بے جا خوف — پروفیسرارشدجاوید

امریکہ میں تعلیم کے دوران میرے ایک استادڈاکٹر سوہن لال شرما نے کلاس میں بے جاخوف کی ایک بہت ہی دلچسپ مثال دی ۔ مارٹن جو کہ ایک یونیورسٹی پروفیسر تھا، ماچس کی ڈبیہ سے بہت ڈرتا تھا۔ مزے کی بات یہ تھی کہ وہ سگریٹ بھی پیتا تھا ۔ مگر سگریٹ سلگانے کے لیے لائٹر استعمال کرتا تھا ۔ اس کی بیوی کو اس کے اس خوف کا علم تھا ۔ لہٰذا گھر میں جب کبھی میاں بیوی میں جھگڑا ہوتا تو بیوی ہمیشہ ماچس کے ہتھیار کو استعمال کرتی ۔ وہ لڑائی کے دوران میں ماچس خاوند پر پھینک دیتی اور جنگ جیت جاتی ۔ بلکہ اکثر اوقات ماچس پھینکنے کی دھمکی ہی سے لڑائی کا فیصلہ بیوی کے حق میں ہوجاتا۔

یہ ایک ایسا خوف ہوتا ہے کہ جس کی کوئی معقول وجہ نہیں ہوتی یعنی اس خوف کا حقیقت سے کوئی تعلق نہیں ہوتا۔ فرد کو علم ہوتا ہے کہ یہ کوئی ڈرنے والی چیز نہیں۔ مگر پھر بھی وہ اس چیز سے ضرورخوف زدہ ہوتا ہے اور اس چیز کے قرب سے اس پر خوف ،گھبراہٹ اور دہشت طاری ہوجاتی ہے۔ یہ نفسیاتی بیماری مردوں کی نسبت عورتوں میں دوگنا زیادہ ہوتی ہے ۔

میں ایک ایسے بچے سے واقف ہوں جو کہ نارمل نہیں مگر وہ پھول سے خوف زدہ ہے۔ پھو ل کو دیکھتے ہی اس کا رنگ فق ہوجاتا ہے ۔ اسی طرح ہمارے ہمساےمیں ایک بچی گڑیا سے شدید خوف کھاتی ہے۔ اگر گڑیاکو اس کے قریب لایاجائے تو وہ دہشت زدہ ہوجاتی ہے او ر تقریباً بے ہوش ہونے والی ہوتی ہے۔ ویسے تو فرد تقریباً ہر چیز سے خوف زدہ ہو سکتا ہے تاہم عام خوف درج ذیل ہیں۔

@۔بلیوں کا خوف

@تنگ جگہ کا خوف

@۔ہوائی سفر کا خوف

@۔بلندی کا خوف

@۔کشادگی کا خوف

@۔کینسر کا خوف

@۔دل کی بیماری کا خوف

@۔خون کا خوف

@۔پانی کا خوف

@۔چھری یا چاقو کا خوف

@۔جراثیموں کا خوف

@۔بیماری کا خوف

@۔رات کا خوف

@۔اندھیرے کا خوف

@۔ہجوم کا خوف

@۔روشنی کا خوف

@۔دم گھٹنے کا خوف

@۔آگ کا خوف

@۔ریل گاڑی کے سفر کا خوف

@۔بس کے سفر کا خوف

@۔حیوانوں کا خوف

@۔سمندر کا خوف

اس طرح کے تقریباً 300قسم کے خوف ہیں۔ عموماً ایک فرد کو ایک سے زیادہ خوف ہوتے ہیں اس بیماری میں مریض ایسی چیزوں سے ڈرتا ہے جس سے عام لوگ حتیٰ کہ بچے بھی نہیں ڈرتے ۔ 1991 میں میرے پاس ایک 45 سالہ مریض علاج کے لیے آیا۔ اصغر سرکاری افسر تھا ۔ وہ تنگ جگہ کے شدید خوف کا شکار تھا۔یہ بند جگہ مثلاً سینما ہال، تھیٹروغیرہ میں کسی بھی صورت میں بیٹھ نہیں سکتا تھا ۔ بند کمروں میں اس کا دم گھٹنے لگتا تھا اور وہ شدید بے چینی محسوس کرتا حتیٰ کہ میرے علاج کے کمرے میں اس کے لیے بیٹھنا مشکل تھا۔ چنانچہ اس کے علاج کے دوران میں کمرے کا دروازہ کھلا رکھاجاتا۔

دوسری ملاقات پر اس کا نفسیاتی تجزیہ کیا گیا جس کے لیے میں اسے ٹرانس میں اس اہم واقعہ کی طرف لے گیا جو اس کے خوف کا سبب بنا۔ اصغر بہت اچھا معمول تھا یہ ماضی میں بہت پیچھے چلا گیا اس نے دیکھا کہ وہ آٹھ یا نو ماہ کا بچہ ہے جو ایک کمرے میں پیٹ کے بل چل کر دروازے کی طرف جا رہا ہے ۔ کمرے میں روشنی کم ہے ۔ دروازے کے قریب پہنچ کر بند دروازے کو کھولنے کی کوشش کرتاہے مگر یہ دروازہ نہ کھول سکا۔ یہ ڈر جاتا ہے اور رونا شروع کر دیتا ہے۔ وجہ معلوم ہونے اور مناسب سجشن دینے سے مسئلہ آہستہ آہستہ اور کبھی فوراً ختم ہوجاتا ہے۔

وجہ

اس کے پیچھے ہمیشہ ماضی کے ناخوشگوار واقعات ہوتے ہیں۔ کبھی ایک واقعہ اور کبھی زیادہ۔

علاج

بے جا خوف کے خاتمے کے لیے ہپناٹزم کو کئی طرح سے استعمال کیا جا سکتا ہے بعض اوقات تو ایک دو سیشن کافی ہوتے ہیں۔علاج کے لیے مریض کے اعتماد کو بڑھایاجائے۔ دوسرے طریقے یہ ہیں

1۔ معمول سوئچ روم میں جا کر خوف کے سرخ بلب کو آف کر کے توڑ دے اور کنٹرول کے سبز بلب کو تیز کردے۔

2۔ ٹرانس میں معمول میٹر روم میں جا کر خوف کی سوئی کو صفر پر لائے اور کنٹرول کی سوئی کو دس پر لائے۔

3۔ خوف کو ختم کرنے کے لیے مریض خوف کو بادلوں میں رکھ کر جلا دے، شاورکے ساتھ دماغ سے نکال دے ۔ غبارے میں رکھ کر اڑا دے یاسمندر کے کنارے لیٹ کر دماغ کا ڈھکنا کھول دے ، لہریں خوف کو سمندر میں لے جائیں۔

4۔ معمول خوف کو کسی شکل میں دیکھے پھر شکل کو تبدیل کردے یا ختم کردے۔

5۔ تصور میں معمول کسی دوسرے کو وہی کام کرتے دیکھے جس کے کرنے سے اسے خوف آتا ہے۔مثلاً اگر معمول کو لفٹ کاخوف ہے تو وہ پہلے تصور میں ماہر نفسیات کو لفٹ میں سوار ہوتے اور اوپر نیچے جاتا دیکھے۔ پھر تصور میں ماہر نفسیات کے ساتھ لفٹ میں سفر کرے۔ جب اس صورت میں وہ خوف محسوس نہ کرے تو پھر تصور میں اکیلے لفٹ میں سفر کرے ۔ جب تصور میں اکیلے لفٹ میں خوف محسوس نہ کرے تو پھر حقیقت میں ماہر نفسیات کے ساتھ سفر کرے اور آخر میں اکیلے لفٹ میں اوپر نیچے جائے۔

6۔ معمول ٹرانس میں خو ف محسوس کرے پھر خوف کو بائیں مٹھی میں لے جائے اور آخر میں مٹھی کھول کر خوف کو جسم سے خارج کر دے معمول بار بار یہ مشق کر ے تو خوف ختم ہوجائے گا۔

7۔ ہپناٹزم کی کیفیت میں معمول اپنے آپ کو مستقبل میں لے جائے اور اپنے آپ کو خوف کے بغیر بالکل نارمل دیکھے ۔ یہ مشق بار بار کرنے سے خوف ختم ہوجاتا ہے۔

8۔ یہ طریقہ اگرچہ لمبا ہے مگر کافی موثر ہے ایک فرد کو ہوائی جہاز کے سفر کا خوف ہے۔ اس خوف کے خاتمے کے لیے وہ ٹرانس میں یہ تصور کر ے کہ وہ ہوائی جہاز کی ٹکٹ خرید رہا ہے وہاں وہ پر سکون اور نارمل ہے ، پھر تصور کر ے کہ وہ ائیرپورٹ کی پارکنگ میں ہے اور پر سکون ہے۔ پھر وہ ائیرپورٹ کے اندر دیکھے ، پھر لاﺅنج میں دیکھے اور نارمل ہو۔ پھر دیکھے کہ وہ لائن میں کھڑا ہے اور پر سکون ہے اور دوسرے لوگوں کی طرح اس کا ٹکٹ اور سامان چیک ہو رہا ہے۔ پھر جہاز کی طرف جانے کا تصور کرے پھر اپنے آپ کو جہاز کی سیڑھیوں پر کھڑا دیکھے پہلی سیڑھی پر پھر آخری پر اور پھر تصور کرے کہ وہ جہاز میں داخل ہو گیا ہے اور نارمل ہے۔ پھر اپنی سیٹ پر بیٹھ جائے، بیلٹ باندھ لے ۔ تصور کرے کہ جہاز کا دروازہ بند ہوگیا ہے اور وہ پر سکون ہے۔ جہاز کےاڑنے کا اعلان ہو رہا ہے پھر تصور کرے کہ جہاز رن وے پربھاگ رہا ہے آخر میں تصور کرے کہ جہاز اڑ رہا ہے اور یہ نارمل اور پر سکون ہے۔ اگر کسی مرحلے پر معمول کو خوف یا گھبراہٹ ہو تو لمبے لمبے سانس لے پھر تصور میں کسی خوبصورت اور پر سکون جگہ چلاجائے۔ پر سکون ہونے پر پھر دوبارہ وہی تصور کرے جب تک وہ پہلے تصور میں پر سکون اور نارمل نہ ہو تو اگلا تصور نہ کیا جائے اسے کئی بار دہرایا جائے۔

9۔ ایک اور موثر طریقہ یہ ہے کہ معمول ٹرانس میں اپنے آپ کو اڑتے ہوئے جہاز میں دیکھے۔ پہلے اس کو بہت زیادہ خوف محسوس ہوگا مگر تصور ختم نہ کیا جائے۔ آہستہ آہستہ خوف ختم ہونا شروع ہوجاتا ہے تصور کے ساتھ ماہر معمول کو لمبے سانس لینے اور پر سکون ہونے کی سجشن دیتا جائے ۔ اسے بار بار دہرایا جائے حتیٰ کہ خوف ختم ہوجائے۔ اسے Flooding کہا جاتا ہے ۔ اگر معمول بہت زیادہ خوف زدہ ہوجائے تو یہ طریقہ استعمال نہ کیا جائے۔

10۔ معروف ہپنوتھےراپسٹ ایرکسن نے اپنے معمول کو تصور میں دوہفتے آگے مستقبل میں لے گیا اور سجشن دی کہ جب وہ لفٹ میں بیٹھنے لگے گا تووہ بھول جائے گا کہ اسے لفٹ کا خوف ہے اور وہ بھول گیا۔

11۔ معمول کسی بڑے پسندیدہ فرد کووہی کام تصورمیں کرتا دیکھے پھر خود تصور میں وہی کام کرے ۔اس سے خوف ختم ہوجائے ۔

12۔ بنیادی خوف یا فطری خوف دو ہی ہیں ۔ ایک بلند آواز کا خوف دوسرا گرنے کا خوف۔ باقی سارے خوف انسان کے اپنے پیداکردہ ہیں۔ اس حوالے سے مریض سے پوچھا جائے کہ آیا وہ اس خوف کا تعلق ماضی کے کسی واقعہ سے جوڑ سکتا ہے (یا پھر تجزیاتی ہپناٹزم کی مدد سے) خوف کی وجہ معلوم کی جائے پھر اس کے مطابق علاج کیاجائے۔

Leave Comments

آج کی بات

انسان حالات کی پیداوار نہیں،حالات انسان کی پیداوارہوتے ہیں۔
{کتاب۔کوئی کام نا ممکن نہیں۔سے اقتباس}