تصویر پر تحریر- مدثر گل

انسان وقت کے ساتھ ساتھ شعوری اور لاشعوری طور پر اپنے روزمزہ کے معمولات تبدیل کرتارہتا ہے. یہ روزمرہ کی تبدیلیاں یا تو اخذ شدہ ہوتی ہیں یا پھر قدرتی. میں بھی وقت کے پہیے کے ساتھ یوں ہی گردش کرتا گیا. بچپن سے لے کر اب تک نہ جانے کن کن راستوں سے گزر گیا کہ ان میں بہت سے راستوں کے نشان تک یاد نہیں ہیں.روزگار کی مجبوریوں کی وجہ سے اپنے گلی محلے کو وقت دینا بھی ناممکنات میں سے ایک ہو گیا ہے.
اگست کی گرمی میں بارش کے بعد موسم کافی خوشگوار ہو گیا تھا. اس لیے میں نے پیدل ہی قریبی پارک کا رخ کیا. یہ پارک نہ تو گھر سے زیادہ دور تھاا اورنہ ہی اتنا نزدیک. چند منٹوں کی مسافت کے بعد میں پارک کے دروازے پر کھڑا تھا. جہاں پر موسم کی خوشگواری اور تازہ ہوا کی جگہ ایک بھیانک حقیقت میرا انتظار کر رہی تھی.
یاسر جس کی عمر تقریباً 9 یا 10 سال ہو گی کچھ نمکو وغیرہ کے پیکٹ اپنے سامنے ایک ڈبے پر سجائے کاپی پر بہت انہماک کے ساتھ کچھ لکھ رہا تھا. یاسرر کا گھر پارک کے ساتھ ہی محلے میں تھا. اس کے والد کا نام جاوید تھا جو کہ ایک سادہ سا محنتی انسان تھا.لیکن کسی بھی ہنر سے بہرا مند نہ ہونے کی وجہ سے عام محنت مزدوری کرتا تھا.
بیرون ملک جانے کے معاشرتی رجحان کی وجہ سے جاوید بھی کچھ سال پہلے یورپ کے لیے غیر قانونی طور پر نکل گیا تھا. جہاں تک میں نے جاوید کےے بارے میں آخری خبریں سنی تھی کہ وہ ابھی راستے میں ہی پھنسا ہوا ہے. مگر یہ بات بھی کئی سال پہلے کی تھی. میں کافی دیر یاسر کی معصوم بھولی بھالی صورت کو تکتا رہا جو کبھی کبھی اپنا سر تھوڑا سا اٹھا کر پارک کی طرف دیکھتا کہ کوئی گاہک آ رہا ہے کہ نہیں پھر سے اپنے لکھنے والے کام میں مشغول ہو جاتا.
میں غیر ارادتاً اس کے پاس پہنچ گیا.
السلام علیکم…..
وعلیکم السلام… ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔سر کو اوپر اٹھاتے ہوئے یاسر نے جواب دیا.
گاہک کے آنے کی خوشی کی چمک اس کی آنکھوں میں واضح دکھائی دے رہی تھی.
اتنے عرصے میں میں اس کے ساتھ تقریباً بیٹھ چکا تھا. تھوڑے سے تعارف کے بعد وہ مجھے پہچان چکا تھا. میں نے اس کے باپ کے متعلق پوچھا کہ وہ کہاںں ہے اور یہ تم یہ کیوں بیچ رہے ہو. تو اس کے گلابی رنگ پر پژ مرگی سی چھا گئی. میرے استفسار  پر اس نے بتایا کہ اس کا باپ بہت زیادہ پیسے کمانے کے لیے باہر گیا ہوا ہے. تا کہ میں بڑے سکول میں داخل ہو سکوں. مگر نا جانے کیوں ہم سے رابطہ نہیں کر رہا.
یاسر نے مجھے بتایا کہ کس طرح محلے کے کچھ لوگ ہمارے گھر زکوۃ وغیرہ کے پیسے لے کر آئے تھے مگر میری امی نے وہ سب یہ کہتے ہوئے لینےے سے انکار کر دیا کہ ہم اس کے مستحق نہیں ہیں اور میرے ابو بہت جلد بہت سارے پیسے کما کر واپس آئیں گے. سرکاری سکول میں کتابیں اور تعلیم مفت ہونے کی وجہ سےپانچویں جماعت میں پڑھ رہا ہوں. سکول سے فری ہونے کے بعد ہر روز پارک کے باہر یہ سب بیچتا ہوں اور ساتھ ساتھ اپنا ہوم ورک جتنا ہو سکے اتنا کر لیتا ہوں.
یاسر کے بتانے سے مجھے پتا چلا کہ اس کی والدہ ایک خودار خاتون ہیں جو خود بھی سلائی کا کام کر رہی ہیں اور اپنے بچوں کو بھی کسی کے آگے ہاتھھ پھیلانے کے بجائے خودداری سے جینے کا طریقہ سکھا رہی ہیں.
میرے پاس اس خوددار بچے کو دینے کے لیے کچھ بھی نہیں تھا سوائے اس کے کہ میں دو نمکو کے پیکٹ خرید کر سوچوں میں گم پارک میں داخل ہو گیا.

کاش میرے ملک کے حکمران بھی اسی طرح کی خودداری کے ساتھ جینا سیکھ لیں. گداگری کی لعنت کی بجائے اپنے آپ پر بھروسہ کرکے اپنی صلاحیتوں کے بل بوتے پر کچھ بنیں. معاشرے کو یاسر کی ماں کی طرح سوچنے والے سب مل جائیں تو ہر بچہ اقبالؒ کا حقیقی شاہین بن کر دکھا سکتا ہے.

 

Leave Comments

آج کی بات

انسان حالات کی پیداوار نہیں،حالات انسان کی پیداوارہوتے ہیں۔
{کتاب۔کوئی کام نا ممکن نہیں۔سے اقتباس}