شام میں جھڑپیں

داعش کے زیرقبضہ شامی قصبے الباب میں شدت پسندوں سے لڑائی کے دوران ترکی کے مزید 5 فوجی ہلاک اور 10 زخمی ہوگئے۔ 2 دنوں میں لڑائی کے دوران ترکی کے 10 فوجی مارے جا چکے ہیں۔ برطانوی خبررساں ادارے کے مطابق 3 ترک فوجی روسی طیاروں کی بمباری کے نتیجے میں مارے گئے ہیں جس پر روسی صدر پوتن نے ترک حکومت سے افسوس اور تعزیت کا اظہار کیا ہے۔ روسی طیارے الباب کے قریب داعش کی کمین گاہوں کو نشانہ بنا رہے تھے کہ ایک بم ایک ایسی عمارت کو جالگا جس میں داعش سے برسرپیکار ترک فوجیوں نے پوزیشن لے رکھی تھی۔ دریں اثنا جنوب سے شامی فوج بھی الباب کے قریب پہنچ گئی ہے۔
 اس طرح الباب کے ایک طرف ترک فوج اور اس کے حمایت یافتہ جنگجو ہیں جبکہ دوسری جانب شامی فوج ہے اور یہ دونوں الباب قصبے میں موجود داعش جنگجوئوں سے برسرپیکار ہیں۔ دریں اثنا شامی شہر حمص میں باغیوں کے زیرقبضہ ایک علاقے پر فضائی بمباری کے نتیجے میں 9 شہری ہلاک ہو گئے۔ قیاس کیاجاتا ہے کہ حمص کے علاقے الوائر میں یہ حملے ممکنہ طور پر شامی یا روسی طیاروں کی کارروائی تھی۔ ادھر امریکی محکمہ دفاع کا کہنا ہے کہ شامی شہر ادلب کے قریب امریکا کی دو فضائی کارروائیوں میں القاعدہ کے 11 ارکان ہلاک ہو گئے ہیں جن میں اسامہ بن لادن کا ایک سابق ساتھی بھی شامل ہے۔
 پینٹاگان کے ترجمان کیپٹن چیف ڈیوس کا کہنا ہے کہ 3 فروری کو ہونے والی ایک کارروائی میں دس افراد ہلاک ہوئے۔ ترجمان کا کہنا تھا کہ چار فروری کو ہونے والی دوسری فضائی کارروائی میں ابو ہانی المصری ہلاک ہوئے جن کے اسامہ بن لادن کے ساتھ قریبی تعلقات تھے۔
 ابو ہانی المصری کے بارے میں کہا جاتا ہے انھوں نے 1980 اور 1990 کی دہائی میں افغانستان میں القاعدہ کے تربیتی کیمپس تعمیر کیے تھے۔ سنہ2011 میں امریکی فوج کے ہاتھوں اسامہ بن لادن کی ہلاکت کے بعد القاعدہ کے نئے سربراہ ایمن الزواہری کے ساتھ بھی ان کے قریبی تعلقات تھے۔ کیپٹن ڈیوس کا کہنا تھا کہ ان فضائی حملوں نے القاعدہ کی امریکا اور اس کے دنیا بھر میں مفادات پر حملوں کی منصوبہ بندی اور براہ راست حملوں کی صلاحیت کو نقصان پہنچایا ہے۔ علاوہ ازیں سعودی وزیر خارجہ عادل الجبیرنے کہا ہے کہ سعودی ترکی کوآرڈی نیشن کونسل کا پہلا اجلاس تعمیری اور مفید رہا۔ دوسری جانب انقرہ میں اپنے ترک ہم منصب کے ساتھ پریس کانفرنس میں الجبیر نے بتایا کہ شام کی یکجہتی اور خود مختاری کو برقرار رکھنا چاہتے ہیں۔

Leave Comments

آج کی بات

انسان حالات کی پیداوار نہیں،حالات انسان کی پیداوارہوتے ہیں۔
{کتاب۔کوئی کام نا ممکن نہیں۔سے اقتباس}