اپنی سوچ کے بہت جلد بدلنے کے منفی اثرات سے اگاہ رہیں۔ زوہیب یاسر

زیادہ سے زیادہ ذہنی سکون کے حصول کے لیے ایک طاقتور تکنیک یہ ہے کہ ہم اس بات سے آگاہ رہیں کہ ہماری غیر محفوظ اور منفی سوچ کتنی جلدی کنٹرول سے باہر ہو سکتی ہے۔کیا آپ نے کبھی غور کیا ہے کہ جب آپ اپنی ایسی سوچوں میں الجھے ہوتے ہیں تو آپ کس قدر پریشان ہوتے ہیں؟اور ان سوچوں کو دبانے کے لیے آپ جتنا زیادہ ان میں گم ہوتے ہیں دراصل یہ احساسات اتنے ہی بڑھتے جاتے ہیں۔ایک خیال سے دوسرا خیال جنم لیتا ہے دوسرے سے تیسرا اور یہ سلسلہ طویل ہی ہوتا جاتا ہے حتیٰ کہ ایک مخصوص مقام پر آکر آپ کی برداشت کی حد بھی ختم ہونے لگتی ہے۔

مثال کے طور آدھی رات کو آپ کی آنکھ کھلتی ہے اور آپ کو یاد آتا ہے کہ آپ نے کل ایک فون کال کرنی ہے اور یہ سوچ کر آپ کو تھوڑی راحت ہوتی ہے کہ آپ کو وقت پر یاد آگیا۔لیکن اس کے بعد آپ اگلی صبح کرنے والے دیگر کاموں کے بارے میں سوچنے لگتے ہیں۔آپ آئندہ صبح اپنے باس سے ہونے والی گفتگو کی ایک ریہرسل کرتے ہیں اور مزید پریشان ہوجاتے ہیں۔پھر جلد ہی آپ خود سے یہ کہتے ہیں کہ میں بہت زیادہ مصروف ہوں،مجھے روزانہ کوئی پچاس آدمیوں کو فون کرنا ہوتے ہیں،اتنی مصروف زندگی بھلا کس کی ہو سکتی ہے؟بہت سے لوگوں کے لیے منفی خیالات کے ان حملوں کی کوئی حد نہیں ہوتی۔درحقیقت،مجھے میرے کلائنٹس نے بتایا ہے کہ ان کی بہت سی راتیں اوردن ایسے ہی خیالات کی ریہرسل کرنے میں برباد ہوتے ہیں۔اس امر کو بیان کرنے کی کوئی ضرورت نہیں ہے کہ ایسے معاملات اور پریشانیوں کے نتیجے میں ذہنی طور پر پُرسکون رہنا ایک ناممکن کام ہے۔

اس کا حل یہ ہے کہ آپ کے منفی خیالات جب تحریک پکڑتے ہیں تو اس سے پہلے یہ سوچا جائے کہ آپ کے دماغ میں کیا چل رہا ہے۔آپ جتنا جلدی اپنے ذہن میں پلنے والے ان منفی خیالات کو قابو کرتے ہیں،اتنا ہی جلد آپ کو سکون کی دولت بھی نصیب ہوتی ہے۔ہماری یہاں بیان کی گئی مثال میں آپ کی منفی سوچ اس وقت شروع ہوئی جب آپ نے اگل صبح کیے جانے والے کاموں کو سوچا۔پھر آپ شعوری طورپر اس سوچ سے چمٹے رہنے کے بجائے خود سے کہتے ہیں کہ واﺅ!!! میں پھر وہی ہوں اور آپ اس صورت حال کو وہیں ختم کر دیتے ہیں۔آپ اپنے خیالات کی گاڑی کو اسٹیشن چھوڑے سے پہلے ہی روک لیتے ہیں۔پھر آپ اس بات پر اپنی توجہ کو مرکوز کرسکتے ہیں،منفی معنوں میں نہیں،بلکہ مثبت معنوں میں کہ شکر ہے مجھے اتنے لوگوں سے فون کر کے معاملات طے کرنے ہیں۔اگر یہ آدھی رات کا وقت ہے تو آپ اسے کاغذ پر لکھیں اور پھر سو جائیں۔ایسی صورت حال کے پیش نظر آپ پہلے سے ہی اپنے بیڈ پرایک کاغذ اور قلم بھی رکھ سکتے ہیں۔

آپ بلاشبہ ایک بہت مصروف شخص ہو سکتے ہیں۔لیکن یاد رکھیے کہ ان باتوں سے اپنے دماغ کو بھرنے سے آپ اپنی پریشانیوں اور تلخیوں میں اضافہ ہی کرتے ہیں نہ کہ آپ انہیں کم کرتے ہیں۔آئندہ کبھی آپ کو ایسی صورتحال درپیش ہو تو آپ اس مشق کو استعمال میں لائیں۔آپ واقعی حیران ہوں گے کہ یہ کتنی کارآمد ہے۔

Leave Comments

آج کی بات

انسان حالات کی پیداوار نہیں،حالات انسان کی پیداوارہوتے ہیں۔
{کتاب۔کوئی کام نا ممکن نہیں۔سے اقتباس}