خواتین کے چہرے پر بال ،خطرے کی علامت :ڈاکٹر ثمرین فرید

: عورت کا رنگ روپ چہرے کی شادابی کا مرہون منت ہوتاہے مگر اس کا چہرہ لاپرواہی بے، احتیاطی کی وجہ سے ایسے امراض کا مسکن بن جاتا ہے جواس کی ساری خوبصورتی ، شادابی اور خوش مزاجی چھین کر اسے ڈپریشن میں مبتلا کردیتا ہے ۔ ویسےتو ہمارے ہاں عورتوں کے چہرے پر چھائیاں ، کیل ، مہاسے عام سی بیماریاں تصور کی جاتی ہیں اور اس کے علاج کی طرف فوری اور خاص توجہ نہیں دی جاتی ، بلکہ عورتیں بازاری اور عام سی کریموں کے ذریعے اس مرض کو دور کرنے کی کوشش کرتی ہیں ، لیکن انہیں کامیابی حاصل نہیں ہوتی اور یہ امراض پہلے سے زیادہ بگڑ کر ان کے چہرے کو بھد ا بنا دیتے ہیں ۔

یہ کس قدر دکھ کی بات ہے کہ عورتیں اپنے چہرے کی رعنائی کے بارے میں حد سے زیادہ حساس ہونے کے باوجودنا دانستہ اسے بھدّااور وقت سے پہلے جھریوں زدہ بنانے کی کوشش میں لگی رہتی ہیں ۔ کسی عورت کا چہرہ جس قدر ملائم اور صاف ہوگا اسی قدر وہ اپنا اچھا تاثر چھوڑنے میں کامیاب ہوتی ہے ۔ مردوں اور عورتوں کے چہرے میں جہاں یہ نزاکت ہوتی ہے وہاں چہرے کے بال مرداور عورت میں فرق قائم کرنے میں اہم کردار ادا کرتے ہیں ۔ مردوں کے چہرے پر بال ان کی مردانگی کی علامت اور شناخت ہوتے ہیں جبکہ عورتوں کا چہرہ بالوں سے بے نیاز ہوتا ہے مگر عورتوں کے چہرے پر بھی مردوں جیسے بال نکل آتے ہیں جو کہ بے شمار نفسیاتی ، جسمانی اور معاشرتی مسائل کا پیش خیمہ بنتے ہیں ۔عورتوں کے چہرے پر مردوں جیسے بال و بال جان ثابت ہوتے ہیں اکثر اوقات ایسی عورتیں گھر بار سے کٹ کررہ جاتی ہیں اور وہ شرمندگی کے باعث اپنا چہرہ چھپائے پھرتی ہیں ایسی عورتوں کےلئے شادی کے مسائل بھی پیدا ہوجاتے ہیں ۔ ان کے والدین بھی اس مسئلے پر پریشان نظر آتے ہیں ۔ معاشرتی مسائل اس وقت گھمبیر ہوجاتے ہیں جب شادی کے بعد بچوں کی پیدائش میں دشواری کا سامنا کرنا پڑتا ہے ۔

یہ بال کئی پیچیدگیوں کا باعث بنتے ہیں

میڈیکل سائنس کی ترقی نے عورتوں کو اس بیماری سے نجات دلانے کےلئے بہت سے علاج متعارف کرائے ہیں مگر دیکھنےمیں آرہاہےکہ ایسی عورتیں اس بیماری کا علاج کرانے میں شرم محسوس کرتی ہیں اور اس بیماری کا علاج اپنے طریقوں سے کرنے کو ترجیح دیتی ہیں ، اس طرح یہ مہلک مرض کا شدت کے ساتھ شکار ہوجاتی ہیں ۔ وہ چہرے کے بالوں کو صاف کرنے کےلئے تھریڈنگ،و یکسنگ جیسے روایتی طریقے اختیار کرتی ہیں ۔ ان روایتی طریقہ علاج سے چہرے کی بد صورتی میں اضافہ ہوجاتا ہے کیونکہ اس سے چہرے کے بال صاف ہونے کی بجائے مزید سخت اور مضبوط ہوکر ابھرتے ہیں ۔ اس سے ایک نقصان اور بھی ہوتاہے کہ ان بالوں کے ساتھ مزید بال نکل آتے ہیں مسلسل تھریڈ نگ سے چہرے پر داغ دھبے بن جاتے ہیں ۔ عورتوں کو یہ مرض عموماً بارہ سے تیرہ سال کی عمر سے ہی شروع ہوجاتاہے۔ سن بلوغت میں قدم رکھتے ہی ان کے ہارمونز میں کئی تبدیلیاں رونما ہوتی ہیں جن سے انہیں کمسنی میں ہی کئی عارضے لاحق ہوجاتے ہیں ۔ چہرے پر کیل ، مہاسے ، چھائیاں اور بالوں جیسے جلدی عوارض بھی ہارمونز اور ماہواری کے متعلقہ مسائل سے جنم لیتے ہیں ۔ گھر کی بڑی عورتوں خصوصاً مائیں اپنی بیٹیوں کے ان امراض کو سن بلوغت کا حصہ سمجھتی ہیں لہٰذا وہ اسے جلدی بیماری کے طور پر قبول ہی نہیں کرتیں ۔ حالانکہ اس مرحلے پر ان جلدی امراض پر قابو پالیا جائے تو ان مہلک امراض سے نجات مل سکتی ہے ۔ یہ بال آغاز میں ٹھوڑی اور اوپر والے ہونٹ پر نمودار ہوتے ہیں اور خاصے سخت ہوتے ہیں مگر جونہی انہیں روایتی طریقوں سے صاف کیا جاتا ہے ، یہ پھیلتے جاتے اور باقاعدہ داڑھی کی شکل اختیار کرلیتے ہیں ۔

kkkkk

ایسے مریض کے کلینکل ٹیسٹ ضروری ہیں

چہرے کے بال عورتوں میں مردانہ ہارمونز کی خون میں مقدار زیادہ ہونے سے پیدا ہوتے ہیں ۔ ایسا عموماً OVARIESکا سائز بڑا ہونے ہوتاہے ۔ اس وجہ سے مردانہ ہارمونز بھی زیادہ مقدار میں بننے لگتے ہیں ۔ بعض اوقات دیگر ہارمونز کی خون میں زیادہ مقدار کے باعث یہ بیماری لاحق ہوتی ہے ۔ یہ ہارمونز جسم میں مختلف غدودوں سے پیدا ہوتے ہیں ۔ کئی عورتوں میں ہارمونز کی خون میں مقدار بالکل صاف ہوتی ہے اس کے باوجود ان کے چہرے پر بال اگ آتے ہیں اسکی وجہ یہ ہے کہ ان کے بالوں کے اندر بعض کیمیائی تبدیلیاں رونما ہوتی ہیں ، اس کے علاوہ غدودوں میں رسولی اور سٹیر ائیڈ ز ادویات کے استعمال کی وجہ سے بھی چہرے پر بال اگ آتے ہیں ۔ چہرے کے بال عورتوں میں کئی جسمانی عوارض کی نشاندہی کرتے ہیں کیونکہ یہ کسی ایک مرض سے منسوب نہیں ہیں اس بیماری کا سبب جاننے کے لئے مریضہ کا کلینیکل معائنہ کیا جاتا ہے اور اس کی ہسٹری لی جاتی ہے اسے یہ مرض کس عمر میں شروع ہو ا، خاندان میں کسی اور کو تو یہ لاحق نہیں ، وزن میں اضافہ تو نہیں ہورہا ، ماہواری کی باقاعدگی تو متاثر نہیں ہوتی اس کے بعد مریضہ کا معائنہ کیا جاتا ہے اور اکثر اوقات لیبارٹری ٹیسٹ کرانا پڑتے ہیں تاکہ خون میں ہارمونز کی مقدار اور اس کا موجب عارضہ معلوم کیا جاسکے ۔

بال ختم کرنے کا جدید سائنسی طریقہ

جدید میڈیکل سائنس نے چہرے کے بال ختم کرنے کےلئے نیا طریقہ متعارف کرایا ہے جسے بلینڈ الیکٹرولائسس سے مختلف عام الیکٹرو لائسس میں حرارت کی مدد سے بال کی جڑ ختم کی جاتی تھی اس سے نہ صرف بال جڑ سے دوبارہ نکل آتے ہیں بلکہ جلد کو نقصان پہنچنے کا احتمال رہتا ہے ۔

لاہور اور کراچی میں اکثر بیوٹی پارلروں میں اس طریقہ علاج کو آزما یا جارہا ہے جس سے اکثر خواتین کے چہروں پر مستقلاً داغ دھبے اور گڑھے پڑ جاتے ہیں الیکٹرو لائسس ایک حساس علاج ہے اس میں نہایت باریک سوئیاں استعمال ہوتی ہیں لہٰذا ان سوئیوں کو جراثیموں سے پاک کرنا ضروری ہے مگر ایسا نہیں کیا جاتا جس کی وجہ سے ہیپا ٹائٹس جیسے متعدی امراض جنم لیتے ہیں اناڑی پن کی وجہ سے بعض اوقات یہ سوئیاں بال اکھاڑ تے ہوئے ٹوٹ کر اندر رہ جاتی ہیں ایسی صورت میں ان لوگوں کے پاس سنگین صورت حال سے نمٹنے کا کوئی چارہ نہیں ہوتا بہر حال اسے ہسپتال لے جانا پڑتا ہے ، لہٰذا خواتین کو ہمیشہ اپنا علاج ماہرین ڈاکٹرز سے ہی کرانا چاہئے جو مرض کو سمجھتا اور بہتر تشخیص کا تجربہ رکھتا ہو ۔

بلینڈ الیکٹرو لائسس موثر اور آرام دہ طریقہ علاج ہے یہ امریکہ کی ایجاد ہے ۔ یہ تکنیک پاکستان میں ابھی عام نہیں ہوئی کیونکہ اس طریقے سے بال ختم کرنے کےلئے پیشہ وارانہ مہارت بہت ضروری ہے ۔ بلینڈ الیکٹرو لائسس میں کیمیائی مادہ ( سوڈیم ہائیڈرو آکسائیڈ ) بال کی جڑ بنتا ہے جو کافی دیر تک وہاں رہتا ہے اس سے نہ صرف با ل کے دوبارہ نکلنے کا امکان ختم ہوجاتا ہے بلکہ جلد کوبھی نقصان نہیں پہنچتا ہے ، یہ طریقہ علاج الیکٹرو لائسس کی نسبت زیادہ آرام دہ ہے

۔انتخاب :خواتین کی صحت ۔ از :ڈاکٹر ثمرین فرید۔ ناشر:دارالشعور ،لاہور۔

You may also like this

14 March 2017

نظام صحت کا حقیقی کردار ۔۔۔ ڈاکٹرممتازخان

<p style="text-align: justify;"><span style="font-size: 20px;">جب بات مفت علاج کی ہوتی ہے تو ا

admin

Leave Comments

آج کی بات

انسان حالات کی پیداوار نہیں،حالات انسان کی پیداوارہوتے ہیں۔
{کتاب۔کوئی کام نا ممکن نہیں۔سے اقتباس}