خوشحالی ہی آزادی ہے ۔۔۔ قاسم علی شاہ

سب سے پہلے ہمیں یہ طے کرنا ہے کہ خوشحالی کا مطلب کیا ہے؟ خوشحالی کا مطلب ہے آزادی ۔ فیصلہ کرنے کی آزادی یعنی جو کرنا چاہیں کر سکیں، جو لینا چاہیں لے سکیں، جو خریدنا چاہیں خرید سکیں، جو زندگی میں لانا چاہیں لا سکیں۔ مسئلہ یہ ہوتا ہے کہ ہمارے ریموٹ کنٹرول اتنے لوگوں کے پاس پڑے ہوتے ہیں کہ ہماری فیصلہ کرنے کی صلاحیت ہی ختم ہو جاتی ہے۔ فیصلہ کرتے وقت ہمارے الفاظ کچھ اس قسم کے ہوتے ہیں ’’ یہ کام تو میں کر لوں ، لیکن میری مجبوری میری جاب ہے‘‘، ’’ میں یہ کام تو کر لوں لیکن میں بچوں والا ہوں‘‘ وغیرہ وغیرہ۔ لہٰذا خوشحالی زندگی میں ٹارگٹ بنا لیں۔ یہ بات یاد رکھیں کہ اس بات سے کوئی فرق نہیں پڑتا کہ آپ آئے کہاں سے ہیں؟ لیکن اس بات سے فرق پڑتا ہے کہ آپ نے جانا کہاں ہے ؟ آج سے آپ اس معاشرے کی کامیاب کہانیاں ڈھونڈنا شروع کریں۔ میں نے بہت سے نامور اور کامیاب لوگوں کے انٹرویو لیے ہیں اور یہ نتیجہ نکالا ہے کہ یہ لوگ پستی کی اتنہا پر تھے اور آج کامیابی کے اعلیٰ درجے پر ہیں۔ ہمیں جب اس طرح کے کیس اسٹڈیز ملتے ہیں تو ہمیں یہ پتہ لگتا ہے کہ اس بات سے کوئی فرق نہیں پڑتاکہ تم آئے کہاں سے ہو؟ لیکن فرق وہاں سے پڑتا ہے کہ تم جا کہاں رہے ہو؟ تم جا کر انٹرو یو لو سلیم غوری کا ، تم جا کر انٹرویو لو ملک ریاض کا، تم جا کر انٹرویو لو کسی بھی شعبے میں نام پیدا کرنے والی کسی شخصیت کا، تو تمہیں پتہ لگے کا کہ ہر ایسے شخص نے بہت مشکل میں زندگی شروع کی۔ ہر ایک نے ناسازگارحالات میں زندگی شروع کی ہے لیکن ا س سے فرق نہیں پڑتاکہ وہ آئے کہاں سے ہیں، لیکن فرق وہاں سے پڑتا ہے کہ تم جا کہاں رہے ہو؟لہٰذا زندگی میں سب سے اہم چیز ہے زندگی کے اہداف کا تعین کہ زندگی میں کس سمت میں آگے بڑھنا ہے۔
اپنی زندگی کی سمت کے تعین کا عمل صرف اور صرف آپ کے کیرئیر کا نہیں ہوتا۔ اس نظریہ کا اطلاق زندگی کے ہر شعبے میں کریں اور اپنے آپ سے یہ سوال ضرور کریں کہ میری سمت کیا ہے اور میں جا کہاں رہا ہوں۔ خاندانی زندگی ہو ، سماجی زندگی ہو، معاشی معاملات ہوں یا زندگی کا کوئی بھی شعبہ ہو اس سوال کی اہمیت بہت زیادہ ہے۔ بہت سے لوگ شادی کے مسائل میں طلاق کا مسئلہ لے کر میرے پاس آتے ہیں۔ میں ان سے کہتا ہوں کہ یہ تو اس وقت کی صورت حال ہے مجھے یہ بتائیں کہ طلاق کی بنیاد کہاں رکھی گئی تھی۔ ہمیں اپنی منگنی کی تاریخ تو یاد ہوتی ہے ، ہمیں اپنی شادی کی تاریخ تو یاد ہوتی ہے ۔ لیکن جس دن اس دیوار میں پہلا چھید ہوا تھا جس کے باعث آج یہ دیوار گر گئی ہے وہ دن آپ کو یاد نہیں ہوتا۔ اگر وہ چھید اسی دن بھر دیا جاتا تو آج دیوار گرنے کا یہ وقت دیکھنا نہ پڑتا۔
کبھی انسان کھڑا ہو کر یہ سوچے کہ میں جا کدھر کو رہا ہوں؟ تو بہت سی چیزیں بچ سکتی ہیں ، آپ کے تعلقات، آپ کا کاروبار، آپ کا پیسہ ،آپ کا وقت، آپ کی انرجی، آ پ کے پاس اللہ کی دی ہوئی رحمتیںاور اللہ کی دی ہوئی نوازشات ، یہ سب چیزیں بچ سکتی ہیں۔لہٰذا انسان کا سب سے اہم اور بڑا سوال جو وہ اپنے آپ سے پوچھ سکتا ہے وہ یہ ہے کہ وہ جا کہاں رہا ہے؟
آپ کے پاس کوئی نئی چیز آ رہی ہے یا آپ کوئی نئے تجربے سے گزر رہے ہیں ، سیکھنے کا کوئی نیا پروسیس آپ کے سامنے ہے تو یہ سوال سب سے اہم ہے کہ میں جا کہاں رہا ہوں؟ نیا بندہ زندگی میں آیا ہے ، دوستی بن گئی ہے ، وقت گزرنا شروع ہو گیا ، اس تناظر میں بھی اپنے آپ
سے سوال کریں کہ میں جا کدھر کو رہا ہوں ۔ بزنس کا نیا فیصلہ کیا ہے ، خود سے پوچھیں کہ میری سمت کیا ہے؟کسی سے کنسلٹینسی یا مشاورت لینی شروع کی ہے ، خود سے پوچھیں کہ میں جا کدھر کو رہا ہوں۔ کسی نقصان ہونے کی صورت میں ، آپ نے ایک سبق سیکھ لیا ہے اس کے بعد بھی اپنی زندگی کی سمت کا تعین کرنا آپ کی اپنی ذمہ داری ہے۔ کوئی فائدہ ہو گیا ہے جس کی وجہ سے بندہ کا دماغ خراب ہو گیا ، خوشحالی کی ایک منفیت یہ بھی ہوتی ہے ، پھر خود سے سوال کریں کہ میں جا کدھر کو رہا ہوں؟
دنیا کے سب سے مہنگے ترین سوالوں میں سب سے پہلا سوال ہے کہ میں کون ہوں ؟ اور ان سوالوں کی فہرست میں ایک سوال یہ بھی ہے کہ میری زندگی میں آگے بڑھنے کی سمت کیا ہے یا میں کدھر جا رہا ہوں؟ یہ وہ سوال ہے جو پچھتاوے سے بچاتا ہے، یہ وہ سوال ہے جو نقصان سے بچاتا ہے ، یہ وہ سوال ہے جو تکلیف سے بچاتا ہے۔
آج کے اس سیشن میں شرکت کا بھی یہی سوال ہے کہ میں جا کدھر کو رہا ہوں؟ میرے فٹ اسٹیپ ، میری زندگی کی سمت، میرے عمل کی سمت کیا ہے؟لہٰذا سب سے زیادہ ضروری کام زندگی میں اس بات کا تعین ہے کہ اپنے عمل کی سمت دیکھی جائے۔ اس سے فرق نہیں پڑتا کہ آپ کی زندگی میں غربت کتنی ہے دیکھا یہ جاتا ہے کہ آپ نے کوشش کتنی کی ہے کیونکہ غربت ہی سے عظمت نکلتی ہے۔میں نے جھگیوں سے عظمت کو نکلتے ہوئے دیکھا ہے۔ میں نے پھٹے ہوئے کپڑے پہنے انسانوں کو ترقی کی طرف چلتے ہوئے دیکھا ہے کہ وہ عظمت کی بلندی پر پہنچے ۔ یاد رکھیں عظمت نکلتی تکلیف سے ہی ہے۔

Leave Comments

آج کی بات

انسان حالات کی پیداوار نہیں،حالات انسان کی پیداوارہوتے ہیں۔
{کتاب۔کوئی کام نا ممکن نہیں۔سے اقتباس}