یہاں پتنگ اڑانا منع ہے!فرخ سہیل گوئندی

پنجاب کے وزیراعلیٰ جناب شہباز شریف کا خاندان اسّی کی دہائی کے آغاز سے اقتدار میں داخل ہوا۔ اُن کا بچپن اور جوانی، پنجاب کے انمول شہر لاہور میں گزرا، اس شہر اور پنجاب کی سرزمین کے اُن کے خاندان پر جو احسانات ہیں، ان کو یقینا اس کا احساس ہوگا۔ امرتسر سے ہجرت کرکے لاہور آباد ہونا، شہر لاہور میں ایک معمولی کاروبار سے صنعت کار بننا، اسی شہر لاہور کی مرہون منت ہے۔ اور پھر اسی سرزمین پنجاب نے اُن کو اور اُن کے اہل خانہ کو اقتدار کے اس عروج پر پہنچایا جس پر پاکستان کا کوئی خاندان رسائی حاصل نہ کرسکا۔

میری سمجھ میں نہیں آرہا کہ وہ جہاں اپنی گڈگورننس کی نرگسیت کا شکار ہیں، وہ کیسے ایسے اقدامات اٹھاتے ہیں جن سے ان کی ناکام گورننس بری طرح بے نقاب ہوتی ہے۔ بسنت پنجاب اور خصوصاً لاہور کا ایک موسمی کھیل ہے۔ جو لوگ کھیلوں کو عقیدوں اور مذاہب سے جوڑنے کی کوشش کرتے ہیں، اُن کے علم پر افسوس ہی کیا جاسکتا ہے۔ بسنت، پنجاب میں ’’پالا اڑنت‘‘ اور بہار کی آمد کے حوالے سے لاہور کی ایک پہچان ہے جس کو پہلے تو دھاتی ڈور استعمال کرنے والوں نے مسخ کیا اور پھر یہ کھیل ناکام حکمرانی کی نذر ہوگیا۔ یہ اُن لوگوں کی خوشیوں پر ڈاکا ہے جو حکومتوں سے خوشیوں کی توقع نہیں رکھتے۔ بسنت کے ذریعے خوشی کی تخلیق لاہوریوں کی زندہ دلی کی صدیوں پرانی روایت ہے جس پر پابندی لگاکر موجودہ حکومت نے ایک بار پھر ثابت کیا کہ وہ ناکام حکمرانی کی طرف سفر کررہے ہیں۔

یہ درست ہے کہ دھاتی ڈور کا استعمال ایک سنگین جرم ہے، لیکن دلیل یہ ہے کہ اگر آپ دھاتی ڈور بنانے، بیچنے اور استعمال کرنے والوں کو اپنی گرفت میں نہیں لے سکتے تو اس کا مطلب یہ ہے کہ آپ حکومتی رِٹ قائم کرنے میں ناکام ثابت ہوئے ہیں۔ میں پورے وثوق سے کہہ سکتا ہوں کہ لاہور کی سڑکوں پر جانوں کو تلف کرنے میں موٹرسائیکل سوار سب سے آگے ہیں۔ اُن کی اکثریت کے پاس ڈرائیونگ لائسنس نہیں ۔ وہ جس طرح سڑکوں پر دندناتے ہوئے ٹریفک قوانین کی خلاف ورزیاں کر رہے ہیں، آپ کو اس کا بخوبی اندازہ ہے۔ تو پھر کیا اس کا حل یہ ہے کہ موٹرسائیکل پر پابندی لگا دی جائے؟ ہرگز نہیں۔ بلکہ آپ کو موٹر سائیکل سواروں کو قانون کے دائرے میں لانا ہے۔ اس کا حل موٹرسائیکل سواری پر پابندی نہیں۔ اسی طرح وزیراعلیٰ صاحب، آپ ناکام ہوئے ہیں دھاتی ڈور بنانے والوں، بیچنے والوں اور اس کو استعمال کرنے والوں کے خلاف۔آپ نے نہ صرف پتنگ بازی پر پابندی لگا دی بلکہ اُن معصوم بچوں کو جو گلیوں میں کٹی پتنگ لوٹتے ہیں، خوشی کے کھیل میں شامل ہیں، اُن کو گرفتار کرکے آپ نے اپنی ناکام حکمرانی کا ثبوت دیا ہے۔

آپ نے پتنگ بازی کے لیے پولیس اور متعلقہ حکومتی اداروں کو ایکشن پلان دیا ہے اور اب تک صرف لاہور میں چار سو سے زائد پتنگ اڑانے اور پتنگ لوٹنے والے بچوں کو گرفتار کیا ہے۔ کیا ہی اچھا ہوتا اگر آپ دھاتی ڈور بنانے، بیچنے اور استعمال کرنے والوں کے خلاف سخت گیر کارروائی کرتے۔ لوگوں سے خوشیاں چھیننے والے، عوامی حکمران کیسے کہلائے جا سکتے ہیں۔
آپ کی حکمرانی کے کئی Failuresہیں۔ میرے علم میں یہ بات آئی ہے کہ آپ نے لاہور کی ٹریفک کو سنبھالنے کے لیے ایک غیرملکی ادارے کو طلب کرلیا ہے، جیسے صفائی اور ٹیکسی اور بس چلانے کے لیے آپ نے غیرملکی کمپنیوں کو ٹھیکے دئیے۔ یعنی آپ کی حکمرانی کا نظام فیل ہوچکا ہے۔ اگر آپ چاہیں تو پنجاب حکومت کو کسی دوست ملک کے حوالے کریں ۔ حکمرانی کی کامیابی، قانون پر عمل درآمد سے ہے جس میں آپ بار بار ناکام ہوئے ہیں۔ پتنگ باز سماج کا امن پسند طبقہ ہے۔ کاش آپ، چرس ہیروئن بیچنے والوں، گلیوں میں جرائم کرنے والوں، ڈاکے اور لوٹ مار کرنے والوں، کھانے کی اشیا میں دن دیہاڑے ملاوٹ کرکے فروخت کرنے والوں، سڑکوں پر بڑھی دکانوں اور تجاوزات جو قانون کی دھجیاں اڑاتی ہیں، اُن کے خلاف کارروائی کرتے تو بات سمجھ میں آتی۔ کاغذ کی پتنگ اور کچے دھاگے سے خوشی تخلیق کرنے والوں کی گرفتاریاں، افسوس آپ لاہور اور پنجاب کے کیسے بیٹے ہیں۔ آپ اُن اشتعال انگیز تقاریر کرنے والوں کو روکیں جو لوگوں کو فرقہ پرستی اور ایک دوسرے کو قتل کرنے پر آمادہ کرتی ہیں۔ آپ نے کاغذ دھاگے سے کھیلنے والوں، بہار کی آمد کا جشن منانے والوںکے خلاف پولیس کو الرٹ کردیا۔ نہایت افسوس، دالگراں چوک لاہور میں زندگی کے اوائل ماہ وسال گزارنے والے لاہوری سپوت سے ایسی توقع نہیں کی جاسکتی تھی۔ آپ اگر لوگوں کے دلوں میں گھر بنانا چاہتے ہیں تو لوگوں کے دلوں کو جاننے، پڑھنے اور سمجھنے کا گُر جانیے۔

مہاتما گاندھی، برصغیر میں ایک مقبول لیڈر ہوئے ہیں۔ اُن سے ایک صحافی نے سوال کیا کہ آپ مقبول لیڈر کیسے بنے تو انہوں نے جواب دیا کہ ’’میں وہ بات کرتا ہوں جو لوگوں کے دلوں میں ہے۔‘‘ آپ لوگوں کے دلوں میں خوشیاں برپا کرنے والوں کو پولیس کی ہتھکڑیاں پہنا رہے ہیں۔ آپ اگر لوگوں کو مزید خوشیاں نہیں دے سکتے تو جو خوشیاں وہ خود تخلیق کررہے ہیں، اُن کا ہی ساتھ دیں، وہ آپ کے ساتھ ہوئے تو دھاتی ڈور والوں کو قانون کی گرفت میں لانے کے لیے وہ آپ کے مددگار ہوں گے۔ آپ ذرا اس پر سوچیں۔ اس پراجیکٹ کے لیے لاکھوں، اربوں یا ہزاروں ڈالر درکار نہیں، صرف تدبر درکار ہے۔ عوامی اپروچ درکار ہے۔ افسر شاہی کی بجائے عوام کے دلوں میں جھانکیں۔

Leave Comments

آج کی بات

انسان حالات کی پیداوار نہیں،حالات انسان کی پیداوارہوتے ہیں۔
{کتاب۔کوئی کام نا ممکن نہیں۔سے اقتباس}