پشاور ایکسپریس … کرشن چندر

     جب میں پشاور سے چلی تو میں نے چھکا چھک اطمینان کا سانس لیا۔ میرے ڈبوں میں زیادہ تر ہندو لوگ بیٹھے ہوئے تھے۔ یہ لوگ پشاور سے ہوئی مردان سے، کوہاٹ سے، چارسدہ سے، خیبر سے، لنڈی کوتل سے، بنوں نوشہرہ سے، مانسہرہ سے آئے تھے اور پاکستان میں جانو مال کو محفوظ نہ پاکر ہندوستان کا رخ کر رہے تھے، اسٹیشن پر زبردست پہرہ تھا اور فوج والے بڑی چوکسی سے کام کر رہے تھے۔ ان لوگوں کو جو پاکستان میں پناہ گزین اور ہندوستان میں شرنارتھی کہلاتے تھے اس وقت تک چین کا سانس نہ آیا جب تک میں نے پنجاب کی رومان خیز سرزمین کی طرف قدم نہ بڑھائے، یہ لوگ شکل و صورت سے بالکل پٹھان معلوم ہوتے تھے، گورے چٹے مضبوط ہاتھ پاؤں، سرپر کلاہ اور لنگی، اور جسم پر قمیض اور شلوار، یہ لوگ پشتو میں بات کرتے تھے اور کبھی کبھی نہایت کرخت قسم کی پنجابی میں بات کرتے تھے۔ ان کی حفاظت کے لئے ہر ڈبے میں دو سپاہی بندوقیں لے کر کھڑے تھے۔ وجیہہ بلوچی سپاہی اپنی پگڑیوں کے عقب مور کے چھتر کی طرح خوبصورت طرے لگائے ہوئے ہاتھ میں جدید رائفلیں لئے ہوئے ان پٹھانوں اور ان کے بیوی بچوں کی طرف مسکرا مسکرا کر دیکھ رہے تھے جو ایک تاریخی خوف اور شر کے زیر اثر اس سر زمین سے بھاگے جا رہے تھے جہاں وہ ہزاروں سال سے رہتے چلے آئے تھے جس کی سنگلاخ سر زمین سے انہوں نے توانائی حاصل کی تھی۔ جس کے برفاب چشموں سے انہوں نے پانی پیا تھا۔ آج یہ وطن یک لخت بیگار نہ ہو گیا تھا اور اس نے اپنے مہربان سینے کے کواڑ ان پربند کر دئے تھے اور وہ ایک نئے دیس کے تپتے ہوئے میدانوں کا تصور دل میں لئے بادل ناخواستہ وہاں سے رخصت ہو رہے تھے۔ اس امرا کی مسرت ضرور تھی کہ ان کی جانیں بچ گئی تھیں۔ ان کا بہت سا مال و متاع اور ان کی بہوؤں، بیٹیوں، ماؤں اور بیویوں کی آبرو محفوظ تھی لیکن ان کا دل رو رہا تھا اور آنکھیں سرحد کے پتھریلے سینے پریوں گڑی ہوئی تھیں گویا اسے چیر کر اندر گھس جانا چاہتی ہیں اور اس کے شفقت بھرے مامتا کے فوارے سے پوچھنا چاہتی ہیں، بول ماں آج کس جرم کی پاداش میں تو نے اپنے بیٹوں کو گھر سے نکال دیا ہے۔ اپنی بہوؤں کو اس خوبصورت آنگن سے محروم کر دیا ہے۔ جہاں وہ کل تک سہاگ کی رانیاں بنی بیٹھی تھیں۔ اپنی البیلی کنواریوں کو جو انگور کی بیل کی طرح تیری چھاتی سے لپٹ رہی تھیں جھنجھوڑ کر الگ کر دیا ہے۔ کس لئے آج یہ دیس بدیس ہو گیا ہے۔ میں چلتی جا رہی تھی اور ڈبوں میں بیٹھی ہوئی مخلوق اپنے وطن کی سطح مرتفع اس کے بلند و بالا چٹانوں، اس کے مرغزاروں، اس کی شاداب وادیوں، کنجوں اور باغوں کی طرف یوں دیکھ رہی تھی، جیسے ہر جانے پہچانے منظر کو اپنے سینے میں چھپا کر لے جانا چاہتی ہو جیسے نگاہ ہر لحظہ رک جائے، اور مجھے ایسا معلوم ہوا کہ اس عظیم رنجو الم کے بارے میرے قدم بھاری ہوئے جا رہے ہیں۔ اور ریل کی پٹری مجھے جواب دئے جا رہی ہے۔ حسن ابدال تک لوگ یوں ہی محزوں افسردہ یاسو نکبت کی تصویر بنے رہے۔ حسن ابدال کے اسٹیشن پر بہت سے سکھ آئے ہوئے تھے۔ پنجہ صاحب سے لمبی لمبی کرپانیں لئے چہروں پر ہوائیاں اڑی ہوئی بال بچے سہمے سہمے سے، ایسا معلوم ہوتا تھا کہ اپنی ہی تلوار کے گھاؤ سے یہ لوگ خود مر جائیں گے۔ ڈبوں میں بیٹھ کر ان لوگوں نے اطمینان کا سانس لیا اور پھر دوسرے سرحد کے ہندو اور سکھ پٹھانوں سے گفتگو شروع ہو گئی کسی کا گھر بار جل گیا تھا کوئی صرف ایک قمیض اور شلوار میں بھاگا تھا کسی کے پاؤں میں جوتی نہ تھی اور کوئی اتنا ہوشیار تھا کہ اپنے گھر کی ٹوٹی چارپائی تک اٹھا لایا تھا جن لوگوں کا واقعی بہت نقصان ہوا تھا وہ لوگ گم سم بیٹھے ہوئے تھے۔ خاموش ، چپ چاپ اور جس کے پاس کبھی کچھ نہ ہوا تھا وہ اپنی لاکھوں کی جائیداد کھونے کا غم کر رہا تھا اور دوسروں کو اپنی فرضی امارت کے قصے سنا سنا کر مرعوب کر رہا تھا اور مسلمانوں کو گالیاں دے رہا تھا۔ بلوچی سپاہی ایک پر وقار انداز میں دروازوں  پر رائفلیں تھامیں کھڑے تھے اور کبھی کبھی ایک دوسرے کی طرف کنکھیوں سے دیکھ کر مسکرا اٹھتے۔ تکشیلا کے اسٹیشن پر مجھے بہت عرصے تک کھڑا رہنا پڑا، نہ جانے کس کا انتظار تھا، شاید آس پاس کے گاؤں سے ہندو پناہ گزیں آرہے تھے، جب گارڈ نے اسٹیشن ماسٹر سے بار بار پوچھا تو اس نے کہا یہ گاڑی آگے نہ جا سکے گی۔ ایک گھنٹہ اور گزر گیا۔ اب لوگوں نے اپنا سامان خورد و نوش کھولا اور کھانے لگے سہمے سہمے بچے قہقہے لگانے لگے اور معصوم کنواریاں دریچوں سے باہر جھانکنے لگیں اور بڑے بوڑھے حقے گڑگڑانے لگے۔ تھوڑی دیر کے بعد دور سے شور سنائی دیا اور ڈھولوں کے پیٹنے کی آوازیں سنائی دینے لگیں۔ ہندو پناہ گزینوں کا جتھا آ رہا تھا شاید لوگوں نے سر نکال کر ادھر ادھر دیکھا۔ جتھا دور سے آ رہا تھا اور نعرے لگا رہا تھا۔ وقت گزرتا تھا جتھا قریب آتا گیا، ڈھولوں کی آواز تیز ہوتی گئی۔ جتھے کے قریب آتے ہی گولیوں کی آواز کانوں میں آئی اور لوگوں نے اپنے سر کھڑکیوں سے پیچھے ہٹا لئے۔ یہ ہندوؤں کا جتھا تھا جو آس پاس کے گاؤں سے آ رہا تھا، گاؤں کے مسلمان لوگ اسے اپنی حفاظت میں لا رہے تھے۔ چنانچہ ہر ایک مسلمان نے ایک کافر کی لاش اپنے کندھے پر اٹھا رکھی تھی جس نے جان بچا کر گاؤں سے بھاگنے کی کوشش کی تھی۔ دو سو لاشیں تھیں۔ مجمع نے یہ لاشیں نہایت اطمینان سے اسٹیشن پہنچ کر بلوچی دستے کے سپرد کیں اور کہا کہ وہ ان مہاجرین کو نہایت حفاظت سے ہندوستان کی سرحد پر لے جائے، چنانچہ بلوچی سپاہیوں نے نہایت خندہ پیشانی سے اس بات کا ذمہ لیا اور ہر ڈبے میں پندرہ بیس لاشیں رکھ دی گئیں۔ اس کے بعد مجمع نے ہوا میں فائر کیا اور گاڑی چلانے کے لئے اسٹیشن ماسٹر کو حکم دیا میں چلنے لگی تھی کہ پھر مجھے روک دیا گیا اور مجمع نے سرغنے میں ہندو پناہ گزینوں سے کہا کہ دو سو آدمیوں کے چلے جانے سے ان کے گاؤں ویران ہو جائیں گے اور ان کی تجارت تباہ ہو جائے گی اس لئے وہ گاڑی میں سے دو سو آدمی اتار کر اپنے گاؤں لے جائیں گے۔ چاہے کچھ بھی ہو۔ وہ اپنے ملک کو یوں برباد ہوتا ہوا نہیں دیکھ سکتے۔ اس پر بلوچی سپاہیوں نے ان کے فہم و ذکا اور ان کی فراست طبع کی داد دی۔ اور ان کی وطن دوستی کو سراہا۔ چنانچہ اس پر بلوچی سپاہیوں نے ہر ڈبے سے کچھ آدمی نکال کر مجمع کے حوالے کئے۔ پورے دو سو آدمی نکالے گئے۔ ایک کم نہ ایک زیادہ۔ لائن لگاؤ کا فرو! سرغنے نے کہا۔ سرغنہ اپنے علاقہ کا سب سے بڑا جاگیردار تھا۔ اور اپنے لہو کی روانی میں مقدس جہاد کی گونج سن رہا تھا۔ کافر پتھر کے بُت بنے کھڑے تھے۔ مجمع کے لوگوں نے انہیں اٹھا اٹھا کر لائن میں کھڑا کیا۔ دو سو آدمی، دو سو زندہ لاشیں، چہرے ستے ہوئے۔ آنکھیں فضا میں تیروں کی بارش سی محسوس کرتی ہوئی۔ پہل بلوچی سپاہیوں نے کی۔ پندرہ آدمی فائر سے گر گئے۔ یہ تکشیلا کا اسٹیشن تھا۔ بیس اور آدمی گر گئے۔ یہاں ایشیا کی سب سے بڑی یونیورسٹی تھی اور لاکھوں طالب علم اس تہذیب و تمدن کے گہوارے سے کسب فیض کرتے تھے۔ پچاس اور مارے گئے۔ تکشیلا کے عجائب گھر میں اتنے خوبصورت بُت تھے اتنے حسن سنگ تراشی کے نادر نمونے، قدیم تہذیب کے جھلملاتے ہوئے چراغ۔ پچاس اور مارے گئے۔ پس منظر میں سرکوپ کا محل تھا اور کھیلوں کا امفی تھیٹر اور میلوں تک پھیلے ہوئے ایک وسیع شہر کے کھنڈر، تکشیلا کی گزشتہ عظمت کے پر شکوہ مظہر۔ تیس اور مارے گئے۔ یہاں کنشک نے حکومت کی تھی اور لوگوں کو امن و آشتی اور حسن و دولت سے مالا مال کیا تھا۔ پچیس اور مارے گئے۔ یہاں بدھ کا نغمہ عرفاں گونجا تھا یہاں بھکشوؤں نے امن و صلح و آشتی کا درس حیات دیا تھا۔ اب آخری گروہ کی اجل آ گئی تھی۔ یہاں پہلی بار ہندوستان کی سرحد پر اسلام کا پرچم لہرایا تھا۔ مساوات اور اخوت اور انسانیت کا پرچم۔ سب مر گئے۔ اللہ اکبر۔ فرش خون سے لال تھا۔ جب میں پلیٹ فارم سے گزری تو میرے پاؤں ریل کی پٹری سے پھسلے جاتے تھے جیسے میں ابھی گر جاؤں گی اور گر کر باقی ماندہ مسافروں کو بھی ختم کر ڈالوں گی۔ ہر ڈبے میں موت آ گئی تھی اور لاشیں درمیان میں رکھ دی گئی تھیں اور زندہ لاشوں کا ہجوم چاروں طرف تھا اور بلوچی سپاہی مسکرا رہے تھے کہیں کوئی بچہ رونے لگا کسی بوڑھی ماں نے سسکی لی۔ کسی کے لٹے ہوئے سہاگ نے آہ کی۔ اور چیختی چلاتی راولپنڈی کے پلیٹ فارم پر آ کھڑی ہوئی۔ یہاں سے کوئی پناہ گزیں گاڑی میں سوار نہ ہوا۔ ایک ڈبے میں چند مسلمان نوجوان پندرہ بیس برقعہ پوش عورتوں کو لے کر سوار ہوئے۔ ہر نوجوان رائفل سے مسلح تھا۔ ایک ڈبے میں بہت سا سامان جنگ لادا گیا مشین گنیں، اور کارتوس، پستول اور رائفلیں۔ جہلم اور گوجر خاں کے درمیانی علاقے میں مجھے سنگل کھینچ کر کھڑا کر دیا گیا۔ میں رک گئی۔ مسلح نوجوان گاڑی سے اترنے لگے۔ برقعہ پوش خواتین نے شور مچانا شروع کیا۔ ہم ہندو ہیں۔ ہم سکھ ہیں۔ ہمیں زبردستی لے جا رہے ہیں۔ انہوں نے برقعے پھاڑ ڈالے اور چلانا شروع کیا۔ نوجوان مسلمان ہنستے ہوئے انہیں گھسیٹ کر گاڑی سے نکال لائے۔ ہاں یہ ہندو عورتیں ہیں، ہم انہیں راولپنڈی سے ان کے آرام دہ گھروں، ان کے خوش حال گھرانوں، ان کے عزت دار ماں باپ سے چھین کر لائے ہیں۔ اب یہ ہماری ہیں ہم ان کے ساتھ جو چاہے سلوک کریں گے۔ اگر کسی میں ہمت ہے تو انہیں ہم سے چھین کر لے جائے۔ سرحد کے دو نوجوان ہندو پٹھان چھلانگ مار کر گاڑی سے اُتر گئے، بلوچی سپاہیوں نے نہایت اطمینان سے فائر کر کے انہیں ختم کر دیا۔ پندرہ بیس نوجوان اور نکلے، انہیں مسلح مسلمانوں کے گروہ نے منٹوں میں ختم کر دیا۔ دراصل گوشت کی دیوار لوہے کی گولی کا مقابلہ نہیں کر سکتی۔ نوجوان ہندو عورتوں کو گھسیٹ کر جنگل میں لے گئے میں اور منہ چھپا کر وہاں سے بھاگی۔ کالا، خوفناک سیاہ دھواں میرے منہ سے نکل رہا تھا۔ جیسے کائنات پر خباثت کی سیاہی چھا گئی تھی اور سانس میرے سینے میں یوں الجھنے لگی جیسے یہ آہنی چھاتی ابھی پھٹ جائے گی اور اندر بھڑکتے ہوئے لال لال شعلے اس جنگل کو خاک سیاہ کر ڈالیں گے جو اس وقت میرے آگے پیچھے پھیلا ہوا تھا اور جس نے ان پندرہ عورتوں کو چشم زدن میں نگل لیا تھا۔ لالہ موسیٰ کے قریب لاشوں سے اتنی مکروہ سڑاند نکلنے لگی کہ بلوچی سپاہی انہیں باہر پھینکنے پر مجبور ہو گئے۔ وہ ہاتھ کے اشارے سے ایک آدمی کو بلاتے اور اس سے کہتے، اس کی لاش کو اٹھا کر یہاں لاؤ، دروازے پر۔ اور جب وہ آدمی ایک لاش اٹھا کر دروازے پر لاتا تو وہ اسے گاڑی سے باہر دھکا دے دیتے۔ تھوڑی دیر میں سب لاشیں ایک ایک ہمراہی کے ساتھ باہر پھینک دی گئیں اور ڈبوں میں آدمی کم ہو جانے سے ٹانگیں پھیلانے کی جگہ بھی ہو گئی۔ پھر لالہ موسیٰ گزر گیا۔ اور وزیر آباد آ گیا۔ وزیرآباد کا مشہور جنکشن، وزیر آباد کا مشہور شہر، جہاں ہندوستان بھر کے لئے چھریاں اور چاقو تیار ہوتے ہیں۔ وزیرآباد جہاں ہندو اور مسلمان صدیوں سے بیساکھی کا میلہ بڑی دھوم دھام سے مناتے ہیں اور اس کی خوشیوں میں اکٹھے حصہ لیتے ہیں وزیر آباد کا اسٹیشن لاشوں سے پٹا ہوا تھا۔ شاید یہ لوگ بیساکھی کا میلہ دیکھنے آئے تھے۔ لاشوں کا میلہ شہر میں دھواں اُٹھ رہا تھا اور اسٹیشن کے قریب انگریزی بینڈ کی صدا سنائی دے رہی تھی اور ہجوم کی پر شور تالیوں اور قہقہوں کی آوازیں بھی سنائی دے رہی تھی اور ہجوم کی پر شور تالیوں اور قہقہوں کی آوازیں بھی سنائی دے رہی تھیں۔ چند منٹوں میں ہجوم اسٹیشن پر آ گیا۔ آگے آگے دیہاتی ناچتے گاتے آرہے تھے اور ان کے پیچھے ننگی عورتوں کا ہجوم، مادر زاد ننگی عورتیں، بوڑھی، نوجوان، بچیاں، دادیاں اور پوتیاں، مائیں اور بہوئیں اور بیٹیاں، کنواریاں اور حاملہ عورتیں، ناچتے گاتے ہوئے مردوں کے نرغے میں تھیں۔ عورتیں ہندو اور سکھ تھیں اور مرد مسلمان تھے اور دونوں نے مل کر یہ عجیب بیساکھی منائی تھی، عورتوں کے بال کھلے ہوئے تھے۔ ان کے جسموں پر زخموں کے نشان تھے اور وہ اس طرح سیدھی تن کر چل رہی تھیں جیسے ہزاروں کپڑوں میں ان کے جسم چھپے ہوں، جیسے ان کی روحوں پر سکون آمیز موت کے دبیز سائے چھا گئے ہوں۔ ان کی نگاہوں کا جلال دردپدی کو بھی شرماتا تھا اور ہونٹ دانتوں کے اندر یوں بھنچے ہوئے تھے۔ گویا کسی مہیب لاوے کا منہ بند کئے ہوئے ہیں۔ شاید ابھی یہ لاوا پھٹ پڑے گا اور اپنی آتش فشانی سے دنیا کو جہنم راز بنا دے گا۔ مجمع سے آوازیں آئیں۔ ’’پاکستان زندہ باد‘‘ ’’اسلام زندہ باد‘‘ ’’قائد اعظم محمد علی جناح زندہ باد‘‘ ناچتے تھرکتے ہوئے قدم پرے ہٹ گئے اور اب یہ عجیب و غریب ہجوم ڈبوں کے عین سامنے تھا۔ ڈبوں میں بیٹھی ہوئی عورتوں نے گھونگھٹ کاڑھ لئے اور ڈبے کی کھڑکیاں یکے بعد بند دیگرے ہونے لگیں۔ بلوچی سپاہیوں نے کہا۔ کھڑکیاں مت بند کرو، ہوا رکتی ہے، کھڑیاں بند ہوتی گئیں۔ بلوچی سپاہیوں نے بندوقیں تان لیں۔ ٹھائیں، ٹھائیں پھر بھی کھڑیاں بند ہوتی گئیں اور پھر ڈبے میں ایک کھڑکی بھی نہ کھلی رہی۔ ہاں کچھ پناہ گزیں ضرور مر گئے۔ ننگی عورتیں پناہ گزینوں کے ساتھ بٹھا دی گئیں۔ اور میں اسلام زندہ باد اور قائد اعظم محمد علی جناح زندہ باد کے نعروں کے درمیان رخصت ہوئی۔ گاڑی میں بیٹھا ہوا ایک بچہ لڑھکتا لڑھکتا ایک بوڑھی دادی کے پاس چلا گیا اور اس سے پوچھنے لگا ’’ماں تم نہا کے آئی ہو؟‘‘ دادی نے اپنے آنسوؤں کو روکتے ہوئے کہا۔ ’’ہاں ننھے، آج مجھے میرے وطن کے بیٹوں نے بھائیوں نے نہلایا ہے۔‘‘ ’’تمہارے کپڑے کہاں ہے اماں؟ ’’ان پر میرے سہاگ کے خون کے چھینٹے تھے بیٹا۔ وہ لوگ انہیں دھونے کے لئے لے گئے ہیں۔‘‘ د د ننگی لڑکیوں نے گاڑی سے چھلانگ لگا دی اور میں چیختی چلاتی آگے بھاگی۔ اور لاہور پہنچ کر دم لیا۔ مجھے ایک نمبر پلیٹ فارم پر کھڑا کیا گیا۔ نمبر 2پلیٹ فارم پر دوسری گاڑی کھڑی تھی۔ یہ امرتسر سے آئی تھی اور اس میں مسلمان پناہ گزیں بند تھے۔ تھوڑی دیر کے بعد مسلم خدمت گار میرے ڈبوں کی تلاشی لینے لگے۔ اور زیور اور نقدی اور دوسرا قیمتی سامان مہاجرین سے لے لیا گیا۔ اس کے بعد چار سو آدمی ڈبوں سے نکال کر اسٹیشن پر کھڑے کئے تھے۔ یہ مذبح کے بکرے تھے کیونکہ ابھی ابھی نمبر 2پلیٹ فارم پر جو مسلم مہاجرین کی گاڑی آ کر رُکی تھی اس میں چار سو مسلمان مسافر کم تھے اور پچاس مسلم عورتیں اغواء کر لی گئی تھیں اس لئے یہاں پر بھی پچاس عورتیں چن چن کر نکال لی گئیں اور چار سو ہندوستان مسافروں کو تہ تیغ کیا گیا تاکہ ہندوستان اور پاکستان میں آبادی کا توازن برقرار رہے۔ مسلم خدمت گاروں نے ایک دائرہ بنا رکھا تھا اور چھرے ہاتھ میں تھے اور دائرے میں باری باری ایک مہاجر ان کے چھرے کی زد میں آتا تھا اور بڑی چابک دستی اور مشاقی سے ہلاک کر یا جاتا تھا۔ چند منٹوں میں چارسو آدمی ختم کر دئے گئے اور پھر میں آگے چلی۔ اب مجھے اپنے جسم کے ذرّے ذرّے سے گھن آنے لگی۔ اس قدر پلید اور متعفن محسوس کر رہی تھی۔ جیسے مجھے شیطان نے سیدھا جہنم سے دھکا دے کر پنجاب میں بھیج دیا ہو۔ اٹاری پہنچ کر فضا بدل سی گئی۔ مغلپورہ ہی سے بلوچی سپاہی بدلے گئے تھے اور ان کی جگہ ڈوگروں اور سکھ سپاہیوں نے لے لی تھی۔ لیکن اٹاری پہنچ کر تو مسلمانوں کی اتنی لاشیں ہندو مہاجر نے دیکھیں کہ ان کے دل فرط مسرت سے باغ باغ ہو گئے۔ آزاد ہندوستان کی سرحد آ گئی تھی ورنہ اتنا حسین منظر کس طرح دیکھنے کو ملتا اور جب میں امرتسر اسٹیشن پر پہنچی تو سکھوں کے نعروں نے زمین آسمان کو گونجا دیا۔ یہاں بھی مسلمانوں کی لاشوں کے ڈھیر کے ڈھیر تھے اور ہندو جاٹ اور سکھ اور ڈوگرے ہر ڈبے میں جھانک کر پوچھتے تھے، کوئی شکار ہے، مطلب یہ کہ کوئی مسلمان ہے۔ ایک ڈبے میں چار ہندو  براہمن سوار ہوئے۔ سر گھٹا ہوا، لمبی چوٹی، رام نام کی دھوتی باندھے، ہر دوار کا سفر کر رہے تھے۔ یہاں ہر ڈبے میں آٹھ دس سکھ اور جاٹ بھی بیٹھ گئے، یہ لوگ رائفلوں اور بلموں سے مسلح تھے اور مشرقی پنجاب میں شکار کی تلاش میں جا رہے تھے۔ ان میں سے ایک کے دل میں کچھ شبہ سا ہوا۔ اس نے ایک براہمن سے پوچھا۔ براہمن دیوتا کدھر جا رہے ہو؟ ہر دوار۔ تیرتھ کرنے۔ ’’ہر دوار جا رہے ہو کہ پاکستان جا رہے ہو۔ ‘‘میاں اللہ اللہ کرو۔ دوسرے براہمن کے منہ سے نکلا۔ جاٹ ہنسا، تو آؤ اللہ اللہ کریں۔ اونتھا سہاں، شکار مل گیا بھئی آؤرھیدا اللہ بیلی کرئئے۔ اتنا کہہ کر جاٹ نے بلم نقلی براہمن کے سینے میں مارا۔ دوسرے براہمن بھاگنے لگے۔ جاٹوں نے انہیں پکڑ لیا۔ ایسے نہیں براہمن دیوتا، ذرا ڈاکٹری معائنہ کراتے جاؤ۔ ہر دوار جانے سے پہلے ڈاکٹری معائنہ بہت ضروری ہوتا ہے۔ ڈاکٹری معائنے سے مراد یہ تھی کہ وہ لوگ ختنہ دیکھتے تھے اور جس کے ختنہ ہوا ہوتا اسے وہیں مار ڈالتے۔ چاروں مسلمان جو براہمن کا روپ بدل کر اپنی جان بچانے کے لئے بھاگ رہے تھے۔ وہیں مار ڈالے گئے اور میں آگے چلی۔ راستے میں ایک جگہ جنگل میں مجھے کھڑا کر دیا گیا اور مہاجرین اور سپاہی اور جاٹ اور سکھ سب نکل کر جنگل کی طرف بھاگنے لگے۔ میں نے سوچا شاید مسلمانوں کی بہت بڑی فوج ان پر حملہ کرنے کے لئے آ رہی ہے۔ اتنے میں کیا دیکھتی ہوں کہ جنگل میں بہت سارے مسلمان مزارع اپنے بیوی بچوں کو لئے چھپے بیٹھے ہیں۔ سری است اکال اور ہندو دھرم کی جے کے نعروں کی گونج سے جنگل کانپ اٹھا، اور وہ لوگ نرغے میں لے لئے گئے۔ آدھے گھنٹے میں سب صفایا ہو گیا۔ بڈھے، جوان، عورتیں اور بچے سب مار ڈالے گئے۔ ایک جاٹ کے نیزے پر ایک ننھے بچے کی لاش تھی اور وہ اس سے ہوا میں گھما گھما کر کہہ رہا تھا۔ آئی بیساکھی۔ آئی بیساکھی جٹا لائے ہےَ ہےَ۔ جالندھر سے ادھر پٹھانوں کا ایک گاؤں تھا۔ یہاں پر گاڑی روک کر لوگ گاؤں میں گھس گئے۔ سپاہی اور مہاجرین اور جاٹ پٹھانوں نے مقابل کیا۔ لیکن آخر میں مارے گئے، بچے اور مرد ہلاک ہو گئے تو عورتوں کی باری آئی اور وہیں اسی کھلے میدان میں جہاں گیہوں کے کھلیان لگائے جاتے تھے اور سرسوں پھول مسکراتے تھے اور عفت مآب بیبیاں اپنے خاوندوں کی نگاہ شوق کی تاب نہ لا کر کمزور شاخوں کی طرح جھکی جھکی جاتی تھیں۔ اسی وسیع میدان میں جہاں پنجاب کے دل نے ہیر رانجھے اور سوہنی مہینوال کی لافانی الفت کے ترانے گائے تھے۔ انہیں شیشم، سرس اور پیپل کے درختوں تلے وقتی چکلے آباد ہوئے۔ پچاس عورتیں اور پانچ سو خاوند، پچاس بھیڑیں اور پانچ سو قصاب، پچاس سوہنیاں اور پانچ مہینوال، شاید اب چناب میں کبھی طغیانی نہ آئے گی۔ شاید اب کوئی وارث شاہ کی ہیرو نہ گائے گا۔ شاید اب مرزا صاحبان کی داستان الفتو عفت ان میدانوں میں کبھی نہ گونجے گی۔ لاکھوں بار لعنت ہو ان راہنماؤں پر اور ان کی سات پشتوں پر، جنہوں نے اس خوبصورت پنجاب، اس البیلے پیارے، سنہرے پنجاب کے ٹکڑے ٹکڑے کر دئے تھے اور اس کی پاکیزہ روح کو گہنا دیا تھا اور اس کے مضبوط جسم میں نفرت کی پیپ بھر دی تھی، آج پنجاب مر گیا تھا، اس کے نغمے گنگ ہو گئے تھے، اس کے گیت مردہ، اس کی زبان مردہ، اس کا بے باک نڈر بھولا بھالا دل مردہ، اور نہ محسوس کرتے ہوئے اور آنکھ اور کان نہ رکھتے ہوئے بھی میں نے پنجاب کی موت دیکھی اور خوف سے اور حیرت سے میرے قدم اس پٹری پر رک گئے۔ پٹھان مردوں اور عورتوں کی لاشیں اٹھائے جاٹ اور سکھ اور ڈوگرے اور سرحدی ہندو واپس آئے اور میں آگے چلی۔ آگے ایک نہر آتی تھی ذرا ذرا وقفے کے بعد میں روک دی جاتی، جونہی کوئی ڈبہ نہر کے پل پر سے گزرتا، لاشوں کو عین نیچے نہر کے پانی میں گرا دیا جاتا۔ اس طرح جب ہر ڈبے کے رکے کے بعد سب لاشیں پانی میں گرا دی گئیں تو لوگوں نے دیسی شراب کی بوتلیں کھولیں اور میں خون اور شراب اور نفرت کی بھاپ اگلتی ہوئی آگے بڑھی۔ لدھیانہ پہنچ کر لٹیرے گاڑی سے اُتر گئے اور شہر میں جا کر انہوں نے مسلمانوں کے محلوں کا پتہ ڈھونڈ نکالا۔ اور وہاں حملہ کیا اور لوٹ مار کی اور مال غنیمت اپنے کاندھوں پر لادے ہوئے تین چار گھنٹوں کے بعد اسٹیشن پر واپس آئے جب تک لوٹ مار نہ ہو چکی۔ جب تک دس بیس مسلمانوں کا خون نہ ہو چکتا۔ جب تک سب مہاجرین اپنی نفرت کو آلودہ نہ کر لیتے میرا آگے بڑھنا دشوار کیا ناممکن تھا، میری روح میں اتنے گھاؤ تھے اور میرے جسم کا ذرہ ذرہ گندے ناپاک خونیوں کے قہقہوں سے اس طرح رچ گیا تھا کہ مجھے غسل کی شدید ضرورت محسوس ہوئی۔ لیکن مجھے معلوم تھا کہ اس سفر میں کوئی مجھے نہانے نہ دے گا۔ انبالہ اسٹیشن پر رات کے وقت میرے ایک فرسٹ کلاس کے ڈبے میں ایک مسلمان ڈپٹی کمشنر اور اس کے بیوی بچے سوار ہوئے۔ اس ڈبے میں ایک سردار صاحب اور ان کی بیوی بھی تھے، فوجیوں کے پہرے میں مسلمان ڈپٹی کمشنر کو سوار کر دیا گیا اور فوجیوں کو ان کی جانو مال کی سخت تاکید کر دی گئی۔ رات کے دو بچے میں انبالے سے چلی اور دس میل آگے جا کر روک دی گئی۔ فرسٹ کلاس کا ڈبہ اندر سے بند تھا۔ اس لئے کھڑکی کے شیشے توڑ کر لوگ اندر گھس گئے اور ڈپٹی کمشنر اور اس کی بیوی اور اس کے چھوٹے چھوٹے بچوں کو قتل کیا گیا، ڈپٹی کمشنر کی ایک نوجوان لڑکی تھی اور بڑی خوبصورت، وہ کسی کالج میں پڑھتی تھی۔ دو ایک نوجوانوں نے سوچا اسے بچا لیا جائے۔ یہ حسن، یہ رعنائی، یہ تازگی یہ جوانی کسی کے کام آ سکتی ہے۔ اتنا سوچ کر انہوں نے جلدی سے لڑکی اور زیورات کے بکس کو سنبھالا اور گاڑی سے اتر کر جنگل میں چلے گئے۔ لڑکی کے ہاتھ میں ایک کتاب تھی۔ یہاں یہ کانفرنس شروع ہوئی کہ لڑکی کو چھوڑ دیا جائے یا مار دیا جائے۔ لڑکی نے کہا۔ مجھے مارتے کیوں ہو؟ مجھے ہندو کر لو۔ میں تمہارے مذہب میں داخل ہو جاتی ہوں۔ تم میں سے کوئی ایک مجھ سے بیاہ کر لے۔ میری جان لینے سے کیا فائدہ! ٹھیک تو کہتی ہے، ایک بولا۔ میرے خیال میں۔ دوسرے نے قطع کلام کرتے ہوئے اور لڑکی کے پیٹ میں چھرا گھونپتے ہوئے کہا۔ میرے خیال میں اسے ختم کر دینا ہی بہتر ہے۔ چلو گاڑی میں واپس چلو۔ کیا کانفرنس لگا رکھی ہے تم نے۔ لڑکی جنگل میں گھاس کے فرش پر تڑپ تڑپ کر مر گئی۔ اس کی کتاب اس کے خون سے تر بتر ہو گئی۔ کتاب کا عنوان تھا ’’اشتراکیت عمل اور فلسفہ از جان سٹریٹجی‘‘۔ وہ ذہین لڑکی ہو گی۔ا سکے دل میں اپنے ملک و قوم کی خدمت کے ارادے ہوں گے۔ اس کی روح میں کسی سے محبت کرنے، کسی کو چاہنے، کسی کو گلے لگ جانے، کسی بچے کو دودھ پلانے کا جذبہ ہو گا۔ وہ لڑکی تھی، وہ ماں تھی، وہ بیوی تھی، وہ محبوبہ تھی۔ وہ کائنات کی تخلیق کا مقدس راز تھی اور اب اس کی لاش جنگل میں پڑی تھی اور گیدڑ، گدھ اور کوے اس کی لاش کو نوچ نوچ کر کھائیں گے۔ اشتراکیت، فلسفہ اور عمل وحشی درندے انہیں نوچ نوچ کر کھا رہے تھے اور کوئی نہیں بولتا اور کوئی آگے نہیں بڑھتا اور کوئی عوام میں سے انقلاب کا دروازہ نہیں کھولتا اور میں رات کی تاریکی آگ اور شراروں کو چھپا کے آگے بڑھ رہی ہوں اور میرے ڈبوں میں لوگ شراب پی رہے ہیں اور مہاتما گاندھی کے جے کارے بلا رہے ہیں۔ ایک عرصے کے بعد میں بمبئی واپس آئی ہوں، یہاں مجھے نہلا دھلا کر شیڈ میں رکھ دیا گیا ہے۔ میرے ڈبوں میں اب شراب کے بھپارے نہیں ہیں، خون کے چھینٹے نہیں ہیں، وحشی خونی قہقہے نہیں ہیں مگر رات کی تنہائی میں جیسے بھوت جاگ اٹھتے ہیں مردہ روحیں بیدار ہو جاتی ہیں اور زخمیوں کی چیخیں اور عورتوں کے بین اور بچوں کی پکار، ہر طرف فضا میں گونجنے لگتی ہے اور میں چاہتی ہوں کہ اب مجھے کبھی کوئی اس سفر پر نہ لے جائے۔ میں اس شیڈ سے باہر نہیں نکلنا چاہتی ہوں کہ اب مجھے کبھی کوئی اس سفر پر نہ لے جائے۔ میں اس شیڈ سے باہر نہیں نکلنا چاہتی، میں اس خوفناک سفر پر دوبارہ نہیں جانا چاہتی، اب میں اس وقت جاؤں گی۔ جب میرے سفر پر دو طرفہ سنہرے گیہوں کے کھلیان لہرائیں گے اور سرسوں کے پھول جھوم جھوم کر پنجاب کے رسیلے الفت بھرے گیت گائیں گے اور کسان ہندو اور مسلمان دونوں مل کر کھیت کاٹیں گے۔ بیچ بوئیں گے۔ ہرے ہرے کھیتوں میں نلائی کریں گے اور ان کے دلوں میں مہر و وفا اور آنکھوں میں شرم اور روحوں میں عورت کے لئے پیار اور محبت اور عزت کا جذبہ ہو گا۔ میں لکڑی کی ایک بے جان گاڑی ہوں لیکن پھر بھی میں چاہتی ہوں کہ اس خون اور گوشت اور نفرت کے بوجھ سے مجھے نہ لادا جائے۔ میں قحط زدہ علاقوں میں اناج ڈھوؤں گی۔ میں کوئلہ اور تیل اور لوہا لے کر کارخانوں میں جاؤں گی میں کسانوں کے لئے نئے ہل اور نئی کھاد مہیا کروں گی۔ میں اپنے ڈبوں میں کسانوں اور مزدوروں کو خوش حال ٹولیاں لے کر جاؤں گی، اور با عصمت عورتوں کی میٹھی نگاہیں اپنے مردوں کا دل ٹٹول رہی ہوں گی۔ اور ان کے آنچلوں میں ننھے منے خوبصورت بچوں کے چہرے کنول کے پھولوں کی طرح نظر آئیں گے اور وہ اس موت کو نہیں بلکہ آنے والی زندگی کو جھک کر سلام کریں گے۔ جب نہ کوئی ہندو ہو گا نہ مسلمان بلکہ سب مزدور ہوں گے اور انسان ہوں گے۔ ٭٭٭
 
 

Leave Comments

آج کی بات

انسان حالات کی پیداوار نہیں،حالات انسان کی پیداوارہوتے ہیں۔
{کتاب۔کوئی کام نا ممکن نہیں۔سے اقتباس}