ہمارے سماجی حالات اور نفسیاتی الجھنیں — نوید خان

جنگ آزادی ( 1857) کے بعد مسلمانوں کے مکمل زوال کا دور ہے جس کے بعد انسانیت جسمانی و ذہنی حوالے سے بیماریوں میں مبتلا نظر آتی ہےاس کی وجہ شاید یہ تھی کہ مسلمانوں کے عروج کے دور میں انسانیت کو ایک منظم سیاسی نظام کے ذریعے سے امن و امان اورمعاشی نظام کے ذریعے سے بنیادی معاشی حقوق فراہم کیے جاتے تھے اور اس کے ساتھ ساتھ بہترین تعلیمی نظام کے ذریعے سے انسانیت کو انسانی فطرت پر رہتے ہوئے ذہنی ترقی کے مواقع فراہم کیے جاتے تھے ۔
انیسویں اور بیسویں صدی میں ماہرین نفسیات نے بہت سی تھیوریاں پیش کیں اور آج کے ماہر نفسیات دماغی سائنس دانوں کی حاصل کردہ تجرباتی معلومات پر مبنی نفسیاتی مسائل کے نئے حل دے رہے ہیں
سگمنڈفرائڈ) 1939_-1856 ( اور کارلکسٹاونگ) 1969_-1875 (کی تھیوریاں ذہنی سائنس کی ترقی، نیرو سائنس اور نیرو بائیولوجی کے تلے انسانی نروس سسٹم کا علم اور دور حاضر میں اس کی ترقی کے باوجود کیوں انسانیت ذہنی اور جسمانی بیماریوں میں پہلے سے زیادہ مبتلا نظر آتی ہے؟
سائنس اور اور ٹیکنالوجی کی ترقی سے کیوں انسانیت فائدہ نہیں اٹھا پا رہی؟
خدا کی طرف جو انسانیت میں ایجاد وتقلید کا مادہ اور حب جمال اور خوب سے خوب تر قی خصوصیت رکھی گئ ہے اس کی وجہ سے انسان ترقی کرتا ہے اور اپنے معاشی اور عقلی ارتفاقات کی طرف جاتا ہے
لیکن عادل حکمرانوں کے دور میں یہ علم انسانیت کو فائدہ دیتا ہے اور ظالم حکمرانوں کے دور میںچند لوگ ہی اس سے استفادہ کرتے ہیں ۔
اور شاید اس کے پیچھے نظریات ہوتے ہیں عادل حکمران انسان دوست ہوتا ہے اور ظالم انسان دشمن
جس طرح سرمایہ درانہ نظریہ وفکر کی حامل قوتیں انسانیت کو ناقابل تلافی نقصان پہنچا رہی اسی طرح ہمارے ملک کا سیاسی ومعاشی نظام ہماری قوم کو امن وامان سے دور لے جا رہا اور معاشرے میں بھوک افلاس اور بے روزگاری پیدا کر رہا ہے اور تعلیمی نظام کے ذریعے سے فکری انتشار پیدا کیا جا رہاہےجو انسان کو اپنی فطرت سلیم سے بہت دور لے جاتا ہےاس کی بڑی مثال یہ ہے کہ انسان کی فطرت میں اجتماعیت اور مفاد عامہ کے لئے کام کرنا ہے اس کے باوجود معاشرے میں انفرادیت پسندی کے نظریات موجود ہیں ۔
یاد آیا! اسی ماحول کی وجہ سے تو مسلمانوں کے دور زوال کے بعد انسانوں میں ذہنی و جسمانی بیماریوں کا آغاز ہوا تھا تو یہ کیسے ممکن ہے کہ اسی طرح کا ماحول بھی رہے اور صحت مند جسم اور صحت مند ذہن بھی تیار ہو سکیں۔
ایسے ماحول میں کامیاب اور ذہنی سکون کی زندگی گزارنے کے لیے ضروری ہے کہ اپنی سوچ اور فکر کو درست کیا جائے اور فکری انتشار سے بچا جائے۔
فکر کو درست کرنے کے لیے اِیسے فطرتی اصول حا صل کرنا ضروری ہے جو ہر سلیم الفطرت انسان کے لیے قابل قبول ہوں ۔
تاریخ نے اس پر بہت بحث کی ہے مثال کے طور پر
ایرانی حکیم بزر جمر کے اقوال
افلاطون کا اپنی کتاب ریاست میں عدالت کوزندگی کی بنیاد ثابت کرنا
قدیم مصریوں کا مذہبی صحیفہ کتاب الموتی کے ارشادات
ہندووں کی ویدوں اور گیتا کا حکمت سے لبریزکلام
چینیوں کا اخلاقی فلسفہ کنفوشس وغیرہ
لیکن امام شاہ ولی اللہ محدث دہلوی جب اپنی کتاب ہمعات جو کہ فارسی میں ہے ان اصولوں پر دین اسلام کی روشنی میں وضاحت کرتے ہیں تو جامع رہنمائی ملتی ہے اور ان تمام اقوال فلسفوں اور ارشادات
کو بھی اپنے فلسفے میں سمیٹ لیتے ہیں شاہ صاحب کے فلسفہ پر غور فکر کرنا آج کے دور کی ضرورت ہے
دور حا ضر کے تمام مسائل کا حل ان کے فلسفہ میں ملتا ہے جن پر عمل کر کے انسانیت کے انفرادی واجتماعی مسائل کا حل نکالا جا سکتا ہے تا کہ اس جمود کو توڑ کر انسانیت کو ترقی دی جا سکے ۔

Leave Comments

آج کی بات

انسان حالات کی پیداوار نہیں،حالات انسان کی پیداوارہوتے ہیں۔
{کتاب۔کوئی کام نا ممکن نہیں۔سے اقتباس}