تقریب رونمائی -سوانح شاہ عبدالرحیم رائے پوری — انیس احمد سجاد

آج پاکستان  کے لوگوں کو ایک وحدت فکری کی ضرورت ہے اور اس امر کی انتہایٗ اہمیت ہے کہ نوجوان نسل کو تحریک آزادی کے رہنماوؑں کا تعارف اور ان کی سیرت و کرداراور جدوجہد سے روشناس کروایا جاےٗ۔۔ زندہ قومیں اپنے رہنماوٗں کو نہ صرف خراج عقیدت پیش کرتی ہیں بلکہ اپنی نوجوان نسل کو ان لیڈروں کی جدوجہد آزادی سے جوڑ کر کی ان کردار سازی میں مدد بھی لیتی ہے۔

ان خیالات کا اظہار رحیمیہ انسٹیٹیوٹ آف قرآنک سائنسز لاہور کے ڈائریکٹر جنرل اور خانقاہ عالیہ رائے پور کے صدر نشین مفتی عبدالخالق آزاد راےٗ پوری نے  آج اپنی تصنیف کردہ کتاب سوانح حضرت شاہ عبدالرحیم راےٗ پوری کی تقریب رونمایٗ میں کیا۔

اس تقریب کا انعقاد انسٹی ٹیوٹ کے شعبہ تعلقاتِ عامہ نے قائد ِاعظم پبلک لائبریری کے تعاون سے کیا تھا۔ کتاب کے پس منظر کا ذکر کرتے ہوئے مصنف کا کہنا تھا کہ خانقاہ عالیہ رائے پور کے بانی صدر نشین حضرت عبدالرحیم راےٗ پوری کی وفات کو ایک صدی بیت گئی، لیکن تحریک آزادی، شریعت، تصوف اور سیاست میں ان کی خدمات پر کویٗ جامع کتاب موجود نہ تھی۔ انہوں نے بتایا کہ اس کتاب کی تصنیف کے سلسلے میں انہوں نے برصغیر پاک و ہند کی تمام لائبریریوں کو کھنگالا ۔ صاحب کتاب نے بتایا کہ حضرت راے پوری رح کی زندگی و جد جہد برطانوی راج کے خلاف اور دین کی جامعیت کو لیے ہوئے تھی انہوں نے مسلمانان برصغیر کو انسانیت اور خوددار قومیت کی بنیاد پر جدوجہد کے لیے ابھارا۔

تقریب سے خطاب کرتے ہوے بہاوالدین زکریا یونیورسٹی ملتان کے پروفیسر ڈاکٹر سعیدالرحمن نے کہا کہ یہ کتاب ایک شخصیت کا نہیں بلکہ پوری تحریک آزادی کا تعارف کرواتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ حضرت راےٗ پوری نے ۱۸۵۷ کی جنگ آزادی کے بعد اس مشکل دور میں کام کیا کہ جب ظالم انگریز طاقت کے خلاف کویٗ آواز حق اٹھانے کی جرات نہ کرتا تھا۔ وہ تحریکِ ریشمی رومال کے منصوبہ ساز قائدین میں سے تھے۔ تقریب سے خطاب کرتے ہوے رحیمیہ انسٹیٹیوٹ کے صدر مفتی عبدالمتین نعمانی نے کہا کہ اس کتاب کو پڑھنے  سے اندازہ ہوتا ہے کہ سیاست معیشت اور مذہب کی بنیاد پر  جامع دینی جدوجہد کس طرح کی جاتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ  انگریز نے ہماری عبادت پر پابندی عایٗد نہیں کی تھی لیکن اس نے ہمیں سیاسی معاشی اور سماجی طور پر غلام بنایا اور اس غلامی کے خلاف حضرت راےٗ پوری کی جدوجہد نا صرف اپنی مثال آپ ہے بلکہ آج کے نوجوانوں کے لیے بھی مشعل راہ ہے۔

تقریب سے خطاب کرتے ہوےٗ ادارہ رحیمیہ پشاور کیمپس کے ڈائریکٹر  مولانا محمدمختار حسن نے کہا کہ شاہ عبدالرحیم راےٗ پوری پر اس طرح کی جامع کتاب ملک کے سنجیدہ طبقوں کے لیے نہایت مفید ثابت ہو گی۔ انہوں نے بتایا کہ حضرت  شیخ الہند مولانا محمودحسن اپنے ترجمہ قرآن میں حضرت رائے پوری سے مشورہ کرتے تھے. حضرت راے پوری کو دین کے تمام شعبوں پر عبور حاصل تھا چنانچہ انھوں نے ایک موقع پر تصوف کی وضاحت کرتے ہوئے فرمایا  تھا کہ تصوف کا ابتدائی درجہ تصحیح نیت ہے اور اعلی درجہ دینی فقاہت ہے .انہوں نے کہا کہ یورپ کے مونٹیسوری کے نظام سے بہت پہلے حضرت رائے پوری نے مکاتیب قرآنیہ کے قیام کا سلسلہ پورے برصغیر میں شروع کروایا اور ان کا یہ خیال تھا کہ مسلمان بچوں کی تعلیم کا آغاز قرآن کی تعلیم سے ہونا چاہیے۔

تقریب سے خطاب کرتے ہوےٗ پروفیسر امجد علی شاکر نے کہا کہ حضرت شاہ عبدالرحیم  رائے پوری  حضرت حاجی امداداللہ مہاجر مکی، حضرت مولانا رشیداحمد گنگوہی حضرت مولانا محمدقاسم نانوتوی کے جامع ہیں اور  حضرت راےٗ پوری رح کی شخصیت سیاست شریعت اور تصوف کی جامعیت کو اپنے اندر سموےٗ ہوےٗ تھی .

تقریب سے اردو دائرۃ المعارف پنجاب یونیورسٹی کے سابق چیئرمین پروفیسر ڈاکٹر محمود الحسن عارف نے خطاب کرتے ہوےٗ کہا کہ انگریز نے ہندوستان میں دو مسئلے پیدا کیے ایک طرف تو اس نے ہمیں غلام بنایا اور دوسرا ہمارے مذہب اور ہماری تاریخ کو بگاڑنے کی کوشش کی۔ انہوں نے کہا کہ یہ حضرت راےٗ پوری اور ان کے زیر سایہ چلنے والی تحریکات تھیں جنہوں نے انگریز کو ان دونوں محاذوں پر شکست دی۔   اس موقع پر ڈی جی پنجاب پبلک لائبریریز ڈاکٹر ظہیر احمد بابر نے اس طرح کی تقریبات کے انعقاد کا خیرمقدم کرتے ہوئے کہا کہ جدجہد آزادی میں جن رہنماوٗں نے حقیقی کردار ادا کیا ہے ان سے متعلقہ مواد کی فراہمی اور کتب کی اشاعت وقت کی اہم ترین ضرورت اور قوم کی تشکیل نو کے لیے نا گزیر ہیں اور قائد اعظم پبلک لائبریری کی انتظامیہ ایسی تمام علمی کاوشوں کو قدر کی نگاہ سے دیکھتی ہے۔
پروگرام کی نظامت پروفیسر شاہ زیب خان نے سر انجام دی۔

People Comments (1)

  • M. Abbas Shad February 3, 2017 at 1:59 am

    انیس صاحب ماشاءاللہ آپ نے بہت عمدہ رپورٹ لکھی ہے.

Leave Comments

آج کی بات

انسان حالات کی پیداوار نہیں،حالات انسان کی پیداوارہوتے ہیں۔
{کتاب۔کوئی کام نا ممکن نہیں۔سے اقتباس}