امریکی خارجہ پالیسی-ڈاکٹر ظہیر احمد بابر

جب صدرریگن نے ”گریناڈا“پرچھائی کی اورصدرکلنٹن نے 1999ءمیں ”یوگو سلاو یہ“ پر بمباری کی تو کانگریس چاہتے ہوئے بھی انہیں باز نہ رکھ سکی۔ امریکی صدور نے مختلف اقوام پر معاشی پابندیاں لگائیں اوردنیا کے ساتھ تجارتی تعلقات قائم کیے۔ عملی طور پر اس کا مطلب یہ ہے کہ صدر اس ملک کو تباہ کرسکتا ہے جو امریکہ سے اختلاف رکھتا ہو اور اس کو انعام سے بھی نوازسکتا ہے جو اس کی ہاں میں ہاں ملاتا ہے۔ حالانکہ جنگ کے مسئلے پرامریکہ میں باقاعدہ قانون سازی موجودہے لیکن بہت سے امریکی صدور کا یہ موقف رہا ہے کہ بطور کمانڈر انچیف کسی بھی ملک پر جنگ مسلط کرنا ان کا آئینی حق ہے عملاً وہ جنگ کے معاملے پر کانگریس کی حمایت بھی حاصل کرلیتے ہیں اورآئندہ بھی امریکی صدور اپنی یہ روش برقرار رکھیں گے۔

امریکی خارجہ پالیسی کی خاص بات یہ ہے کہ امریکی صدورمیکیاولی کے ”شہزادے“ سے بہت مماثلث رکھتے ہیں اور یہ کوئی حیران کن امر نہیں کیونکہ ریاست کے بانی اس جدید سیاسی فلسفے کے طالب علم تھے جسے میکیاولی نے رواج دیا تھا۔ امریکہ یہ چاہتا ہے کہ دنیا امریکی بالا دستی کو بطور بادشاہت تسلیم کرلے ، کیونکہ وہ میکیاولی کی دوراندیشی کو تسلیم کرتاہے کہ اس نے امریکی اداروں بالا دستی کے لیے باقاعدہ ایک فلسفہ وضع کردیا ہے اور ہمیں گویا اپنی ترقی کو برقرار رکھنے کے لئے صلاح دی ہے۔ یعنی امریکی صدر کا بنیادی تعلق خارجہ پالیسی سے ہے۔

چنانچہ کیسے میکیا ولی کی کتاب” دی پرنس“ میں امریکی صدور کی خارجہ پالیسی کے لیے سامان موجود ہے۔ میکیاولی کہتا ہے ،

”پس شہزادے کے سامنے نہ کوئی اورمقصد ہو اور نہ کوئی خیال اور نہ ہی اسے فن حرب کے علاوہ کسی اور فن کو اختیار کرنا چاہیے۔ اسے چاہیے کہ وہ اس کے نظم وضبط اوراداروں (فوج) کو بہتر بنائے کیونکہ ایک کمانڈر کے شایان شان ہی فن ہے نظم وضبط ایسی خوبی ہے کہ وہ صرف ایک شہزادے کو ہی اس قابل نہیں بناتی بلکہ ایک عام آدمی کو بھی اس منصب پر پہنچادیتی ہے۔ دوسری جانب توجہ طلب یہ بات بھی واضح رہے کہ جب شہزادوں نے فوجی معاملات سے تو جہ ہٹاکر کسی اور جانب مبذول کی تو ان کی ریاست ان سے چھن گئی۔ اس کی سب سے اہم وجہ یہ ہے کہ آپ اس فن میں کوتاہی کے مرتکب ہوتے ہیں اور سلطنت کو حاصل کرنے کا راستہ اس فن میں طاق ہونا ہی ہے۔“

امریکی خارجہ پالیسی اور امریکی صدور کی جانب سے اس خارجہ پالیسی کے عملی استعمال میں بنیادی فرق حقیقت پسندی اور مثالیت پسندی کا ہے اور یہی روایت امریکی خارجہ پالیسی میں بھی نظر آتی ہے۔ امریکہ کی بنیاد خود مختاری کے اصول پر رکھی گئی تھی ایک ایسی ریاست جہاں نمائندوں کو عوامی رائے سے منتخب کیا جائے۔ اس کے بنیادی اصولوں میں شخصی آزادی بھی شامل ہے۔ اس بات کو حقوق کے بل(Bill of Rights) میں بھی شامل کیا گیا ہے سامراجیت، رسمی یا غیر رسمی طور پر خود مختاری کے اصول کی نفی کرتی ہے۔ مزید یہ کہ خارجہ پالیسی کی تشکیل ایسے ادوار میں مددگار ثابت ہوتی ہے جہاں قومی مفاد کی بات آتی ہو لیکن یہ انسانی حقوق کے امریکی اصولوں کی نفی کرتی ہے۔ امریکی خارجہ پالیسی اور انسانی حقوق میں مفاہمت مشکل ہے اورکسی بھی دورحکومت کے لئے اخلاقی خطرہ ہے۔یہی وجہ ہے کہ امریکی صدور نے امریکی بالا دستی کو یقینی بنانے کے لیے دنیا پر جنگ مسلط کررکھی ہے اور وہ مسلسل اسی حکمت عملی پر عمل پیرا ہے۔اسے میکیا ولی کی نصیحت چھوڑ کر درست انسانی اصولوں کو اختیار کرنا پڑے گا۔

Leave Comments

آج کی بات

انسان حالات کی پیداوار نہیں،حالات انسان کی پیداوارہوتے ہیں۔
{کتاب۔کوئی کام نا ممکن نہیں۔سے اقتباس}