گویڑو: جھنگ کے پنچائتی نظام کا گم ہوتا کردار — ثریا منظور

 مانا جاتا ہے کہ قیاس گوئی اور قیافہ شناسی ایسی خداداد صلاحتیں ہیں جن کے ذریعے ایک ماہر کسی شخص کی باتوں اور چہرے کے تاثرات سے اس کی دلی کیفیت کا پتہ لگا لیتا ہے۔

ایسا قیاس جو حقیقت سے قریب تر ہو، جھنگ میں اسے گویڑ کہا جاتا ہے اور اس فن کےماہر کو گویڑو کہتے ہیں۔ گویڑو کو اگر پرانے دور کا وکیل کہا جائے تو بے جا نہ ہوگا کیونکہ جس طرح ایک ماہر وکیل دلائل پر جرح کرنے کے بعد ملزم سے جرم تسلیم کرواتا ہے بالکل اسی طرح ماہر گویڑو ملزم کی باتوں سے غلطیاں پکڑ کر ثابت کر سکتا تھا کہ سچ کیا ہے۔

ایک وقت تھا جب جھنگ میں اس فن کے ان گنت ماہر پائے جاتے تھے بلکہ اگر یہ کہا جائے کہ اس فن میں جھنگ کے باسیوں کا کوئی مقابلہ نہیں تھا تو غلط نہ ہوگا۔

جھنگ کی پنچائیت جسے مقامی زبان میں ستھ کہا جاتا ہے، میں گویڑو کو بڑی اہمیت حاصل تھی۔ خصوصاً چوری کی وارداتوں کے بعد جب مقامی لوگ پنچائت بناتے تو اس میں گویڑوں کو ضرور بلایا جاتا جو مشتبہ ملزمان کی باتوں اور چہرے کے تاثرات سے اندازہ لگا کر قصور وار کی بالکل درست نشاندہی کیا کرتے تھے۔

امیرخان پاتوآنہ ، خان محمد رجوکہ ، نور محمد سپرا، شہامند سپرا، نظامت جپہ، گہنہ خان گاڈی، مہر مہابت خان سیال اور میاں فیض محمد جنجیانہ چند ایسے گویڑو تھے جن کی فن میں مہارت قابل تحسین تھی۔

” یہ ہو ہی نہیں سکتا تھا کہ گویڑوں کا قیاس غلط نکلے کیونکہ اس کی طرف سے اٹھائے گئے سوالات کے تسلی بخش جوابات دینا ایک قصور وار ملزم کے لئے ممکن نہیں ہوتا تھا”۔

ان کے مطابق ایک دہائی پہلے تک دیہات میں ہونے والی وارداتوں کے لئے کھوجی کا سہارا لیا جاتا تھا، جو ملزمان کا سراغ لگاتا تھا اور پھر پنچائت لگائی جاتی جہاں گویڑو اپنے فن سے یہ ثابت کرتا تھا کہ ملزم قصور وار ہے یا نہیں۔

ماچھی والا کے رہائشی اسی سالہ بابا گل محمد پنچائت کا حصہ رہ چکے ہیں۔سجاگ سے بات کرتے ہوئے انہوں نے بتایا کہ چھوٹے درجے کی وارداتوں اور گھریلو معاملات میں گویڑوں کی رائے کو قانونی حیثیت حاصل ہوا کرتی تھی۔ ان کا کہنا تھا کہ دیہات میں انصاف کی فراہمی کی ساری ذمہ داری پنچائت، کھوجی اور گویڑوں پر ہوتی تھی لیکن اب وقت بدل چکا ہے اور اس کی جگہ پولیس ، وکیل اور عدالت نے لے لی ہے۔

پنچائت کا پلیٹ فارم ایک ایسی تربیتی نظام بھی تھا جو نوجوانوں کو بزرگوں سے ایسی صلاحیتوں کو سیکھنے کا موقع فراہم کرتا تھا جو پڑھنے لکھنے سے نہیں بلکہ تجربہ سے حاصل ہوتی ہیں۔ معاملات کی فہم کی صلاحیت حاصل کرنا کسی کتاب کو پڑھ کر حاصل نہیں کیا جا سکتا بلکہ اس کا حصول صرف اور صرف اس شخص یا اشخاص سے منسلک ہے ج سینہ بہ سینہ یہ صلاحیت منتقل کرتے چلے آتے ہیں۔

برصغیر پاک وہند میں برطانوی استعمار نے مسلمانوں کا ہندوستان میں عظیم الشان ماضی کو ختم کرنے کے لئے یہ پنچائتی نظام کو ناقابل عمل قرار دیا۔ اس کی جگہ ایک عدالتی نظام متعارف کروایا جس میں محض انفارمیشن کی بنیاد پر فیصلہ سازی کا عمل کیا جاتا ہے اورعدالتی نظام اتنا پیچیدگی کا شکار بنا دیا گیا کہ اس سے انصاف کا حصول تقریباً ناممکن ہو جاتا ہے۔

—————————————————————————————————————————————–

ثریا منظور گزشتہ دس سال سے شعبہ تعلیم سے وابستہ ہیں۔ اپنا ایک نجی اسکول چلاتی ہین اور مختلف مقامی و قومی اخبارات میں سماجی مسائل پر لکھتی رہتی ہیں۔

Leave Comments

آج کی بات

انسان حالات کی پیداوار نہیں،حالات انسان کی پیداوارہوتے ہیں۔
{کتاب۔کوئی کام نا ممکن نہیں۔سے اقتباس}