ڈپریشن کیسے بنتا ہے؟ — سید عرفان احمد

ڈپریشن اور اسٹریس (بہ شمول تمام منفی خیالات) دنیا بھر میں وبا کی شکل اختیار کرچکے ہیں۔ اعداد و شمار کے مطابق، پاکستان میں پانچ کروڑ سے زائد افراد ڈپریشن یا اسٹریس کے مریض ہیں۔ صرف امریکا میں انیس ملین سے زائد مریض ہیں۔ ڈپریشن ہو، اسٹریس ہو یا کوئی اور منفی احساس، ہر صورت میں متاثرہ فرد میں زندگی کالطف اور پسندیدہ کاموں میں دلچسپی ختم ہوجاتی ہے۔ (مزید معلومات کیلئے دیکھئے، میرا مضمون: ڈپریشن کی چھے عام علامات، شائع شدہ مورخہ 7 اکتوبر) 
ابتدا میں کسی بھی منفی احساس کی قوت معمولی ہوتی ہے، لیکن رفتہ رفتہ یہ بڑھتی چلی جاتی ہے۔ دراصل یہ منفی احساسات ایک دلدل کی طرح کام کرتے ہیں۔ یعنی جیسے آدمی خدا نہ خواستہ دلدل میں پھنس جائے تو بہ ظاہر وہ ایک ہی جگہ دکھائی دیتا ہے، مگر آہستہ آہستہ وہ نیچے دھنس رہا ہوتا ہے۔ ایک وقت آتا ہے کہ وہ دلدل میں غرق ہوجاتا ہے۔
ڈپریشن یا اسٹریس کا معاملہ بھی ایسا ہوتا ہے۔ تاہم، عموما لوگ یہ غلطی بہت زیادہ کرتے ہیں کہ ابتدا میں اس پر توجہ نہیں کرتے۔ یوں، ڈپریشن کا دلدل انھیں اپنی لپیٹ میں لے لیتا ہے۔ یہ وہ وقت ہوتا ہے کہ جب وہ اپنی زندگی میں بالکل جامد ہوکر رہ جاتے ہیں اور دماغ ماؤف ہوجاتا ہے۔ اس لیے علاج کیلئے جب لوگ مجھ سے رابطہ کرتے ہیں تو انھیں میرا مخلصانہ مشورہ یہ ہوتا ہے کہ ’’ابتدا ہی میں اسے قابو کرنے کی کوشش کی جائے اور مناسب مائنڈ تھیراپسٹ یا کاؤنسلر یا لائف کوچ سے ٹریٹمنٹ لے لی جائے۔ یہ وقت گزر گیا تو یہ ہلکا ڈپریشن، کلینکل ڈپریشن میں تبدیل ہوجائے گا۔ تب نہ صرف اس پر قابو پانا مشکل ہوگا، بلکہ سائیکاٹرک میڈیسن کا خرچ بھی برداشت کرنا ہوگا۔ پھر، ان دواؤں کے جو شدید قبیح اثرات ہیں، وہ بھی عذاب بن جائیں گے۔‘‘
واضح رہے، ایک معمولی منفی خیال سے جس تباہ کن سلسلے کاآغاز ہوتا ہے، اگر اسے شروع ہی میں قابو نہ کیا جائے تو وہ ایک عادت بن جاتا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ بعض لوگ خوشی کے موقع پر بھی غمی میں قید رہتے ہیں۔
مائنڈتھیراپی بالخصوص این ایل پی اور مائنڈفلنس تمام تر منفی احساسات کی ٹریٹمنٹ میں بہت ہی موثر پائے جاتے ہیں۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ روایتی سائیکوتھیراپی یا سی بی ٹی (CBT) جو ڈپریشن اور اسٹریس کیلئے چھے ماہ سے ڈیڑھ سال لگاتی ہے، مائنڈ تھیراپی سے یہ مسائل آٹھ سے تیرہ ہفتوں میں حل ہوجاتے ہیں۔ میں اپنے ہاں آنے والے ڈپریشن یا اسٹریس سے متاثرہ افراد کو عموماً مائنڈفلنس یا این ایل پی کی مشقیں کراتا ہوں۔ آئیے، ایک سادہ مشق ابھی کرلیتے ہیں۔ یہ پوری مشق ایک بار پڑھ لیجیے اور پھر اسے کیجیے۔

1 جب آپ منفی یا پست محسوس کریں تو اس احساس پر متوجہ ہوجائیں۔ جب آپ اس پر متوجہ ہوں گے تو آپ کو یہ احساس ہوسکتا ہے کہ زیادہ محسوس ہونے لگے۔
2 اب اپنی دونوں آنکھوں کو اوپر کی طرف کرلیجیے۔ گویا، آپ چھت کو دیکھنے کی کوشش کررہے ہیں۔ اس دوران صرف اپنی آنکھیں اوپر کی طرف لے کر جائیے، آ پ کا سر سامنے کی جانب ہی رہے۔تیس سیکنڈ تک اپنی آنکھیں اسی حالت میں رکھیے اور چھت کو تکتے رہیے۔
3 اپنے سر کو ساکت رکھتے ہوئے اب اپنی آنکھیں پہلے بائیں جانب اور پھر دائیں جانب لے جائیے۔ یہ ایک چکر ہوگیا۔ اس طرح کے بیس چکر کیجیے۔ آنکھوں کو گھماتے ہوئے انھیں بہت ہی آہست رفتار سے گھمائیے۔ تیزی نہ دکھائیے۔ 
4 اپنے سر کو ساکت رکھیے اور اپنی آنکھیں اس بار اوپر سے نیچے کو لائیے۔ پھر نیچے سے اوپر کو لے جائیے۔ یہ ایک چکر ہوگیا۔ یہ کام بھی بیس مرتبہ کیجیے۔
5 سر کو بدستور اس کی جگہ رکھیے۔اس مرحلے پر اپنی آنکھیں تین انگریزی گنتی کے نمبر8 کی شکل میں گھمائیے… پہل ایک جانب اور پھر اس کی مخالف سمت میں۔ 
یہ پانچوں مراحل مکمل کرکے اپنے احساس پر غورکیجیے۔ آپ کو اندازہ ہوگا کہ آپ کا منفی احساس (ڈپریشن یا اسٹریس وغیرہ) اب غائب یا کم از کم بہت حد تک کم ہوچکا ہے۔ اگر اس احساس کو مزید کرنا چاہتے ہیں تو اس مشق کو دو یا تین بار مزید کیجیے۔ جب تک آپ اچھا محسوس نہ کرنے لگیں، نیچے نہ دیکھئے۔ اگر کوئی بہتری محسوس نہ ہوتو اس مشق کو دوبارہ پڑھئے، سمجھئے اور پھر پوری توجہ اور اہتمام سے کیجیے۔
اس مشق کا مقصد فوری طور پر ڈپریشن یا اسٹریس کے پھندے سے نکلنا ہے۔ تاہم، باقاعدہ علاج کی ضرورت باقی رہتی ہے۔ اس لیے اس ہفتے ماہر معالج سے رابطہ کیجیے۔

Leave Comments

آج کی بات

انسان حالات کی پیداوار نہیں،حالات انسان کی پیداوارہوتے ہیں۔
{کتاب۔کوئی کام نا ممکن نہیں۔سے اقتباس}