جمعیت کی سیاست—احمد رشید

جمعیت علماء اسلام کا فاٹا کو الگ صوبہ بنانے کے حوالے احتجاج دیکھ کرخوشگوار حیرت ہوئ کہ شکر ہے اس جماعت کی طرف سے مسلم امہ کے چورن اور انٹرنیشنل ٹھیکیداری کی 12 بور بندوقوں سے جاری ہوائ فائرنگ بند ہوئ اور زمینین حقائق کی حامل قومی سیاست کی جھلک نظر آئ ۔ جس سے صوبہ ہزارہ وانتظامی بنیاد پر مزید صوبے بناے جانے کی تمام تحریکوں کو تقویت ملنے کا امکان ہے ۔اگر جمیعت کی جانب سے کوئ وقتی بلیک میلنگ یا ایف سی آرکے تناظر میں کسی ذاتی رنجش کا معاملہ نہ ہو ا ان مظاہروں کے پیچھے تو ۔ کیونکہ فاٹا میں جاری غیر ملکی مجاہدین کےخلاف آپریشن پے جمعیت کے اعتراضات اور شبہات وقتا فوقتا سامنے آتے رہے ہیں ۔

جومسلم امہ کےاسی چورن پر قبائلی علاقوں میں جمع ہوگئے تھے۔۔ کاش کے جمعیت مولنا ہزاروی کے دور سیاست کو قائم رکھ پاتی تو آج ملکی سیاست میں ایک بہترین انسان دوست مذھبی سیاسی جماعت کا وجود عام مسلمانوں کی راہنمائ کا فریضہ پوراکرنے کیلیے میدا ن میں موجود ہوتا ، مگر افسوس کہ اکابر علماء کی راۓ کے برعکس مفاداتی سیاست کے ماہرین کے جماعت پرتسلط سے محض جماعت اسلامی اور اس قبیل کی دیگر رجعت پسند جماعتوں کا دم چھلا بننے کے ساتھ ساتھ عام عوامی مقبولیت کھو چکی ہے۔ کسی بھی عالم سے اس سلسلہ میں بات کا ایک ہی بچگانہ جواب پاکر انتہائ مایوسی ہوتی ہے ۔ جو ہر حالت میں مولانا کے برسر اقتدار جماعت سے ذاتی الحاق کو ان کی دور اندیشی گردانتے ہوے ایک ہی بات رٹ رہے ہوتے ہیں کہ دیکھیں جی مولانا اسمبلی میں نہ ہوے تو دیگر برسر اقتدار جماعتوں کے اسلام منافی قوانین کی روک تھام ناممکن ہے ۔ گویا کہ مولانا صاحب پاکستان میں اسلام کی حفاظت کی واحد بکتر بند ہیں جن کا اسلام آباد پارلیمنٹ لاجزکی سڑکوں پر دوڑتے رہنا از حد ضروری ہے ۔

اس قسم کے مبہم اور ذاتی سوچ پر مبنی سیاسی کردار نے آج پاکستان میں موجود تمام سیاسی جماعتوں کے کردار کو آلودہ کر رکھا ہے ۔ کہ جنکی تمام تر ترجیحات ایسے مسائل کی نشاندہی و ان پر شورشرابہ کرنا کہ جن کا ایک عام پاکستانی کے مسائل سے کوئ تعلق نہیں ہوتا ۔ جبکہ اسی مفاداتی سیاسی اسلامی کردار کی بدولت آج کا پڑھا لکھا طبقہ ان مذھبی جماعتوں کے قائدین کو اسلامی نمونہ سمجھتے ہوے الحاد کی راہ اپنانے پر مجبور ہے ۔ گویا کہ ان جماعتوں کی سیاست اسلام سے زیادہ کفر کے احیاء وظالم طبقوں کی اعانت کا سبب ہے ۔۔۔۔ولاتشتروبآیٰت اللہ ثمنا قلیلا

You may also like this

04 February 2017

زاغوں کے تصرف میں عقابوں کے نشیمن -- خان باز

<p style="text-align: justify;"> دنیا میں کسی بھی تحریک کے مستند  اور قابل اعتبارہونے کے

admin

Leave Comments

آج کی بات

انسان حالات کی پیداوار نہیں،حالات انسان کی پیداوارہوتے ہیں۔
{کتاب۔کوئی کام نا ممکن نہیں۔سے اقتباس}