دلیروں کی یاد میں چند آنسو – – عمیر اقبال

میں ہر مذہب اور مسلک کا جی جان سے احترام سے کرتا ہوں۔ تاہم مجھے اللہ تعالیٰ سے جس دین پر پیدا کیا ہے اس کی مکمل پاسداری کرتا ہوں۔ آزادی اظہار رائے کا نہ صرف حامی ہوں بلکہ اس کو لوگوں کے بنیادی حقوق میں شمار کرتا ہوں۔ یہی وجہ ہے کہ زبان سے کہی گئی کوئی بھی بات جو ذاتیات کو نہ چھو رہی ہو میرے نزدیک شاذ ہی گستاخی کے زمرے میں آتی ہے۔

مجھے پسند ہے کہ لوگ مجھ پر تنقید کریں، اختلاف کریں یا میری تعریف کریں۔ لیکن میں اس بات کو قطعا ناپسند کرتا ہوں کہ مجھ پر تنقید کا جواب میں یا میرا کوئی چاہنے والا پتھر مار کر دے۔ یہ نہ صرف انسان کی جاہلیت اور حیوانیت کی علامت ہے بلکہ عدم برداشت جو اپنے آپ میں ایک بڑا جرم ہے کا بھی عکاس ہے۔

سانحہ کوئٹہ اور کچھ نہیں ملکی تاریخ کے سیاہ ابواب میں ایک اور بھیانک اضافہ ہے۔ جس کی بنیاد عدم برداشت اور حیوانیت پر رکھی گئی ہے۔ بولنے والے بولتے بولتے تھک جائیں گے، رونے والے روتے روتے تھک جائیں گے لیکن ظالموں کے دل پر نہ کوئی آہ دستک دے گی نہ کوئی آنسو ان کے دلوں کی سیاہی کو پگھلا سکے گا۔

اس حال کو مصطفی زیدی کچھ یوں بیاں کرتے ہے کہ:

اے وطن کیسے یہ دھبّے در و دیوار پہ ہیں
کس شقی کے یہ طمانّچے ترے رُخسار پہ ہیں

اے وطن یہ ترا اُترا ہوا چہرہ کیوں ہے
غُرفہ و بامِ شبستاں میں اندھیرا کیوں ہے

درد پلکوں سے لہو بن کے چھلکتا کیوں ہے
ایک اک سانس پہ تنقید کا پہرا کیوں ہے

کس نے ماں باپ کی سی آنکھ اُٹھالی تجھ سے
چھین لی کس نے ترے کان کی بالی تجھ سے

میں کوئٹہ کے شہداء سے کوئی خون کا رشتہ نہیں۔ لیکن انسانیت کا رشتہ ہے۔ جو دنیا کے تمام رشتوں سے بڑھ کر ہے۔ ساتھ ہی ساتھ میری دلی تمنا ہے کہ جن لوگوں نے عشق جیسے خوب صورت احساس کی آڑ میں قتل و غارت کو اپنا پیشہ بنا لیا ہے انہیں پکڑ پکڑ کے زد و کوب کیا جائے کہ دین نام ہے عدل و انصاف کا اور عدل و انصاف کا ایک نام قصاص بھی ہے۔

 

Leave Comments

آج کی بات

انسان حالات کی پیداوار نہیں،حالات انسان کی پیداوارہوتے ہیں۔
{کتاب۔کوئی کام نا ممکن نہیں۔سے اقتباس}