کیا کامیاب پروفیشنل کے لئے کتابی نصاب کافی ہے — تحریر شاہد خان

ہمارا تعلیمی نظام:
کسی  بھی ملک کے تعلیمی نظام کی بنیادی شرائط میں سے ایک شرط یہ بھی ہوتی ہے کہ پڑھائے جانے والے نصاب کو ماہرانہ انداز میں متعلقہ شعبے یا مضمون کے تمام تر تقاضوں کو مد نظر رکھتے ہوئے ترتیب دیا جائے۔
نصاب ترتیب دیتے وقت کافی باتوں کا دھیان رکھنا ہوتا ہے۔ کیا نصاب اس قدر معیاری بھی ہے جو زیر تعلیم نسل کو اس مضمون یا شعبے میں اپنی صلاحیتیں اجاگر کرتے ہوئے مہارت حاصل کرنے کے مواقع بھی بہم پہنچائے یا کم از کم اتنا معیاری تو ضرور ہو کہ طلباء اس شعبے میں اس قدر تربیت یافتہ ہو جائیں کہ مستقبل میں انہیں ملازمت کے حوالے سے زیادہ مسائل کا سامنا نہ ہو۔
کیا نصابی کتاب دلچسپ پہلوؤں کے ساتھ ترتیب دی گئی ہے یا نہیں، یا پھر مشکل لفظوں اور مبہم تحریر کے ساتھ ایک بور کر دینے والی کتاب ترتیب دی گئی ہے جس سے طلباء کچھ سیکھنے کے بجائے بیزار ہو جائیں؟
ساتھ ہی ساتھ یہ بھی دیکھنا پڑتا ہے کہ نصاب فرسودہ مواد کا حامل تو نہیں؟ کیا نصاب جدید دور کے تقاضوں کو پورا کرتا ہے؟ ان سب سوالوں کے جواب ہمارے نظام تعلیم میں تلاش کیے جائیں تو اطمینان بخش جوابات نہیں ملتے۔ اکثر یونیورسٹیوں (خاص کر سرکاری) کا نصاب اس معیار کا نہیں جو ہمیں ایک تربیت یافتہ نسل دے سکے، جبکہ پرائمری اور سیکنڈری تعلیم کا حال تو اس سے بھی بدتر ہے۔
سندھ میں تعلیم کا حال اس مثال سے واضح ہوجاتا ہے کہ نامعلوم مصلحتوں کے تحت سندھ ٹیکسٹ بک بورڈ نے انٹرمیڈیٹ کے فزکس اور کیمسٹری جیسے مضامین کو کئی دہائیوں سے نہیں بدلا۔ کیا گزرتے دنوں کے ساتھ نصاب کی تبدیلی ضروری نہیں؟
اساتذہ:
سماجی و مذہبی طور پر معلم کا مقام اور مرتبہ کسی سے بھی ڈھکا چھپا نہیں۔ وہ معلم ہی ہیں جن کی دی ہوئی تعلیم کی لو سے ہی ترقی کے دیپ روشن ہوتے ہیں۔ معلم کا انتخاب ایک غیر معمولی اہمیت کا حامل کام ہے مگر ہمارے ہاں (خاص طور پر پرائمری سطح پر) تو یہ آسامی ان کو مل جاتی ہیں جنہیں نااہلی کی وجہ سے کوئی اور ملازمت نہیں مل پاتی۔
ہاں یہ سچ ہے کہ حال ہی میں صوبہ سندھ میں مقرر کیے جانے والے 19000 کے قریب اساتذہ میرٹ پر منتخب ہوئے جو کہ ایک قابل تعریف بات ہے مگر ماضی میں سیاسی اورسفارشوں سے بھرتی ہونے والے اساتذہ سے ہونے والے نقصان کا خمیازہ دو تین نسلیں بھگت رہی ہیں۔
بدقسمتی سے اگر کوئی استاد بہتر انداز میں تعلیم نہیں دیتا تو اس کے خلاف کسی قسم کی کارروائی کا کوئی منظم طریقہ کار موجود نہیں ہے اور اگر کارروائی ہوتی بھی ہے تو ہماری نام نہاد سول سوسائٹی اس استاد کی حمایت میں کھڑی ہو جاتی ہے اور انہیں آنے والی نسلوں سے زیادہ اس استاد کے چولہے کی فکر ہو جاتی ہے جس میں وہ ہماری آنے والی نسل کے مستقبل کو بطور ایندھن استعمال کر کے جلا رہا ہوتا ہے۔
پروفیشنل تربیت کیسے حاصل کریں؟
جو کچھ کلاسز میں بیٹھ کر نصاب میں پڑھ جاتا ہے، وہ عملی دنیا میں اس وقت تک کامیاب نہیں ہوتا جب تک کہ نصابی علم پر پریکٹس نہ کی جائے یا کم از کم ایسا ہوتے ہوئے نہ دیکھ لیا جائے۔
نصاب (یا تھیوری) تو ایک مقررہ حالات میں عملی کام (پریکٹیل) کرنے کا طریقہ سکھاتا ہے مگر اسی مضمون یا شعبے سے متعلقہ پروفیشنل شعبے میں حالات بدلتے رہتے ہیں اور ایک جیسے نہیں رہتے.
اس کی بڑی مثال انجینئرنگ کی ہے جہاں نصاب یا یونیورسٹی شعبے میں قائم ورکشاپ میں پریکٹیکل کروائے جاتے ہیں مگر وہاں جن حالات میں پریکٹیکل کروائے جاتے ہیں وہی حالات پروفیشنل دنیا میں نہیں ہوتے اور وہاں ایک ہی وقت میں ایک سے زائد چیزوں کا خیال رکھنا ہوتا ہے جس میں مہارت صرف اسی وقت حاصل ہو سکتی ہے جب تک کہ آپ پروفیشنل دنیا میں اس کام کو سرانجام ہوتا نہ دیکھیں۔
اس لیے طلباء کو ان کے شعبے سے متعلقہ کام عملی طور پر سمجھانے کے کئی مواقع فراہم کیے جاتے ہیں مگر ان میں دو سب سے اہم ہیں۔ ایک ہے انٹرن شپ اور دوسرا ہے اسٹڈی ٹورز۔
انٹرن شپ:
اکثر طالبعلم گریجوئیشن کے آخری سال میں انٹرن شپ کرتے ہیں۔ کتابی نصاب اور عملی کام میں موجود فرق کو سمجھنے کا یہ ایک بہترین موقع ہوتا ہے۔ عموماً طلباء آخری سال تک پہنچتے پہنچتے پڑھائی سے بیزار ہو چکے ہوتے ہیں اور پڑھتے بھی ہیں تو صرف امتحانوں میں پاس ہونے کے لیے، جبکہ یہ دونوں باتیں انٹرنشپ میں نہیں ہوتیں۔
اس کی وجہ یہ ہے کہ انٹرنشپ میں بتانے/سکھانے/سمجھانے والے کو اپنی معمول کی پیشہ ورانہ ذمہ داری کے ساتھ یہ ایک اضافی کام دیا جاتا ہے جو وہ اسی صورت میں بہتر انداز میں انجام دے گا اگر سیکھنے والا خود بھی دلچسپی رکھتا ہو ورنہ وہ جیسے تیسے صرف اپنا فرض پورا کرے گا۔ دراصل یہی وہ موقع ہے جب ہم تعلیمی نظام سے ذرا ہٹ کے کچھ سیکھ رہے ہوتے ہیں اور اپنی دلچسپی درکار ہوتی ہے۔
یہی وہ موقع ہوتا ہے جب طالب علم سمجھ سکتے ہیں کہ وہ جو پڑھ رہے ہیں یا پڑھ چکے ہیں وہ کتنا اہم ہے اور عملی زندگی میں اس کی کیا افادیت ہے۔ عملی کام کے لیے ایسا کیا کام ہے جو انہیں نصاب پڑھاتے وقت نہیں بتایا گیا تھا۔ یا پھر کوئی چیز جو انہیں کسی وجہ سے نہیں پڑھائی گئی مگر عملی کام کے لیے ضروری ہے اور اسے کلاسز میں روشنی ڈلوانا ضروری ہے۔ جیسا کہ سب کو معلوم ہے کہ یونیورسٹی سے ایک بار ڈگری لے کر نکلے تو پھر کوئی کچھ نہیں سکھائے گا۔ اگر طالبعلمی کے وقت ہی ایسی ضروری چیزوں کا علم ہو جائے تو سیکھنے کے کثیر مواقع دستیاب ہوتے ہیں۔
اسٹڈی ٹورز:
جن پر جامعات کے لاکھوں روپے خرچ ہوتے ہیں، وہ ایک پکنک ٹرپ تو بن جاتا ہے مگر طالبعلم تھوڑی سی دلچسپی لیں تو اسٹڈی ٹور صحیح معنوں میں ایک اسٹڈی ٹورہوگا اور اس طرح مذکورہ بالا باتیں بھی سیکھنے کو مل جائیں گی۔
اگر زیادہ کچھ نہیں تو بھی اسٹڈی ٹور کے دوران اس ادارے کا تعارف کروانے والے نمائندے سے یہ ضرور پوچھ لیں کہ آپ نے کہاں سے پڑھا ہے؟ آپ نے جو پڑھا وہ کتنا مددگار ثابت ہوا؟ ہمیں اگر یہاں کام کا موقع ملے تو آپ کیا تجویز کریں گے یا ہمیں یہاں آنے سے پہلے پڑھ یا سیکھ لینا چاہیے۔

You may also like this

29 April 2017

بچوں کے تعلیمی مسائل --- جیمس پاو -ترجمہ :محمد اویس سندھو

<p style="text-align: right;"><span style="font-size: 20px;">غلط رویّہ ذہنی بیماری نہیں ہے۔&l

admin
24 February 2017

مولانا ابوالکلام آزاد کے تعلیمی نظریات اور خدمات --- تحریر: شاہد خان

<div dir="auto" style="text-align: justify;"><span style="font-size: 24px;">مولانا ابوالکلام

admin
24 February 2017

ہندوستان کی قومی تعلیمی پالیسی کے بانی -- عبداللہ ولی بخش قادری

<p style="text-align: justify;"><span style="font-size: 24px;">ہماری جدوجہد آزادی کے سرکردہ

admin

Leave Comments

آج کی بات

انسان حالات کی پیداوار نہیں،حالات انسان کی پیداوارہوتے ہیں۔
{کتاب۔کوئی کام نا ممکن نہیں۔سے اقتباس}