قارئین کو “دار الشعور میگزین” میں خوش آمدید – محمد عباس شاد

قارئین کرام! آپ کے انتظارکی گھڑیاں ختم ہوئیں اور “دارالشعور میگزین” آپ کی سکرین پر جلوہ افروز ہے. کتاب، علم اور ادب کے ساتھ جڑے دوست اس ملک، قوم اور انسانیت کا قیمتی اثاثہ ہیں. وہ ہر اس چیز کی قدر کرتے ہیں جو انہیں اقدار، روایات اور انسانیت سے جوڑتی ہے۔

میں اس وقت ایک سچی خوشی محسوس کررہاہوں کہ میں مختلف حلقہائے فکر کے دارالشعور سے جڑے ایسےلاکھوں قارئین سے مخاطب ہوں جنہوں نے سالہا سال دارالشعور سے طبع ہونے والی ہمہ نوع مطبوعات کو شرف قبولیت بخشا اور مسلسل دارالشعور کی ٹیم کا حوصلہ بڑھاتے رہے.

آن لائن “دارالشعور میگزین” سے “دارالشعور پبلیکیشن” ایک نئے سفر کا آ غاز کررہا ہے جس کی مشکلات اور پیچیدگیوں سے ہم بہ خوبی آگاہ ہیں. اور ان پر ہمیشہ کی طرح اپنے اللہ ہی کے حضور دست بدعا ہیں جو سب کی مشکلات دور کرنے والا اور حقیقی حاجت روا ہے۔

1990کے اوائل میں نشرواشاعت کی دنیا میں قدم رکھتے ہی ایک دانا بزرگ نے کہا تھا اگر اس سمندر میں اترنا چاہتے ہو تواس شعبے سے متعلق ایک کہاوت ضرور پیش نظر رکھو. وہ یہ کہ کتابوں کی نشرواشاعت اور خرید و فروخت میں “خزانہ قارون، صبر ایوب اور عمر نوح درکار ہوتی ہے.

جوان خون اور شوق کی آگ نے محاورے میں چھپے سبق پر دھیان نہ جانے دیا. چند سالوں بعد محاورے میں حقائق کا چھپا خزانہ حالات نے میرے سامنے انڈیل دیا اور محسوس کیا کہ یہاں تو کتاب چھاپنا اور بیچنا اندھوں کے شہر میں آ ئینے بیچنے کے مترادف ہے. خزانہ قارون ہے نہ خواہش. عمروں کے کنکشن خالق کے ہاتھ میں ہیں البتہ صبر ایوب کا اگر ایک قطرہ بھی ہاتھ لگے اور سینے میں جنون کا تندور شعلہ زن ہو، درد دل سے مالا مال بزرگوں کی سرپرستی اور مخلص دوستوں کا ساتھ ہو تو پھر کسی بھی طاقت کے لیےآپ کا راستہ روکنا مشکل ہے.

آ مدم بر سر مطلب !بات کہیں اور نکل جائے گی لیکن اب آپ سے تجربات کی پٹاری سے بھی کچھ نہ کچھ ضرور شیئر کرتا رہا کروں گا. ابھی تو مجھے “میگزین” کے سلسلوں اور مضامین پر بات کرنی ہے۔

یہ بات دوست پیش نظر رکھیں گےکہ یہ میگزین روایتی نہیں ہوگا اور نہ ہی دوست اسے کسی معاصر آن لائن رسالے، مجلے اور میگزین سے موازنہ کریں. اس کی اپنی ہی جدا راہیں ہوں گی. اس کا بڑا امتیاز اپنے قارئین میں مطالعہ کے شعور کو اجاگر کرنا اور کتاب شناسی کے جوہر کی آ بیاری کرنا ہے اسی لیے ہم اس میں آن لائن فری کتابیں بھی رکھیں گے، نئی کتابوں پر تبصرے بھی کریں گے اور نئی نئی انٹرنیشنل کتابوں کے تراجم کرواکر اپنے قارئین تک پہنچائیں گے.

یہ ایک ایسا پلیٹ فارم ہوگا جس پر قارئین کتابوں سے متعلق اپنے رجحانات اور شوق سے بھی ہمیں آگاہ کرتے رہیں گے جس کے مطابق ہم ان کے رجحانات کوعملی صورت دینے کی کوشش کریں گے. اور معاصر ترقی یافتہ معاشروں میں ہونے والی علمی ادبی ترقی اور سرگرمیوں سے باہم واقفیت بھی رہے گی تاکہ عصری ضروریات کے مطابق ان سے استفادہ اور تنقید دونوں برابر چلتے رہیں.

میگزین کے مستقل سلسلوں پراظہار خیال مضمون کے دوسرے حصے میں ملاحظہ فرمائیں.

Leave Comments

آج کی بات

انسان حالات کی پیداوار نہیں،حالات انسان کی پیداوارہوتے ہیں۔
{کتاب۔کوئی کام نا ممکن نہیں۔سے اقتباس}