لاہور انٹرنیشنل بُک فیئر، ایک مضبوط پاکستان کی علامت — فرخ سہیل گوئندی

لاہور، برصغیر کے اُن شہروں میں سرِفہرست ہے، جن کے بارے میں یہ کہا جائے تو غلط نہ ہوگا کہ ایسے شہر کسی بھی قوم، ملک اور سماج کی فکری، ادبی اور علمی آکسیجن ہوتے ہیں۔ اس حوالے سے لاہور، برصغیر کے شہروں میں سرِفہرست ہے۔ تقسیم ِ ہند سے قبل اور بعد بھی، لاہور نے اپنی اس شناخت کو برقرار رکھا۔ آج بھی لاہور ہی پاکستان کا ادبی، علمی، فکری اور سیاسی مرکز ہے۔ اسی شہر میں علامہ اقبالؒ جیسے مفکر کے علم کو جِلا ملی اور وہ برصغیر کی سرحدوں کے پار دنیا بھر میں متعارف ہوئے۔ اسی شہر میں قائداعظمؒ محمد علی جناح نے 23مارچ 1940ء کو قراردادِ لاہور کے ذریعے مسلمانانِ برصغیر کے حقوق کے حصول اور آزادی کی بنیاد رکھی۔ صوفیائے کرام کا یہ شہر کہ جہاں حضرت علی ہجویریؒ سے لے کر شاہ حسینؒ تک کئی صوفیا مدفون ہیں، اپنی منفرد شناخت رکھتا ہے۔ یہاں کے میلوں کی بھی پورے خطے میں شہرت رہی ہے۔ ایک پنجابی کہاوت میں اس شہر کی زندگی و زندہ دلی کے حوالے سے لاجواب تعریف کی گئی ہے۔ سَت دن تے اَٹھ میلے، میں گھار جاواں کیہڑے ویلے۔ یعنی سات دن اورآٹھ میلے ، میں گھر جائوں کس وقت۔ اب انہی میلوں میں کتاب میلوں نے بھی اپنا رنگ جمانا شروع کردیا ہے۔ مختلف یونیورسٹیاں، وکلا تنظیمیں، سیاسی تنظیمیں، علمی وادبی تنظیمیں سال بھر کتاب میلوں کا انعقاد کرتی ہیں جن میں سرفہرست لاہور انٹرنیشنل بُک فیئر ہے جو اس برس 2فروری سے 6فروری 2017ء منعقد ہوکر اپنے اکتیس سال پورے کرے گا۔ تین دہائیوں سے اس کے منتظمین جن میں سلیم ملک صاحب اور زبیرسعید صاحب سرفہرست ہیں، اس میلے کا اہتمام بڑی شان وشوکت اور پروفیشنل انداز میں کرتے ہیں۔ اس پر یقینا ریاست پاکستان کو غور کرنا چاہیے کہ ان کتاب دوستوں نے کس قدر جانفشانی سے تین دہائیوں سے اس بُک فیئر کا بیڑا اٹھا رکھا ہے۔ یہ دونوں منتظمین کتابوں کو جدید تقاضوں کے مطابق جس شان دار طریقے سے پروموٹ کرنے کا کارنامۂ مسلسل کررہے ہیں، اس پر وہ قومی اعزاز کے حق دار ہیں۔

لاہور انٹرنیشنل بُک فیئر اب پاکستان کے بڑے ایونٹس میں سرفہرست ہے۔ یہ بُک فیئر، لاہور کے اِن سپوتوں کا سراسر ذاتی Initiative ہے۔ وہ سال بھر تیاری کرتے ہیں اور پھر میلہ برپا کرکے ثابت کر دیتے ہیں کہ آج بھی لاہور سب سے آگے ہے۔نئے سال کی آمد کے ساتھ لاہور میں میلوں کا آغاز فروری سے ہوجاتا ہے۔ اور دلچسپ بات یہ ہے کہ میلہ بھی کتابوں کا! جس میں عالمی معیار کے مطابق ملک بھر سے سینکڑوں اور دنیا سے درجنوں پبلشرز شامل ہوتے ہیں۔
ایک ایسی ریاست جس کو مغربی دنیا میں ناکام ریاست قرار دیا جاتا ہے، وہاں پر ایسے کتاب میلے مغربی دنیا کے مفکروں کو حیران کردیتے ہیں۔ چندسال قبل یورپ کی ایک کانفرنس میں پاکستان اس حوالے سے زیربحث تھا کہ پاکستان نہ صرف ایک ناکام ریاست ہے بلکہ اب بکھری کہ بکھری۔ اور یہ کہ یہ ریاست دہشت گردوں اور درندوں کے ہاتھوں زیر ہوجائے گی۔ لیکن ایک مغربی مفکر ہی نے سارے سامعین کو وہ حقائق بتلائے جس نے ہال میں موجود تمام حاضرین کو سوچنے پر مجبور کردیا کہ یہ تصور سراسر غلط ہے کہ پاکستان ایک ناکام ریاست ہے۔ اس مغربی دانشور خاتون نے اس حوالے سے جو حقائق پیش کیے ، اُن میں صوفیائے کرام کے میلے، پاکستانی نوجوانوں کا عالمی سطح پر آئی ٹی میں کردار، خواتین کا عملی سیاست میں ابھرتا ہوا اور بڑا کردار اور دیگر حقائق کے ساتھ لاہور انٹرنیشنل بُک فیئر سمیت دیگر بُک فیئرز کی مثالیں تھیں کہ ایسے کتاب میلے ناکام ریاستوں میں برپا نہیں ہوا کرتے۔ اُن خاتون نے کہا کہ میں نے جب لاہور بُک فیئر میں مردوخواتین اور بچوں کو تھیلوں کے تھیلے بھر کر کتابیں خریدنے کے بعد لے جاتے ہوئے دیکھا تو میرے دماغ میں یہ سوال ابھرا کہ کیا ایسا کسی ناکام قوم میں ممکن ہے؟ اس خاتون نے کہا کہ ایسی قوم یقینا کسی شان دار مستقبل کی تلاش میں ہے۔ اسی لیے تو کتابوں کے رسیا ان کتاب میلوں میں اپنی کمائی کا بڑا حصہ خرچ کرکے دھڑادھڑ کتابیں خریدتے اور اپنے گھروں اور دفتروں میں لے جاتے ہیں۔ ایک ایسی ریاست اور سماج جہاں کتاب بینی اور کتاب دوستی زندہ ہو، ناکام نہیں ہوسکتا۔
لاہور انٹرنیشنل بُک فیئردرحقیقت پورے ملک میں کتاب میلوں کی روایت کا بانی ہے۔ تیس برسوں سے جاری اس مسلسل عمل کا ایک ثمرآور نتیجہ یہ نکلا کہ اب ملک بھر میں مختلف ادارے، ایسے کتاب میلے اور ادبی میلے برپا کرتے ہیں۔ حتیٰ کہ فیصل آباد جیسے صنعتی شہر میں بھی جہاں سرمائے کی طاقت کو ہی بڑی طاقت سمجھا جاتا ہے۔ اس طرح اس کتاب میلے نے ایک طرف جہاں مثبت قدم اٹھانے میں دوسروں کی حوصلہ افزائی کی ،تو دوسری طرف لاہور کے میلوں کی روایت میں خوش کن اضافہ کیا ہے۔
اگلے ہفتے 2سے 6فروری تک سجنے والا یہ کتاب میلہ، جمہوری سماج میں ادبی، علمی اور فکری آبیاری میں اپنا کردار ادا کرے گا۔ ان پانچ روز میں نہ صرف بے شمار لاہوری بلکہ دوسرے شہروں سے خصوصی طور پر آنے والے کتاب دوست لوگ اس میلے میں شریک ہوں گے، وہ کسی بھی طرح مغربی میڈیا کے لیے ایک حیران کن خبر ہوگی۔ شاید وہ ان خبروں کو جان بوجھ کر اپنے عوام سے اوجھل رکھنا چاہتے ہیں۔ یہاں پر تاریخ، فلسفہ، سیاسیات، عالمی امور، سائنسی علوم، مذہب، جغرافیہ، بچوں کی کتب، ادب، شاعری اور ہر طرح کے موضوعات پر کتب دستیاب ہوتی ہیں۔ ایسے متنوع موضوعات کا مطالعہ کرنے والے اس کتاب میلے میں شریک ہرعمر کے یہ لوگ ایک ایسے پاکستان کے عکاس ہیںجس کے بارے میں یہ کہنا غلط نہ ہوگا۔۔۔ جدید، جمہوری، ترقی یافتہ اور فکری طور پر مضبوط پاکستان۔ ایک زندہ قوم کی اس سے بڑی نشانی کیا ہوگی کہ جہاں سال کا آغاز کتاب میلوں سے ہو۔

Leave Comments

آج کی بات

انسان حالات کی پیداوار نہیں،حالات انسان کی پیداوارہوتے ہیں۔
{کتاب۔کوئی کام نا ممکن نہیں۔سے اقتباس}