خوشی حاصل کرنے اور غم سے نمٹنے کا فن — قاسم علی شاہ

سب سے پہلا سوال یہ ہے کہ زندگی میں سنجیدہ ہونے کا مطلب کیا ہے؟ اس کا مطلب ہے ہر چیز کو اس کی پراپر جگہ پر رکھنا یعنی قابل قدر چیز کو قابل قدر جگہ پر سمجھتے ہیں تو اس کا مطلب ہے کہ آپ سنجیدہ انسان ہیں۔ اور جو غیر سنجیدہ چیز ہے اس کو غیر سنجیدہ سمجھ لیں۔ جس چیز کو اہم سمجھنا چاہیے اس کو اہمیت دیں۔ اگر آپ نےشعوری طور پر ترجیحات کا تعین کر لیا ہے تو اس کا مطلب ہے کہ آپ سنجیدہ انسان ہیں۔ اور اگر آپ نے زندگی میں ترجیحات کا تعین ہی نہیں کیا تو اس کا مطلب ہے کہ آپ سنجیدہ انسان نہیں ہیں۔ ایک سنجیدہ آدمی زندگی کے ہر دائرے میں اس بات کا تعین سب سے پہلے کرتا ہے کہ کیا اس نے کرنا ہے اور کیا اس نے نہیں کرنا؟

ایک نشست میں مجھے کسی نے سوال کیا کہ آپ کو فیصلہ کرتے وقت کتنا وقت لگتا ہے؟ تو میں نے جواب دیا کہ بہت تھوڑا ٹائم لگتا ہے۔اس نے وجہ پوچھی: تو میں بتایا کہ میری ترجیحات کا تعین پہلے کرتا ہوں اور اس کی بنیاد پر فیصلہ کرتا ہوں کہ اس صورت حال میں کیا کرنا ہے اور کیا نہیں کرنا۔ لہذا فیصلے کرنے کا وقت کم ہوتا ہے لیکن اس کے تعین کا کچھ وقت درکار ہوتا ہے۔

میرے ایک دوست میرے پاس آئے ان کی ٹریننگ کی ایک کمپنی ہے وہ کہنے مجھے تھوڑا سا وقت دے دیا کریں اور اس کا میں آپ کو دو لاکھ روپے ماہانہ دے دیا کروں گا۔ تو میں نے ان سے فوراً معذرت کر لی۔ اس نے پوچھا کہ اتنا جلد جواب کیوں دیا، تھوڑا سا تو سوچ لیتے۔ میں نے کہا کہ میں نے اپنی ترجیحات کا تعین کر لیا ہے کہ میں نے کہاں سے پیسے کمانے ہیں اور کہاں سے نہیں کمانے۔ یہی مطلب ہے کہ جب آپ نے جیزوں کو سنجیدگی سے طے کر لیا کہ کون سی چیز کرنی ہے اور کون سی چیز نہیں کرنی تو اس کا مطلب ہے کہ آپ ایک سنجیدہ انسان ہیں۔

لوگ عموماً یہ کہتے ہیں کہ جب انسان سنجیدہ ہو جاتا ہے تو وہ خاموش ہو جاتا ہے۔ میں اس کے لئے پھر یہی کہوں گا کہ جب انسان سنجیدہ ہو جاتا ہے تو اس کو یہ پتہ  چل جاتا ہے کہ بولنا کہاں ہے اور کہاں چپ رہنا ہے۔ کس بات کو کتنا کہنا ہے ، کس بات کو نہیں کہنا اور کتنی شد ت سے بولنا ہے۔

بعض اوقات زندگی میں خوشی اور غمی کا احساس ہی ختم ہو جاتا ہے۔ یہ ایک قسم کی نفسیاتی بیماری بھی ہے۔ ایسا اگر اکثر ہوتا ہے تو اچھی بات نہیں ہے۔ اگر ایسا کبھی ہوتا ہے تو یہ ایک نارمل بات ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ انسان کے دو قسم کے وجود ہیں۔ ایک اس کا مادی وجود جو ہمیں سامنے نظر آتا ہے، ایک بچہ پیدا ہوتا، وہ جوان ہوتا ہے ، وہ بوڑھا ہوتا ہے اور وہ مر جاتا ہے۔ جس طرح مادی وجود کے مرحلے ہیں اسی طرح روح کے کچھ مرحلے ہیں جن کو روح کے اد وار کہتے ہیں۔ بعض اوقات لوگ بیٹھے بیٹھے گم سم ہو جاتے ہیں یا ان کی طبیعت بوجھل سی ہونے لگ جاتی ہے۔ اس گم سم ہونے کی یا طبیعت بوجھل ہونے کی کوئی وجہ بھی نہیں ہوتی ہے۔ اس کا یقینی مطلب ہے کہ یہ روح کی پرواز ہے۔ لیکن اگر آپ اکثر گم سم رہتے ہیں اور اکثر طبیعت  بوجھل ہو جاتی ہے تو یہ ایک سائیکولوجیکل ڈائلما ہے یعنی ایک نفسیاتی عارضہ ہے۔ ایسی صورت میں ڈاکٹر کو چیک کروانا چاہیے۔

یہ یاد رکھیں کہ نارمل آدمی خوش بھی ہوتا ہے اور غم ذ دہ بھی ۔ایک چھوٹا سا نکتہ یہ ہے کہ جب زندگی میں پہلی مرتبہ کوئی غم ملتا ہے تو انسان کی جان سی نکل جاتی ہے۔ لیکن جب ایک د و یا اس سے زیادہ مرتبہ انسان غم زدہ ہوتو وہ یہ اس کے لئے عام سی بات بن جاتی ہے۔ اسی طرح اگر کوئی پرانی خوشی د وبارہ خوشی بن کر آئے تو اس کی شدت وہ نہیں رہتی جو پہلی مرتبہ کی شد ت ہوتی ہے۔

ہمیں زندگی میں نئے غم اور نئی خوشیوں سے بھی واسطہ رکھنا پڑتا ہے۔ یہ ایک نیچرل پراسیس ہے کیونکہ آپ جیسے جیسے بڑے ہوتے جاتے ہیں غموں اور خوشیوں کی شکلیں بد لتی رہتی ہے۔ بچپن میں ہمارا کھلونا ٹوٹ جاتا تھا تو ہم رونے لگ جا تے تھے۔ جوانی میں چھوٹی سی ٹھوکر کا ذہن پر اثر بڑا ہوتا تھا، لیکن بڑھاپے میں کئی بڑے نقصانات کی صورت میں بھی انسان غم زدہ نہیں ہوتا۔

انسان بڑا ہی تب ہوتا ہے جب اس کے غموں اور خوشیوں کی شد ت تبد یل ہوتی رہے۔ خطرناک بات یہ ہوتی ہے کہ پرانے غم اگر تاذہ اور ہرے بھرے ہیں تو یہ غلط بات ہے۔  یعنی پرانے غم بھلائے نہیں جا رہے۔ نئی خوشی کو انجوائے کرنا نہیں آر ہا جیسے ہی خوشی آتی ہے کوئی پرانا غم بیچ میں آ کر اس خوشی کو ختم کرنے کا باعث بن رہا ہے۔ عورتوں کو اکثر اوقات دیکھا گیا ہے کہ عین خوشی کے موقع پر پچھلے مرے ہوئے لوگوں میں سے کوئی یاد آ جاتا ہے۔ یہ ایک ابنارمل رویہ ہے۔ اس کا مطلب یہ کہ رویے مینج نہیں کئے ہوئے کیونکہ اس چیز کا پتہ نہیں ہے کہ خوش کب ہونا ہے اور غمزدہ کب ہونا ہے۔

لیکن اگر آپ کی خوشیاں یا غم دونوں کا احساس بالکل ختم ہوچکا ہے توآپ کو چاہیے کہ دماغ کی کھڑکیاں کھولیں اور زندگی میں کوئی نیا علم نیا فلسفہ لے کر آئیں۔ پرانے وقتوں میں بہت ہی آسانی تھی کہ بابے بڑے سائیکلوجیکل ٹرینر ہوتے تھے۔ یہ  اپنے ڈ یروں پر باتیں کر کے، گپیں لگا کر، اشاروں سے ، مختلف مثالیں دے کرکے اس طرح مختلف نسخے لگا کر لوگوں کو ٹھیک کر د یتے تھے۔ کیتھارسس کا ایک بہترین ذ ریعہ یہ پرانے بابے ہوا کرتے تھے۔

نفسیاتی ماہرین یہ کہتے ہیں کہ کسی انسان کے نفسیاتی مسائل اسی فیصد اس کے بیان کرنے سے ہی ٹھیک ہو جاتے ہیں۔ یعنی جب وہ بابے کسی کی بات سنتے تھے تو اس طرح اسی فیصد اس کا علاج وہیں ہو جاتا تھا اور باقی وہ مثالیں دے کر اور گپیں لگا کر سلجھا دیتے تھے۔

مسائل وہاں پیدا ہوتے ہیں جہاں قابل اعتبار لوگ ملنا ختم ہو جائیں۔ ہمارے معاشرے کا یہ المیہ ہے کہ یہاں اعتبار کی بہت سخت کمی ہے اور نہ کوئی بابا قابل اعتبار ہے اور نہ کوئی سائل قابل اعتبار ہوتا ہے۔

یاد رکھیے گا جیسے جیسے زندگی گزرتی ہے ، زندگی گزارنے کا شعور آتا جاتا ہےتو زندگی کی کوالٹی بہتر ہو رہی ہوتی ہے اور آپ اگلے مرحلے کے لئے تیار ہو رہے ہوتے ہیں ۔ لیکن اگر زندگی میں وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ شعور نہ آ رہا ہو تو اس کا یقینی مطلب ہے کہ زندگی رکی ہوئی ہے اور آپ اگلے مرحلے کے لئے لیٹ ہو رہے ہوتے ہیں۔

Leave Comments