اپنے آپ کو اپ گریڈ کرنا — قاسم علی شاہ

آج کا ہمارا موضوع بہت اہم ہے اور ہر شخص کی زندگی سے منسلک ہے۔اپنے آپ کو اپ گریڈ کرنا یا اپنی ذات کو اگلے مرحلے کے لئے تیار کرنا ، اپنی گرومنگ، یا اپنے ساتھ وقت گزارنا،اپنے اندر انوسٹ کرنا۔


سوال: اپنے آپ کو اپ گریڈ کرنا، انسان کے اندر مسلسل آ گے بڑھنے کی خواہش ہوتی ہے اور ہر انسان آگے سے آگے بڑھنا چاہتا ہے۔ اگر یہ سوچ انسان کے اندر موجود نہ رہے تو انسان زوال پذیر ہو جاتا ہے۔ ذرا اس نکتہ پر تفصیل بیان کر دیجیے کہ ایک شخص کیسے اپنے آپ کو اپ گریڈ کر سکتا ہے؟


جواب: آج کا ہمارا موضوع اپنے آپ کو اپ گریڈکرنے سے متعلق ہے جو بہت محنت اور مشقت کے بعد چنا گیا ہے کہ کس موضوع پربات کی جائے۔آج کے سارے موضوع کا آغاز میں ایک واقعہ سے کروں گا۔ دنیا کی ایک کمپنی تھی جو اٹھارہ سو پینسٹھ میں بنی اس کے بعداس کمپنی کا کام بڑھنا شروع ہو گیا اور اس کی سیل اور کاروبار اتنا بڑھ گیا کہ دو ہزار چودہ میں اس کمپنی کا کام ایک سو پچاس ملکوں تک پھیل گیا ہوا تھا۔ اور اس کی سیلز کا حجم بارہ بلین یورو تک پہنچ گئی تھی۔ دو ہزار چودہ میں اس کے ملازمین کی تعداد اکسٹھ ہزار کے قریب تھی۔ دنیا کے اندر پانچ سو سے زائد ایسی کمپنیاں ہے جن کا بجٹ ملکوں کے بجٹ سے زیادہ ہے۔ ان پانچ سو کمپنیوں میں اس کمپنی کا نام دو سو چوہترویں نمبرپر ہے۔ ان کی ایک سالانہ سیل کانفرنس میں اس کمپنی کے سی ای او نے تقریر کرنی تھی ۔ اس تقریر میں اس کمپنی کے ٹاپ گیارہ ہزار ملازمین اس کے سامنے تھے اور سی ای او کے ہاتھ میں مائک تھا۔ اس سے تقریر نہیں ہو پائی اور اس نے رونا شروع کر دیا۔ اس نے روتے روتے ایک میسج دیا کہ ہمیں اب اس کمپنی کو بند کرنا پڑے گا اور اس کےشئیر بیچنے پڑیں گے اور مرجرز کی طرف جانا پڑے گا اور اس سارے عمل کی ایک بہت بڑی وجہ ہے کہ ہم سے صرف ایک غلطی ہو گئی ہے  اور وہ غلطی یہ ہے کہ ہم نے وقت کے تقاضوں کے ساتھ اپنی پراڈکٹ کو اپ گریڈ نہیں کیا۔ اور اس کمپنی کا نام نوکیا ہے۔ صرف ایک غلطی کی وجہ سے آج نوکیا مارکیٹ جدید موبائلز میں موجود نہیں ہے۔ اس موقع پر سی ای او نے بہت بڑا فقرہ کہا :یا تو اپ گریڈ ہو جائیں یا پھر تاریخ کا حصہ بن جائیں۔بالکل عین اسی طرح جس طرح نوکیا کے ساتھ ہوا بالکل اسی طرح ہماری زندگیوں میں بھی اسی طرح ہوتا ہے۔ اگر ہم اپنے آپ کو اپ گریڈ نہہں کرتے تو ہم تاریخ کا حصہ بن جاتے ہیں۔ قدرت، نیچر ، فطرت ہمیں پورا پورا موقع دیتی ہے کہ ہم اپنے آپ کو اپ گریڈ کریں ۔علامہ اقبال جیسا شاعر ہے جو کہتا ہے کہ ثبات اک تغیر کو ہے زمانہ میں۔ اس دنیا میں ایک ہی چیز مستقل ہے اور اس مستقل چیز کا نام تبدیلی ہے۔


سوال: اپنی تہذیب ، کلچر کے بارے میں بات کرنا بہت اچھی بات ہے لیکن اگر آپ اپنی پرانی تہذیب ، کلچر کے ساتھ اپنے آپ کا باندھے رکھنا اور تبدیلی کی طرف نہ جانا نقصان کا باعث ہو سکتا ہے۔ ہمارے معاشرے کے جو سینئر لوگ ہیں اگر ان سے کہا جائے کہ جی وقت بدل گیا ہے تو بہت غصہ کرتے ہیں کہ جی نہیں کوئی وقت نہیں بدلا۔ تو ایسے لوگوں کے لئے آپ کا کیا خیال ہے ان کے بارے میں آپ کیا کہیں گے؟


جواب: روایات کے ساتھ کسی کو باندھنا ایک علیحدہ چیز ہے۔ لیکن ہم نے اپنے ساتھ کئی پرانے یقین باندھے ہوئے ہوتے ہیں۔ ہمارے استاد، پروفیسر، لیکچرار سب کچھ پڑھاتے ہیں لیکن اس کے ساتھ ساتھ یہ یقین پیدا کرتے ہیں کہ تم بہتر ہو سکتے ہو، تمہاری زندگی بدلی جاسکتی ہے۔ اپنی زندگی کو شاندار زندگی بنایا جا سکتا ہے، اس کو قابل احترام بنایا جا سکتا ہے، اس زندگی سے بہت بڑےنتائج پیدا کیے جا سکتے ہیں۔اس زندگی سے معاشرے میں انقلاب لایا جا سکتا ہے۔ فرد واحد بہت بڑی طاقت ہے جو انقلاب بھی پیدا کر سکتی ہے۔ ہم بچوں کو تعلیم دیتے ہیں لیکن یہ یقین نہیں دیتے کہ تم اپنے آپ کو اپ گریڈ کر سکتے ہو۔ کسی ایک بچہ کا اپ گریڈ ہونا، ایک نسل اور کئی لوگوں کے لئے فائدہ کا باعث بنتاہے۔ سب سے بڑی بات کہ سب پرانی روایات کے ساتھ یہ یقین پیدا کرنا کہ وقت دوبارہ اچھا ہو سکتا ہے معاشرہ اپ گریڈ ہو سکتا ہے ۔ اس یقین کا ہونا کہ اپ گریڈ ہوا جا سکتا ہے یہ بہت ضروری ہے۔


سوال: آپ کی ذات کے دو پہلو ہوتے ہیں ۔ ایک آپ کی ظآہری شکل و شباہت ہے کہ آپ کیسے لگتے ہیں آپ نے کیا پہنا ہوا ہے لیکن ایک آپ کی اندرونی صلاحیت ہوتی ہے۔ آپ جتنا مطالعہ کرتے ہیں ، آپ جتنا دنیا کا مشاہدہ کرتے ہیں اتنا آپ کی اندر کی ذات اپ گریڈ ہوتی ہے۔ آپ کے پاس کیا نکات ہے کہ ایک انسان ظاہری اور اندرونی طور دونوں پر اپ گریڈ ہو سکتا ہے؟


جواب:یہ اچھی بات ہے کہ آپ نے دونوں دنیا کا ذکر کر دیا ہے۔ ایک انسان کی ایک باہر کی دنیا ہوتی ہے اور ایک دنیا انسان کے اندر کی دنیا ہوتی ہے۔ باہر کی دنیا کا اپنا ایک حسن ہوتا ہے لیکن اگر آپ کے اندر کی دنیا میں روشنی نہیں ہے تو باہر کی دنیا کا حسن بھی پھیکا پڑ جاتا ہے۔ ہمیں باہر کی دنیا کی بہ نسبت اندر کی دنیا پر کام زیادہ کرنا ہوتا ہے۔ نہج البلاغہ کا ایک بہت بڑا جملہ ہے۔ حضرت علی کرم اللہ وجہہ فرماتے ہیں کہ جو بندہ اپنے باطن کو بہتر بنا لیتا ہے ، اللہ اس پر کرم کرتا ہے اور اللہ اس کے ظاہر کو بھی بہتر کر دیتا ہے۔

انسان کا اپنے اندر کی دنیا یعنی باطن کی دنیا پر کام کرنا بہت ضروری ہے۔آپ کبھی اپنے گھر کے اندر یہ برداشت کرتے ہیں کہ اگر اس کے اندر مٹی آ جائے ، کوڑا آ جائے ۔جب کبھی گھر گندا ہو جائے تو آپ اس کو صاف کر دیتے ہیں۔آپ کے اندر کی دنیا بھی آپ کا گھر ہے۔ اگرآپ اپنے اندر جھانکیں کہ آپ کی جو سوچیں ہیں جو آپ کے نظریات ہیں ، آپ کی جو عادات ہیں ، آپ کی جو فلاسفی ہیں ، یا آپ کا جو کونسپٹ ہے آیا یہ چیزیں رکھنے کے قابل ہیں یا نکال دینے چاہیں۔ جب آپ اس چیز پر کام نہیں کرتے کہ کون سے نظریات رکھنے والے ہیں اور کون سے نظریات چھوڑنے والے ہیں۔ یا پھر آپ ایسی سوچوں میں مبتلا ہیں جو سوچنے والی ہیں ہی نہیں۔ تو اس کا نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ آپ کی اندر کی دنیا میں تبدیلی نہیں آتی۔ دنیا کی تمام عبادات اور جتنے بھی مذاہب یا روحانی اعمال ہیں وہ آپ کے اندر کے انسان کو درست کرنے کے لئے ہیں۔ باہر کے انسان کو بدلنے سے کوئی انقلاب نہیں آتا اگر انسان کے اندر تبدیلی پیدا نہیں ہوئی۔


سوال: ہمارےمعاشرے میں بہت سے ماڈرن لوگ ایسے ہیں جو ظاہری طور پر بہت ماڈرن نظر آتے ہیں لیکن جب آپ ان سے بات کرتے ہیں تو آپ کو سن کر حیرانی ہوتی ہے کہ اس شخص کی ذہنیت اتنی پرانی ہے یا یہ شخص اتنا سطحی سا سوچتا ہے۔ ہم تعلیم تو حاصل کرتے ہیں لیکن اپنے اندر کچھ بری چیزیں جو آپ کو وراثت میں ملی ہوتی ییں ان کو آپ اپنے ساتھ لے کر چل رہے ہوتے ہیں۔ اور یہ چیز پاکستان میں بہت عام ہے ؟


جواب :ہماری اندر کی دنیا کے محرکات ہماری سوچیں ، ہماری عادات، ہمارے اطوار، ہمارے یقین اور ہمارے کونسپٹ ہیں اس کے بارے میں ہمارے پنجابی میں ایک مثال دی جاتی ہے کہ راہ پیا جانے تے یا واہ پیا جانے۔ جس شخص کو واسطہ پڑتا ہے صرف اسی کو پتہ لگتا ہے باقی لوگوں کو پتہ نہیں لگتا۔ ہمارے ایجوکیشن سسٹم میں ظاہری یا باہر کی دنیا پر بہت کام کیا جاتا ہے لیکن انسان کی اندرونی زندگی پر کوئی کام نہِیں ہوا ہوتا جس کے نتیجہ میں انسان کے اندر ایسی کوئی تبدیلی نہیں آتی جو انسان کے مستقبل کو بدلے۔ انسان کے اندر کوئی ایسی تبدیلی نہیں آتی جس سے انسان کے اردگرد کے لوگ فائدہ اٹھائیں۔

بایذید بسطامی کے پاس ان کا ایک مرید آتا ہے اور وہ کہتا ہے کہ حضرت میں برکت کے لئے یہ چاہتا ہوں کہ اپنا خرقہ یعنی  وہ لباس جو صوفیا پہنتے ہیں اس کا ایک ٹکڑا مجھے عنایت فرمائیں تا کہ میں برکت کے لئے اس کو اپنی زندگی میں رکھ لوں۔ یہ بہت پرانی روایت ہے کہ خرقہ کو یا لباس کے ٹکڑے کو برکت کے لئے اپنے پاس رکھا جاتا تھا۔ بایذید اس مرید کی اس بات پر بہت جذباتی ہو گئے اور کہا کہ اگر میں بایذید کی کھال بھی اتار کر تمہیں دے دوں کہ جب تک بایذید کی نیت تمہارے پاس نہیں آئے گی ، تمہارے لئے کسی برکت کا باعث نہیں ہو گی۔ ان کا کہنے کا مطلب یہ تھا کہ بایذید کی اندر کی دنیا کو اپناو یہ ظاہری لباس یا باہر کی چیز تو کچھ بھی نہیں ہے۔

دوسرا واقعہ حضرت شیخ سعدی شیرازی ہے کہ ایک بادشاہ نے ان کو دعوت پر مدعو کیا۔ حضرت شیخ سعدی شیرازی عام سے لباس میں اس دعوت پر گئے۔ جب وہ دعوت کے مقام پر پہنچے دعوت کے ہال میں داخل ہونے لگے تو وہاں کے دربان نے آپ کو روک لیا اور کہا کہ ایسے لباس والے بندے کو بادشاہ کی محفل میں نہیں جانا چاہیے۔ شیخ سعدی شیرازی واپس گئے اور بڑا زرق برق والا یعنیماڈرن لباس پہن کر آئے تو دربان نے اندر جانے دیا۔ جب شیخ سعدی شیرازی تقریب میں پہنچ گئے اور ان کو کھانا پیش کیا گیا۔ جب انہیں کھانا پیش کیا گیا تو شیخ سعدی شیرازی نے اپنی قمیض کا قف کھانے میں ڈبونا شروع کرد یا۔ بادشاہ نے کہا کہ یہ آپ کیا کر رہے ہیں؟ یہ تو تہذیب کے خلاف ہے ۔ تو شیخ سعدی نے جواب دیا کہ جس محفل میں آیا ہوں یہاں پر کپڑوں کو دیکھا جاتا ہے تو دعوت تو کپڑوں کی ہونی چاہیے۔ تو کہنے کا مقصد یہ ہے کہ انسان دراصل اپنے اندر کی خوبصورتی سے پہچانا جاتا ہے۔

 واصف علی واصف ایک جملہ فرمایا کرتے ہیں کہ اگر تمہارے اندر روشنی نہیں ہے تو روشنیوں کےمیلے اور چراغوں سے تم روشنی حاصل نہیں کر سکتے۔ تمہارے اندر کی روشنی ہی تمہارے باہر کی روشنی محسوس ہوتی ہے اگر آپ کے اندر اندھیرا ہے تو باہر کی روشنی آپ کو دیکھتی نہیں ہے۔

 نواب آف بہالپور کا ایک بہت مشہور واقعہ ہے کہ آپ روس رائس گاڑی کے شوروم پر گئے اور بہت عام سے حلیے میں وہاں چلے گئے۔ تو وہاں گارڈ نے ان کو شوروم کے دروازے پر روک لیا جس پر نواب صاحب کو غصہ آ گیا۔ تھوڑی دیر بعد نواب صاحب اپنی فوج کے ساتھ اور نوابی کے لباس میں وہاں داخل ہوئے اور جتنی گاڑیاں وہاں موجود تھیں تمام کی تمام خرید لیں اور ان گاڑیوں کے ساتھ جھاڑو باندھے اور بہالپور کی سڑکوں کی صفائی کروائی یعنی ایسا ہوتا ہے کہ لوگ آپ کو ظاہری لباس سے جانتے ہیں اور اندر نہیں دیکھتے کہ اندر کیا چیز موجود ہے۔


سوال: بعض لوگ لباس کے حوالے سے بہت درویش ہوتے ہیں لیکن ان کے اندر علم کے خزانے موجود ہوتے ہیں؟


جواب : ہماری گفتگو کا ہرگز یہ مقصد نہیں ہے کہ ہمیں اپنی ظاہری صورت پر کوئی کام نہیں کرنا چاہیے۔ ہمیں اپنی پرسنلٹی گرومنگ کے لئے ظاہری صورت پر بھی کام کرنا ہوتا ہے۔ بات یہ ہے کہ اچھا لباس بھی ہونا چاہیے لیکن اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ صرف اچھا لباس ہو بلکہ انسان کے اندر بھی کچھ ہونا چاہیے۔

برینڈسن کا ایک بہت مشہور جملہ ہے کہ” بعض لوگ اتنے غریب ہوتے ہیں کہ ان کے پاس پیسے کے علاوہ کچھ نہیں ہوتا”۔ یہ بہت فکر انگیز فقرہ ہے کہ آپ کے پاس صرف اور صرف پیسہ ہی ہے  اور نہ آپ کے پاس فکر ہے ، نہ آپ کے پاس عقل ہے ، نہ آپ کے پاس عادات ہیں ، نہ آپ کے پاس اطوار ہیں ، نہ آپ کی زندگی کا کوئی ٹیسٹ ہے ، آپ میں کوئی دلچسپی نہیں لی جا سکتی ، آپ کو پرکھا نہیں جا سکتا۔ میں یہ سمجھتا ہوں کہ ایک شاندار انسان کو جاننے کے لئے اتنا تجسس ضرور ہونا چاہیے کہ پوری ایک زندگی چاہیے اس ایک انسان کو سمجھنے کے لئے۔ یعنی اس شخص کے اندر کی دنیا اتنی زبردست ہے کہ اس کو جاننے کے لئے پوری ایک زندگی درکار ہے ۔ لیکن بعض اشخاص ایسے ہوتے ہیں کہ جن کے ساتھ ایک ملاقات میں ان کو پرکھا اور اس کی فائل کو مہر لگائی اور اس کو بند کر کے رکھ دیا تو ایسے انسان کو پرکھنے میں مزہ نہیں آیا۔

تو گزارش یہ ہے کہ اندر کی دنیا بہت وسیع ہے ۔ ظاہر کی دنیا تو پانچ میٹر کپڑے سے ڈھانپی جا سکتی ہے۔ جس طرح ہمارے جسم کو خوراک کی ضرورت ہوتی ہے اور وہ اچھی خوراک ہونی چاہیے۔ بالکل عین اسی طرح ہمارے ذہن کی بھی خوراک ہوتی ہے اس کو اچھی سوچ دینے سے وہ صحت مند رہتا ہے۔ بالکل اسی طرح ہماری روح کو بھی ایک خوراک چاہیے تو کیا ہم روح کی خوراک کا بندوبست کرتے ہیں۔


سوال:انسان کو اپنی پرسنل گرومنگ کے اوپر توجہ دینی چاہیے۔ ہمارے ارد گرد بہت سے ایسے لوگ ہیں جو اپنی پرسنل گرومنگ پر توجہ نہیں دیتے لیکن لباس وغیرہ سے بہت اعلی لگتے ہیں تو کیاآپ ایسے لوگوں سے ملاقات ہوئی ہے؟


جواب:اگر کسی شام میرے سے کوئی پوچھے کہ سنائیں جی کیا حال ہے ؟ تو میرے پاس سنانے کے لئے بہت کچھ ہوتا ہے کیونکہ تجربہ ، مشاہدہ ، واقعات، سفر کرنے کا تجربہ بہت زیادہ ہے میرے پاس۔ ایک دفعہ میری ایک میٹنگ لاہور کے فائیو سٹار ہوٹل کے اندر تھی۔ وہاں پر میری دو میٹنگز تھیں ایک میری بزنس میٹنگ تھی اور دوسری میٹنگ میری ایک فیملی کے ساتھ کونسلنگ کی میٹنگ تھی۔ تو میرے اسسٹنٹ نے انہیں فون کر کے بتا دیا تھا کہ پہلے گھنٹے میں قاسم صاحب فلاں ہال میں ہوں گے اور دوسرے گھنٹے میں قاسم صاحب فلاں ہال میں ہوں گے۔ جب میری پہلی میٹنگ ختم ہو گئی تو میں لابی میں بیٹھ کر اس فیملی کا انتظار کرنے لگ پڑا جس کی کونسلنگ میٹنگ تھی تو میں نے دیکھا کہ کوئی وہاں آیا ہی نہیں۔ دس منٹ گزرنے کے بعد میں نے اپنے اسسٹنٹ کو کہا کہ مجھے اس فیملی کا نمبر دو میں اسے خود کال کر کےپتہ کرتا ہوں کہ وہ کہاں ہیں۔ جب میں نے ان کو فون کیا تو پتہ چلا کہ وہ فیملی ہوٹل کے باہر کھڑی ہے اور جس خاتون سے میری بات ہوئی تھی وہ کہہ رہی تھی کہ یہ ہمیں اس ہوٹل کے اندر داخل ہی نہیں ہونے دے رہے۔ جب میں باہر ان کو لینے گیا تو ان کا لباس ، ان کے شوز، ان کا پہناو ایسا تھا کہ ہوٹل کی مینجمنٹ نے ان کو اندر داخل نہیں ہونے دیا۔اس کے بعد میں خود ان کو اندر لے کر آیا لابی میں بیٹھ کر چائے اور کافی اور کھانے کی چیزیں منگوائیں۔ اس کے بعد میں نے اس خاتون سے پوچھا کہ آپ کے شوہر کیا کرتے ہیں تو انہوں نے بتایا کہ پاکستان کے فلاں شہر میں ان کی فیکٹریاں ہیں تو میں بہت حیران ہوا۔ پھر میں نے ان سے پوچھا کہ آپ کس گاڑی پر تشریف لائی ہیں تو انہوں نے بتایا کہ میں وی ایٹ لینڈ کروزر پر بیٹھ کر آئی ہوں اور میرا ڈرائیور باہر انتظار کر رہا ہے۔ میں نے ان سے پوچھا کہ آپ کے ملازمین کتنے ہیں تو انہوں نے بتایا کہ کافی سارے ملازمین ہیں اور ہم فلاں گاوں میں رہتے ہیں اور گھر کے اندر بھی کافی ملازمین ہیں۔ میں بہت حیران ہوا اور ان سے پوچھا کہ کیا آپ صحیح کہہ رہی ہیں ؟ کیونکہ ان کے گیٹ اپ اور سٹائل سے کہیں یہ محسوس نہیں ہو رہا تھا کہ وہ اتنی فیکٹریوں کے مالک ہیں اور اتنے بڑے گھر میں رہتی ہیں۔ تو پھر میں نے ان سے کہا کہ ہو سکتا ہے کہ ہوٹل کی مینجمنٹ نے بھی اسی وجہ سے آپ کو اندر نہیں آنے دیا ، تو انہوں نے اس بات کو مانا اور کہا کہ ہم نے کبھی اپنے آپ کی ڈریسنگ اور سٹائل کو اپ گریڈ کرنے کی طرف دھیان ہی نہیں دیا۔ تو میں نے ان سے کہا کہ اگر اللہ نے آپ کو پیسہ آسانیاں اور چیزیں عنایت کیں ہیں تو خدارا اس پیسہ کو اپنے اوپر بھی لگائیے۔ اگر اللہ تعالی نے پیسہ دیا ہے تو اچھا کھائِے اور اگر اللہ تعالی نے پیسہ دیا ہے تو اچھے کپڑے بھی پہنیں۔ ہمارے حلقے میں بعض لوگ اس کو بھی صرفہ سمجھتے ہیں وہ لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ میانہ روی یہ ہے کہ ہم کچھ خرچ نہ کریں۔ میانہ روی کا معیار کوئِ فکس معیار نہیں ہے۔ا س کے بھی پوائنٹ ہیں مثال کے طور پر میرے لئے میانہ روی کا معیار اور میرے سننے والوں کے لئے میانہ روی کا معیار کیا ہے۔ تو کہنے کا مطلب یہ ہے کہ تھوڑی سی کنجوسی کرتی ہوں گی ۔ اگر اللہ تعالی نے آپ کو پیسہ دیا ہے تو اپنے لباس، اپنی لائف سٹآئل اور اپنے ایک سٹینڈر کو بنائیں۔ کس معیار کی زندگی آپ بسر کرنا چاہتے ہیں اور کتابیں بھی ضرور خریدیں تا کہ آپ اپنے آپ کو اپ گریڈ کر سکیں۔


سوال: خواتین کے معاملے میں یہ دیکھا گیا ہے کہ اگر وہ اپنے لباس اور اپنی معیار زندگی پر توجہ نہیں دیتی تو ہوتا یوں ہے کہ آپ عمر سے زیادہ بڑی لگتی ہیں۔ اسی طرح اگر آپ اپنی صحت پر توجہ نہیں دے رہیں تو آپ دیکھنے میں اچھی معلوم نہیں ہوں گی۔ کیا اسلام یا اللہ تعالی ہمیں یہ تعلیم بھی دیتا ہے اور کیا یہ تعلیم نہیں دی گئی کہ اپنے آپ کو اپ گریڈ کریں۔ میرے خیال میں بہت سے صحابی ایسے تھے جو اچھا لباس پہنتے تھے اور اس پر ان کی بڑی تعریف کی جاتی تھی تو ہماری زندگی میں ایسا کوئی پہلو کیوں نہیں ہے؟


جواب:دیکھیں، اللہ تعالی خود جمیل ہیں اور حسن اور خوبصورتی کوپسند کرتے ہیں۔ اور صفائی پر تو اسلام کا بنیادی فلسفہ ہے کہ صفائی نصف ایمان ہے۔ صفائی سے مراد یہ ہے کہ آپ نفیس کتنے ہیں اور آپ کے ہاتھ پاوں کتنے صاف ستھرے ہیں ۔ آپ صبح اٹھے ہیں اور بغیر منہ ہاتھ دھوئے اٹھ کر دفتر چلے جائیں ۔ دس دن پرانا لباس پہن کر اور دس دن پرانی چرابیں پہن کر آپ آئے ہیں تو اگلے بندے کو اچھا محسوس نہیں ہوگا۔ اس طرح آپ کی ساری پرسنلٹی ملیا میٹ ہو کر رہ جاتی ہے۔

ازراہ مزاق میں ایک واقعہ کا تذکرہ ضرور کروں گا۔ ہمارے ملک کے سب سے بڑے کالم نویس تھے اور وہ میرے ساتھ تھے اور ہم نے بڑے ہی ایگزیکٹو بندے کے پاس جانا تھا۔ وہ ایگزیکٹو صاحب میرے اور اس کالم نویس صاحب کے بہت بڑے فین تھے۔ جب ہم ان کے پاس پہنچے تو وہ جذبات میں آ کر ہمیں گلے ملے اور اتنے زور سے گلے ملے کہ ہمیں بہت کراہت سی ہوئی کیونکہ اس سے ذرا سی بد بو آ رہی تھی۔ بعد میں کالم نویس صاحب نے کہا کہ ان ایگزیکٹو صاحب کو پتہ ہی نہیں ہے کہ دنیا میں بہت سے اچھے پرفیوم ایجاد ہو چکے ہیں۔ یعنی اس بڑے عہدے پر ہو کراتنی بڑی سیٹ کے ساتھ اس بندے نے اپ گریڈ نہیں کیا ہوا تھا۔ آج تو پانی کا کوئی مسئلہ نہیں ہے شاور دستیاب ہے ہر جگہ تو انہیں چاہیے کہ روز نہایا کریں۔ آج کل تو سو ڈیڑھ سوروپے میں پاوڈر اور صابن وغیرہ جیسی چیزیں عام مل جاتی ہیں اور جن کو استعمال کر کے اگلے بندے پر اچھا امپریشن ڈالا جا سکتا ہے۔ اور اسلام نے تو منع کیا ہے کہ اگر آپ نے پیاز یا تمباکو کوئی ایسی چیز کھائی ہے جس سے بد بو آنے کا اندیشہ ہوتو مسجد میں نہ جایا جائےکیونکہ اس سے دوسروں کو تکلیف ہوتی ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ آپ کے اردگرد جو لوگ کھڑے ہیں وہ اس بدبو سے متاثر ہوتے ہیں اور ان کی توجہ نماز کی طرف نہیں جاتی۔

اپنے آپ کو اپ گریڈ کرنے کے تین لیول ہیں۔ پہلے لیول یا درجے میں اپنی انفارمیشن اور نالج کو اپ گریڈ کرنا بہت ضروری ہے۔ بہت سے لوگ ایسے ہیں جو اپنی نالج ، علم اور انفارمیشن کو اپ گریڈ نہیں کر رہے ہوتے۔

دوسرے لیول پر آپ اپنی صلاحیتوں کو اپ گریڈ کریں۔ یعنی جو کام آپ کر رہے ہیں اس کو وقت کے تقاضوں کے مطابق بڑھاتے جائیں۔ مثال کے طور پر اگر ہم یہ ریڈیو شو کر رہے ہیں اور اس میں جدید الفاظ کا استعمال نہ کریں اور پرانے الفاظ کو استعمال کریں تو ہو گا یہ کہ سننے والے لوگوں کو سمجھ نہیں آئے گی۔ ہماری صلاحیت یہ ہے کہ جو شخص ایک دفعہ ہمیں ریڈیو پر سنے تو وہ دوبارہ جا کر انٹرنیٹ پر سنے اور یہ کہے کہ واقعی یہ میری لرننگ ہوئی ہے۔ اور کہیں کہ آج اشاروں سے قاسم صاحب نے کئی ایسی باتیں بھی کہہ دی ہیں جو ہمیں ضرور سوچنی چاہیں۔ اپنے ہنر کو بہتر کرنا، اپنے پروفینشل کیرئیر کو بہتر کرنا بھی وقت کی اہم ضرورت ہوتی ہے۔

تیسری سب سے اہم جیز ہے اپنے رویہ اور ایٹی ٹیوڈ پر کام کرنا۔ اگر آپ کے سامنے تین ٹوکریاں رکھ دی جائیں یعنی پہلے علم کی ٹوکری ہے ، دوسری صلاحیت کی ٹوکری ہے اور تیسری رویہ کی ٹوکری ہے اور تینوں ٹوکریوں میں کچھ نہ کچھ آپ کو ڈالنا ہے تو اس کے لئے آپ کو کتابیں پڑھنی پڑیں گی۔

کتابوں سے مراد یہاں غیر نصابی کتابیں ہیں۔ آپ کے پاس کتابوں کی اچھی کولیکشن ہونی چاہیے۔آپ کو کتابوں کی شاپنگ کرنی چاہیے۔ آپ کو اچھی بک شاپس پر جانا چاہیے۔ آپ کو پتہ ہونا چاہیے کہ کون سی کتابیں آجکل چل رہی ہیں اور کون سی نئی کتابیں مارکیٹ میں آ رہی ہیں۔

دوسرے نمبر پر آپ کو ایسے کورسز کرنے چاہیں جو آپ کے سکلز سیٹ یعنی صلاحیتوں کے مجموعہ کو بہتر کریں۔ جس کے ذریعے آپ کی فیصلہ کرنے کی صلاحیت اچھی ہو اور جس کے ذریعے آپ کے اندر خود اعتمادی پیدا  ہو۔آپ لائف مینجمنٹ کا کوئی ایسا کورس کر سکتے ہیں۔ آپ کو چاہیے کہ پاکستان سے باہر جائیں ، آپ دوبئی جائیں ، آپ کو ترکی جانا چاہیے ، چائنا جانا چاہیے ، وہاں بہت سے ایسے کورسز آفر کیے جا رہے ہیں جن سے آپ کی ذاتی ترقی ہوتی ہے ان کورسز کو ضرور کریں۔

دوسری اہم چیز ہے کہ اپنی پروفیشنل سکلز کو بہتر کریں۔ آج کل کسی ڈاکٹر کو بھی ڈاکٹری کے بعد پڑھنا پڑتا ہےکیونکہ اس کو نئی ٹیکنالوجی سے اپنے آپ کو اپ گریڈ کرنا پڑتا ہے تبھی وہ مارکیٹ میں رہ سکے گا ورنہ مارکیٹ سے باہر ہو جائے گا۔سب سے اہم چیز اپنے تجربات اور مشاہدات کو بڑھائیں ۔ میرے پاس اپنی ایک وش لسٹ پڑی ہے جس میں ایک سو پچاس چیزیں ہیں اور ان میں بڑی مشکل سے میں ابھی تک اکتالیس چیزیں پوری کر چکا ہوں۔ اور یہ چیزیں میں نے بڑی محنت کے بعد پوری کی ہیں اور ابھی بھی ایک سو نو چیزیں باقی ہیں۔ بسا اوقات یہ چیزیں ایک سو پچاس سے بڑھ جاتی ہیں۔ مثآل کے طور پر ہماری ایک خواہش ہے کہ جب جہاز سے کئی ہزار فٹ کی بلندی سے چھلانگ لگاتے ہیں اور اس کا تجربہ کیسا ہوتا ہے۔

مثال کے طور پر میرا ایک تجربہ کرنا چاہتا تھا کہ جہاں سے سارے دریا نکلتے ہیں اس جھرنے کا مشاہدہ کروں تو میرے اس تجربہ نے میرے اندر بہت اچھے احساسات پیدا کر دیے جو بیان سے باہر ہیں۔ میں نے وہاں پانی سے مقابلہ کیا اور وہاں پانی کے چھالوں میں کھڑا رہا۔ یہ تمام چیزیں آپ کی زندگی کو عام سے خاص بنا دیتی ہیں۔

اصل میں ہم کر یہ رہے ہوتے ہیں کہ ہر روز صبح اٹھے ، سارا دن وہی عجیب سے باس کو منہ دیکھا اور واپس گھر آ گئے زندگی میں نئے نئے تجربات داخل کیجیے۔ تا کہ زندگی عام سے خاص کی طرف بڑھ جائے۔ ہمیں نیا بننے کے لئے کچھ نیا کرنا پڑتا ہے، جب تک آپ کی زندگی میں کچھ نیا نہیں ہوتا آپ کی زندگی تبدیلی کی طرف نہیں جاتی۔


سوال: یقینا ایڈونچر آپ کی زندگی میں ایک نیا پن پیدا کرتے ہیں۔ جب بھی آپ کسی اجنبی سے مل رہے ہوتے ہیں تو آپ کی بیرونی حالت سے اندازہ ہوتا ہے کہ اپ دکھ کیسے رہے ہیں ، آپ کی حالت کیسی ہے اور وہیں سے آپ کا اندازہ لگایا جاتا ہے۔ ان سب چیزوں کے ہونے کے باوجود اگر آپ کے اندر تہزیب نہیں ہے اور آپ بہت بد تمیزی سے بات کرتے ہیں اور لب ولہجہ بہت سخت ہےتو ہو گا کیا کہ اگلے پر جتنا آپ کا ایمپریشن پڑا ہوا ہوگا وہ ختم ہو جائے گا۔ اور کہا یہ جاتا ہے کہ اگر کسی شخص کو آپ نے جانچنا ہو تو یہ دیکھیں کہ وہ اپنے جونیئرز سے کس طرح بات کرتا ہے؟


جواب:حضرت علی کرم اللہ وجہہ کا قول ہے کہ بات کرو تا کہ پہنچانے جاو۔ کیونکہ انسان اپنی بات کے اندر پوشیدہ ہوتا ہے۔ جب کسی بندے کو منہ کھلتا ہے تو پتہ لگتا ہے کہ وہ کیسا ہے جو اپنے ملازمین کے ساتھ اپنے سے چھوٹّوں کے ساتھ کیسے بات کرتا ہے تو اس کی اندر کی دنیا سامنے آنے لگتی ہے۔ ایسا بندہ جو اپنے سے چھوٹّوں کی کیئر نہیں کر سکتا، ان کے ساتھ بیٹھ کر کھانا نہیں کھا سکتا، ان سے اچھے طریقے سے بات نہیں کر سکتا وہ کبھی بڑا بندہ نہیں ہو سکتا۔ یاد رکھیں کہ آپ کی بات کرنا ، آپ کا رویہ اور آپ کا انداز یہ بتاتا ہے کہ آپ کتنے اپ گریڈیڈ ہیں۔ میں نے اداروں سے بہت کچھ سیکھا ہے۔ سول سروسز اکیڈمی نے ہمیں کھانے والی ٹیبل پر بیٹھنا سکھایا ، ہمیں فوک پکڑنا سکھایا، پانی کا گلاس کہاں ہونا چاہیے ، نیپ کن کیسے رکھنی ہے۔ کسی موقع کے ادب آداب کیا ہیں۔ کسی ایونٹ کے پروٹوکولز کیا ہیں ۔ بہت سے لوگ ایسے ہیں کہ جو اپنے اصول اور ضابطے ہر جگہ چلانا چاہتے ہیں۔


سوال: ایک مرحلہ ایسا آتا ہے کہ جب انسان کی اندرونی طبعیت ایسے درجے پر پہنچ جاتی ہے کہ اس کے بعد اس کی ظاہری حالت کوئی معنی نہیں رکھتی۔ مثال کے طور پر اگر ایک شخص اتنی نالج اور اتنے علم والا ہے تو لوگ اس کے پاس اس کے لباس کی وجہ سے نہیں بیٹھتے بلکہ اس کی گفتگو اور علم کی وجہ سے بیٹھتے ہیں؟


جواب:اگر کوئی شخص اتنا اپ گریڈ ہو چکا ہے کہ وہ ہائی آربٹ پر چلا گیا ہے۔ ایسا پریٹیکل میں ہوتا نہیں ہے کیونکہ اس پراسیس میں حالات کی مار کھانا بہت ضروری امر ہے۔ اتنی مار کھانے کے بعد ایک شخص اس درجہ پر پہنچنا میری عقل کے مطابق ممکن نہیں ہے۔ مثال کے طور پر اگر آپ ہائی آربٹ میں پہنچ جاتے ہیں تو آپ کو کچھ پروٹوکول کو اپنانا پڑتا ہے۔ آپ جتنے مرضی کامیاب ہیں اگر آپ کے اندر تہذیب نہیں ہے ۔ بہت سے لوگوں سے ملنے کے بعد ہم یہ سوچتے ہیں کہ یہ ویسے نہیں تھے کہ جیسا ہم نے سوچا تھا بلکہ ہمیں توبہ کر لینی چاہیے کہ ان سے دوبارہ نہیں ملیں گے۔ دراصل آپ کی پرسنلٹی ، آپ کی بات چیت، آپ کا انداز، آپ کا ایمپریشن کتنا اچھا ہے تو اس سے پتہ لگتا ہے کہ آپ کتنے مزے کے انسان ہیں۔ یہ بھی ایک پورا فلسفہ ہے کہ ایک دلچسپ اور مزے کے انسان میں کتنی کوالٹیز ہونی چاہیں۔ اس پر ہم ایک پورا سیشن کریں گےکہ ایک مزے کے انسان میں کیا کچھ ہونا چاہیے۔ ایک آسان سا کلیہ یہ ہے کہ جس شخص سے لوگ وقت لے کر ملنا چاہتے ہیں تواس بندے میں کچھ تو کوالٹی ہو گی اور یہ کوالٹی ہی دراصل ہمیں اپنے اندر پیدا کرنی پڑتی ہے۔ اگر آپ عالم ہیں ، فاضل ہیں ، یا یہ کہیں کے وقت کے سقراط ہیں اور آپ سے کوئی ملنا ہی نہیں چاہتا تو اس کا مطلب یہ ہے کہ آپ اپ گریڈیڈ نہیں ہیں یا آپ کی اپ گریڈیشن آپ کے عمل میں نہیں آئی۔ جب بھی اپ گریڈیشن عمل میں آئے گی آپ کی طبیعت میں ٹھہراو پیدا ہو جائے گا ۔ آپ اپنی غلطیوں کو خود چھپا کر یہ سوچیں گے کہ یہ تو مجھے خود ٹھیک کرنی ہیں اور اپنی اچھائِوں کو دوسروں کے آگے بیان کریں گے۔ تو اپ گریڈیشن ہمیشہ آ پ کو مثبت رویہ کی طرف لے کر جاتی ہے۔

People Comments (1)

  • Syed Muhammad Ali February 16, 2017 at 9:50 pm

    Thank you very much for this informative discussion. We must upgrade our self internally and externally both.
    Jo waqt k sath nhi badalta , waqt usay badal deta hy is line ka Matlab mujhe is discussion sy samjh aya.

Leave Comments

آج کی بات

انسان حالات کی پیداوار نہیں،حالات انسان کی پیداوارہوتے ہیں۔
{کتاب۔کوئی کام نا ممکن نہیں۔سے اقتباس}