پاکستان بازیچہ اطفال – – تقریب رو نمائی – – محمد عباس شاد

جناب مرزا جاوید اقبال صاحب کی کتاب “پاکستان بازیچہ اطفال” کی تقریب رو نمائی 17 اکتوبر 2016 کو باغ جناح میں قائداعظم لائبریری کے آڈیٹوریم میں منعقد ہوئی. جس میں مہمان خصوصی جناب مجیب الرحمن شامی اور صدر نشست جناب ڈاکٹر ظہیر احمد بابرڈی جی لائبریریز پنجاب تھے جب کہ مقررین میں جناب نعیم مرزا سی ای او آواز ریڈیو نیٹ ورک پاکستان. جناب عابد حسین عابد جنرل سیکرٹری انجمن ترقی پسند مصنفین پنجاب اور راقم(محمد عباس شاد) بحیثیت ناشر اور چیئرمین دارالشعور پبلیکیشنز، لاہور شریک ہوئے. مہمانوں نے مصنف اور کتاب سے متعلق اپنا اپنا اظہار خیال کیا. مقررین نے  مصنف اور ناشر کو خراج تحسین پیش کیا. جناب ڈاکٹر ظہیر احمد بابر نے کہا کہ یہ کتاب ہمارے علمی ذخیرے میں ایک عمدہ اور قابل قدر اضافہ ہے. مصنف نے جس محنت اور لگن سے اسے سر انجام دیا ہے وہ ملک اور قوم کی طرف سے مبارک باد کے مستحق ہیں اور ہم ان سے توقع رکھتے ہیں کہ وہ مزید اس طرح کے گراں مایہ تحفے قوم کو پیش کرتے رہیں گے . اور ہماری لائبریریز کی رونق بڑھاتے رہیں گے . یہ ان کا نئی نسل پر بہت بڑا احسان ہے کہ انہوں نے اپنی زندگی کے سارے تجربات ایک کتاب کی شکل میں قوم کے سامنے رکھ دیئے ہیں  اور آنے والی نسلیں اس سے فیضان ہوتی رہیں گی.

مرزا محمد نعیم جو مصنف کے برادر نسبتی ہیں اور اس تقریب کے روح رواں تھے. انہوں نے کہا کہ میرے بھائی مرزا جاوید اقبال جب ریٹائرڈ ہوئے تو وہ بہت پرجوش تھے کہ وہ اپنے علم اور تجربات سے اپنے ملک اور قوم کی ویلیو میں کچھ نہ کچھ ایڈ کریں. اس موضوع پر کتاب کی تخلیق کا سبب کینیڈا میں ان کے پڑوس میں یہودیوں کی وہ بستی بنی جس کے نظم ونسق سے وہ بہت متاثر ہوئے اور انہوں نے یہودیوں کی تاریخ اور کلچر سے باہم واقفیت پہنچائی اور اس وقت دنیا پر یہودیوں کے اثرانداز ہونے کی وجوہات کا کھوج لگانا شروع کیا تو انہوں نے یہودیوں کی تاریخ سے متعلق ایسے ایسے انکشافات کیے جو صرف اسی کتاب کا حصہ ہیں اور وہ معلومات ہمیں عام کتابوں میں نہیں ملتیں .شاید اس کی وجہ مصنف کا عمر رسیدہ یہودیوں سے میل جول اور ان سے تبادلہ خیال بھی ہے.

راقم السطورنے بطور پبلشر مصنف کی محنت اور اسلوب نگارش کو سراہتے ہوئے کہا کہ آج کی اس کمپیوٹر ایچ میں کاپی اینڈ پیسٹ کے وسائل مہیا ہوجانےکے بعد کتاب لکھنا کوئی مشکل کام  نہیں رہا لیکن جینون اور حقیقی کتاب لکھنا آج بھی بہت مشکل ہے. کیونکہ کہ ایک حقیقی کتاب جس طرح محنت اور ری سرچ چاہتی ہے ہمارا مصنف وہ کرنا نہیں چاہتا. لیکن مرزا صاحب نے آج کے دور میں بھی حقیقی اور جینون کتاب کے تقاضے پورے کئے ہیں. میں نے عرض کیا کہ اس  کےتناظر میں یہودیت اور قوموں کا معاشی استحصال زیر بحث ہے اور رہے گا لیکن ایک بنیادی بات یہ پیش نظر رہے کہ ہر مذہب میں اچھے اور برے لوگ موجود ہیں موجودہ معاشی استحصال کے پیچھے کسی خاص مذھب کے بجائے اس بے لگام سرمایہ دارانہ نظام کو قرار دیا جائے جس کےسبب دنیا کی بڑی آبادی بلا امتیازمذھب اس کے استحصال کا شکار ہے مجھے اس بات کا اعتراف ہے کہ بلاشبہ مصنف نے یہودیت اور ان کی تاریخ سے متعلق ایسے پہلوؤں پر روشنی ڈالی ہے جس پر انہیں داد نہ دینا ناانصافی ہے.

عابد حسین عابد نے کہا کہ مصنف کی کاوش قابل تحسین ہے  کہ انہوں نے بیرون ملک رہتے ہوئے اپنے ملک کے عوام کو اس ملک میں ان پر مسلط اشرافیہ کو بے نقاب کیا. اس ملک میں ایک ایسا دونمبر طبقہ جمہوریت کے نام پر عوام پر مسلط ہے جس کا عوام اور اس دھرتی سے کچھ لینا دینا نہیں ہے.

جناب مجیب الرحمن شامی نے تقریب سے مصنف کی غیر حاضری کو محسوس کرتے ہوئے لطیف پیرائے میں کہا کہ مصنف کی غیر موجودگی میں ہم سب ان کے لیے غائبانہ ایصال ثواب کررہے ہیں. انہوں نے مصنف کی تحقیقات کو سراہتے ہوئے کہا کہ دنیا میں آج یہودیوں کی کامیابی کے پیچھے مصنف نے ان کے جس علم اور تجربے کو پیش کیا ہے مسلمانوں کو ضرورت ہے کہ وہ اس جدید دنیا میں نئی مہارتوں اور سائینسی علوم کو اپنی جدوجہد کا حصہ بنائیں.

You may also like this

Leave Comments

آج کی بات

انسان حالات کی پیداوار نہیں،حالات انسان کی پیداوارہوتے ہیں۔
{کتاب۔کوئی کام نا ممکن نہیں۔سے اقتباس}