آدھا آدھا پاکستان–عمران خان بمقابلہ نواز شریف –محمد عباس شاد

پاکستان کی تاریخ وسیاست بہت دلچسپ ہے اگر ہماری نوجوان نسل آنکھیں بند کئے بغیر با ہوش وحواس پاکستان کی تاریخ وسیاست کا مطالعہ کرے تو اسے دھوکہ دے کر کسی خواب کے جال میں پھنسانا بہت مشکل ہے۔
مغربی پاکستان اسمبلی میں صدر ایوب خان کے آخری دور میں ان کے چھوٹے بھائی سردار بہادر خان قائد حزب اختلاف تھے ۔ان دنوں انہوں نےایک تقریر سے بڑی شہرت پائی تھی انہوں نے ایوب خان کے خلاف ایوان میں بطور قائد حزب اختلاف تقریر کرتے ہوئے اپنی تقریر کے آخر میں حضرت نوح ناروی کے ایک شعر کا مصرع ٹانکا تھا۔
ہر شاخ پہ الو بیٹھا ہے ، انجام گلستان کیا ہوگا؟
اس میں انہیں بہت داد ملی تھی اور ایوب خان خاصے زچ ہوئے تھے۔ روایت ہے کہ دونوں بھائی والدہ کوملنے آبائی گاوں ریحانہ ہری پور کے قریب آئے تو آمنے سامنے ہوئے توایوب خان نے والدہ سے شکایت کی کہ بہادر خان اسمبلی میں میری مخالفت کرکے مجھے تنگ کرتا ہے ۔سیاست اور اقتدار کی غلام گردشوں سے ناواقف سادہ دل ماں نےچھوٹے بیٹے کو سمجھاتے ہوئے کہا بیٹا لڑونہیں دوپاکستان ہیں ایک تم لے لو اور ایک بڑے بھائی کو دیدو۔ یاد رہے اس وقت پاکستان دوحصوں مشرقی پاکستان اور مغربی پاکستان کے نام سے جانا جاتا تھا۔
عمران خان نواز شریف سے مقابلہ کرنے نکلے ہیں لیکن انہیں نواز شریف کی سیاست کو بھی سمجھنا چاہئے کہ مسلم لیگ کا ابدی اصول موقع پرستی ہے کہ خود بھی کھاو اور دوسرے کو بھی اپنے ساتھ ملا کر کھلائو۔ مسلم لیگ نون کے پاس کے پی کے میں حکومت بنانے کے پورے پورے مواقع تھے کیونکہ کے پی کے میں اے این پی ،جمعیت علماء اسلام ،جماعت اسلامی کوساتھ ملاکر اورسرمائے کی بنیادپرالیکشن جیتنے کا تجربہ بھی ان کے پاس تھا اور یہ تینوں جماعتیں بھی ان کے لیے اجنبی نہ تھیں یہ تینوں مختلف ادوار میں ان کی اتحادی بھی رہ چکی ہیں ان اسباب کی بنیاد پر حکومت بنانا کوئی مشکل کام نہ تھا لیکن مسلم لیگ نون نے پاکستان بانٹ دیا تاکہ اسے حکومت کرنے میں دشواری نہ ہو اور نئی ابھرتی ہوئی قوتوں کو ایڈجسٹ کرنے کی گنجائش پیدا کی جائے۔ چنانچہ سندھ پی پی کو، بلوچستان میں قوم پرستوں کو وزارت اعلی کی آدھی ٹرم دے کر شراکت اقتدار کا فارمولا طے کرلیا گیا اور کے پی کے عمران خان کو دے دیا گیا ۔پنجاب میں چھوٹے میاں اور وفاق میں بڑے میاں سبحان اللہ ۔
لڑائی سے بچنے کے لیے پاکستان کو بانٹ لیا جائے یہ فارمولا ایک دیہاتی سیانی ماں کا تھا جس پر میاں برادران بھی عمل پیرا ہیں۔عمران خان صاحب کے عقیدت مندوں کو سمجھنا چاہئے کہ کے پی کے میں اقتدار اس بات کی علامت تھی کہ اسٹیبلشمنٹ کی قوتوں نے انہیں قبول کرلیا ہے اور اب ان کے ساتھ معاملات چلائے جاسکتے ہیں ۔
یہ بات ہماری بحث سے خارج ہے کہ حالیہ معرکہ میں عمران کامیاب ہوتے ہیں یانہیں ۔ہمارے پیش نظر یہ ہے کہ آیا وہ اقتدار میں آکر سب کچھ بدل دیں گے ؟ اگر اس کا کوئی ہاں میں جواب دیتا ہے تو اس پر یقین مشکل ہے۔ہوسکتا ہے وہ حکومت گرانے میں کامیاب ہوجائیں اس طرح وہ نواز شریف کو تو شکست دے دیں گے لیکن نظام کو نہیں اور یہی قوم کا مسئلہ ہے کہ حکومت نہیں نظام کو بدلا جائے۔
اگریہ معرکہ فیصلہ کن نہیں ہوتا اور دوہزار اٹھارہ کے الیکشن میں عمران خان جیت بھی جاتے ہیں تو وہ پرانی قوتوں کو مکمل طور پرملیا میٹ نہیں کرسکتے ۔زیادہ سے زیادہ یہ ہوگا کہ عمران مرکز میں حکومت بنالیں اور ایک کسی اور صوبے میں چلو وہ کے پی کے ہی سہی ۔پنجاب میں مسلم لیگ نون ،سندھ میں پی پی اور بلوچستان میں اتحادوں کی حکومت ۔ تو اس طرح پھر آدھا آدھا پاکستان تقسیم ہوگیا لڑائی اورکشمکش وہیں کی وہیں اور نظام بھی وہیں کا وہیں قوم کے ہاتھ کیا آیا ۔
عمران خان اپنی تقریروں میں جوکچھ بھی کہتے ہیں اس میں کچھ بھی غلط نہیں ہے ۔کرپشن بھی ہوئی ہے اور بے تحاشا ہوئی ہے اور گزشتہ ستر سالوں سے ہوتی آرہی ہے ۔عوام کے مسائل ،شریف خاندان کی بادشاہت، سب کچھ سوفیصد ایسا ہی ہورہا ہے جیسے وہ کہہ رہے ہیں ۔لیکن یہ سب کچھ ختم کرنے کے لیے ان کی تیاری نہیں ہے ۔عمران خان کے ساتھ کھڑی سٹیٹس کو کی قوتیں اس بات کی علامت ہیں کہ وہ عمران خان کو اس نظام کے لیے قابل قبول بنانا چاہتی ہیں۔
اگر وہ شیخ رشید اور چوہدری برادران کے ذریعے قوم کو نیا پاکستان دینے جارہے ہیں توان کی نیت پر شک کرنے کے بجائے ان کی سادگی پر ضرور ہنسی آتی ہے بھلا چوہدری برادران اور شریف برادرن اور شیخ رشید اور پرویز رشید میں کیا فرق ہے ؟

Leave Comments

آج کی بات

انسان حالات کی پیداوار نہیں،حالات انسان کی پیداوارہوتے ہیں۔
{کتاب۔کوئی کام نا ممکن نہیں۔سے اقتباس}