سستی کو دور کرنے کی تدبیر ۔ قاسم علی شاہ

یہ سوال کہ سستی کو دور کرنے کے لئے کیا کیا جائے؟ اس تناظر میں میری گزارش یہ ہے کہ بعض لوگ تو پیدائشی طور پر سست ہوتے ہیں ، ان لوگوں کے لئے میں صرف دعا کر سکتا ہوں۔ ایسے لوگوں کے لئے میرا انداز یہ ہوتا ہے کہ میں ان کو اپنے سامنے بٹھا کر کہتا ہوں کہ جی میں آپ کی کیا خدمت کر سکتا ہوں؟ تواس کے بعد وہ ایک گھنٹے کی تقریر کرتے ہیں اور اس کے بعد میں دوبارہ ان سے یہی کہتا ہوں کہ میں آپ کی کیا خدمت کر سکتا ہوں ؟ تو وہ دوبارہ جواب دیتے ہیں کہ آپ ہماری بات سنیں تو سہی۔ تو میں دوبارہ انہیں کہتا ہوں کہ آپ چپ ہوں گے تو میں آپ کی کچھ خدمت کر سکوں گا۔ اس لئے میں ایسے لوگوں کے لئے کہتاہوں کہ ان کے لئے صرف اور صرف دعا کی جا سکتی ہے۔
اگر کوئی میڈیکل وجہ نہ ہو تو میں نے یہ دیکھا ہے کہ ایسے لوگ سست ہوتے ہیں جن کے پاس اپنے ٹارگٹ کی وضاحت نہیں ہوتی، اپنے زندگی کے مقاصد کلئیر نہیں ہوتے۔ ایسا بندہ جو تین تیرہ کا شکار ہو جاتا ہے تو بندہ بٹیروں میں پھنسا ہوا ہوتا ہے۔ اس کی وجہ ہے کہ بندہ کنفیوژن کا شکار ہوتاہے ۔ کسی بندے کا کنفیوژ ہو جانا بذات خود ایک مسئلہ ہے۔ کنفیوژ انسان بجائے اس کے کہ وہ ایکٹو ہو جائے وہ سست ہو جاتا ہے۔
ایک مشہور انگریز فلاسفر کی کتاب ہے جس کی چھیالیس زبانوں میں ترجمہ ہوا ہے اور دنیا کی ایک مشہور کتاب ہے ، اس کتاب کا ایک مشہور فقرہ ہے ’’ لوگ سست نہیں ہوتے لوگوں کے مقصد اتنے چھوٹے ہوتے ہیں کہ وہ سست ہو جاتے ہیں‘‘۔ اگر ایک بچے نے امتحان پاس کرنا ہے تو وہ یقیناً سست ہی ہوگا۔ لیکن اگر اسی بچے کو کہا جائے کہ آپ نے ٹاپ کرنا ہے تو ٹاپ کرنے والے بچے کی سستی کہاں جائے؟ یقیناً وہ بھاگ جائے گی۔
ایک صاحب خواہش کرتے ہیں کہ جی میری دکان چل جائے۔ ان سے پوچھا جاتا ہے کہ جی کتنی چل جائے؟ تو وہ جواب دیتے ہیں کہ جی اتنی چل جائے کہ میں گزارا کر سکوں۔ تو ایسے بندے کے لئے بڑا مناسب ہے کہ اس کے لئےسستی چاہیے۔ لیکن اس کے برعکس ایک شخص خواہش کرتا ہے کہ میں ڈیپارٹنمنٹل سٹور کی چین چلانا چاہتا ہوں اورمیں اس وقت صفر پر کھڑاہوں تو اس کا مطلب ہے بہت چستی کی ضرورت ہے۔
ایک صاحب بہت امیر ہوتے ہیں اور ایک بلینئر کمپنی کے سی ای او ہوتے ہیں اور وہ اس کمپنی کو چلا رہے ہوتے ہیں۔ وہ اپنی چھٹیوں کے دنوں میں پیدل چلتے ہیں اور جاتے جاتے وہ دریا کے کنارے جاتے ہیں اوروہ وہاں ایک شخص کو دیکھتے ہیں جو مچھلیاں پکڑ رہا تھا۔ سی ای او صاحب اس شخص سے سوال کرتےہیں کہ کیا کرتے ہو؟ وہ شخص کہتا ہے کہ میں مچھلیاں پکڑتا ہوں۔ وہ پوچھتے ہیں کہ کتنی مچھلیاں پکڑتے ہو؟ وہ جواب دیتا ہے کہ جی تین پکڑتا ہوں۔ وہ پوچھتے ہیں کہ کیا پورے دن میں تین پکڑتے ہو؟ وہ جواب دیتا ہے کہ جی ہاں پورے دن میں تین پکڑتا ہوں۔ وہ پوچھتے ہیں کہ پورے دن کی تین کیوں پکڑتے ہو؟ وہ جواب دیتا ہے کہ جی میں تو خوش خوراک ہوں ایک مچھلی تو روزانہ کی میں کھا جاتا ہوں اور دوسری مچھلی میں بچوں کو کھلا دیتا ہوں اور تیسری میں اللہ کی راہ میں دے دیتا ہوں۔ وہ پوچھتے ہیں کہ تین مچھلیاں کتنی دیر میں پکڑ لیتے ہو؟ وہ جواب دیتا ہے کہ بعض اوقات ایک گھنٹہ میں تین پکڑ لیتا ہوں بعض اوقات دو گھنٹے بھی لگ جاتے ہیں اور بعض اوقات دس منٹ میں بھی پکڑ لیتاہوں۔ تو وہ کہتے ہیں کہ بھلے انسان تمہارے پاس تو بہت وقت باقی بچ رہتا ہےاور تم تو سست ہو، باقی وقت میں کچھ کیا کرو۔ وہ شخص پوچھتا ہے کہ کیا کیا کروں؟ وہ کہتے ہیں کہ مچھلیاں زیادہ پکڑا کرو۔ وہ شخص پوچھتا ہے کہ کتنی پکڑا کروں؟ وہ کہتے ہیں دو درجن تین درجن پکڑا کرو اور جو استعمال سے زائد ہوں ان کو بیچ دیا کرو۔ اس طرح تمہاری آمدنی میں اضافہ ہو جائے اور تمہارا کاروبار بھی یہی بن جائے گا۔ اور اس کے ساتھ ساتھ کچھ بندے بھی رکھ لینا اور اس طرح مچھلیاں بہت زیادہ ہو جائیں گی اور ان مچھلیوں کا تم اسٹاک کرنا اور باہر ایکسپورٹ کی مارکیٹ میں چلے جانا۔ اور ایک دن ایسا آئے گا کہ تمہاری کمپنی دنیا کی سب سے بڑی کمپنی ہو گی جو مچھلیوں کو ایکسپورٹ کرتی ہو گی۔ اس پر وہ شخص پوچھتا کہ پھر میں کیا کروں گا؟ وہ کہتے ہیں کہ پھر کیا کرنا ، تم سکون سے بیٹھنا دریا کے کنارے اور کیا کرنا ہے۔ وہ شخص پوچھتا ہے کہ میں اب کیا کر رہاہوں، سکون سے ہی تو بیٹھا ہوں؟ تو گزارش یہ ہے دنیا میں بہت سے لوگ ایسے ہوتے ہیں جو سکون سے بیٹھے ہوتے ہیں اور ان کی سستی دور نہیں ہو سکتی۔
یاد رکھیے! زندگی میں کچھ ایسا لے کر آئیے جو آپ کو صبح اٹھائے۔ میری چھوٹی سی بیٹی ہے جو مجھے صبح اٹھا دیتی ہے اور میری سستی اس طرح دور ہو جاتی ہے۔ تو آپ کی زندگی میں کچھ ایسا ضرور ہونا چاہیے جو آپ کی سستی کو دور کرے۔ اگر کچھ ایسا نہیں ہے جو آپ کی سستی کو دور کرے تو پھر بڑا مسئلہ ہے۔ اس کے لئے ضروری ہے کہ کوئی اپنی زندگی میں کوئی ایسا مقصد یا ایسا ٹارگٹ لے آئیے جو آپ کی سستی کو دور کر دے۔

People Comments (1)

  • no April 25, 2017 at 5:16 am

    جی میری بھی خواہش کہ چھوٹا سا بیٹا ہو جو صبح اٹھائے لیکن گھر والے شادی نہیں کرتے

Leave Comments

آج کی بات

انسان حالات کی پیداوار نہیں،حالات انسان کی پیداوارہوتے ہیں۔
{کتاب۔کوئی کام نا ممکن نہیں۔سے اقتباس}