دارالشعورمیگزین کے مستقل تحریری سلسلے — محمدعباس شاد

ہم نے اپنے قارئین سے وعدہ کیا تھا کہ ہم ” دارالشعورمیگزین” میں شائع ہونے والے مستقل سلسلوں کا تعارف کرائیں گے کہ ہم ان میں آپ کو کیا کچھ پیش کریں گے “دارالشعور میگزین “کے مستقل سلسلوں میں پہلا سلسلہ “نقطہ نظر “کا ہے جس میں ایڈیٹوریل بورڈ کی ٹیم میں سے کسی کی بھی تحریر جو میگزین کی پالیسی کی ترجمان ہوگی دوسرے الفاظ میں اسے اداریہ کہہ لیجیے وہ شائع ہوا کرے گی ۔فی الحال یہ ذمہ داری خود ہی نباہ رہا ہوں اگر ٹیم میں ایسے اصحابِ علم وفن میسر آ گئے تو یقیناً ان کی صلاحیتوں سے بھرپور فائدہ اٹھایا جا ئے گا۔
ہمارا دوسرا سلسلہ” کالم ” کا ہے۔ اس میں اب تک جو کچھ ہم پیش کرچکے ہیں وہ آپ کے سامنے ہے۔ اس میں ہم نے تجربہ کار اور کہنہ مشق اہل قلم کے ساتھ ساتھ نئے قلم کاروں کو بھی موقع فراہم کیا ہے کہ وہ بھی ہمارے سنگ چلیں۔ دارالشعور پبلیکیشنز چونکہ ایک اشاعتی ادارہ ہے جو گزشتہ تیس سالوں سے سے علم وادب کی خدمت میں پیش پیش ہے۔ لہذا لکھاریوں اور قلم کاروں کی ایک وسیع برادری اس کے ساتھ جڑی ہوئی ہے اب اس موقع پر ان کے علم وہنرسے اہل ذوق کی تسکین کا سامان کرنا وقت کا تقاضا ہے۔ اس لیے اب یہ سب حضرات آپ کے لیے لکھیں گے اور ایسے اہل علم اورصاحب الرائے دوست جو ہمارے اس پلیٹ فارم کا حصہ بننا چاہتے ہیں انہیں ہم صمیم قلب سے خوش آمدید کہتے ہیں۔ آ ئیے اور ہمارے ہمسفر ہوجائیے۔
ہمارا تیسرا سلسلہ “سیلف ہیلپ” کے عنوان سے ہے جو تھوڑا سا شاید ہمارے قارئین کو اجنبی لگے لیکن سنئیے دارالشعور پبلیکیشنز نے سیلف ہیلپ لٹریچر میں ایک نام پیدا کیا ہے اور اس موضوع پر انٹرنیشنل کتابوں کے تراجم پیش کیے ہیں۔ اور اس کے اثرات وثمرات کو بھی اپنے قارئین میں محسوس کیا ہے۔ سیلف ہیلپ کیا ہے اس پر تو ہماری ٹیم کے وہ ممبران جو اس سلسلے کی مستقل نگرانی کریں گے وہ ہی بتائیں گے لیکن میں صرف اتنا عرض کرنا چاہتا ہوں کہ اس موضوع پر اپنے قارئین کی مستقل رہنمائی ہمارے میگزین کا ایک اہم باب ہے اور اس سلسلے میں ہمیںکارپوریٹ ٹرینر جناب قاسم علی شاہ اور پنجاب یونیورسٹی کے استاذ جناب عاطف مرزا کا مکمل تعاون حاصل ہے۔
ہمارے میگزین کا چوتھا سلسلہ” اردو ادب” کا ہے۔جس کی نگرانی نوجوان ادیب اور افسانہ نگار آ صف اقبال کررہے ہیں اس میں ہم نیا اور پرانا ادب دونوں ہی قارئین کے لیے پیش کریں گے۔ ملک بھر سے نئے ابھرتے ہوئے تخلیق کار ہمارے اس سلسلے کے ساتھ رابطے میں ہیں اور محترم آ صف اقبال اس سلسلے میں انتھک محنت کررہے ہیں۔ اب تک کی ان کی کوششیں ہمارے قارئین کے سامنے ہیں جو ان کے ادبی ذوق کا مونہہ بولتا ثبوت ہیں۔ اس سلسلے میں نئی نسل کا وہ طبقہ جو اپنے سماج اور عہد کی نمائندگی کررہا ہے اسے اس پلیٹ فارم پر ویلکم کہاجائے گا۔
میگزین کا پانچواں سلسلہ” انتخاب “کے عنوان سے ہے۔ہر قوم کا ایک علمی ارتقاء ہوتا ہے اس ارتقاء میں جہاں ہر عہد کا فن کار اپنا ادب تخلیق کرتا ہے وہاں اسے بہت کچھ ورثے میں بھی ملتا ہے۔ اس حوالے سے ہمارا یہ خطہ بہت ہی زرخیز رہا ہے۔ ادب، سیاست، تاریخ، فلسفے الغرض، زندگی کے ہر شعبے میں ہم ایسے ایسے گوہر آب دار سے مالا مال ہیں جسے نئی نسل کو پڑھانا از حد ضروری ہے۔ اس سلسلے میں بہت سے مضامین اور ادبی شاہکار نہ صرف نئی نسل کی آ نکھوں سے اوجھل ہیں بلکہ ان کا وجود خطرے سے دوچار ہے۔ اس لیے ان کو محفوظ کرنا اور ان کی روشنی کو نئے ذہنوں تک منتقل کرنا ایک اہم علمی فریضہ ہے جس سے صرف نظر ممکن نہیں ہے۔ اس میں اب تک اردو ادب سے متعلق چند اہم تحریریں پیش کی گئی ہیں اب اس کے دائرے کو تاریخ، سیاست فلسفے اور خطوط تک وسیع کیا جائے گا۔ اس میں بھی میرے ساتھ جناب آصف اقبال معاون ہیں۔
ہمارا چھٹا سلسلہ “خواتین کارنر” کے نام سے ہے جس میں خواتین کی دلچسپی کی ہمہ جہت تحریریں پیش کی جایا کریں گی اور اس میں بھی ہمیں اس شعبے سے متعلق خواتین دانشوروں کا تعاون حاصل ہے ۔ اگر کوئی اور بھی اس میں دلچسپی رکھتی ہوں تو انہیں اپنے جوہر دکھانے کا پورا موقع دیا جائے گا۔
ساتواں عنوان “آن لائن کتابیں مطالعہ کیجیے” کتاب دوست اور کتاب شناس دوستوں کے لیے ایک سنہری باب کا اضافہ ہے۔ اس سلسلے میں دارالشعور مرحلہ وار اپنی مطبوعات کو آن لائن مطالعہ کے لئے پیش کرتا رہے گا اور اس سلسلے میں کوئی مفید کتاب جہاں بھی دستیاب ہوگی وہ اپنے قارئین کے لیے پیش کردی جائے گی۔ لیکن اگر اس سلسلے میں ہمارے قارئین بھی ہمارے ساتھ شریک ہوجائیں اور جو بھی کوئی مفید کتاب سوفٹ کاپی کی شکل میں انہیں دستیاب ہو وہ اسے ہمارے ساتھ بھی شیئر کرلیں تو وہ بہت بڑی تعداد تک پہنچ جائے گی۔
اس کے علاوہ سلسلوں میں نئی کتابوں کی اطلاع، ان پر تبصرے اورآپ کے خطوط، میسجز کو بھی میگزین کا حصہ بنایا جائے گا۔
میں اس سلسلے میں اپنے تمام دوستوں کا ممنون ہوں جنہوں نے ویب ڈیزائننگ سے مضامین نگاری تک اور دیگر سلسلوں میں اپنے بے لوث کردار سے ہمیں یہاں تک پہنچایا ۔ہمیں ان دوستوں کی ہمیشہ ضرورت رہے گی اور ان کے بغیر ہم کچھ بھی نہیں کرسکتے۔
ہم سب کا اللہ تعالٰی حامی و ناصر ہو۔

Leave Comments

آج کی بات

انسان حالات کی پیداوار نہیں،حالات انسان کی پیداوارہوتے ہیں۔
{کتاب۔کوئی کام نا ممکن نہیں۔سے اقتباس}