سرمدی آ گ – – ڈاکٹر شکیل پتافی

ایک آتش فشاں کے الاؤ تلے

برف زاروں کے من میں چھپی آگ ھے،
اک حنائ ہتھیلی سے رستے ھوے
دودھیا حسن کی ریشمی آگ ھے،
موج در موج اشکوں میں سوئی ھوئ
نیند کے سنگ اک جاگتی آگ ھے،
اے قیامت ۔۔۔!
تری اجنبی خواب گاھوں میں
جلتی ھوئ اجنبی آگ ھے،
اور ادھر۔۔۔!!
اک چتا میں پگھلتی ھوی
من کے اندر جھلستے ھوے شہر کی
راکھ ھوتی ھوئ سر پھری آگ ھے۔۔۔۔۔!!!

میں نہ جانے سلگتے ھوےاک ابد کی
طلب میں کہاں تک بھٹکتا رھا۔۔۔؟
جس جگہ اک حرارت فشاں آگ تھی
میں ازل سے وھاں تک بھٹکتا رھا
راستوں میں کئی راستے کھو گئے
منزلیں تھک گئیں، جاگتے سو گئے
میں بھٹکتا رھا ۔۔۔۔!

پھر اچانک در_چشم روشن ھوا
میں نے دیکھا فضا میں بڑی دور تک
جادہءذات سے “وادیءطور” تک
جگمگاتی ھوئ سرمدی آگ ھے
میرے حصے کی شاید یہی آگ ھے

(ڈاکٹر شکیل پتافی)

Leave Comments

آج کی بات

انسان حالات کی پیداوار نہیں،حالات انسان کی پیداوارہوتے ہیں۔
{کتاب۔کوئی کام نا ممکن نہیں۔سے اقتباس}