پاکستان ترقی کیسےکرسکتاہے ۔۔۔ صہیب مرغوب

سوال: کیا بیرون ملک ترقی کے مواقع بہت زیادہ ہیں۔ جو خالی ہاتھ جانے والا محمود بھٹی اتنا بڑا مقام بنانے میں کامیاب ہوگیا؟
محمود بھٹی:۔ اللہ تعالیٰ نے ہر انسان کو دو ہاتھ اور ایک ذہن دیا ہے۔ اپنے رب کریم کی ان نعمتوں کو استعمال کرنے والے دنیا میں بہت مقام حاصل کرتے ہیں۔ میں یہاں سے خالی ہاتھ پیرس گیا تھا، میرے پاس ایک ٹیڈی پیسہ نہیں تھا۔ میری بیگم جب پہلی مرتبہ پاکستان آئی تو اس نے کہا کہ ’’مجھے وہ جگہ دکھائو جہاں تم دعا مانگا کرتے تھے‘‘۔ میں اسے لے کر داتا دربار گیا۔ وہاں ایک چھوٹا سا بچہ، میلے کچیلے کپڑوں میں پھررہا تھا۔ میں نے کہا کہ یہ میرا بچپن ہے۔ اسی جیسے میرے کپڑے تھے۔ میرے والدین فوت ہوچکے تھے۔ میں تو صرف ایف اے پاس تھا۔ بی اے کرنے کے پیسے نہ تھے۔ فرانس میں شدید سردی تھی جس سے بچنے کے لئے میں لنڈے سے ایک کوٹ لے کر گیا تھا۔ یہی پہن کر میں میٹرو میں سوتا رہا، برفانی سردی میں جوتوں کے سوراخوں میں سردی کی چبھن محسوس ہوتی۔ ساری رات ٹھٹھرتے ٹھٹھرتے گزرتی۔لوگوں کا بچا کھچا کھانا کھاتا۔ ایک دوسست کے ساتھ فلیٹ میں ٹھہرا مگر وہاں اپنے ساتھ کسی دوسرے کو ٹھہرے کی ممانعت ہے اس لئے دو دن بعد انتظامیہ کے کہنے پر نکال دیا گیا۔ ایک پاکستانی ٹرک ڈرائیور نے مجھے کام دلوایا، کپڑے کے بھاری بنڈل چھٹی منزل تک لے جانا پڑتے تھے۔ شام کے وقت وہ ڈرائیور پیسے دئیے بغیر رفوچکر ہوگیا۔ میں سوچتا رہا کہ یہ میرے ساتھ کیا ہوگیا۔ لیکن ہمت نہ ہاری۔ ایک گارمنٹس شاپ میں صفائی شروع کی۔ ساتھ ساتھ دکاندار کو بھی سٹڈی کرتا رہا، یہ کس طرح آرڈر لیتا ہے اور سپلائی کس طرح دیتا ہے۔ میں جس چیز کو دیکھتا ہوں اسے سٹڈی کرتا ہوں، میں نے کٹنگ کی مگر کٹنگ کا کوئی کورس نہیں کیا سب کچھ دیکھ کر سیکھا۔ زندگی کا تجربہ تعلیم پر حاوی رہتا ہے۔ اس کا کوئی نعم البدل نہیں۔ حتی کہ دوران سفر کے بھی لوگوں سٹڈی کرتا رہتا ہوں۔ پھرایک روز میں سیلز مین سے اونر بن گیا۔ دو سال محنت کے بعد میں نے اپنا کام شروع کیا چوبیس چوبیس گھنٹے کام میں سرکھپایا۔میرا اصل نام 1985ء میں بننا شروع کیا۔ پیسے کمانے کے بعد بھی میں نے محنت ترقی نہ کی، کبھی چھٹی نہیں کی۔ آفس میں لوگ چھٹیوں پررہتے تھے مگر میں صرف کام،کام اور صرف کام پر دھیان دیتا۔ مجھے پتہ تھا کہ اگر ایک بزنس تباہ ہوجائے تو ا نسان کہیں کا نہیں رہتا، اس لئے میں نے صرف فیشن پرتوجہ نہیں دی بلکہ کئی کام شروع کئے، اسی لئے میں بچ گیا۔ یورپ کی فیشن انڈسٹری چین نے تباہ کردی ہے۔ سستی ترین فیشن مصنوعات نے یورپی منڈیوں پر قبضہ کرلیا ہے۔ میں اگر صرف فیشن پر دھیان دیتا تو آج میرے پاس کھانے کو پیسے نہ ہوتے۔
سوال:۔ چین نے مارکیٹوں پرکیسے قبضہ کرلیا؟
محمود بھٹی:۔کوئی کوٹ اگر یورپ میں100ڈالر کا ہے تو چینی اسی کو کو10ڈالر میں بیچ دیں گے۔ چین میں بجلی سستی ہے ، اوورہیڈ اخراجات کم ہیں اس لئے وہ سستی مصنوعات فروخت کرسکتے ہیں۔ یورپ میں ٹیکسز بہت زیادہ ہیں۔
سوال:۔ کیا یورپ میں پاکستانیوں کے لئے بھی اتنے مواقع موجود ہیں؟
محمود بھٹی:۔یورپ میں سب کے لئے یکسر مواقع موجود ہیں۔ شرط صرف محنت اور ایمانداری کی ہے۔ فرانس میں سب سے خوبصورت نادر میرا جس پر بڑا سا’’بھٹی‘‘ لکھا ہے۔ یہ پوری منڈی یہودیوں کے کنٹرول میں ہے لیکن اس پوری مارکیٹ میں ایک مسلمان نے پنے لئے بہت جگہ بنائی۔ ضرورت صرف معاہدوں پر عمل کرنے کی ہے۔ ایک دفعہ جو زبان دی، اس پر عمل کیا۔ کپڑا سینے، بیچنے والے اور خریدنے والے یہودی تھے۔ بینک بھی ان ہی کے پاس تھے۔ تمام مذاہب کے لوگوں نے میرے ساتھ وعدے نبھائے۔ میں بھی اپنی زبان پرپورا اترا۔ صرف فون پر ہی کروڑوں کے آرڈر دئیے۔ اسی اعتبار نے مجھے یورپ میں بہت مقام دیا ہے۔ اب 66ممالک میں میرے دفاتر ہیں۔ مجھ پر وہاں تین فلمیں بنیں۔ میں نے ٹی وی پروگرامز بھی کئے۔
سوال:۔ کیا چوبیس گھنٹے کام کرنا ممکن ہے؟
محمود بھٹی:۔بالکل ،یہاں بھی میں چوبیس گھنٹے سے کام کررہا ہوں۔ مالی سے لے کر کک تک ہر آدمی سے رابطے میں ہوں اور انہیں بتارہا ہوں کہ کیسے کام کرنا ہے۔ لوگوں سے ملاقات کے علاوہ ہسپتال میں بھی ملاقاتیں رکھی ہیں۔ سب سے زیادہ محنت مجھے ہی کرنا پڑتی ہے کیونکہ میں مالک ہوں۔ ٹیم بھی اس وقت کام کرتی ہے جب مالک کام کرے۔ میں نے اپنی زندگی میں کبھی کسی کا مال نہیں دبایا، کبھی حرام نہیں کھایا۔ میں جب بھی پاکستان آتا ہوں پاکستان سے جانے لگتا ہوں تو ہم دونوں میاں بیوی داتا دربار ضر ضرورحاضری دیتے ہیں۔ یہ ہماری سالہا سال سے روٹین بنی ہوئی ہے۔ ہم دونوں دربار پر گڑگڑا کر اللہ تعالی کے حضور دعا کرتے ہیں کہ وہ مجھے رزق حلال کمانے کی توفیق عطا فرمائے۔ ہم دونوں اللہ تعالیٰ کے حضور سیدھے راستے پر چلنے کی دعائیں مانگتے ہیں۔ مگر لاہورمیں میرے اوپر چوری کا پرچہ کروادیا گیا ۔ میں نے جس شخص کو فارمیسی کرائے پر دی تھی وہ کسی او رکو دے کر چلا گیا، بیس تیس انجان لوگ، غیر قانونی طور پر اسے چلارہے تھے۔ انہوں نے ایک سال سے کرایہ بھی نہیں دیا۔ جب میں نے ان سے پوچھا کہ آپ کون ہیں۔ میں نے بیس سال میں آپ کی شکل نہیں دیکھی، یہاں سے چلے جائیں۔ وکیل نے انہیں حکم امتناعی لے دیا، پولیس بھی ان کے ساتھ کھڑی ہوگئی۔ جب میں نے فارمیسی خالی کرنے کو کہا تو ایس ایچ او نے ان کی درخواست پر مجھ سے بات کئے بغیر میرے اوپر25ہزار روپے کی چوری کا پرچہ بنادیا۔ حالانکہ میں اس وقت میں پیرس میں مقیم تھا۔ میں نے حیران ہوکر پوچھا کہ کیا آپ ہسپتال کو سیل بھی کرسکتے ہیں؟ تو ایس ایچ او نے جواب دیا کہ ہاں سیل بھی کرسکتے ہیں۔ یہ تو میں نے پہلی دفعہ ہی سنا کہ ملک کی پولیس ہسپتال کوسیل بھی کرسکتی ہے۔ ڈیڑھ دوسو مریض بستروں پر زیر علاج ہیں، اورایس ایچ او ہسپتال سیل کرنے کی دھمکی دے رہا تھا۔میں نے ایک افسر سے بات کی تو انہوںنے بھی یہی کہا کہ اگر آپ نے صلح نہ کی تو’’ہم سب کو پکڑ کر اندر کردیں گے۔ ہم آپ کو بھی گرفتار کرلیں گے‘‘ اب میں لاہور میں کم ازکم5ارب روپے سے ایک بڑی یونیورسٹی بنانا چاہتا ہوں۔ میرا تمام سرمایہ بینکنگ ذرائع سے آیا ہے۔
میں نے ایک ایک روپے پر ٹیکس دیا ہے تو اب کیا میں یہاں آکر25ہزار روپے کی دوائیں چوری کروں گا۔ ایک ایس ایچ او کی ان حرکتوں سے پاکستان میں سرمایہ کاری کا ماحول خراب ہورہا ہے اور اربوں روپے کی سرمایہ کاری واپس بھی جاسکتی ہے۔ میں نے بیرون ملک مقیم پاکستانیوں کو یہاں سرمایہ کاری کرنے کی ترغیب دی۔ یونیورسٹی کے پلاٹ کو محفوظ بنانے کے لئے صرف چار دیواری پر دس کروڑ روپے خرچ کئے، اگر پولیس قبضہ گروپوں کو قابو کرلیتی تو یہ دس کروڑ روپے میں عوام کی فلاح وبہبود پر خرچ کرتا۔ میں یہاں کئی رفاعی منصوبے چلارہا ہوں مگر ان کے بارے میں بتانہیں سکتا۔ مجھے عام آدمی کی فکر ہے۔ یہ لوگ دن رات محنت ومشقت کرکے جب چھوٹا سا مکان بناتے ہیں تو قبضہ گروپ ان کی جمع پونجی ہتھیانے کے لئے آجاتا ہے۔ میں ان لوگوں کو قبضہ گروپ سے بچانے کے لئے کام کرنا چاہتا ہوں۔
میں یہ واقعہ وزیراعظم کے علم میں لائوں گا کہ رات کے بارہ بجے ایک ایس ایچ او ہسپتال سیل کرنے کی دھمکی دیتا ہے تو اس کا سرمایہ کاری پر کیا اثر پڑے گا۔ مجھے سیاست شوق نہیں، میں نے یونیورسٹی کے لئے پلاٹ بھی نہیں لینا۔ میں اپنی یونیورسٹی آج کل میں بنانا شروع کردیتا مگر ایک ایس ایچ او آڑے آگیا ہے۔ مجھے ملک سے بہت پیار ہے اسی لئے میں پاکستان میں سرمایہ لارہا ہوں حالانکہ لوگ پاکستان سے سرمایہ باہر لے جارہے ہیں۔ میں تو پاکستان میں چالیس سال سے فائیو سٹار ہوٹلوں میںٹھہر رہا ہوں۔ اب اپنا مکان اسی لئے بنایا ہے کہ یہاں رہناچاہتا ہوں۔ میں نے بچوں کو تربیت دینی ہے۔ لاہور کا فیشن سکول بھی میں نے ہی بنایا ہے۔ پانی صاف کرنے کے لئے میں فرانسیسی سرمایہ کاروں کو پاکستان لایا، ایک سرمایہ کار بیس ارب روپے لگانا چاہتے تھے۔ صاف پانی کے لئے فرانسیسی حکومت بھی ایڈ دے رہی تھی۔
سوال:۔ٹرمپ کے آنے کے بعد دنیا بہت بدل گئی ہے۔ کیا آپ پاکستانیوں کویورپ جانے کا مشورہ دیں گے؟
محمود بھٹی:۔یہ ٹھیک ہے، یورپ کے حالات پہلے جیسے نہیں رہے۔ مگر جنتی محنت پاکستانی یورپ میں کرتے ہیں اتنی پاکستان میں کریں تو آپ محنت کرکے یہاں بھی یورپ جتنی ترقی کرسکتے ہیں۔ پاکستانی معیشت یورپ سے بہتر ہے۔ یورپ کی معیشت باہرسے بہتر نظر آرہی ہے اندر سے خراب ہے۔ پاکستان کی صورت حال باہر سے خراب اوراندر سے بہتر ہے۔ پراپرٹی کا بزنس ہی دیکھ لیں، 10لاکھ روپے کا پلاٹ چد سال میں ایک کروڑ کا ہوجاتا ہے۔ سمجھ نہیں آتی کہ اتنا سرمایہ کہاں سے آرہا ہے۔ یورپ میں تو چھوٹا سا گھر بنانے کے لئے قرضہ لینا پڑتا ہے جو بیس سال تک ادا کرتے رہتے ہیں مگر یہاں آپ چند سال کی محنت کے بعد اپنا ذاتی گھر بناسکتے ہیں۔
سوال:۔ آپ پر جو چوری کا پرچہ ہوا، کیا اس کی روشنی میں آپ کہہ سکتے ہیںکہ یہاں سرمایہ کاری کا ماحول سازگار ہے؟
محمود بھٹی:۔ یہاں اوورسیز پاکستانیوں کے لئے قبضہ گروپ انتہائی نقصان ہے۔ بعض پولیس افسران قبضہ گروپ سے ملے ہوئے ہیں۔ مجھے پتہ ہی نہیں تھا کہ یہاں قبضہ گروپ بہت موثر ہے۔ قبضہ گروپ کی ایک درخواست پر بعض پولیس والے کارروائی کرتے ہیں۔
سوال:۔ ہر بڑے آدمی کے پیچھے عورت ہوتی ہے ۔ کیا آپ کے پیچھے بھی بیگم ہیں؟
محمود بھٹی:۔ بالکل یہ ہرکام میں مجھے رہنمائی مہیاکرتی ہیں۔ بیگم میرے ساتھ پاکستان رہنے پر راضی ہیں۔ ابھی انہیں کوئی بات سمجھ نہیں آرہی لیکن وہ میرے ساتھ بیٹھی ہوئی ہیں۔

Leave Comments

آج کی بات

انسان حالات کی پیداوار نہیں،حالات انسان کی پیداوارہوتے ہیں۔
{کتاب۔کوئی کام نا ممکن نہیں۔سے اقتباس}