شعر اس موقع پر عرض کرتا چلوں 

ہر ایک مقام سے آگے ہے مقام تیرا

حیات ذوق سفر کے سوا کچھ بھی نہیں

زندگی اصل میں ایک سفر کانام ہے اور سفر نہ ختم ہونے والا ہے۔ ٹارگٹ کو حاصل کر لینے کے بعد اگلے ٹارگٹ بنانے پڑتے ہیں اور اس پر جدوجہد شروع کرنی پڑتی ہے۔ ایپل بنانے والی کمپنی نے ایپل ایجاد کر لینے کے بعد بھی ایجادات کا ایک سلسلہ جاری رکھا کیونکہ وہ جانتے تھے کہ کامیابی حتمی چیز نہیں ہے یہ ایک سفر کانام ہے۔

دنیامیں بہت سے ایسے فاتحین تھے جنہوں نے ایک ملک فتح کیا اور اس کے بعد دوسرا ملک فتح کیا حتی کہ انہوں نے ساری دنیا کو فتح کر لیا۔ ایسا کیوں تھا کہ انہوں نے ملک کے اوپر ملک کو فتح کیا اس کی وجہ یہ تھی کہ ملک فتح کر لینے کے بعد ان کو اپنی زندگی کا اگلا ہدف درکار ہوتا تھا۔ جب تک آپ کی زندگی میں مقصد موجود رہتا ہے تو آپ کی زندگی بہت ہی رنگین اور خوبصورت ہوتی ہے اور ہماری زندگی میں کامیابی اور ناکامی دونوں کے رنگ موجود رہتے ہیں۔

جتنا مزہ روز صبح اٹھ کر تیار ہونے اور ڈسپلن کے ساتھ زندگی گزارنے میں ہے اتنا مزہ بیٹھ کر زندگی گزارنے میں نہیں ہے۔


سوال: ہمارے اردگرد بہت سے ایسے لوگ ہیں جن کی زندگی بہت ڈسپلن کے ساتھ گزری ہوئی ہوتی ہے لیکن جب وہ ریٹائر ہو جاتے ہیں تو وہ ڈپیریشن کا شکار ہو جاتے ہیں اور ان کا کہنا ہوتا ہے کہ اب ان کے پاس کرنے کو کوئی کام نہیں ہے وہ اپنی زندگی گزار چکے ہیں۔ لیکن کچھ لوگ ایسے ہوتے ہیں جو ریٹائرمنٹ کے بعد اپنی زندگی کا ایک نیا سفر شروع کر دیتے ہیں ۔ میرے والد صاحب نے اپنی ریٹائرمنٹ کے بعد فارمنگ شروع کر دی اور ان کا کہنا تھا کہ مجھے زندگی میں پہلے اس کام کا وقت نہیں ملا لہذا میں نے اب یہ کام شروع کر دیا ہے۔ اب وہ جب تک زندہ رہیں گے اپنی زندگی پوری توانائی کے ساتھ گزاریں گے؟


جواب:جدوجہد، مشقت، خواب ، خواہش یہ تمام چیزیں اگر زندگی میں موجود ہیں تو اس کو ایک زندگی کہا جاتا ہے۔ اگر یہ چیزیں ختم ہو جائیں تو انسان ختم ہونا شروع ہو جاتا ہے۔ یورپ میں ایک ریسرچ کی گئی کہ وہ کون سے لوگ ایسے ہیں جن کی عمریں زیادہ ہوتی ہیں یا وہ زیادہ زندگی گزارتے ہیں؟ ویسے تو ہمارا یقین ہے کہ اللہ تعالی نے ہماری زندگی کا ایک وقت متعین کیا ہوا ہے اور جب وہ وقت ختم ہو جاتا ہے تو ہماری زندگی ختم ہو جاتی ہے۔ اس ریسرچ کے مطابق مندرجہ ذیل فیکٹرز ایسے ہیں جن کہ وجہ سے ان لوگوں کی عمریں زیادہ لمبی ہوتی ہیں:

پہلا فیکٹر یہ ہے کہ کچھ لوگ جنیاتی طور پر زیادہ عمر کے ہوتے ہیں۔ ان لوگوں کے جینز ایسے ہوتے ہیں کہ ان کی عمریں لمبی ہوتی ہیں۔ ہمیں زندگی میں کئی لوگ ملتے ہیں جو عمر میں بہت کم لگ رہے ہوتے ہیں لیکن اصل میں ان کی عمر زیادہ ہوتی ہے۔ یورپ میں میری ملاقات ایک شخص سے ہوئی ، جب میں نے ان سے عمر پوچھی تو انہوں نے کہا کہ آپ بتائیں میں نے کہا جی آپ کی عمر پنتالیس سال کے لگ بھگ لگ رہی ہے۔ جب انہوں نے بتایا کہ ان کی عمر اکتہر سال ہے تو میں بہت حیران ہوا کیونکہ وہ بندہ بہت جوان لگ رہا تھا۔

دوسرا فیکٹر آپ کی زندگی میں خوشی کی مقدار ہے۔ آپ جتنا خوش رہتے ہیں اتنی ہی آپ کی زندگی زیادہ ہوتی ہے۔ جب آپ خوش ہوتے ہیں تو آپ کے جسم کا ہر ایک سیل تروتازہ رہتا ہے اور زندہ رہتا ہے اور اگر آپ خوش نہیں ہیں تو آپ کے جسم کا ہر سیل مرجھا جاتا ہے۔

تیسرا فیکٹر جو آپ کی زندگی کو بڑھاتا ہے وہ آپ کی زندگی میں موجود جدوجہد کی مقدار ہے۔ جتنا آپ کی زندگی کے مقاصد بڑے ہوں گے اتنی ہی آپ کے اندر جدوجہد کی مقدار زیادہ ہوگی۔ جب آپ کی زندگی میں خواب ، خواہش یا جدوجہد رہتی ہے تو آپ اس میں مگن رہتے ہیں۔

چوتھی چیز جو آپ کی زندگی کو بڑھاتی ہے وہ آپ کی ورزش یا زندگی کا طریقہ سلیقہ ہے۔ اگر آپ نے اپنی خوراک ،ذہنی اور جسمانی صحت کا خیال رکھا ہے تو آپ کی زندگی لمبی ہوتی ہے۔

آ خری اور سب سے اہم چیز ہے زندگی میں سیکھنے کی مقدار۔ جتنا آپ کے اندر لرننگ کی مقدار زیادہ ہوگی اتنا ہی آپ زیادہ دیرپا ہوتے ہیں۔ اگر آپ کی زندگی میں کوئی ایسی چیز ہے جو آپ نے سیکھنی ہے تو آپ کی عمر لمبی ہوگی ۔ پچھلے دنوں میری ایک صاحب سے ملاقات ہوئی ان کے پاس روپیہ پیسہ اور زندگی کی تمام آسائشیں موجود تھیں لیکن وہ جدوجہد سے دور ہونا چاہتے تھے اور کہتے تھے کہ میرے پاس اس جدوجہد کرنے کا کوئی مقصد باقی نہیں رہا میں نے وہ سب کچھ حاصل کر لیا جو میں کرنا چاہتا تھا لہذا میں اس جدوجہد کو ختم کرناچاہتا ہوں۔

میں نے ان سے پوچھا کہ کتنے لوگ ہیں جو آپ کے لئے کام کر رہے ہیں یا آپ کے ملازم ہیں تو انہوں نے بتایا کہ چارسودس ملازم ہیں ان کے۔ میں نے ان سے کہا کہ اب وہ اپنے چار سو دس ملازموں کے لئے کام کریں ۔ جب آپ یہ سوچتے ہیں کہ میں صرف اور صرف اپنے لئے کام کر رہا ہوں تو آپ کی زندگی کا مقصد بہت محدود ہو جاتا ہے۔ اس مقصد کو حاصل کر لینے کے بعد آپ کے اندر سے جدوجہد کا عنصر ختم ہو جاتا ہے اور آپ کی زندگی بے رنگ اور بے معنی سی ہو جاتی ہے لیکن اگر آپ یہ سوچیں کہ جتنے لوگ آپ کے ساتھ جڑے ہوئے ہیں اور آپ نے ان کے لئے کام کرنا ہے تو آپ کی زندگی کا مقصد بڑھ جاتا ہے اور آپ کو یہ زندگی بہت کم معلوم ہوتی ہے۔

میری اپنے اللہ تعالی سے ہمیشہ یہی دعا رہتی ہے کہ اے میرے مالک میری زندگی کام کرتے کرتے ختم ہو جائے۔ بستر والی موت کی مجھے آرزو نہیں ہے اور یہ بہت تکلیف دہ ہے۔ کامیابی ایک ایسا گھوڑا ہے جس پر اگر ایک دفعہ سوار ہو جائیں تو پھر اس سے اترا نہیں جا سکتا۔ یا تو آپ کامیابی کا انتخاب کریں ہی نہیں لیکن اگر کریں تو اس پر ڈٹے رہیں۔

ہم لوگ بہت سوشل لوگ ہیں اور ہمارا ملنا ملانا بہت سے لوگوں سے ہوتا ہے۔ ہمارے گھر والے ہماری میٹنگز ، ہمارے معاملات ، ہماری ٹریننگ سے بہت تنگ آ چکے ہوتے ہیں۔ لیکن چونکہ ہم نے کامیابی کا انتخاب کر لیا ہے تو اس میں قدم واپس نہیں ہو سکتا۔ یہ اسی طرح ہے کہ اگر آپ نے پیچھے مڑ کر دیکھا تو آپ پتھر کے ہو جائیں گے۔

یا تو آپ گمنامی میں ایک عام آدمی کی طرح زندگی گزاریں۔ لیکن اگر آپ ایک برانڈ والی زندگی گزارنا چاہتے ہیں تو آپ کو ایک برانڈ کی طرح عمل کرنا پڑے گا۔ پہلی بات تو یہ ہے کہ یہ زمانہ آپ کو جگہ نہیں بنانے دے گا اور اگر آپ کی جگہ بن گئی ہے تو خدارا اس کی قدر کیجیے۔آخری نکتہ اس گفتگو میں اہم ہے اور وہ یہ ہے کہ جو شخص بے قدر ہوتا ہے وہ بھی کامیابی کو سمیٹ نہیں سکتا یعنی ہمیں ہماری کامیابی کی قدر بھی کرنی چاہیے ۔ ہمارا شکر ادا کرنا ہماری کامیابی کو تحفظ دیتا ہے اور شکر کا پراسیس بھی اس تناظر میں بہت اہمیت کا حامل ہے۔ شکر کرنے کی عادت اپنائیے۔


 سوال :ایک انسان ہونے کی حیثیت سے ہمیں بہت سی ایسی بیماریوں سے واسطہ پڑتا ہے جس میں ہمیں اپنی زندگی گزارنے کا طریقہ کار بدلنا پڑتا ہے۔مثال کے طور شوگر ایک ایسی بیماری ہے جس میں ہمیں اپنی بنیادی زندگی میں ترامیم کرنی پڑتی ہیں۔ ڈاکٹر شوگر کے مریض کو یہ تجویز دیتا ہے کہ جب تک آپ نے زندہ رہنا ہے آپ کو زندگی اسی طرح گزارنی پڑے گی۔ یہ سن کر بہت سے لوگ گھبرا جاتے ہیں ۔دراصل شوگر کا علاج ایک ایکٹو لائف سٹائل میں ہے اور جب لوگوں کو یہ معلوم ہوتا ہے کہ انہیں روزانہ کی بنیاد پر اس عمل سے گزرنا پڑے گا تو وہ پریشان ہو جاتے ہیں؟


جواب:ہمیں کامیابی حاص کرنے کے لئے کمفرٹ زون سے باہرنکلنا پڑتا ہے ۔اگر ہم اپنے پروفیشنل کیریر کو دیکھیں اور ہمارے سننے والے اور دیکھنے والے جانتے ہیں کہ ہمارے ماضی میں کئی دن ایسے تھے جب ہمارا کام کرنے کو دل نہیں کر رہا تھا لیکن ہم پھر بھی کر رہے تھے۔ بہت سے دن ایسے تھے جب ہمارے گھر میں ایسا ضروری کام ہوتا تھا کہ ہمارا باہر نکلنا بنتا ہی نہیں تھا لیکن ہم پھر بھی نکلتے تھے ۔ مجھے اچھی طرح یاد ہے کہ اپنی شادی کے فورا بعد میں ایک کلاس پڑھانے پہنچ گیا تھا تو میرے طالب علم بہت حیران ہوئے کہ سر آج دولہا بنے ہوئے ہیں اور آج کلاس پڑھا رہے ہیں۔ پڑھانے کا اتنا کریز اور ابنارمل چیز تھی لیکن اللہ تعالی کسی کی محنت کو ضائع نہیں کرتا۔ بہت سی محنت ایسی ہوتی ہے جو آپ کو بعد میں پے بیک کرتی ہے۔

کمفرٹ زون سے نکلنے والا شخص اس چیز کی قیمت ادا کرتا ہے کہ وہ اس لگے بندھے نظام کو توڑ کر اس سے آگے بڑھتا ہے اور زیادہ کامیاب ہوتا ہے بہ نسبت ان لوگوں کے جو لگے بندھے نظام کے ساتھ جڑے رہتے ہیں۔


سوال: اگر ہم یہ مشاہدہ کریں تو ہمارے سامنے یہ بات آتی ہے کہ آپ کسی کمپنی کے سی ای او تھے اور وہ کمپنی ختم ہو گئی اور وہ سارا نظام ختم ہو گیا اور وہ عہدہ بھی ختم ہو گیا اور سو سے صفر پر آ گئے۔ زیرو کے لیول پر جو وقت گزارا وہ بہت تکلیف دہ تھا وہ بہت سخت ڈیپریشن میں گزارا کہ دنیا اس کی باتوں پر یقین نہیں کر رہی ہوتی اور اس کی سچائی پر بھی یقین نہیں آ رہا ہوتا۔ اگر وہ یہ کہہ رہا ہوتا ہے کہ اب میرے پاس کچھ نہیں ہے لیکن لوگ اس کو اس کے پچھلے عہدے کے مطابق دیکھ رہے ہوتے ہیں اور کہہ رہے ہوتے ہیں کہ یہ جھوٹ بول رہا ہے۔ یہ بتائیں کہ زیرو لیول پر جہدوجہد کیسے کرنا ہے اور واپس اس مقام پر کیسے آنا ہے ؟


جواب :اس تناظر میں میں دو باتیں کروں گا کہ ایک تو یہ کہ اچانک کوئی شخص صفر پر نہیں آتا۔ میں اس چیز کو نہیں مانتا کیونکہ ہر پراسیس کے پیچھے کچھ فیکٹرز ضرور ہوتے ہیں۔ لیکن اگر ہم یہ مان بھی لیں کہ قسمت ہی ایسی تھی کہ ہم صفر پر آگئے۔ تو ایسی صورت میں میرا یہ ماننا ہے کہ ایسے بندے کو قدرت ضرور متبادل دیتی ہے۔ قدرت کا یہ قانون ہے کہ دیوار گرتے گرتے گرتی ہے، چھت ٹوٹتے ، ٹوٹتے ٹوٹتی ہے۔ ناکامیاں آنی ہوتی ہیں لیکن ہم اس کی طرف دھیان نہیں دے رہے ہوتے۔ اگر آپ کے کمرے میں گرد آ رہی ہے اور آپ نے وہ کھڑکی بند نہیں کی جہاں سے گرد آ رہی ہے تو یہ قصور آپ کا ہی ہے۔

دوسری بات یہ ہے کہ کامیاب کہانی کی تعریف یہ ہے کہ آپ گرے اور پھر آپ اٹھ گئے۔ اگر آپ کوئی مووی دیکھیں تو اس میں پورے تین گھنٹے یہ ثابت کیا جاتا ہے کہ ایک ہیرو ، ایک ہیروئین اور ایک ولن ہے۔ ہیرو کے کردار میں ہمیں شروع سے آخری لمحے تک ناکامیاں لیکن مسلسل جدوجہد نظر آ رہی ہوتی ہے۔ اس کے برعکس ولن ہر ناجائز راستے کو اختیار کیے رکھتا ہے اور ہیرو کے قریب جدوجہد کا راستہ وہ ہوتا ہے جو جائز ہوتا ہے۔ ہیرو اپنی اقدار پر کام کرتے ہوئے کامیابی سے ہمکنار ہو جاتا ہے۔

یہ یاد رکھیں کہ صفر سے دوبارہ اٹھنے والاشخص بہت زیادہ بہادر ہوتا ہے۔ ایسے شخص کے پاس درد ہوتا ہے ، اس کا دل ٹوٹا ہوا ہوتا ہے۔ ہارنے کے بعد وہ بندہ سوچتا ہے کہ جو کچھ ہونا تھا وہ ہو گیا۔ وہ دوبارہ کھیلتا اور اس کے لئے وہ دوبارہ میدان میں اترتا ہےکہ جو کچھ بھی بن پڑا وہ ضرور کرے گا۔

اللہ تعالی ، کائنات ، قدرت کا نظام سب سے پہلے آپ کو احساس کی زبان کے ذریعے آپ کی غلطی کو محسوس کرواتا ہے۔ جب ہمیں کوئی اچھا لگنے لگتا ہے تو ہمیں پہلے ہی سے محسوس ہو جاتا ہے۔ اگر کوئی بندہ آپ کے پاس جگہ بنانا شروع کر دے تو آپ کو خوف محسوس ہونے لگتا ہے۔ بالکل عین اسی طرح ہمیں اپنی زندگی کے آنے والے واقعات بھی محسوس ہونے لگتے ہیں۔ 

دوسرے نمبر پر یہ کہ قدرت آپ کو سبق سکھا رہی ہوتی ہے۔ آپ جس رفتار سے جا رہے ہوتے ہیں وہ آپ کے موافق نہیں ہوتی۔ میں نے بڑے لوگوں کو گر کر اٹھتے ہوئے دیکھا ہے جو پہلے سے زیادہ کامیابی حاصل کر لیتے ہیں اور اس کے بعد انہیں پتہ لگتا ہے کہ جو ہم نے سیکھا ہے اس کو سیکھے بغیر ہم یہ کامیابی سنبھال نہیں سکتے تھے۔ایسے لوگ قدرت کے بہت شکر گزار ہوتے ہیں کہ قدرت نے ایک چھوٹا سا زخم دے کر اتنا بڑا سبق سکھا دیا۔ میرے مطابق گرنے والے کے لئے یہ لازم ہے کہ وہ دوبارہ اٹھے اور چل پڑے ۔

یہ کہا جاتا ہے کہ ڈوبنے والا ڈوب جاتا ہے لیکن کوشش کرنے والا جلدی ڈوبتا نہیں ہے بہ نسبت اس شخص کے جو کوشش کرتا ہی نہیں ہے۔ کوشش کرنے والے کو ہی سہارا ملتا ہے ۔ کبھی ایسے شخص کو سہارا نہیں ملتا جو کوشش نہیں کرتا۔ ڈوبنے والے کے آخر میں اس کا ہاتھ اوپر رہ جاتا ہے کہ شاید اس مرحلے پر بھی کوئی میرا ہاتھ پکڑ لے۔آپ کو یہ خبر نہیں ہوتی کہ نیچر یا قدرت آپ کے کس عمل کو قبول کر لے۔ انگریز بہت کامیاب بات کرتا ہے:

Winner Never Quite, Quiter Never Wins

بھاگنے والے جیتتے نہیں اور جتنے والے بھاگتے نہیں ہیں۔

جب آپ ہار رہے ہوتے ہیں تو آپ کی وہ روحانی طاقت کام کرنا شروع کر دیتی ہے جس نے کبھی کام نہیں کیا ہوا ہوتا۔ ایسی صورت میں انسان کے اندر اتنی انرجی پیدا ہو جاتی ہے کہ وہ کہتا ہے کہ ابھی نہیں تو کبھی نہیں اور وہ میدان میں اترجاتا ہے۔ سائنس نے بھی اس عمل کو ثآبت کیا ہے کہ انسان کے اندر ایسے خلیے ہوتے ہیں اور ان کی طاقت ایسی ہوتی ہے کہ جب انسان کا اخری وقت ہوتا ہے تو وہ اس وقت پر کام کرنا شروع کرتے ہیں۔

امریکہ میں ایک ریسرچ ہوئی جس میں اس بات پر ریسرچ کی گئی کہ مرنے سے پہلے فرشتہ نظر آنا شروع ہو جاتا ہے۔ ماضی میں آپ کو ایسے بہت سے لکھاری ملیں گے جن لوگوں کو آگے آنے والا وقت دکھائی دے رہا ہوتا ہے۔ انسانی دماغ میں کچھ خلیے ایسے ہوتے ہیں جو بہت شدید پریشانی اور دباو کے وقت میں حرکت میں آتے ہیں۔ جب آپ کو پتہ لگتا ہے کہ آپ مرنے لگے ہیں تو آ پ کے دماغ کے کچھ خلیے بند ہو جاتے ہیں لیکن کچھ خیلے حرکت میں بھی آ جاتے ہیں اور ایسا عمل میٹا فزکس میں ثابت کیا گیا ہے۔

ایسے لوگ جو زندگی میں بہت سی تکلیفیں برداشت کرتے ہیں اور ان کی زندگی بہت ہی تلخ گزری ہوتی ہے۔ ایسے لوگوں کی زندگی دو حصوں میں بٹ جاتی ہے ایک حصہ پہلے والا ہوتا ہےا ور دوسرا حصہ بعد والا ہوتا ہے۔ پہلے والا حصہ بہت تلخ ہوتا ہے اور دوسرا حصہ بہت آرام دہ ہوتا ہے۔ پہلے حصہ کی تلخی اس کو سونے سے کندن میں تبدیل کر دیتی ہے اور دوسرے حصہ میں اس کی آواز میں کشش پیدا ہو جاتی ہے۔ اس کے اردگرد ایسا مقناطیسی فیلڈ پیدا ہو جاتا کہ اس سے شعاعیں خارج ہونا شروع ہو جاتی ہیں۔ وہ مٹی کو بھی ہاتھ ڈالے تو سونا بن جاتا ہے اور چیزیں اس کی طرف متوجہ ہونا شروع ہو جاتی ہیں۔ اس کی خواہشیں حقیقت کا روپ دھارنا شروع ہو جاتی ہیں۔ اس پراسیس میں اصل میں ہوا یہ کہ وہ ایسی بھٹی میں سے گزرا کہ وہ پہلے جیسا نہ رہا۔


سوال:ہماری زندگی کا پہلا درجہ ہمارے ماں باپ اور ماحول سے جڑا ہوا ہوتا ہے۔ اس سے اگلے درجے میں ہماری شادی ہوتی ہے ، ہمارے بچے ہوتے ہیں اورا س کے بعد بچوں کی تربیت کا سلسلہ شروع ہوتاہے۔ بچوں کی تربیت کے بعد ان کی شادیوں کا سلسلہ شروع ہو جاتا ہے اور ہم یہ سوچتے ہیں کہ بچوں کی شادیوں کے بعد ہماری زندگی میں بہت شکون آ جائے گا۔ لیکن ہوتا یوں ہے کہ بچوں کی شادیوں کے بعد ایسے نئے مسائل پیدا ہونے شروع ہو جاتے ہیں جن کا واسطہ آپ سے پہلے پڑا ہی نہیں ہوتا ، تو زندگی میں سکون والی بات کہاں ہے؟


جواب:زندگی کا اپنا ایک فلسفہ ہے یہ آپ کو راہ فرار اختیار نہیں کرنے دیتی۔ اگر آپ فرار کی راہ اختیار کرتے ہیں تو زندگی واپس آ کر آپ کو ٹریک پر لے آتی ہے اور کہتی ہے کہ یہاں سے بھاگنا ممکن نہیں ہے۔ باکسنگ کے رنگ میں آپ کو مار پڑ رہی ہوتی ہے لیکن آپ رنگ سے باہر نہیں نکل سکتے اور نہ ہی نکلنے دیا جاتا ہے۔ آخری سانس تک آپ کو چیلنج اور مسائل کا سامنا کرنا پڑتا ہے اس سارے عمل سے فرار نہیں ہوا جا سکتا۔

کبھی آپ کی یہ خواہش ہوتی ہے کہ میں میٹرک کا امتحان پاس کر لوں۔ پھر آپ یہ سوچتے ہیں کہ میں کالج کا امتحان پاس کر لوں اور یونیورسٹی میں پہنچ جاوں اور پھر جاب مل جائے۔ شادی وہاں ہو جہاں میں چاہتا ہوں اوراس کے بعد پتہ لگتا ہے کہ آپ کے ٹیم کے ساتھی بھی آ گئے ہیں اور آپ کے سماجی تعلقات بھی پیدا ہو گئے ہیں۔ بچوں کو پالنا شروع کیا پھر ان کی کامیابی کے لئے سوچا کہ ان کو کامیاب کیسے کریں اور اس کے بعد بچوں کی شادیاں کیں اور ان کے شادیوں کے بعد ان کے مسائل بھی آپ کے ہی مسائل ہوتے ہیں۔ کہنے کا مطلب یہ ہے کہ لائف کا باکسنگ رنگ ہے اور اسی میں رہنا ہے اور مرنے سے پہلے آپ کے مسائل ختم نہیں ہوتے۔

دنیا میں کچھ لوگ خوش نصیب ہوتے ہیں جنہیں سمجھ آ جاتی ہے کہ ایسے ہی ہونا ہے۔ ایسے لوگ گلہ نہیں کرتے ، انہیں پتہ ہوتا ہے کہ کبھی خوشی کبھی غم ۔ کبھی اچھے دن ہوتے ہیں اور کبھی برے دن ہوتے ہیں۔ قرآن میں اللہ تعالی فرماتا ہے کہ میں دنوں کو پھیرتا ہوں۔ قران کی ایک آیت کا ترجمہ ہے کہ ہر مشکل کے بعد آسانی ہے۔ وقت کبھی ایک جیسا نہیں رہتا ۔ جو شخص عقل کے اس درجے پر پہنچ ہے اور یہ جان جاتا ہے کہ وقت ایک جیسا نہیں رہتا تو پھر وہ پُر امید رہنے لگ پڑتا ہے۔ بادشاہ اکبرکا ایک جملہ مجھے یاد آتا ہے جس میں اس نے اپنے مشیر سے کہا کہ ایک فقرہ بتاو کہ میں رو رہا ہوں تو ہنس پڑوں اور ہنس رہا ہوں تو رو پڑوں۔ تو اس نے کہا جی کہ ایک ہی جملہ ہے ” یہ وقت بھی گزر جائے گا”۔ اگر یہ جملہ خوشی میں کہا جائے تو بندہ غمگین ہو جاتا ہے اور اگر یہ جمگہ غم کی صورت میں کہا جائے تو وہ خوش ہو جائے گا۔

ہم لوگ دنیا کے اس چلتے ہوئے نظام میں آ ئے ہیں اور چلتے ہوئے اس نظام سے واپس جانا ہے لہذا اس میں رکنے والا کوئی عمل نہیں ہے۔اگر آپ رک گئے تو یہ قافلہ کاروان آپ کو روند کر چلا جائے گا۔ اس لئے ہمت پکڑیے اور اٹھیے اور چل پڑیں چاہے رفتار کم ہی کیوں نہ ہو ، کبھی رفتار زیادہ بھی ہو جائے گی۔


سوال: مستحکم کامیابی میں اخلاقی اقدار کا کتنا عمل دخل ہے۔ اگر میں اپنے آپ کو ایک دائرے میں قید کر لوں کہ یہ میری زندگی ہے، یہ میری کامیابی ہے اور یہ میری ناکامی ہے اور میں اس دائرے سے باہر نکل کر کسی کو دیکھنا ہی نہیں چاہتی اور مجھے اس سے کوئی فرق نہیں پڑ رہا کہ کسی دوسرے پر کیا اثر پڑ رہا ہے مجھے صرف اور صرف اپنی زندگی سے غرض ہے۔ اس پراسیس میں ہم لوگ سیلف سنٹرڈ یعنی مفاد پرست ہجاتے ہیں تو اخلاقی اقدار کو اس پراسیس میں ہم کیسے ساتھ رکھ سکتے ہیں؟


جواب:ہم نے اخلاقی اقدار کو کارپوریٹ سیکٹر میں مکس کر دیا ہے۔ ہمارے پاس کچھ اقدار کارپوریٹ کلچر کی موجود ہیں اور کچھ اسلام کی سکھائی ہوئی ہیں۔ ہندوستان یعنی پاکستان اور انڈیا میں تین برائیوں کا نام کرپشن ہےاس کے علاوہ سینکڑوں ایسی پروفیشنل خامیاں ہیں جن کا ہم ذکر تک نہیں کرتے۔مثال کے طور پر ایک پروفیسر کلاس میں جاتا ہے لیکن پڑھاتا نہیں ہے تو اس کے لئے اس سے بڑی کرپشن کیا ہو گی ؟ ایک بندہ امرود بیچ رہا ہے اور وہ گاہک کو غلط دانے ڈال دیتا ہے تو اس سے بڑی کرپشن اس کے لئے کوئی نہیں ہے۔  ایک بندہ پر ذمہ داری ڈالی جاتی ہے اور وہ اس ذمہ داری کو نہیں نبھاتا تو یہ بھی ایک قسم کی کرپشن ہے۔ ایک بندہ رزلٹ دینے کا معاوضہ لیتا ہے لیکن رزلٹ نہیں دیتا تو اس سے بڑی کرپشن کیا ہوگی؟

اس تناظر میں یہ گزارش ہے کہ ہمیں اپنی پرفیشنل اقدار اور ذآتی اقدار  کو بہت اچھی طرح سے جانچ لینا چاہیے۔ کامیابی کے لئے آپ کی ضمانت ہونی چاہیے اور اگر آپ کی ضمانت اچھی نہیں ہے تو آپ کامیاب نہیں رہ سکتے۔ کامیابی ایک ٹیم کے بغیر ناممکن ہے۔ جو بندہ صرف یہ کہے کہ صرف میں ہی میں ہوں وہ ہمیشہ قائم نہیں رہ سکتا۔ کامیابی کے لئے یہ ضروری ہے کہ آپ یہ مانیں کہ کامیابی دوسروں کے دم سے ہے۔ اگر سب کامیاب ہیں تو میں بھی کامیاب ہوں۔ ایک سی ای او جو اپنے ڈرائیور اور گارڈ کی اہمیت کو سمجھتا اور اپنے نیچے کے ہر بندے کو اپنا کارآمد تصور کرتا وہ زیادہ ترقی کرتا ہے اور زیادہ دیرپا ترقی پر رہتا ہے۔


سوال: جب ایک خاتون اپنی پروفیشنل لائف کے لئے گھر سے باہر نکلتی ہے تواس کی کامیابی میں ایک ایک شخص کا کردار ہوتا ہے جو اس کے گھر سے جڑا ہوا ہوتا ہے۔ وہ خاتون اکیلی نہیں کہہ سکتی کہ جی میں کامیاب ہو گئی ہوں۔ آس کا خاوند ، اس کے بچے ، اس کے والدین اور وہ تمام لوگ جو اس کے مدد گار ہوتے ہیں ان سب لوگوں کا کردار ہوتا ہے۔ لیکن ایسی خاتون کو جب گھر کے کام ختم پر سراہا نہیں جاتا تو اس بارے میں آپ کی کیا رائے ہے؟


جواب :کسی بھی کمپنی میں موجود بندے تنخواہوں ، روٹی اور کپڑے سے نہیں بلکہ شاباشی سے چلتے ہیں۔ ان کے کام کو تسلیم کرنا پڑتا ہے ان کی کوششوں کو تسلیم کرنا پڑتا ہے۔ ہم تمام لوگ جو کامیاب ہوئے ہیں ان میں ان تمام لوگوں کو تسلیم کرنا چاہییے جن لوگوں نے ہمیں بیک اپ کیا ، جن لوگوں نے یہ شناخت کیا کہ یہ بندہ بہت آگے جا سکتا ہے۔ جہاں تک گھریلو خواتین کی بات ہے تو اس میں یہ کہا جا سکتا ہے کہ ہمیں اپنا سرکل اچھا بنانا چاہیے یعنی آپ کے اردگرد ایسے لوگ ہونے چاہیں جن کے ساتھ آپ کی شیئرنگ ہو۔ ایسے بندے آپ کے گرد موجود ہوں جن کے سامنے آپ اپنا پیٹ ننگا کر سکیں ، دکھ سکھ کر سکیں۔ ایسا معاشرہ جس میں کردار کے اختلاف موجود ہوں اور جہاں مزاج کا فرق موجود ہو وہاں سوچیں ، آئیڈیاز، نظریات مختلف ہوں وہاں پر زندگی بہت مشکل ہو جاتی ہے۔ میرے پاس اسی فیصد لوگ ایسے آتے ہیں جن کو سننے والا کوئی نہیں ہوتا۔ مزے کے بات ہے کہ ایسے لوگوں کی گاڑی بہت اچھی ہوتی ہے اور ان کے گن مین اور ڈرائیور دیکھنے کے لائق ہوتے ہیں اور ان کے پاس پیسہ بہت ہوتا ہے لیکن ان کے پاس اپنا کوئی نہیں ہوتا۔ ایسے موقع پر مجھے حضرت علی رضی اللہ تعالی عنہہ کی وہ بات یاد آ جاتی ہے کہ ” اس سے زیادہ غریب کوئی نہیں جس کا کوئی دوست نہیں ہے ” ۔ لہذا ایسا دوست ہونا بہت ضروری ہے جس سے آپ اپنا سب کچھ شیئر کر سکیں اور آپ کو دلی سکون اور اطمنان مل جائے۔ لہذا آپ ایسے لوگوں کو تلاش کریں جو آپ کی قدر کرتے ہوں۔


سوال؛تعریف کرنے کے معاملے میں ایسا دیکھنے میں آیا ہے کہ کسی دوسرے کی تعریف سننے کے دوران آپ کو اپنے اندر خود اعتمادی کی کمی معلوم ہوتی ہے۔ لہذا کسی کی تعریف سننے کے لئے خود اعتمادی پیدا کرنا بہت ضروری ہوتا ہے ۔ اگرآپ کی کوئی تعریف نہیں کرتا تو پر آپ پر سکون زندگی کیسے گزار سکتے ہیں؟


جواب:میرے خیال ہے کہ ہر انسان تعریف کا محتاج ہے اور اللہ تعالی نے اس معاملے میں ہرانسان کو جوڑا ہوا ہے۔ ہمیں تعریف بھی چاہیے ہوتی ہے ، ہمیں محبت بھی چاہیے ہوتی ہے ، ہمیں توجہ بھی چاہیے ہوتی ہے اور ہمیں اعتماد بھی چاہیے ہوتا ہے ۔ اگر کسی رشتہ میں وقت ، توجہ اور قربانی یہ تین چیزیں نہیں ہیں تو یاد رکھیں کہ اس رشتے کی روح نکل جاتی ہے ۔ ایسا رشتہ کاغذوں میں ہو سکتا ہے، نام کا رشتہ ہو سکتا ہے لیکن اس رشتے میں وہ اسپرٹ نہیں ہوتی جو ایک حقیقی رشتے میں ہوتی ہے۔


سوال: وہ کون سا بنیادی فرق ہے جو ایک ایسے شخص میں جو کامیاب ہو کر ایک کرسی پر بیٹھا ہے اور ایک شخص جس کی زندگی میں بہت اتار چڑھاو ہے۔ ایسے دونوں افراد کی زندگی میں بنیادی فرق کون سا ہے؟


جواب:کامیابی کو مستحکم کرنے والا غلطیوں سے سیکھ رہا ہوتا ہے۔ اس کی زندگی کا مقصد اوراہداف بہت واضح ہوتے ہیں۔ وہ یہ بات مان جاتا ہے کہ انسان غلطی کر سکتا ہے اور غلطی سے سیکھ بھی جاتا ہے لیکن اس کے لئے کے کردار کے اندر اقدار کا ہونا بہت ضروری ہے۔ آپ کی ذات کچھ بھی ہو سکتی ہے ، اگر آپ گناہ گار بھی ہیں تو اللہ تعالی آپ کو معاف کر دے گا لیکن آپ کی پروفیشنل لائف بہت ساوںڈ ہونی چاہیے اور اس میں قدریں موجود ہونی چاہیں۔ آج بھی وہ برانڈز جو ہمارے باپ دادے کے زمانے سے چلتی آ رہی ہیں وہ یقینی طور پر ویلیوز یعنی اقدار پر چل رہی ہوتی ہیں۔ میری ملاقات ایسے لوگوں سے ہوئی ہے جن کی ایک نسل نے کاروبار شروع کیا اور آج ان کی چوتھی نسل کاروبار کر رہی ہے تو مجھے پتہ لگا کہ ان کا بزنس چند ویلوز یعنی قدروں پر چل رہا تھا اور یہی وجہ ہے کہ ان کی چوتھی نسل اس کاروبار کو چلا رہی ہے۔ لوگ بدلتے رہے ہیں لیکن اقدار وہی رہی ہیں ان کی کمٹمنٹ ، ان کے وعدے ، ڈٹے رہنا ، لگے رہنا،ملازمین کی قدر، چھوٹے بندوں کی قدر ، وقت پر تنخواہوں کی ادائیگی کا کرنا غرض یہ کہ وہ تمام قدریں جو ان کی اول نسل میں تھیں جنہوں نے کاروبار شروع کیا وہ چوتھی نسل میں بھی موجود ہیں لوگ بدلتے رہے ہیں لیکن قدریں وہی ہیں۔

 

You may also like this

10 March 2017

کامیابی کے رموز و علامات ۔۔۔ ابو اشہد

<p style="text-align: justify;"><span style="font-size: 20px;">کامیاب ہونا اتنا مشکل نہیں، لی

محمد سلیم چشتی
09 January 2017

کامیا بی کی قیمت -- قاسم علی شاہ

<p style="text-align: justify;"><span style="font-size: 20px;">دنیا میں کوئی بھی چیز مفت نہیں

admin

People Comments (2)

  • Zami Butt February 19, 2017 at 6:12 pm

    Nice view point over the topic. I was thinking about it just a few days ago that all talk about achieving success but what after that?? And here is your thorough analysis over this topic. Hats off (y) keep the good work up Sir 🙂

  • sulman majeed February 20, 2017 at 1:09 pm

    wonderful

Leave Comments

آج کی بات

انسان حالات کی پیداوار نہیں،حالات انسان کی پیداوارہوتے ہیں۔
{کتاب۔کوئی کام نا ممکن نہیں۔سے اقتباس}