باچا خان کا تحریک شیخ الہند سے تعلق — یاسر خان بنوں

 خان عبد الغفار خان المعروف باچا خان وہ عظیم شحصیت ہیں جنہوں نے وطن عزیز کی آزادی کے لئے تقریباَ 35 سال جیل میں گزارے۔ باچاخان 1890 میں ھشنغر اتمان زئی میں بھرام خان کے گھرمیں پیدا ہو ئے۔ باچاخان ایک سلیم الفطرت انسان تھے وہ اس فکر میں تھے کہ وطن کی آزادی کیسے ممکن ہو؟ یہ ایک مسلمہ حقیقت ہے کہ ہم فکر اور ہم خیال لوگ زندگی کے کسی نہ کسی موڑ پر ایک دوسرے سے ضرور ملتے ہیں ۔ یہی وجہ ہے کہ قدرت نے ان کو جماعت شیخ الہند سے متعارف کرایا۔جس کے بارے میں وہ خود لکھتے ہے ۔
پشتونوں کے حالات انتہائی ناگفتہ بہ تھے ۔اس لئے میں ( باچاخان) اور عبد العزیز نے سکول بنانے شروع کئے ۔اور مختلف علاقوں میں دورے کر کے پشتون قوم میں علم کی ضرورت اور احساس پیدا کرنے کی کوشش کی ۔پشتون ایک زندہ قوم ہے ۔اوراس میں قربانی کا ایک اعلی مادہ موجود ہے ۔جب سکول بنانے شروع کئے تو مختلف مولویوں نے فتوے لگائے کہ عبد الغفار خان قوم کو غلط راستہ دیکھا رہا ہے ۔ایسے حالات میں مولانا حاجی صاحب ترنگزئی اور فضل ربی صاحب نے ہماری تائید کی ۔ اس وجہ سے ہمیں خوشی ہوئی اور ہم تخریب سے بچ گئے ۔
حاجی صاحب اور اس کے ہم قدم ساتھیوں سے تعلق تو عرصے سے چلا آرہا تھا ۔ لیکن مدرسے بنانے کی تائید کر نے کی وجہ سے تعلقات اور بھی مضبوط ہوئے ۔ان رفقاء کی وجہ سے رفتہ رفتہ دارا لعلوم دیوبند سے تعلق پیدا ہوا ۔ جس کی وضاحت میں وہ خود رقمطراز ہیں۔
دار العلوم دیوبند کے پرنسپل شیخ الہند مولانا محمود حسن سے قریبی تعلق پیدا ہوا۔ شیخ الہند ایک نیک بزرگ ، پاک دامن اور خدا پرست عالم تھے ۔ شیخ الہند صرف ایک کتابی عالم نہ تھے بلکہ سراپا عمل تھے ۔ان کا بنیادی فکر ہندوستان کو فرنگی غلامی سے آزادی دلانا تھا ۔
اس کے بعد باچاخان لکھتے ہے ۔ جب بھی میں دار العلوم دیوبند جاتا ۔ پٹھان طالب علموں سے ملنے کے بہانے جاتا ۔ پٹھا ن طالب علموں میں مولانا عزیر گل بہت مشہور طالب علم تھے ۔ اس دوران جماعت شیخ الہند سے بھی تعلق پیدا ہوا ۔جس میں مشہور نام مولانا عبید اللہ سندھی اور مولانا محمد میاں صاحب تھے ۔ باچاخان کا قول ہے ۔ کہ سوسائٹی میں وہ افراد جن کا مقصد اور نصب العین ایک ہو ۔ان میں محبت اور بھائی چارہ ہوجاتاہے ۔
اپنی کتاب میں باچاخان لکھتے ہیں ۔ کہ دار العلوم دیوبند میں آزادی کے حصول کے لئے ہمارے زیادہ تر صلاح و مشورے بحث و مباحثے شیخ الہند اور مولانا عبید اللہ سندھی کے ساتھ ہوتے تھے۔اس دور میں فرنگی کا رعب ود بد بہ بہت زیادہ تھا ۔اس لئے جب کبھی ہم دارلعلوم دیوبند جاتے ۔تو سیدھا دار العلوم نہیں جاتے تھے بلکہ ایک سٹیشن آگے یا پیچھے ٹرین سے اتر جاتے ۔ اور دیوبند پید ل چلے جاتے ۔ تاکہ انگریز کو اس کی خبر نہ ہو ۔ یہ وہ وقت تھا جب مولانا عبید اللہ سندھی دہلی فتح پوری مسجد میں بی اے پاس طالب علموں کو قران کا درس د یا کرتے تھے ۔اور 50 روپے وظیفہ بھی دیا کرتے تھے ۔
ایک جگہ باچاخان لکھتے ہے ۔ کہ مولانا عبیداللہ سندھی وہ واحد عالم دین تھے ۔ کہ اس د ور میں آپ جیسا قران شناسی کا فہم کسی اور کو نصیب نہ تھا ۔مولانا سندھی صاحب کی خواہش تھی ۔ کہ تعلیم یافتہ نوجوانوں میں حریت فکر اور آزادی کا جذ بہ پیدا ہو جائے ۔ جماعت شیخ الہند سے تعلق کے بارے میں مولانا حسین احمد مدنی (نقش حیات )میں لکھتے ہے ۔ خان بادشاہ عبد الغفار خان صاحب موصوف اتمان زئی پشاور کے مشہور قومی خادم اور کارکن ہیں ۔
ابتداء میں ان کا تعلق شیخ الہند سے پیدا ہوا خد مت میں حاضر ہوئے کہا جاتا ہے کہ بیعت بھی ہوئے انھوں نے اپنے سیاسی تعلقات کو بڑے مجمع میں دار العلوم میں تقریر کرتے ہوئے ذکر فرمایا ۔ کہ میں بارہا حضرت شیخ الہند کی خدمت میں آیا ہوں ملاقات کا وقت اور جگہ کی اطلاع کسی شخص کے ذریعے کر د یتا تھا اور دیوبند سے پہلے یا بعد کے سٹیشن میں اترجاتا تھا ۔
اور وہاں مجتمع ہو کر باتیں کر لیتے تھے ۔ پھر اپنے اپنے مقصد کے لئے مناسب گاڑیوں پر راونہ ہو جاتے تھے ۔ سی آئی ڈی کو کوئی اطلاع نہ ہوتی تھی ۔ٹکٹ آگے کے ہوتے تھے ۔اس طرح بارہا ہوا  کہ خان صاحب بہت بڑے بڑے کام انجام دیتے تھے جن کے انجام دینے کی کا رروائیاں اس قد ر اخفا کی محتاج ہوتی تھی ۔
اس سارے مضمون کا خلاصہ یہ ہے ۔ کہ باچاخان کی عد م تشد د کی سوچ اور فکر کا اصل منبع دار العلوم دیوبند اور جماعت شیخ الہند تھی ۔ حضرت مولانا محمود حسن کی تعلیمات کے باعث  ان کے سینے میں آزادی کی جو آگ دھک رہی تھی اس کے اثرات اور عکس ہمیں باچاخان کی زندگی اور طرز عمل میں نمایاں نظر آتے ہیں ۔ یہی وجہ ہے  کہ آپ نے کبھی اصولوں پر سمجھوتہ نہیں کیا ۔
 

Leave Comments

آج کی بات

انسان حالات کی پیداوار نہیں،حالات انسان کی پیداوارہوتے ہیں۔
{کتاب۔کوئی کام نا ممکن نہیں۔سے اقتباس}